صفحہ اول / روحانی ڈاک / انٹرنیٹ اخلاق تباہ کررہا ہے….

انٹرنیٹ اخلاق تباہ کررہا ہے….

teen_brain_social_media


سوال :

میراایک بیٹا اورایک بیٹی ہے۔ بیٹا اٹھارہ سال کا ہے اورفرسٹ ائیر کا اسٹوڈنٹ ہے۔ ایک سال پہلے تک وہ پڑھائی میں بہت اچھا تھا۔
میرے شوہر نے نیٹ کی ڈیوائس لگوائی توبیٹا بھی اپنی پڑھائی سے فارغ ہوکر کچھ دیر کمپوٹر پر بیٹھنے لگا۔ رفتہرفتہ نیٹ کا شوق اتنا بڑھا کہ اب زیادہ تر وقت نیٹ پر ہی گزارتا ہے۔ پڑھائی کی طرف سے اس کا دھیان ہٹ گیاہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ انٹرنیٹ ایک بہت خطرناک چیز ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوان نسل کا اخلاق تباہ ہورہا ہے۔ میں اپنے بچوں کو انٹرنیٹ کے مضر اثرات سے کیسے بچاؤں….؟۔


جواب:  

انٹر نیٹ اور موبائل فون کا مسلسل استعمال اکثر لوگوں کے لیے Addictionکی طرح ہوگیاہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹر نیٹ کے ذریعے معلومات تک رسائی بہت آسان ہوگئی ہے لیکن انٹرنیٹ کو لاتعداد افراد تفریح کے لیے زیادہ استعمال کررہے ہیں۔ دیگر یہ کہ ہر طرح کا مواد انٹرنیٹ پر بآسانی دستیاب ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے تفریح میں وقت گزارنے سے وقت اور صلاحیت دونوں کا زیاںہورہا ہے۔
اسکول جانے والے بچوں کے والدین اگر اپنے بچوں کو انٹر نیٹ اورموبائل فون استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں تو انہیں کئی باتوں کا خیال رکھناچاہیے۔
والدین کو یہ علم ہونا چاہیے کہ بچے انٹرنیٹ اورسوشل میڈیا پر کس قسم کا مواد دیکھ رہے ہیں اورکن لوگوں کے ساتھ رابطے بنا رہے ہیں۔ یہ سب جاننے کے لیے والدین کو خود بھی کمپیوٹر ،انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا وغیرہ کے استعمال کے طریقے آنے چاہئیں۔
بچوں کے کمپیوٹر ،موبائل اورسوشل میڈیا مثلاً فیس بک وغیرہ کے پاس ورڈز والدین کے علم میں ہونے چاہئیں۔ والد یاوالدہ گاہے بگاہے انٹرنیٹ پربچے کی سرگرمیاں چیک بھی کرتی رہیں۔بچوں کو موبائل فون یا کمپیوٹر تنہائی میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ بچہ سب گھروالوں کے سامنے نیٹ یا فون استعمال کررہا ہو۔
اگر بچہ نیٹ پر ‘‘فضول وقتی ’’ کررہا ہوں تو اسے کسی ٹائم ٹیبل کا پابند بنانے کے لیے اقدامات کرنا چاہئیں۔
ان اقدامات کے ساتھ ساتھ بطور روحانی علاج رات سونے سے پہلے اکتالیس مرتبہ سورہ بنی اسرائیل (17)کی آیت نمبر111گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے بیٹے کا تصور کرکے دم کردیں اور اس کی عادات کی اصلاح کے لیے دعا کریں۔
یہ عمل کم از کم چالیس روز تک جاری رکھیں۔ ۔


براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

تعارف: ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی

وقار یوسف عظیمی معروف قلم کار، صحافی، روحانی دانشور اور ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ کے مدیر، پاکستان کے معروف صوفی بزرگ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کے صاحبزادے ہیں۔ وقار یوسف عظیمی کی تحریروں میں روحانی علوم، سیرت النبیﷺ، تصوف، طب، مابعد النفسیات، روحانی علاج، عمرانیات جیسے موضوعات شامل ہیں۔ آپ1981ء سے شعبۂ طب اور صحافت سے وابستہ ہیں۔آپ روحانی ڈائجسٹ کے مدیر اور دیگر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
1986ء سے آپ پاکستان کے کثیر الاشاعت اخبار روزنامہ جنگ کے کالم نگار ہیں، آپ کی تحریریں پاکستان کے دیگر اخبارات و رسائل میں بھی شائع ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی پاکستانی اخبارات کی تنظٰیم آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی (APNS) اور ایڈیٹر کی تنظٰیم کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹر (CPNE) میں کئی مرتبہ عہدوں پر منتخب ہوئے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

تنہائی کا عذاب

سوال : میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہوں۔ہمارے سب شادی شدہ بھائی …

  • Sheraz Ahmed
    We must keep eyes on our childeren specially the time they are using compouter. everything has good or bad, we have to decide that how can we make it better for our generation.