صفحہ اول / علم و معرفت / تصوف / حضرت بابا تاج الدین اولیاءؒ

حضرت بابا تاج الدین اولیاءؒ

برصغیر پاک و ہند کی ابتداء ہی سے یہ خصوصیت رہی ہے کہ یہ خطہّ توحیدکے فروغ کے لیے مسلمان برگزیدہ روحانی ہستیوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ روحانی بزرگوں نے یہاں کے باشندوں کو اپنی فیوض و برکات سے نوازا۔ ان میں خصوصی طور پر ؒ حضرت داتا گنج بخش ،ؒ حضرت بہاؤ الدین نقشبندی ؒ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ،حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ، حضرت علی احمد صابر کلیریؒ ، حضرت نظام الدین اولیا ؒ محبوب الہیؒ،  حضرت بو علی شاہ قلند رؒ ، حضرت لعل شہباز قلندر ؒ  اور دیگر اولیاء کرام ؒ کے نام اس طویل میں فہرست میں شامل ہیں۔  ان ہستیوں  نے اس خطے میں اسلام کی تبلیغ کی، اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا اورمخلوق کو خالق کی طرف بلایا۔

20 ویں صدی ہجری میں بھی انسانوں کے لیے فلاح و ترقی کا پیغام لیے چندبرگزیدہ ہستیوں نے اس سرزمین کو منور کیا ۔ ان میں حضرت حاجی وارث علی شاہ صاحب ؒ ، حضرت مولانا فضل ِالرحمن گنج مراد آبادی اور حضرت بابا تاج الدین ؒ ناگپوری کے اسماء گرامی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

 ہندوستان کے مرکز مہاراشٹر کے شہر ناگپور میں ایک ایسی ہستی نے جنم لیا  جسے مسلمان ہی نہیں بلکہ تمام اقوام کے لوگ اپنا بزرگ مانتے ہیں۔  اس ہستی کے فیض سے ہزاروں افراد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ خود ناگپور کا مہاراجہ جو مرہٹہ خاندان سے تھا، اس  ہستی کا بہت بڑا معتقد ہوا،  اس عظیم روحانی ہستی کو  دنیا بھر میں حضرت باباتاج الدین اولیا ؒ کے نام سے یاد کیاجاتاہے ۔

babatajتاج الدین  27 جنوری 1861ء (1297ھ) کی ولادت  بھارت کے صوبہ مہاراشٹر کے شہر ناگپور سے 15 کلومیٹر دور كامٹی گاؤں ،  محلہ گورابازار  میں ہوئی۔

بابا تاج الدین پیدائش کے وقت سے ہی غیرمعمولی  تھے، وہ عام بچوں کی طرح روتے نہیںتھے ۔

آپ ؒ کے آبا ؤ اجداد مدینہ سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے تھے۔ خاندانی پیشہ سپہ گری تھا چنانچہ آپ ؒ کے خاندان کے بیشتر بزرگ فوج میں شامل ہوئے۔ آپ ؒ کے والد محترم سیدبدرالدین ؒ آپ کی ولادت کے ایک سال بعد رحلت فرماگئے۔  جبکہ والدہ محترمہ حضرت سیدہ  بی اماں مریم ؒ صاحبہ بھی آٹھ  سال بعد خالق حقیقی سے جاملیں۔

تاج الدین  کی پرورش آپ کے نانا حضرت شیخ میراں جو  ایسٹ اندیا کمپنی کی فوج میں صوبیدار میجرتھے  ،   ماموں عبدالرحمٰن  اور آپ کی نانی نے کی۔  حضرت تاجِ الاولیاؒنے ابتدا ئی تعلیم کا مٹی کے ایک مدرسے میں حاصل کی۔ آپ ایک روز مکتب میں موجود تھے کہ کا مٹی میں سلسلہ قادریہ کے مشہور مجذو ب بزرگ حضرت عبد اللہ شاہ  قادری  کا مٹی ؒمکتب میں تشریف لائے اور بابا صاحب ؒ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے معلم سے فرمایا کہ ‘‘ا س کو کیا پڑھا رہے ہو ۔ یہ تو پڑھا پڑھایا آیا ہے ’’….

