صفحہ اول / علم و معرفت / اسلام / باب العلم حضرت علیؓ

باب العلم حضرت علیؓ

Hazrat-Ali


حال Present کیا ہے ؟ مستقبل Future کیا ہے….؟ ماضی Past کس فارمولے پر قائم ہے….؟
ہم کیسے سمجھیں کہ حال کیا ہے….؟ مستقبل کیا ہے….؟ اور ماضی کیاہے….؟
آج کی نشست میں فقیر پُرتقصیر بندے کی کچھ معروضات پیش ہیں…… میں ایک بندہ ہوں جس کی نہ کوئی اپنی زندگی ہے اور نہ کنارہ ہے، حال ہے نہ کوئی مستقبل ہے ۔جب کچھ نہیں ہے تو پھر میں کیاہوں؟ کون ہوں ؟ کہاں سے آیا ہوں….؟
مسلسل شب وروز کس سفر پر چاہتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے چل رہا ہوں، یہ نہیں دیکھا کس مقام سے آیا ہوں ، یہ بھی نہیں جانتاکہاں جارہاہوں؟ یہ علم نہیں کہ میرا وجودہے…. ؟عارضی ہے یامستقل ہے..؟
پہلے بہت ساری باتیں سنی ہوں گی پھر انہیں باتوں کو خود بھی دہرانے لگا ۔ وقت گزرا کچھ راز کھلے لیکن مفروضہ حواس میں حقیقت کا سراغ نہیں ملا،اور راز معلوم نہیں ہوسکاکہ‘‘ راز’’کیوں ہے….؟
بہت کچھ سنا، کتابوں کے انبارمیں بیٹھا رہا ،ایجاد پر غور کیاکبھی زمین پر اٹھتی لہریں دیکھیں ، فرش پر پھول کے تختے دیکھے اور سایہ دار شجر کو بھی ملاحظہ کیا۔ دنیا کے راحت وآرام ،سکون، اضطراب، بے چینی ،پریشانی المناک مناظر بھی سامنے آئے۔
ان مناظر کو گلزار میں ،بیابان میں اور خزاں میں دیکھا،درختوں کو آہِ فغاں کرتے سنا، خزاں اور بہار کی زندگی میں آندھی،طوفان کی طرح سرگرداں تھاکہ قدرت کی طرف سے ایک ‘‘نور’’ طلوع ہوا ، بجلی کوندی،نظر روشن ہوئی دماغ کے جل بجھ خلیوں نے پہلے ‘‘دیدہ کور’’ کردیا پھر ‘‘ دیدائے حق ’’ بنا دیا….علم کے دروازے کی جھلک پڑی صوتِ سرمدی گونجی ۔
‘‘ کائنات ایک لفظ ہے…’’
ماضی….حال…. مستقبل…. سب ‘‘لفظ’’ ہیں…. یہ لفظ کیا ہیں….؟
یہ ‘‘اسم ’’ جس سے نئی تخلیقات وجود میں آتی ہیں اورآتی رہیں گی۔اسم ذات اور اسم ذات کی صفات اللہتعالیٰ کا نور ہے۔
اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔(سورۃالنور۔آیت35)
نور نباتات ،جمادات، حیوانات ،جنات ،انسانوں اور فرشتوں میں زندگی کی تحریکات پیدا کرتا ہے۔کائنات کا ہر فرد ‘‘نور’’ کی لہروں کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔
کائنات میں جو کچھ موجود ہے سب ‘‘نور’’ کی تحریکات ہیں نورہی لفظ ‘‘کن’’ کا مظاہرہ ہے۔
ہماری مجبوری ہے کہ ہم نور کا مترادف لفظ تلاش نہیں کرسکے۔ نور روشنی ہے۔ لاشمار روشنیاں ہیں ان کی تعداد کوئی زبان بتانے سے قاصر ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے نام کائنات میں موجود ہر تخلیق کے اجزاء ہیں۔انسان کے اندر حواس کی مجموعی تعدادساڑھے گیارہ ہزار بتائی جاتی ہیں۔
