صفحہ اول / علم و معرفت / اسلام / برکت کے دن اور رحمت کی راتیں

برکت کے دن اور رحمت کی راتیں

Ramadan1

رمضان کا مہینہ خیرو صلاح اور تقویٰ و طہارت کا موسم ہے جس میں بُرائیاں دبتی ہیں ،نیکیاں پھیلتی ہیں ، پُوری پُوری آبادیوں پرخوف ِ خدا اور حُبِّ خیر کی رُوح چھا جاتی ہے اور ہر طرف پرہیز گاری کی سر سبز کھیتی نظر آنے لگتی ہے ۔
رمضان کا مبارک او رمقدس مہینہ جن خصوصیات اور محاسن کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہم پر سایہ فگن ہونے کو ہے، اس ماہ کی برکتوں اور رحمتوں کی تفصیل اس مضمون میں سمودینا تو نا ممکن ہے ، تاہم یہاں چند اہم اور نمایاں خصوصیات بیان کرتے ہوئے ان کے نتائج و ثمرات کے حوالے سے کچھ بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

روزے کے فضائل :

روزے کا پہلا اجر و فیض تو ایمان کی ازسِر نو تازگی او رشادابی ہے ۔ روزے کی حالت میں بُھوک پیاس کی شدت اور دیگر نفسیاتی خواہشات کے ہیجان پر وہی شخص قابو پا سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو ۔ یہ چیزاُس کی قوت ایمانی و حرارت میں مزید اضافے کا سبب بنتی ہے۔
روزہ سال بھر میں ایک مہینے کا غیر معمولی نظام ِ تربیت ہے جو آدمی کو تقریباً 720گھنٹے تک مسلسل اپنے مضبوط ڈسپلن میں رکھتا ہے ۔
رمضان کی پہلی تاریخ سے یہ عمل شروع ہوجاتاہے اور ایک ماہ تک مسلسل اس کی تکرار جارہی رہتی ہے ۔ گویا پورے تیس دن تک آدمی ایک شدید ڈسلپن کے ماتحت رکھا جاتا ہے کہ مقرر وقت تک سحری کرے ، مقرر وقت پر افطار کرے ، جب تک اجازت ہو اپنی خواہشات نفس پوری کرتا رہے اور جب اجازت سلب کر لی جائے تو ہر اُس چیز سے رُک جائے جس سے منع کیا گیا ہے۔
روزے کی حالت میں آدمی مسلسل بارہ تیرہ گھنٹے کھانے پینے سے رُکا رہتا ہے ۔ وہ سحری کا وقت ختم ہوتے ہی نفس کے مطالبات سے یکایک ہاتھ کھینچ لیتا ہے اور افطارکی گھڑی تلک روکا رہتا ہے ۔ روزہ مہینے بھر تک روزانہ کئی کئی گھنٹے آدمی کو اس حالت میں رکھتا ہے کہ اپنی بالکل ابتدائی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی اُسے خداوند ِ عالم کا اذن پیش ِ نظر رکھنا لازم ہے۔
یوں روزے دار کے دل پر یہ بات نقش ہوجاتی ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے اور ایک ہی قانون کا پیرو کار ہے۔ اس طرح روزہ انسان کی فرمانبرداریوں اور اطاعتوں کو ہر طرف سے سمیٹ کر ایک مرکزی اقتدار کی جانب پھیر دیتا ہے اور تیس دن تک روزانہ بارہ تیزہ گھنٹے اُسی ایک سمت میں جمائے رکھتا ہے تاکہ رمضان کے بعد جب اس ڈسپلن کے بند کھول دیے جائیں تو اُس کی اطاعتیں اور فرمانبرداریاں بکھر کر بھٹک نہ جائیں۔
دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ افراد کی اصلاح کے لیے دو قسم کے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ۔

  1. باطنی یعنی قلبی کیفیات اور اندرونی حالت میں انقلاب اور تبدیلی پیدا کی جائے ۔
  2. ظاہری یعنی بیرونی دبائو اورخدائی قوانین کے ذریعے برائیوں کو روکنے اور نیکیوں کو نشوونما دینے کی کوشش کی جائے۔