اتنا کہہ کر عبداللہ شاہ نے اپنی جھولی سے خرما نکال کر نصف خود کھایا  اور بچا ہوا   تاج الدین کے منہ میں رکھ کر کہا :

‘‘کم کھاؤ، کم  سو اور کم بولو اور قرآنشریفپڑھو’’۔

کہتے ہیں کہ خرما کھاتے ہی تاج الدین میں تبدیلی آ گئی، اور ان کی اندر کی دنیا ہی بدل گئی، دنیاوی چیزوں میں ان کی دلچسپی بہت کم ہو گئی۔

اس بات کا کوئی سراغ نہیں ملتا کہ بابا تاج الدین   نے کسی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔  پھر بھی دو ہستیاں ایسی ہیں جن سے صرف قر بت اور نسبت کا ذکر ملتا  ہے۔ ایک سلسلہ قادریہ کے حضرت عبداللہ شاہ قادری، دوسرے سلسلۂ چشتیہ کے بابا داؤد مکی  ۔

حضرت عبداللہ شاہ  قادری  کا مزار کا مٹی اسٹیشن کے پاس ہے۔ نو جوانی کے زمانے میں بابا تاج الدین  حضرت عبداللہ شاہ صاحب کی خد مت میں حاضر ہو تے تھے۔ حضرت عبداللہ شاہ کے سجاد ہ نشین کی روایت کے مطابق جب حضرت عبداللہ شاہ کے وصال کا وقت قریب آیا تو تاج الدین ان کے پاس آئے۔ اس وقت شر بت بنا کر شاہ صاحب کو پیش کیا گیا۔ انہوں نے چند گھونٹ پی کر باقی تاج الدین کو پلا دیا۔روایت ہے کہ سید تاج الدین نے  پندرہ سال کی عمر میں   قرآن پڑھ لیا تھا اور اس کے بعد دیگر علوم کیتحصیل  کی۔

جب تاج الدین  18 سال کے تھے (سن 1879تا 1880) تب كامٹی میں بہنے والے كنہان دریا میں سیلاب آ گیا۔  سیلاب سے ان کے مکان کو بھی کو کافی نقصان پہنچا۔   سن 1881 میں ان کے ماموں  عبدالرحمٰن نے انہیں ناگپور کی ریجمنٹ نمبر 13 میں بھرتی کروادیا۔  فوج میں تین سال ملازمت کے بعد انہیں ساگر (مدھیہ پردیش)جانا پڑا۔

dawood Makkiساگر مدراسی پلٹن کے خیمہ (ملٹری کیمپ ) میں پہنچنے کے بعد دورانِ ملازمت وہیں ایک  علاقے پیلی کوٹھی میں سلسلہ چشتیہ کے بزرگ حضرت داؤد مکیؒ  کے مزار  پر تشریف  لے جاتے۔

حضرت دا ؤد مکی ؒ ، خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی ؒ  کے خلیفہ تھے اور خواجہ شمس الدین ترک ؒ  کو مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری ؒ سے خلافت ملی تھی۔ حضرت داؤد مکی ؒ اپنے  مر شد کے حکم پر سا گر آئے اور یہیں وصال فر ما یا۔

جب تاج الدین فوجی ملا ز مت کے سلسلے میں سا گر گئے تو آپ نے بابا داؤد  مکی کے مزار پر تقریباً دو سال ریاضت و مر اقبے میں گزارے ۔ روایت کے مطابق یہیں تاج الدین  کو چشتیہ نسبت اویسیہ طریقے پرمنتقلہوئی۔

اب بابا تاج الدین کا روز کا معمول تھا کہ دن میں کام کے بعد پوری رات داؤدمکی ساگری ؒ کے مزارا قدس پر گزارتے اور  یادالہٰی میں محو رہتے۔

کامٹی میں جب نانی کو اس بات کی خبر ہوئی کہ نواسہ راتوں کو غائب رہتا ہے تو خیال آیا کہ کہیں کسی بری صحبت میں نہ پڑ گیا ہو۔ یہ سوچ کر نانی صاحبہ ساگر جاپہنچیں تاکہ یہ معلوم کریں کہ نواسہ راتوں کو کہاں رہتا ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ تاج الدین خدا کی بندگی میں راتیں گزارتا ہے تو  نانی کے دل کا بوجھ اتر گیا اور وہ نواسے کو دعائیں دیتی ہوئی واپس چلی گئیں ۔

لیکن رفتہ  رفتہ تاج الدین کا وقت داؤد مکی ؒ کی درگاہ پر زیادہ اور ڈیوٹی پر کم رہنے لگا ۔  ایک روز فوج کے کیپٹن  کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ تاج الدین  ڈیوٹی کے اوقات میں پیلی کوٹھی کی درگاہ  پر  دیکھے گئے ہیں۔  اس  کیپٹن  نے تاج الدین  کو تنبیہہ کی اور کہا کہ پورے وقت ڈیوٹی پر حاضر رہا کریں ، میں نوٹکروں گا….!

