آبادی کا بم

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2100 ء میں دنیا بھر میں گیارہ ارب انسان آباد ہوں گے، کیا ہمارا یہ سیارہ زمین آبادی میں مزید 3.7 ارب افراد کے اضافے کو برداشت کرنے کے قابل ہے….؟

‘‘آئیے!…. ایک بات پر غور کریں۔
انسان کی ابتداء سے 1800 عیسوی تک انسانی آبادی کو ایک ارب ہونے میں ہزاروں برس لگے۔ پھر حیرت انگیز طور پر1804ء سے 1920ء کی دہائی میں آبادی دو ارب تک پہنچ گئی، یعنی دوگنا ہونے میں صرف سو سال لگے۔
اس کے صرف پچاس برس بعد 1970کی دہا ئی میں آبادی دوگنا یعنی چار ارب ہوگئی ….
آپ تصور کر سکتے ہیں، کہ ہم بہت جلد آٹھ ارب کی لکیر تک پہنچنے والے ہیں۔
صرف آج (یعنی ایک دن میں )، انسانی نسل سیارۂ زمین پر ایک چوتھائی ملین (ڈھائی لاکھ)افراد اضافہ کررہی ہے…. ایک چوتھائی ملین….اور یہ سب روز ہورہا ہے، ہر قسم کے حالات میں ….
فی الحال ہم ہر سال جرمنی کے پورے ملک کے برابر آبادی میں اضافہ کر رہے ہیں۔’’
یہ اقتباس ، ڈان براؤن Dan Brown کے ناول ‘‘انفرنو ’’Inferno سے لیا گیا ہے۔
یوں تو ناول کی کہانی ایک جنونی سائنسدان کے گرد گھومتی ہے جس کے نزدیک دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی ایک کینسر کی طرح ہے اور اس کینسر سے بچاؤ کا حل یہی ہے کہ دنیا کی آبادی کم کی جائے۔ اس مقصد کے لئے وہ ایک پلیگ یعنی وبا ایجاد کرتا ہے تاکہ وہ آبادی میں کمی لانے کا موجب بنے، اور ناول کا ہیرو اس کے منصوبوں کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ تو ایک فکشن کہانی ہے مگر اس ناول میں دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے بارے میں جس تشویش کا اظہار کیا گیا ہے وہ فکشن نہیں ہے۔ اوپر دئیے گئے چارٹ کو دیکھ کر آپ خود اندازہ کرسکتے ہیں کہ دو ہزار برس قبل بیل گاڑی کی رفتارسے بڑھنے والی آبادی آج راکٹ کی رفتار کی طرح بڑھ رہی ہے۔

ڈان براؤن کے ناول انفرنو پر بنائی گئی فلم میں آبادی کے کے متعلق لیکچر کی ویڈیو

آج دنیا کی آبادی 7.33 بلین تک جا پہنچی ہے۔ اور جس رفتار  سے دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ 10سال میں آبادی میں اضافے کو کنٹرول نہ کیا گیا تو  مستقبل قریب میں دنیا بھر میں وسائل  کی کمی،  غذائی قلت، بھوک و افلاس،  متعدی  اور موذی امراض اورغربت میں تاریخ  کا بدترین اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے۔ 

آبادی میں اضافہ کی شرح

گزشتہ برس اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کی جانی والی رپورٹ کے مطابق سن 2030 تک دنیا کی آبادی 8.5 ارب ہونے کی توقع ہے جبکہ سن 2050 تک یہ بڑھ کر تقریبا9.7 ارب ہو جائے گی۔ صرف ترقی پذیر ممالک کی آبادی 6.5 ارب ہوگی۔ مزید بتایا گیا ہے کہ رواں صدی کے اختتام تک دنیا کی آبادی 11.2 ارب ہونے کی توقع ہے۔
دریں اثناء یہ پشین گوئی بھی جارہی ہے کہ سن 2022 تک بھارت کی آبادی چین سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ بھارت کی اس وقت آبادی سوا ارب زیادہ افراد پر مشتمل ہے ۔ توقع ہے کہ سن 2050 تک یہ آبادی بڑھ کر1.4 ارب ہوتے ہوئے چین کو پیچھے چھوڑدے گی ۔
گلوبل اوور پاپولیشن یعنی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سن 2050 تک دنیا کی نصف آبادی محض 6 ملکوں کے افراد پر مشتمل ہو گی۔ ان ممالک میں چین، بھارت، امریکا، انڈونیشیا، برازیل اور پاکستان شامل ہے۔


اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اکنامک اورسوشل افیئرز کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سال 2000 تا 2050 کے دوران ترقی پذیرممالک میں شہری آبادیوں میں 3.2 ارب افراد کا اضافہ ہوگا۔ یاد رہے کہ 1950 میں دنیا بھر کی مجموعی آبادی تین ارب سے کم تھی۔ پاکستان کی موجودہ آبادی 18 کروڑ کے قریب ہے اور دنیا میں آبادی کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر ہے۔ پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارے فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبادی میں اضافہ اسی طرح جاری رہا تو 40 سال میں پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائے گا اور 2050ء میں یہ برازیل اور انڈونیشیا کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔ 2050 تک اس کی آبادی 27 کروڑ 10 لاکھ ہوگی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے آبادی افریقہ میں بڑھ رہی ہے، جہاں کے صحیح اعداد وشمار بھی دستیاب نہیں ہیں۔

وسائل اور مسائل

امریکہ کے ادارہ برائے آبادی کی شماریات کے مطابق 2011ء میں دنیا کی آبادی 6.89 ارب تھی جو آج 2015ء میں 7 ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاپولیشن ریفرنس بیورو، امریکہ کے مطابق دنیا کی آبادی 1830 میں ایک ارب تھی اور اسے ایک ارب سے دو ارب ہونے میں سو سال لگے جبکہ 1976 میں یہ آبادی چار ارب ہوگئی۔ اگلے ایک ارب آبادی کا اضافہ محض بارہ سالوں میں ہوگیا۔ یوں ہر ارب کا اضافہ بارہ سے پندرہ سالوں میں ہوجاتا ہے۔
کیا دنیا اس نسبت سے اپنے وسائل میں اضافہ کررہی ہے کہ اس بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرسکے۔ یہ اہم سوال دنیا اور خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے سامنے ہے۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس صدی کے اختتام تک یعنی سنہ 2100 ء میں دنیا کی آبادی گیارہ ارب افراد ہو جائے گی ۔ زمانہ قدیم سے آج تک دنیا کی آبادی کے دس فیصد حصے کے مساوی افراد 2100 میں دنیا میں مقیم ہوں گے۔ تو کیا ہمارا یہ سیارہ زمین آبادی میں مزید 3.7 ارب افراد کے اضافے کو برداشت کرنے کے قابل ہے۔
دنیا کی آبادی کاکثیر حصہ ترقی پزید ممالک میں ہونے کی وجہ سے خوراک، پانی، نکاسی آب، توانائی، عوامی سہولیات، تعلیم و صحت کی ضروریات بھی غیر معمولی طور پر بڑھ جائیں گی۔ کئی ترقی پذیر اور غریب ممالک مزید غربت اور خوراک کی قلت جیسے مسائل کا شکار ہوجائیں گے۔ 

غذائی قلت

غذائی ماہرین کا تخمینہ ہے، مستقبل قریب میں میں دنیا کو درپیش مسائل میں دہشت گردی نہیں بلکہ بُھوک سرِفہرست ہوگی۔ یوں تو بھوک اب بھی دنیا بھر میں ایک سنگین مسئلہ ہے، آج بھی 90 کروڑ انسان بھوک کا شکار ہیں۔ لیکن 2050ء تک بھوک سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 2 ارب ہوجائے گی۔ ایک اندازہ کے مطابق آئندہ پچاس سالوں کے لیے اتنی خوراک کی ضرورت پڑے گی جتنی انسان نے پچھلے دس ہزار سالوں میں اُگائی ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق دنیا کی پچاس فیصد آبادی کو 2100 میں خوراک کی قلت کا سامنا ہوسکتا ہے، آج یہ شرح تیرہ فیصد ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانے کی عادتیں نہ بدلی گئیں تو چالیس سال بعد نو ارب آبادی کی ضروریات کو پورا کیے جانے کی خاطر پینے کے پانی کے ذخائر نہیں رہیں گے۔ اس وقت ہر شخص کی پروٹین کی بیس فیصد ضروریات گوشت سے پوری کی جاتی ہیں۔ لیکن جب دنیا کی آبادی میں دو ارب افراد کا اضافہ ہوجائے گا تو پروٹین کی صرف پانچ فیصد ضروریات گوشت کھانے سے پوری ہوں گی۔ لیکن اس وقت گوشت کافی مقدار میں حاصل نہیں ہوسکے گا کیونکہ مویشیوں کو پانی کی قلت کا سامنا ہوگا۔
1950ء اور سن 2005 کے درميان مچھلی کی کھپت ميں پانچ گنا اضافہ ريکارڈ کيا گيا تھا۔ آج سمندروں میں مچھلیوں کی ایک تہائی تعداد ختم ہو گئی ہے ۔ اگر آبادی کے بڑھنے اور مچھلی کی طلب کا موجودہ رجحان بر قرار رہا تو 2050 تک آدھی سے زیادہ مچھلیاں ختم ہوجائیں گی ۔ اس لیے انسانوں کو سبزی پر انحصار بڑھانا ہوگا۔