اسلام نے یہ دونوں طریقے اختیار کیے ہیں لیکن اس نے پہلے زیادہ توجہ باطنی کیفیت پر دی ہے ۔ پیغمبراسلام حضرت محمد رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’سنو ! جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے ۔ اگر وہ دُرست ہوجائے تو سار ا جسم دُرست ہوجاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارے جسم میں بگاڑ ہوجاتاہے۔ آگا ہ رہو یہ لوتھڑا دل ہے۔‘‘ ( بخاری ، مسلم ، مشکوٰۃ)
قلبی کیفیات میں تبدیلی اورپاکیزہ میلانات پیدا کرنے کے لیے نماز کے بعد اگر کسی عبادت کا مقام ہو سکتا ہے تو وہ روزہ ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں ارشاد فرما دیا ہے:’’ تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے ۔تا کہ اس ذریعے سے تم تقویٰ اختیار کرو۔ ( البقرہ :183)
یعنی روزے فرض کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان میں تقو یٰ کی صفت پیدا ہو۔
اگر آدمی روزے کا اصل مقصد سمجھ لے اور جو قوت روزہ دیتا ہے، اُسے لینے کے لیے تیار ہو ، اور روزے کی مدد سے اپنے اندر خوف ِ خدا اور اطاعت کی صفت کو نشوونما دینے کی کوشش کرے تو یہ چیز اُس میں اتنا تقویٰ پیدا کر سکتی ہے کہ رمضان ہی میں نہیں ، بلکہ سال کے باقی گیارہ مہینوں میں بھی وہ زندگی کی سیدھی شاہراہ پردونوں طرف کی خاردار جھاڑیوں سے دامن بچاتے ہوئے چل سکتا ہے ۔ اس صورت میں روزے کے نتائج ( ثواب ) اور منافع ( اجر ) کوئی حد نہیں۔
روزے کا دوسرا مقصد اخلاص ہے ۔ دیگر عبادات کا علم کسی نہ کسی طرح دوسرے افراد کو ہو سکتا ہے لیکن روزہ ایک ایسی عبادت ہے کہ جب تک خود روزہ دار ہی اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی ۔ اس عبادت میں ریاکاری اور نمائش کا کم از کم امکان پایا جاتاہے اسی بنا پر حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔
’’روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا ہوں‘‘(بخاری، مسلم ، مشکوٰۃ )
روزے کی بنا پر انسان میں صبر یعنی ضبط نفس اور اپنی خواہشات پر قابو پانے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے ۔
روزے کی وجہ سے انسان میں جذبہ شکر اُبھرتا ہے اور اُسے اللہ پاک کی نعمتوں کی قدر و منزلت معلوم ہوتی ہے اور پھر یہ جذبہ محسن حقیقی کی محبت سے وابستہ کر دیتا ہے ۔
ظاہر ہے کہ جب مقام ِ محبت حاصل ہوجائے تو پھر عبادات و اطاعت کی مثالیں بھی دو چند ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں ۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے جو ہدایت کی نعمت تمہیں بخشی ہے ، اُس پر تم اُس کی بڑائی بیان کرو تاکہ تم (احسانات) شکر ادا کرو۔ (سورئہ بقرہ ۔ آیت:185)
روزہ انسان میں ہمدردی اور غمخواری کے جذبات اُبھارتا ہے۔ رسول اللہ C کا ارشادہے۔۔۔۔۔۔ جس نے روزے دار کو ردوزہ افطار کرادیا، اُسے بھی روزے دار کے برابر ثواب ملے گا اور جس نے پیٹ بھر کر کسی روزہ دار کو کھانا کھلایا ، اُسے اللہ تعالیٰ حوضِ کو ثر کا جام پلائے گا کہ میدان محشر میں پیاس ہی محسوس نہ ہوگی اور جس نے اپنے غلام یا ماتحت شخص سے کام لینے میں نرمی برتی، اللہ تعالیٰ اُس کی گردن کو جہنم سے آزادی عطا کرے گا۔( بیہقی ۔ مشکوٰۃ )

قیام اللیل :