تاج الدین کو ملٹری کیمپ میں اسلحہ خانے پر پہرہ دینے کا کام سونپا گیا ،  ایک رات دو بجے کے قریب فوج کا کیپٹن اچانک معائنے کے لیے آگیا۔ اس نے دیکھا کہ تاج الدین مستعدی سے ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ کیپٹن انہیں دیکھ کر مطمئن  روانہ ہوگیا۔

آدھے فرلانگ کے فاصلے پر ایک چھوٹی سی مسجد کے پاس سے گزرا ۔ مسجد کا صحن چاندنی رات میں صاف نظر آرہا تھا۔کیپٹن نے دیکھا کہ وہ جس سپاہی کو پہرہ دیتے دیکھ کر آیا ہے۔  وہ خشوع و خضوع کے ساتھ مسجد کے صحن میں نمازادا کررہا ہے۔  سپاہی کو ڈیوٹی سے غفلت برتتے دیکھ کر اسے سخت غصہ آیا اور وہ واپس اسلحہ خانے آیا۔  اس کے قدموں کی چاپ سن کر سپاہی پکارا ‘‘ہالٹ’’۔  انگریز کیپٹن سپاہی کو اپنی جگہ دیکھ کر سخت حیران ہوا  اور کچھ کہے بغیر مسجد کا رخ کیا اور وہاں جاکر وہ حیران و ششدر رہ گیا کہ تاج الدینؒ اسی طرح محویت کے عالم میں مصروف عبادت تھے۔  وہ ایک بار پھر اسلحہ خانے تصدیق کے لئے گیا اور وہاں ڈیوٹی دیتے دیکھ کر اس نے قریب آکر غور سے دیکھا کہ یہ وہی شخص ہے یا کوئی اور؟

 اس نے تاج الدین ؒ سے بات چیت کرکے اپنی پوری تسلی کرلی کہ ہاں یہ وہی شخص ہے۔

دوسرے دن ایک افسر کے سامنے تاج الدین کی پیشی ہوئی۔ کیپٹن نے رات کے واقعے کی چشم دیدگواہی دی۔ تاج الدین ؒ سے پوچھا گیا کہ تم ڈیوٹی چھوڑ کر عبادت کررہے تھے یا بیک وقت ڈیوٹی بھی ادا کررہے تھے اور عبادت بھی۔ اگر آخری بات سچ ہے تو صاف صاف بتاؤ تم ایک وقت میں دو کام کس طرح انجام دیتے ہو؟ تم جادوگر تو نہیں ہو؟

یہ سننا تھا کہ تاج الدین کو جلال آگیا۔ انہوں نے   پیٹی، بندوق ،  وردی سمیت تمام سرکاری سامان لاکر انہوں نے افسر کی میز پر رکھ دیا ’’لوجی حضّت! اب ہم دو دو نوکریاں نہیں کرتے جی حضّت‘‘۔

یہ کہہ کر تاج الدین  فوراً کمرے سے نکل گئے۔

ناگ پور اور جبل پور شہروں کو ملانے والی شاہراہ کامٹی  اور  رام ٹیک سے ہوکر گزرتی ہے۔ یہاں سے بہت بڑا پہاڑی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے گھنے جنگلوں میں قدم قدم پر خونخوار درندے گھومتے ہیں اور دنیا کے زہریلے ترین سانپ پائے جاتے ہیں۔

ملازمت سے سبکدوشی کے بعد بابا تاج الدین  ؒ نے زیادہ تر وقت ناگپور سے متصل واکی کے گھنے جنگلوں میں گزارا ،   جہاں قدم قدم پر خونخوار شیر اور جنگلی درندے رہتے تھے اس جنگل کے اژدہے بھی شہرت رکھتے ہیں۔وہاں تاج الدین باباؒ نے کئی برس تک بلا خوف  و خطر  ریاضت کی۔  کبھی کبھار ریاضت کے بعد آپ ستپڑا پہاڑ کی بلندیوں اور گھنے جنگلوں سے اُتر کر بستیوں میں آجاتے۔ جذب وکیف کا یہ عالم تھا کہ انہیں کھانے پینے  اور پہننے اوڑھنے کا احساس بھی نہ رہتا۔  ادھر تاج الدین کے استعفیٰ کی خبر فوج کے ذریعے ان کے گھر بھیجی گئی۔ نانی نے پھر ایک مرتبہ ساگر آکر دیکھا تو تاج الدین گلی کوچوں کی خاک چھانتے نظر آئے۔ نانی کو لگا کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں اور وہ انہیں اپنے ساتھ  كامٹی لے آئیں۔ كامٹی میں ڈاکٹروں، حکیموں کو دکھایا گیا لیکن کوئی بھی آپ کی حالت سمجھ نہ سکا۔