پانی کی کمی

 دوسری جانب ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے دس سال میں ایشیاء کےوسیع علاقوں کوشدید خشک سالی کے طویل ادوار کا سامنا بھی رہے گا۔ ان علاقوں میں شمالی چین ، ہندوستان ، افغانستان ،منگولیا اور پاکستان خاص طور پر متاثر ہوسکتے ہیں ، جبکہ باقی ماندہ ایشائی ممالک میں طویل مون سون اورسخت بارشوں کا غالب امکان ہے۔ ایسی صورت میں خُشک سالی کی وجہ سےغذائی اجناس مہنگی سے مہنگی ہوتی جا ئیں گی اور زرعی پیداوار میں تنزُّل آسکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی تنظیم ورلڈ واٹر ڈویلپمنٹ بورڈ نے انکشاف کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ آئندہ تیس پینتیس برسوں میں تک عالمی سطح پر پانی کی طلب میں 55 فیصد اضافہ ہو جائے گا۔ 2050ء تک ہر پانچ میں سے تین افراد پانی کی کمی کا شکار ہوں گے۔ اسی عرصے میں زمین کی کل آبادی کا 40 فیصد حصہ پانی کے حصول میں شدید دبا ؤکا سامنا کرے گا۔ ان میں شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے کئی ممالک شامل ہوں گے۔ براعظم ایشیا کے کئی ملکوں میں پانی کے حصول کی وجہ سے تنازعات سنگین ہو جائیں گے، خدشہ ہے کہ آئندہ عالمی جنگ بھی میٹھے پانی پر ہوگی۔
1947ء میں ہر پاکستانی کو تقریباً ’’پانچ ہزار کیوبک میٹر پانی میسّر تھا۔ اب یہ شرح صرف ایک ہزار کیوبک میٹر رہ گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آبادی پر کنٹرول اور پانی بچانے کے اقدا مات نہ ہوئے، تو 2050ء تک یہ کمی ’’پانچ سو کیوبک میٹر‘‘ تک پہنچ جائے گی۔

زراعت پر اثر

جیسے جیسے آبادی بڑھے گی سرسبز علاقے بھی اس کی زد میں آتے رہیں گے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق اب دنیا کی 54 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ اندازہ ہے کہ سنہ 2050 تک یہ اعداد و شمار 66 فیصد ہو جائیں گے، جب پوری دنیا کی آبادی تقریباً 9.6 ارب تک پہنچ جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ جگہ کا مسئلہ پیدا ہو گا اور اس کا اثر ماحول پر بھی پڑےگا۔ مثال کے طور پر شہری آبادی میں اضافے سے سرسبز علاقے ختم ہو سکتے ہیں۔
موجودہ دور میں تیسری دنیا كے بیشتر ممالك میں دیہاتوں سے شہروں كی طرف آبادی كے منتقل ہونے كے رحجان میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ اس سے جہاں آبادی میں اضافے کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح میں 6.5 فیصد اضافہ ہو ا ہے تو دوسری طرف دیہاتوں سے آبادی كے انخلاء سے زراعت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ چنانچہ فصلوں كی كٹائی اور بوائی وغیرہ كے مواقع پر افرادی قوت كی كمی كو شدت سے محسوس كیا جاتا ہے۔ پاکستان میں معیشت كا انحصار بڑی حد تك زراعت پر ہے۔
آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں عمررسیدہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مستقبل میں بوڑھے افراد کی وجہ سے کئی اقوام کو سماجی و اقتصادی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مختلف ملکوں میں بوڑھی ہوتی نسل کی رفتار یہی رہی تو پہلی بار ایسا ہو گا کہ بوڑھے لوگ پندرہ سال سے کم عمر نوجوانوں کی تعداد سے بڑھ جائیں گے۔ سن 2050 میں ہر پانچ میں سے ایک شہری کی عمر 65 سال یا اس سے زیادہ ہوگی۔ پاکستانی آبادی کا چالیس فیصد دس سے انتیس سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ گزشتہ برس جاری ہونے والی یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباﹰ پچپن لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے اور یہ صورتحال تقریباً ہر ترقی پزیر ممالک کی ہے۔ 