‘‘اللہ تعالیٰ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام(علمالاسماء) سکھائے۔’’(سورۃ البقرہ۔آیت31)
اللہ تعالیٰ کے ہراسم میں تخلیقی قدریں مکمل طرزوں کے ساتھ موجود ہیں۔
‘‘اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔’’
(سورۃ النور۔آیت35)
اللہ تعالیٰ کا نور ہی لہروں کی شکل میں نباتات ، جمادات، حیوانات، معدنیات، جنات،انسان اور فرشتوں میں زندگی کی تحریکات بنتا ہے ۔نور کی لہریں کائنات کی ہر مخلوق کے ہر فرد میں تحریکات پیدا کرتی ہیں۔ہم ان تصویروں کوواہمہ، خیال،تصور اور تفکرکے نام سے جانتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے!
‘‘لوگومجھے پکارو میں سنوں گا۔’’
‘‘لوگومجھ سے مانگو میں دوں گا۔’’
(سورۃ المومن۔ آیت60)
‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے اچھے اچھے نام ہیں پس ان اچھے ناموں سے اللہ کو پکارتے رہو۔’’
(سورۃ الاعراف۔ آیت180)
‘‘ایمان والواللہ تعالیٰ کاذکرکثرت سے کرتے رہواور صبح شام اس کی تسبیح میں لگے رہو۔’’
(سورۃ آلِ عمران۔ آیت41)
کوتاہیوں خطاؤں اورقرآن وحدیث کے خلاف عمل سے بچو۔جب کوئی بندہ جانتےبوجھتے خطاؤں اور گناہوں کو مقصد بنالیتا ہے۔اس کے لیے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:
‘‘مہر لگادی اللہ نے ان کے دلوں پر ان کے کانوں پر آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔’’(سورۃ البقرہ ۔آیت 07)
کوتاہیوں سے بچو، شیطانی طرزعمل کواختیار نہ کرو.یاد رکھو۔ نیکی اور برائی دونوں اعمال وافعال کے تابع ہیں ، متوجہ رہو ذہن ،زبان، ہاتھ اورپیرانسانی طرز عمل میں استعمال ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو دوست رکھو، مخلوق کی خدمت کرو۔
‘‘اے ایمان والو! جب کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو توثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرو۔’’ (سورۃ الانفال ۔آیت45)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سنو ذکر کی مجالس کو لازم پکڑو جہاں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے وہاں فرشتوں کا شامل ہونا عمل خیر کی بشارت ہے۔ذکر کی مجالس، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی دین اور دنیا کی کامیابی کاذریعہ ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے ذکر سے رحمت کا نور اور اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے۔
‘‘ نماز قائم کرومیرے ذکر کے لیے’’
(سورۃ طہٰ۔ آیت 04)
صلوٰۃ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا ربط قائم ہوجائے کہ بندہ اللہ کو دیکھ لے یا اسے ایمان کا ایسا کمال حاصل ہوجائے کہ وہ مشاہدہ کرلے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔باب العلم امیر المومنین حضرت علی ؓ فرماتے ہیں :