بابا تاج الدین شہر  میں واپس آکر خوش نہیں تھے۔ انہیں  جب بھی موقع ملتا  پھر اپنے جنگل میں جانکلتے ۔  عام لوگوں نے انہیں پاگل سمجھ لیا ،  بستی کے آوارہ لڑکے انہیں چھیڑتے اور تنگ کرتے۔ کوئی آوازیں کستا تو کوئی پتھر مارتا۔ دوسری طرف بہت سے لوگ عقیدت سے ان کے ہاتھ چومتے لیکن تاج الدین باباؒ فنا کی ان منزلوں پر تھے جہاں پتھروں کی مار اور پھولوں کی بارش میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا ہے۔  بستی میں آپ کادل نہیں لگتا تو آپ جنگلات میں نکل جاتے اور کبھی واپس کامٹیپہنچجاتے۔

 کچھ عرصے بعد آپ کی  کرامات کا چرچا ہوا تو لوگ دور دور سے آپ  کے پاس اپنا درد لے کر آنے   لگے۔  بابا صاحب کی دعاؤں  سے لوگوں کے کام ہونے لگے تو سائلین اور عقیدتمندوں کا  ہجوم رہنے لگا ایسے میں کچھ لوگوں نے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی سوچی تو  بابا صاحب نے اعلان کر دیا کہ

‘‘ اب ہم پاگل جھونپڑیجائیں’’۔

حالات کچھ ایسے بنے کہ  26 اگست، 1892 کو كامٹھی کے كینٹونمنٹ اور ضلع مجسٹریٹ نے انہیں پاگل خانے بھیج دیا۔

پاگل خانہ کا سپرنٹنڈنٹ  ڈاکٹر ما روتی راؤ تھا۔ اس کی پانچ لڑکیاں تھیں، لڑکا کوئی نہیں تھا،اولاد نرینہ کی اسے بہت تمنا تھی۔ ڈاکٹر نے بابا صاحب کی پاگل خانے میں موجودگی کا اپنی بیوی سے ذکر کیا ،اُس کی بیوی کے دل میں خیال آیا کہ میں چل کر حضور بابا صاحبؒ سے عرض کروں۔ اُس نے ایک دن اپنے خاوند سے کہا کہ مجھے باباصاحبؒ کے پاس لے چلو۔ اس کا خاوند چونکہ مذہباً مرہٹہ برہمن تھا،اس لیے اپنی بیوی سے یہ الفاظ سُن کر پہلے تو کچھ ہچکچایا ۔ بعد میں اس نے یہ چاہا کہ کسی طرح بابا صاحب کو اپنے گھر پر بلالے ۔لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ آخر ایک دن اُس کی بیوی اپنی پانچوں لڑکیوں کے ساتھ باباصاحب کی خدمت میںپہنچ گئی اورعرض کیا کہ  :

باباصاحبؒ میرے کوئی لڑکا نہیں ہے ۔ میرے لیے دعاکریں۔

بابا صاحبؒ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ ‘‘ڈاکٹروں کی دوائیاں تو بہت کھاتے جی ، پن لڑکا نہیں ہوتا۔ ’’

یہ سُن کر وہ بیچاری رونے لگی اور پھر عرض کیا کہ باباصاحبؒ ، لوگوں کی مرادیں پوری ہورہی ہیں، میرے لیے بھی مہربانی فرمائی جائے ۔ آپ نے یہ سُن کر پوچھا :

‘‘لڑکیا ں کتنی جی ؟’’ تو اس نے جواب دیا کہ لڑکیاں تو پانچ ہیں…. بابا صاحب نے فرمایا ۔‘‘ اگر لڑکیاں پانچ ہیں تو لڑکے بھی پانچ ہوجاتے جی….!’’، یہ خوشخبری سن کر ڈاکٹر کی بیوی واپس گھر آگئی۔  خدا کی شان کہ ایک سال بعد اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔

ڈاکٹر ماروتی راؤ کی بیوی نے غسل کے بعد لڑکے کو حضور بابا صاحبؒ کے قدموں میں رکھ دیا۔ باباصاحبؒ نے ایک نظر دیکھا اور تبسم  کے ساتھ فرمایاکہ ‘‘ابھی تو چار اور آتے جی ! لے جانا ، یہ خوشرہے گا ۔’’

پاگل خانے میں بند کئے جانے کے بعد  بھی اکثر بابا تاج الدین شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں گھومتے نظر آئے اور ان سے کئی کرامات کا ظہور ہوا۔

اسی دوران ناگپور کے مرہٹہ راجہ مہاراجہ گھوراؤ جی بھونسلے پٹیل کے بیٹے ونائیک راؤ کی بیوی   زچگی کے مرحلے میں نازک صورتحال سے دوچار تھیں ۔ بڑے بڑے ڈاکٹر،  وید،  حکیم موجود تھے ۔ مگر کسی قسم کا کوئی افاقہ نہیں ہو رہا تھا ۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ حاملہ کے رحم میں بچہ مرچکاتھا  اب زچہ کی جان بچانے کے لیے آپریشن کی ضرورت ہوگی۔ جسم میں زہر پھیل گیا تو پھر اس کے زندہ رہنے کی کوئی امید نہیں ۔

مہاراجہ ڈاکٹروں کو آپریشن کی اجازت نہیں دے رہا تھا اور ادھر بہو کی طبیعت بگڑتی جارہی تھی ۔ اسی دوران مہاراجہ کے ایک ڈرائیور نے جو بابا صاحب ؒ کا بے حد معتقد تھا۔ مہاراجہ سے کہا کہ

‘‘میں ایک مسلمان ولی کو جانتا ہوں۔ آپ ان کے پاس چلیے اور دعاکی درخواست کیجئے ۔ شاید کوئی سبب بن جائے ۔’’

مہاراجہ  نے ڈرائیور کی بات سنتے ہی کہا کہ

‘‘ہاں چلو جلدسے جلد ہمیں ان کے پاس لے چلو’’۔ اور اسی طرح ننگے پیر گاڑی میں بیٹھ گیا، راجہ صاحب کی موٹر پاگل خانے کے صدر  دروازے پر جاکر رُکی تو لوگ راجا صاحب کے استقبال کو دوڑے لیکن وہ سب کو نظر انداز کرتے ہوئے تیزی سے اندر داخل ہوگئے۔ اندر پہنچتے ہی انہوں نے بابا صاحب کے قدموں میں خود کو گرالیا۔ ان کا چہرہ آنسوؤں سے  بھیگا ہوا تھا اور صدمے کی وجہ سے ان کی زبان گنگ تھی۔  بابا نے سر اُٹھا کر انہیں دیکھا اور بولے

‘‘ادھر کیا کرتے جی حضت! ادھر جانا، لڑکا پیدا ہوا ہے تو خوشیاں منانا….!’’

 ڈرائیور نے یہ سنتے ہی کہا کہ مہاراجہ جلد واپس چلیے کام ہوگیا۔

مہاراجہ جب محل میں پہنچا تو خادموں نے دروازے پر ہی مہاراجہ کو مبارک باد دی اور خوشخبری سنائی کہ آپ کی بہو کو   بیٹا ہواہے اور زچہ و بچہ دونوں خیریت سے ہیں۔

  مہاراجہ کا اعتقاد بابا صاحب ؒ پر اس قدر پختہ ہو اکہ اس نے اسی وقت چیف کمشنر ناگپور بینجمن رابرٹس کے پاس نقد زرضمانت جمع کرا ئی اور بابا صاحب ؒ سے عرض کہ آپ  میرے ساتھ چلیے۔ آپ ؒ نے اس کی درخواست قبول کر لی۔

raghu rao bhonsale21 ستمبر، 1908ء کو ناگپور کے مہاراجہ راگھوجی راؤ بھوسلے  باباصاحبؒ  کو بڑی دھوم دھام سے ہاتھی پر سوار کرا کے   شكردرہ  میں اپنے شاہی محل لے آیا ۔ جہاں تمام اہل خانہ نے باباصاحب ؒ کااستقبال کیا ۔

مہاراجہ نے محل کا ایک حصے میں  بنی ‘‘لال كوٹھی’’  آپ ؒ کے لیے مخصوص کردی ۔ راجہ  خود صبح شام ان کو حاضری دیتے تھے ۔لال کوٹھی میں   بھی ہروقت عام لوگوں کا ہجوم لگا رہتا اور مہاراجہ کی جانب سے ان عقیدتمندوں کے لیے دونوں وقت چائے اور کھانے کا اہتمام ہوتا ۔ آج بھی یہ محل عوام کے لیے وقف ہے اور زائرین زیارت کے لیے دور دور سےآتے ہیں۔