رمضان المبارک کی دوسری خصوصیت رات کا قیام یعنی شب بیداری ہے ۔اللہ کے محبوب نبیِ کریمﷺ کا ارشاد ہے :
’’جس نے رمضان میں ایمان کی بنا پر ثواب کی اُمید میں قیام اللیل کی ،اُس کے اگلے گناہ معاف ہوجائیں گے۔‘‘( بخاری ۔ مسلم ۔ مشکوٰۃ)
قیام اللیل میں نفس کی تربیت جس طرح ہوتی ہے ، اُس کی وضاحت اس انداز سے کی گئی ہے۔
بلا شبہہ رات کا اُٹھنا نفس کا کچلنا اور بات کے دُرست ہونے کے لیے زیادہ سا ز گار ہے۔( سورئہ مزمل)
رات کے آخری حصے میں نرم گرم بستر چھوڑ کر اللہ کی یاد کے لیے اُٹھنا نفس پر انتہائی شاق گزرتا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس پُرسکون فضا میں اپنے رب سے مناجات اور سرگوشی کرنے میں جو لطف حاصل ہو سکتا ہے ، اُس کا دسواں حصہ بھی دن کے ہنگامہ پر ورا وقات میں میسر نہیں آسکتا ۔
رسول اللہ ﷺ یوں تو دوسر ے مہینوں کی نسبت رمضان میں شب بیداری کا خصوصی طور پر اہتمام فرمایا کرتے تھے لیکن آخری عشرے میں آپﷺ کا اہتماک اور بھی زیادہ تیز ہوجاتاتھاجیسا کہ حدیث میں آتا ہے:
جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپﷺ عبارت میں زیادہ منہمک ہوجاتے ہیں، رات جاگ کر گزارتے اور گھر والوں کو بھی بیدار کرتے۔ ( بخاری ، مسلم)

تلاو ت ِ قرآن :

رمضان المبارک کی ایک خصوصیت اس ماہ میں نزول ِ قرآن ہے ۔ جیسا کہ ارشادِباری ہے :
’’ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن پاک نازل ہوا۔ ‘‘ (سورئہ بقرہ آیت :185)
یہ انداز بیان ظاہر کر رہا ہے کہ رمضان اور قرآن کا آپس میں گہرا تعلق ہے ۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد یہ نہیں ہے اسے تیزی کے ساتھ بے سمجھے بوجھے پڑھ لیا جائے بلکہ قرآن مجید کاحق صحیح معنوں میں اُس وقت ادا ہوسکتا ہے جب اس کے نزول کے مقاصد پیش نظر رکھے جائیں:
ترجمہ :’’ ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے اُتارا ہے تاکہ اُسے آپ ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے لوگوں کو سنائیں۔‘‘ ہم نے خود اسے بتدریج نازمل فرمایا۔(سورئہ نبی اسرائیل۔آیت:106 )
ترجمہ : ’’ہم نے برکت والی کتاب نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور وفکر کریں اور تدبر سے کام لیں۔ ‘‘( سورئہ ص :آیت۔29)
ترجمہ : ’’ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ کتاب اُتاردی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو راہ آپ کو دکھائے ہیں اس کے مطابق آپ فیصلہ کریں۔ ‘‘ ( سورئہ نساء:آیت 105 )
یعنی انسان اپنے نفس پر ، اپنے گھر پر ، ماحول پر ، پورے ملک پر بلکہ پوری دنیا پر اللہ کی کتاب کا غلبہ اور حکمرانی قائم کرنے کی جدوجہد میں لگ جائے ۔ زندگی کا کوئی شعبہ اور معاشرے کا کوئی حصہ بھی اس کی رہنمائی سے خالی نہ رہے۔

انفاق فی سبیل اللہ :

رمضان المبارک کی ایک خصوصیت اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ :
رسول اللہ ﷺ اس ماہ تمام قیدیوں کو آزادی عطا فرما دیتے اور ہر سائل کوکچھ نہ کچھ ضرور دیتے ۔‘‘ ( مشکوٰۃ )
اللہ تعالیٰ کے احسانات خصوصا ً نعمت ِ قرآن کا شکراسی طرح سے ادا ہو سکتاہے کہ اس مہینے میں کثرت سے غربا اور مساکین کی مدد کی جائے اور نیک کاموں میں باہم ایک دوسرے سے تعاون کیا جائے۔ اسی طرح روزے دار اس ماہ میں دل سے بخل کا میل کچیل دور کر سکتا ہے اور اُسے سخاوت و فیاضی کا خوگر بنا سکتا ہے ۔ ان تمام خصوصیات پر غور کرنے سے انداز ہوتا ہے کہ رمضان کے ذریعے عبادت خالق اور خدمت خلق دونوں کی تربیت دی گئی ہے۔