میں نے فرامین الٰہی میں سے بارہ کلمات اخذ کئے ہیں جن پر میں روزانہ تین بار غور وفکر کرتاہوں….وہ کلمات یہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
-1 اے ابن آدم تجھ کو کسی حاکم اور دشمن یہاں تک کہ جن اور شیطان سے ہرگز ڈرنا نہیں چاہیئے ۔کیونکہ میری بادشاہت ہمیشہ کے لیےقائم ہے۔
2- اے ابن آدم: کسی طاقت کے رعب میں نہ آنا، کسی امیر آدمی کی دولت کے سبب مرعوب نہ ہونا جب تک میرے خزانے میں تیرا رزق موجود ہے تجھے ملے گا اور یاد رکھ میراخزانہ باقی اور میری طاقت غیر فانی ہے۔
3-اے آدم کے بیٹے: جب تو ہر طرف سے عاجز ہوجائے اور تیری فریاد سننے والا کوئی نہ ہو اورتو مجھ سے مانگے گا تو میں یقینا تیری فریاد کوسنوں گا اور جو طلب کرے گا تجھے دوں گا ۔کیونکہ میں سب کا حاجت روا اور دعاؤں کا قبول کرنے والا ہوں۔
4- اے آدم کے بیٹے: تو یقین کے ساتھ سمجھ لے میں تجھے دوست رکھتا ہوں ۔تجھے بھی چاہیئے کہ تو میرا ہوجائے اور مجھے یادکیا کر۔
5-اے آدم کے بیٹے:جب تک تو پل صراط سے پار نہ ہوجائے میری جانب سے بے فکر نہ ہونا۔
6-اے آدم کے بیٹے :میں نے تجھے مٹی سے پیدا کیا ہے اور نطفہ کو ماں کے رحم میں ڈال کر جما ہوا خون کرکے گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا پھر رنگ و شکل ممتاز کرکے ہڈیوں کا ایک خول تیار کیا پھر اس کو انسانی لباس پہنا کر اپنی روح پھونکی پھر ایک معین مدت گزرنے کے بعد عالم اسباب میں پیدا کردیا ۔اے اللہ! تیری اس ساخت اور ایجاد میں کسی قسم کی کوئی دشواری پیش نہیں آئی ۔پس اب تو سمجھ لے کہ میری قدرت ایسے عجیب امور کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے کیا اب وہ تجھ کو دو روٹی نہیں دے سکے گا….؟ پھر تو کس وجہ سے مجھے چھوڑ کر غیر سے مانگتا ہے۔
7-اے آدم کے بیٹے : یہ دنیااور دنیا کی تمام چیزیں تیرے واسطے پیدا کیں ہیں….اور تجھے خالص اپنی عبادت کے لیے پیداکیا ہے….مگر افسوس….ان اشیاء پر جوتیرے لیے پیدا کی گئی تھیں تو نے خودپر قربان کردیا اور مجھے بھول گیا۔
8-اے آدم کے بیٹے: دنیا کی تمام چیزیں اور تمام انسان مجھے اپنے لیے چاہتے ہیں اور میں تجھے صرف تیرے لیے چاہتاہوں….اور تو مجھ سے بھاگتا ہے۔
9-اے آدم کے بیٹے : تو اپنی نفسانی غرض کی وجہ سے مجھ پر غصہ کرتا ہے مگر اپنے نفس پر میرے لیے کبھی غصہ نہیں کرتا۔
10-اے آدم کے بیٹے: تیرے اوپر میرے حقوق ہیں اور مجھے تجھے روزی پہنچانا ہے مگر تو میرے حقوق کی پروا نہیں کرتا بلکہ اس کی خلاف ورزی کرتا ہے ….لیکن میں پھر بھی تیرے اعمال پر،تیرے کردار پر خیال نہ کرتے ہوئے تجھے رزق پہنچاتا ہوں۔
11- اے آدم کے بیٹے: تو کل کی روزی بھی مجھ سے آج ہی طلب کرتا ہے اور میں تجھے اس شرط پر روزی نہیں دیتا کہ تو بھی میرے فرائض پورے کر میں تو بے حساب رزق دیتا ہوں۔