 ایک مرتبہ بیگم راجہ آف بھوپال آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور وہ اپنے ساتھ انواع اقسام کے کھانے لائیں  اور بابا صاحب ؒ سے عرض کیا  ‘‘اس میں سے کچھ تناول فرمائیں ’’۔

بابا صاحب ؒ نے چند لقمے لیے اس دوران بیگم صاحبہ نے  دل میں سوچا کہ اتنے اچھے کھانے یہاں کون پکا کر باباصاحب ؒ کو کھلاتا ہوگا۔ آپ نے فوراً ہی فرمایا

‘‘یہ کھانا ہمارے کام کا نہیں۔  ہمیں ایسا کھانا کون کھلا سکتا ہے’’ اور یہ کہہ کر زمین سے پتھر اٹھا کر ویسے ہی کھانے لگے جیسے کھانا تناول فرما رہے ہوں…. بیگم صاحبہ بہت ہی شرمندہ ہوئیں۔

چیف کمشنر بینجمن رابرٹس کی بھتیجی بہت شدید بیمار تھی۔ لندن میں ہر طرح کا علاج کروایا لیکن اس کے سر میں شدید قسم کا درد ہوتا تھا ۔ اسے کسی طرح بھی آرام نہ آرہا تھا ۔ بابا تاج الدین ؒ  کا شہر ہ سن کر وہ آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ رگھو راؤ نے ڈرتے ڈرتے بابا صاحب ؒسے سوال کیا ۔ ‘‘چیف کمشنر رابرٹس آئے ہیں ۔ اگر اجازت ہو تو بلا لاؤں ؟’’

‘‘بلالے بلالے ، بے چارہ پریشان ہے، تاج الدین کسی کو نکو  روکتاجی ۔ ’’

 راجہ کے ہمراہ سر بینجمن ننگے پاؤں حجرے میں داخل ہوا…. بابا جی نے بڑے اطمینان سے کہا….‘‘تو کائے کو اتنا خرچہ کیا ؟ بچی کو ناحق تکلیف دیا۔ بٹیا کو مٹی سنگھاتے ،اچھے ہو جاتے ۔ ’’

 کوئی نہ سمجھ سکا بابا صاحب ؒ کیا کہہ رہے ہیں ۔ باباصاحب  خواتین کا بے حد احترام کرتے تھے ۔ دورازے کی جانب سر بینجمن کی میم اور جواں سال بھتیجی  رگھوجی راؤ کی بیوی کے ہمراہ کھڑی تھیں۔  بابا نے ان کو دیکھا فوراً کھڑے ہوگئے ….‘‘آجاؤ رے’’….رانی لڑکی کا ہاتھ پکڑے آگے بڑھی جس کے سر پرپٹی بندھی تھی۔

‘‘بابا ! اس کے سر میں درد رہتا ہے۔  لندن میں کسی بھی علاج سے فائدہ نہیں ہوا ہے۔ سر بینجمن نے اسے آپ سے دم کرانے کے لیے وہاں سے بلوایا ہے’’….وہ ایک ہی سانس میں پوری بات کہہ گئی ۔

‘‘یہ تو پگلا ہے جی بچی کو تکلیف دیا۔ تاج الدین ؒ کو بولنا تھا….’’ پھر  بڑی  شفقت سے لڑکی کو اپنے قریب بٹھایا اور بولے

‘‘پریشان نکو ہوتے ….بیٹی۔  مٹی سونگھ لیتے۔ اچھے ہوجاتے۔ پٹی کھول دیتے….’’ شفقت اور مٹھاس ان کے لہجے سے پھوٹی پڑتی تھی ۔ لڑکی کچھ بھی نہ سمجھی۔  وہ اردو سے ناآشنا تھی۔  وہ حیرت بھری نگاہوں سے بابا کو دیکھ رہی تھی۔

‘‘ کونسی مٹی۔  رگھوجی نے پوچھا ….’’