ماحول کو خطرہ

آبادی کی گنجانیت میں اوسطاً پچاس فیصد اضافہ ہوگا ، جس کے نتیجے میں مزید آبادی اور شہری آبادکاری میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ انسانی آبادی میں اضافے سے زمین پر نباتات اور جانوروں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آبادی سے اضافے کی وجہ سے بہت سی چیزیں ختم اور نا پید ہو جائیں گی مثلا ساڑھے چودہ لاکھ کے قریب نباتات کا اس دنیا سے خاتمہ ہو جائے گا ۔ آبادی کے اضافے کی وجہ سے انسانی غذائیت میں تو کمی آئے گی اس کے ساتھ ساتھ جانوروں کی نسلوں میں بھی کافی حد تک کم آ جائے گی ۔
زیادہ توانائی کے استعمال سے فضائی آلودگی بڑھے گی، مستقبل میں 55 فیصد عالمی آبادی ہوائی آلودگی والے علاقوں میں مقیم ہوگی جس سے نظام تنفس کے امراض کا خطرہ بڑھ جائے گا۔سنہ 2100 تک انسانوں کی جانب سے گیسوں کے اخراج کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت میں 11.5 فارن ہائیٹ تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ الیکٹرونکس اشیاء کی بڑھتی ہوئی مانگ کے ساتھ ساتھ الیکٹرونکس آلات کے کوڑے میں بھی اضافہ ہوتا ہے، ہر سال دنیا بھر میں کوڑے میں پھینک دی جانے والی الیکٹرانک مصنوعات کا وزن، جو 2012 میں 4.89 کروڑ ٹن تھا،تینتیس فیصد سالانہ اضافہ کے ساتھ 2017 ء میں بڑھ کر 6.54 کروڑ ٹن تک جا پہنچے گا، سن 2050 سے دنيا بھر ميں سالانہ بنيادوں پر 13.1بلين ٹن کوڑا کرکٹ اکھٹا ہوگا جو کہ موجودہ تعداد سے تین گنا زيادہ ہو گا۔

بڑھتی آبادی کے مسئلے کا حل؟

بڑھتی ہوئی آبادی ، ترقی اور خوشحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ، بڑھتی ہوئی آبادی ایک ٹائم بم کی مانند ہوتی ہے جو بلاسٹ ہونے پر ملکی وسائل کو کھا جاتی ہے اور ترقی کا خواب محض خواب ہی رہ جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ چین نے ایک دور میں آبادی کی افزائش کو کنٹرول کرنے کیلیے ایک سے زائد بچے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
انسانی ترقی کے درمیان موجود اس خلیج کو کم کرنے اور قدرتی وسائل پر بڑھتے ہوئے انسانی دباؤ کو کم کرنے کے لئے کی جانے والی کوششوں کے اعادہ کی خاطر ہر سال 11 جولائی کو آبادی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے سیمینارزاور آگاہی کے پروگرام وغیرہ منعقد ہوتے ہیں تاکہ دنیا خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں آبادی کے بڑھتے ہوئے سونامی کو روکنے کی خاطر شعور اجاگر کرنے اور موثر حکمت عملی پر مزیدکام کیا جائے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی آبادی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں وسائل کم ہورہے ہیں۔ جس کی وجہ سے لوگوں بنیادی سہولیات کے فقدان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس کی وجہ سے بیروزگاری، غربت اور لاء اینڈ آرڈر جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ 

ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ
جولائی 2016ء کے شمارے سے انتخاب
تحریر ابنِ وصی

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

درخت ماحول کے محافظ

بے قابو ہوتے موسموں کے جن کو ماحول دوست درختوں کی مدد سے قابو میں …