12- اے آدم کے بیٹے: اگر تو اپنی اس چیز پر جو میں نے تیرے لیے مقدر کردی ہے راضی ہوجائے تو بہت راحت اورآسائش سے رہے گا اور اگر اسکے خلاف تو نے میری تقدیر سے جھگڑا کیا اور اپنے مقدر پر راضی نہ ہوا تو یاد رکھ، میں تجھ پر دنیا کو مسلط کردوں گا او ر وہ تجھے خراب وخستہ کرے گی اور توکتوں کی طرح دروازوں پر مارا مارا پھرے گا….مگر پھر بھی تجھ کو اسی قدر ملے گا جو میں نے تیرے لیے مقدر کردیا ہے….
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبانی بیان کردہ ان کلمات میں آدمی کی اپنی حقیقت ۔اللہ تعالیٰ کی چاہت، محبت اور بندے کے فرائض کی جانب واضح ارشادات موجودہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ذکر کی مجالس پر ملائکہ کا نزول ہوتا ہے اور فرشتے اپنے پروں سے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور ان پر نزول سُکینہ ہوتا ہے ۔ان پر اللہ کی رحمت سایہ کرلیتی ہے اور اللہ انہیں یاد کرتا ہے۔
قانون:
ہر بندے کے اندر دوحواس کام کر تے ہیں:
1۔ وہ حواس جو ظاہری دنیا سے قریب کرتے ہیں اور پھر آدمی کو دنیا میں قید کردیتے ہیں۔
2۔ وہ حواس جو بندے کو لاشعور ، غیب بینی ، ماورائی اور روحانی دنیا سے قریب کر دیتے ہیں۔
اس قانون کو آسان الفاظ میں سمجھیے :
جب آدمی کا انہماک اورتمام تر دلچسپیاں دنیا میں ہوتی ہیں تو چونکہ مادی عناصر سرانڈتعفن سے بنتے ہیں تو اس کا نتیجہ بھی تعفن اور سڑاند ہوتا ہے ۔
1۔ انسان جب کھانا کھاتا ہے وہ کتنا ہی خوشبودار ہو فضلہ بدبو دار ہوتا ہے۔
2۔آدمی کا جسم جس مادے بنتا ہے (SPERM)وہ بھی بدبو دار ہوتا ہے۔ جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کا جسم بھی تعفن اورسڑاند میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
3۔اس کے برعکس روح کا جسم روشنی اور نور سے بنا ہوا ہے اور اتنا لطیف ہے کہ عالم بالا کی سیر کرتا ہے اور فرشتوں کو دیکھتا ہے ۔
4۔انسان کی اصل ‘‘روح’’ ہے ۔اور روح اللہ کا امرہے۔اور اللہ کا امر یہ ہے کہ جب وہ کسی شئے کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ‘‘ہوجا’’ اور وہ شئے مظہر بن جاتی ہے۔ اس کی روحانی توجیہہ یہ ہوئی جب کوئی بندہ اللہ کی معرفت (Care of Allah) سوچتا ہے تو اُس کا قلبی اور روحانی تعلق اللہ تعالیٰ سے قائم ہوجاتا ہے۔انسان بظاہر‘‘مجبور’’ ہے لیکن اسے اختیار بھی عطا کیا ہے گیا ہے۔
کسی صاحب نے امیرالمومنین حضرت علی ؓ سے ‘‘تقدیر’’ کے بارے میں سوال کیا ۔امیر المومنین حضرت علی ؓ نے فرمایا!‘‘ٹانگ اٹھاؤ’’۔اس نے اٹھالی، ارشاد فرمایا!‘‘ اب دوسری بھی اٹھالو’’۔سائل نے جواب دیا کہ یہ نہیں ہوسکتا۔

ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اگست 2012ء سے انتخاب
تحریر خواجہ شمس الدین عظیمی

حضرت علی نے فرمایا:

  • ….قرآن کی رسّی کو مضبوط پکڑو۔ اس سے نصیحت حاصل کرو۔ جو چیز اس نے حلال قرار دی ہے اُسے حلال سمجھو، جس چیز کو اس نے حرام قرار دیا ہے، اُسے حرام سمجھو۔
  • ….معافی اچھا انتقام ہے۔
  • ….جو شخص اپنے باطن کو درست کرے گا اﷲ تعالیٰ اس کا ظاہر بھی درست کردے گا۔
  • ….بات کہنے والے کو نہ دیکھو بلکہ بات کو دیکھو۔
  • ….ہمسائے سے بدسلوکی اور نیکوکار سے بدی کرنا انتہائی درجے کی بدبختی ہے۔
  • ….کارخانۂ قدرت میں فکر کرنا بھی عبادت ہے۔
  • ….لوگ حصولِ علم کی طرف اِس لیے بھی راغب نہیں ہوتے کہ وہ اکثر عالموں کو بے عمل پاتے ہیں۔
  • ….زیادہ علم والوں سے علم سیکھو اور کم علم والوں کو اپنا علم سکھاؤ۔
  • ….کسی پر احسان کرو تو اس کو چھپاؤ اور اگر تم پر کوئی احسان کرے تو اُس کو ظاہر کرو۔
  • ….جب تک کسی شخص کا پورا حال معلوم نہ ہو اُس کے بزرگ (خدا رسیدہ) ہونے پر اعتقاد نہ رکھو۔
  • ….علم .مال سے بہتر ہے، علم تمہاری حفاظت کرتا ہے اورتم .مال کی حفاظت کرتے ہو۔
  • ….میں نے خدا کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔
  • ….بادشاہت کُفر کے ساتھ جمع ہوسکتی ہے ظلم کے ساتھ نہیں۔
  • ….عقلمند دشمن بے وقوف دوست سے بہتر ہے۔
  • ….فقیہہ وہ ہے جو لوگوں کو اﷲ کی مہربانیوں سے نہ مایوس کرے ۔
  • ….اسلام کیا ہے؟….تسلیم (بلا چوں و چراں فرماں برداری)…. اور تسلیم ہے یقین اور یقین سے مراد ہے تصدیق اور تصدیق نام ہے مشاہدہ کا۔
  • ….یقین رکھتے ہوئے سو رہنا اُس نماز سے بہتر ہے جو شک میں ادا کی جائے۔
  • ….اپنی اولاد کو اگلے زمانے کے حساب سے تربیت دو کیونکہ وہ تمہارے زمانے کے لیے پید انہیں کیے گئے۔
  • ….جو عمل کے بغیر دعا مانگتا ہے، یہ ایسا ہے جیسے بغیر کمان کے تیرچلانا۔
  • ….لوگوں سے دعا کی التماس کرنے سے بہتر ہے کہ انسان خود ایسا کام کرے کہ لوگوں کے دل سے خودبخود اس کے لیے دعائیں نکلیں۔
  • ….عقلمند وہ ہے جو اپنا ہر ایک سانس غیر مفید کام میں ضائع نہکرے۔
  • ….جو شخص انجام پر نظر رکھتا ہے وہ بہت سی خرابیوں سے محفوظرہتا ہے۔
  • ….جو شخص سوچ سمجھ کر جواب دیتا ہے وہ اکثر صحیح جواب دیتا ہے اور جو شخص کام کرنے سے پہلے سوچ لیتا ہے وہ اکثر ٹھیک کام کرتا ہے۔  

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

تعارف: خواجہ شمس الدین عظیمی

سلسلۂ عظیمیہ کے مرشد،روحانی اسکالرخواجہ شمس الدین عظیمی، ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ کراچی اور ماہنامہ قلندر شعورکے چیف ایڈیٹر ہیں۔ پاکستان کے مختلف اخبارات اور میگزین میں روحانی ڈاک، خواب کی تعبیر ، قارئین کے مسائل اور پیراسائیکالوجی کے عنوان سے کالم لکھے ۔سیرت طیبہ حضرت محمدمصطفی ﷺ، روحانیت، پیراسائیکالوجی اور دیگر موضوعات پر70کتابیں تصنیف کیں اور60کتابچے تحریر کئے ہیں۔ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی (ملتان)میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی ہیں۔ روحانی علوم کے فروغ اور عوام الناس کے بہبود کے لیے دنیا بھر میں روحانی مراکز اور پاکستان میں اسکول اور کالج ، لائبریریاں اور ہسپتال قائم ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

درخت ماحول کے محافظ

بے قابو ہوتے موسموں کے جن کو ماحول دوست درختوں کی مدد سے قابو میں …

  • V nice pls post more on Hazrat Ali a.s ❤