 بینجمن رابرٹس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا‘‘یہ لائے گاجی ۔ بچی کو سونگھا دے۔ جی اچھے ہوجاتے’’۔

سر بینجمن رابرٹس بابا ؒ کی خدمت میں پہلے بھی حاضری دے چکاتھا۔  بات سمجھ گیا فوراً تھوڑی سی مٹی ا ٹھا لایا اور بچی کو اُسے سونگھ لینے کی ہدایت کی۔ مٹی کو سونگھتے ہی بچی کو تین چار چھینکیں آئیں

‘‘بس بیٹی….! بس اب اچھے ہوگئے ’’ باباصاحبؒ نے فرمایا ۔

رانی نے بچی  کے سر کی پٹی کھولی۔ درد سر بالکل غائب ہوگیاتھا…. فرط مسرت سے لڑکی کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔

 یہ سب لوگ سراپا تشکر اور سپاس بنے ہوئے تھے،  سر بینجمن نے احساس تشکر کے ساتھ ساتھ بابا صاحب ؒ  کی خدمت میں کثیر رقم پیش کی تو آپ کی پیشانی پر بل پڑگئے ۔ مگر آپ کے الفاظ میں بڑینرمیتھی ۔

‘‘بیٹی باپ کو نذزانہ نہیں،  باپ بیٹی کو دیتا ہے ….’’  یہ کہا اور گاؤ تکیے کے نیچے ہاتھ ڈالا اور چند سکے لڑکی کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔

 اس نے خوشی خوشی تحفہ قبول کر لیا اور  وہ  لوگ شاداں وِِفرحاں رخصت ہوگئے ۔

سر بینجمن کی بابا صاحب سے یہ ملاقات مہاراشٹر کے مسلمانوں کے حق میں رحمت ثابت ہوئی۔ سربینجمن نے بڑی تعداد میں وہاں اسکول اور مدرسے قائم کیے، مسلمانوں کی درسگاہوں کے لیے زمینیں فراہم کیں، عمارتوں کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تعلیم یافتہ مسلمان نوجوانوں کے لیے روزگار فراہم کرتے رہے۔

جبل پور میں مسلمانوں کا اسکول آج بھی رابرٹس انجمن اسلامیہ ہائی اسکول کے نام سے موجود ہے۔  انہوں نے وہاں ہزاروں مخالفتوں کے باوجود رابرٹس کالج بھی قائم کیا….ناگپور کا انجمن اسلامیہ ہائی اسکول بھی سر بنجمن اور تاج الدین بابا ؒ کی اسی ملاقات کی یاد گار ہے۔

عبد الصمدنام کے بزرگ بھیکی پورجائس سے بابا کے پاس آئے۔ ان کے دل میں یہ خواہش تھی کہ کسی طرح انہیں کشف عطا ہوجائے۔ لیکن جب بابا سے آمنا سامنا ہوا  تو وہ مدعا نہ کہہ سکے۔ بابا اس وقت بیڑی پی رہے تھے۔بابا نے بیڑی ان کو دیتے ہوئے کہا‘‘یہ لو کشف’’۔

عبد الصمد نے بیڑی کا ایک ہی کش لیا تھا کہ چودہ طبق روشن ہوگئے۔

بابا نے کہا‘‘اب جاؤ تمہارے پانی سے شفا ہوتیحضت….!’’

عبد الصمدوہاں سے کشف وکرامات لے کر واپس ہوئے۔ دنیا خود بخود ان کی طرف متوجہ ہوئی اور اتنی کثرت سے ضرورت مند پہنچنے لگے۔  ہندوستان کے طول وعرض میں ان کی دھوم مچ گئی۔ جہاں بھی ان کا دیا ہوا پانی پہنچا کیسا ہی مرض ہوتا ختم ہوجاتا۔  یہ سلسلہ عرصے تک جاری رہا۔ ایک بار کسی عورت کا بچہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ لیکن اتفاق سے وہ ایسے وقت میں عبد الصمد کے ہاں پہنچی جب عورتیں بے نماز ہوتی ہیں۔  عبد الصمد اس عورت کو دیکھ کر جلال میں آگئے اور چیخے کہ اس عورت کو باہر نکال دو ناپاک ہے۔ عورت نکالدیگئی۔

وہ پریشان حال شکستہ دل عورت بابا تاج الدین ؒ سے ناگپور ملنے گئی لیکن ناپاکی کے خیال سے دور ایک موسری کے درخت کے نیچے جاکر بیٹھ گئی۔ دل میں سوچنے لگی کہ جانے گھر جاکر بچہ زندہ بھی ملے گا یا نہیں۔ ادھر بابا نے ایک خادم کو حکم دیا کہ جاؤ موسری کے درخت کے نیچے ایک عورت بیٹھی ہے اسے بلالاؤ۔ خادم اس عورت کو بلالایا۔ وہ آتے ہی ایک فاصلے پر کھڑی ہوگئی۔ بابا انتہائی شفقتسےبولے :

‘‘ اماں!….’’