سوچ کا فروغ :

رمضان المبارک کی پانچویں خصوصیت ، اس میں اجتماعیت کا پہلو ہے ۔ یہ وہ پہلو ہے جو رمضان المبارک کے تمام احکام و عبادات میں نمایاں ہے۔

لیلۃ القدر :

رمضان کی ایک خصوصیت لیلۃ القدر ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق اس را ت کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے ۔( سورئہ قدر آیت1) اس رات مندرجہ ذیل دُعا پڑھنا مسنون ہے :

اللّٰہم انک عفو تحب العفو فاعف عنی

اے اللہ ! تو معاف کرنے والا ہے ، معافی کو پسند کرتا ہے ۔ تو میری خطائیں معاف فرما ۔(ترمذی ۔ مشکوٰۃ )

عام طور پر ستائیسویں شب ہی کو شب قدر سمجھا جاتا ہے، حالانکہ حدیث مبارکہ سے معلو م ہوتا ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کی پانچ طاق راتوں میں سے کوئی ایک شب قدر ہوتی ہے ، اس لیے ان میں خاص طور پر عبادت و تلاوت اور ذکرِ الہٰی کا اہتمام کرنا چاہیے۔

اعتکاف :

رمضان المبارک کی ایک خصوصیت اعتکاف ہے ۔ رسول اللہ C رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے مگر آخری سال آپ C نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا ۔ ( صحیح بخاری،مشکوٰۃ)
اسلام نے رہبانیت یعنی ترک دنیا سے منع کیا لیکن انسان کی یہ خواہش بھی فطری ہے کہ وہ یکسوئی کے ساتھ گوشہ تنہائی میں اپنے رب سے سرگوشیوں میں مصروف ہو اور اُس کے حضور میں گڑ گڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور آئندہ کے لیے ازسرِ نواطاعت و وفاداری کا عہد و پیمان باندھے۔ اعتکاف کو مستحب قرار دے کر یہ خواہش پوری کی گئی ہے۔

استقبال رمضان :

رمضان کا حق صرف رمضان میں ادا نہیں ہوتا۔ اس سے پہلے اس کا استقبال ، اس کا ذوق و شوق اور اس کی تیاری بھی ہونی چاہیے ۔ مکان کی تعمیر کا سلسلہ بنیاد سے شروع ہوتا ہے ، جتنا بڑا اور اونچا مکان بنانا ہوتا ہے ، اتنی ہی گہری بنیاد کھو دی جاتی ہے اگر کوئی کسی مکان کی بنیاد کھو د رہا ہو اور اس کو مضبوط بنا رہا ہو اور کوئی کہے کہ مکان کی سطح کو تو زمین پر کھڑا ہونا ہے ، کہ زمین کے اندر کیا کاروائی کی جا رہی ہے ، تو کیا اعتراض صحیح ہوگا۔۔۔۔۔؟
اسی طرح رمضان کی تیاری رمضان سے پہلے شروع ہونی چاہیے ۔ رمضان شروع ہونے کے بعد اس کے دن گننا اور اس کے روزوں کو حساب لگانا کہ اب اتنے رہ گئے ہیں، بڑی ناقدری ہے ۔
شعبان کے آخری عشرہ میں حضرت محمد رسول اللہC نے تمام صحابہ کرام ؓ کو جمع کرکے ارشاد فرمایا :
’’ لوگوں ! تم پر ایک بہت پُر عظمت اور برکت کا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے ۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کی ایک رات ہزاروں مہینوں سے افضل ہے ۔‘‘ (سنن بیہقی)
چنانچہ رمضان کے آداب کو سمجھیے ، اس پر عبادات میں خشوع ،خضوع اور معاملات میںدرستی و نکھار لانے کے لیے رمضان سے قبل ہی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔

ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ
اگست 2010ء کے شمارے سے انتخاب
تحریر : محمد اقبال جیلانی

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

درخت ماحول کے محافظ

بے قابو ہوتے موسموں کے جن کو ماحول دوست درختوں کی مدد سے قابو میں …