سہمی ہوئی عورت قریب آگئی۔ بابا بولے :

‘‘عبد الصمد ایک لٹیا پانی تھا گندہ ہوگیا تاج الدین ؒ سمندر ہے’’۔

عورت روتی ہوئی ان کے قدموں پر گر پڑی۔

بابانے کہا :‘‘نکو اماں! روتے نہیں، گھر جاتے بچہ کھیلتا ملتا، اچھا رہتا’’۔

عورت خوش خوش واپس چلی گئی۔ اس کے جاتے ہی بابا نے جائس کی طرف منہ کرکے انگریزی میں کہا ‘‘عبد الصمد سسپنڈڈ’’۔

اسی لمحے جائس میں عبد الصمد کی تمام صلاحیت سلب ہوگئی۔

baba tajauddin shrineبیرہٹ اب تاج آباد کے نام سے مشہور ہے۔ ایک دن بابا گھومتے ہوئے اس جگہ جاکر رُک گئے جہاں اب ان کا مزار ہے وہاں انہوں نے زمین سے تھوڑی مٹی اُٹھائی اور کہا :

سبحان اﷲ کیا اچھی مٹی ہے۔

 ذیقعد 1343ھ میں بابا ڈگوری کے پل پر مقیم تھے یکایک وہ اپنے ایک معتقد سے پوچھنے لگے  ۔

‘‘عید کا چاند دکھ گیا….؟’’۔ جواب ملا’’رمضان کی عید ہوچکی ہے اب بقرعید کا چاند دکھے گا’’….

بابا تاج الدین بولے ‘‘ہوبابو اب اس کے بعد چاند دکھے گا’’۔

اس کے بعد سے بابا تاج الدین کی طبیعت ناساز رہنے  لگی ۔  راجہ رگھو راؤ نے   بابا صاحب کے علاج کے لیے ناگپور سے ماہر ڈاکٹر بلوائے، لیکن کوئی افاقہنہیںہوا۔

26محرم الحرام بمطابق17اگست 1925ء بروز پیر (چھیاسٹھ برس کی عمر میں )مغرب کے وقت بابا نے ہاتھ اُٹھا کر ایک لمحے کے لیے دعا کی۔ پلنگ سے اُٹھ کر چاروں طرف دیکھا پھر سکون سے آنکھیں بند کرکے لیٹ گئے…. ا سی حالت میں  دارفانی سے کوچ فرمایا۔

آپ کا مزار  تاج آباد (تاج باغ) امریڈ روڈ، ناگپور میں  مرجع خلائق ہے۔   آپؒ کا عرس مبارک پاک و ہند اور دنیا میں جہاں جہاں آپ کے عقیدتمند موجود ہیں انتہائی ادب و احترم کے ساتھ منایا جاتاہے۔

بابا تاج الدینؒ کے فیض یا فتگان پاک و ہند کے علاوہ دنیا بھر میں موجود ہیں۔ سلسلہ عظیمیہ کے امام حضرت قلندر بابااولیاءؒ رشتہ میں حضرت بابا تاج الدینؒ کے نواسے ہیں۔

 حیات بابا تاج الدینؒ ایک نظر میں

ولادت باسعادت       27 جنوری 1861ء
بمقام محلہ گورابازار،   کامٹی ، ناگپور، صوبہ مہاراشٹر (بھارت)
والد بدرالدین ؒکا انتقال       1862ء
والدہ  مریم بی بی کا وصال       1870ء
عبداللہ شاہ  ؒسے اکتسابِ فیض       1870
ابتدائی تعلیم       1876/1873
بستر کے جنگلات میں گوشہ نشینی       1876-1878
کامٹی  کی طرف واپسی       1878ء
عبداللہ شاہ   کی درگاہ پر قیام       1879ء
عشرت شاہ بدخشاں سے اکتساب فیض       1880ء
فوج میں ملازمت       1881-1883ء
اناساگر   میں قیام روانگی       1884-1886ء
فوج سے استعفیٰ        1886ء
داؤد مکی چشتی کے مزار پر قیام       1887ء
اناساگر سے کامٹی واپسی       1888ء
جذب کی کیفیت        1889ء-1892ء
ناگپور  پاگل خانےمیں قیام       1892-1907ء
شکردرہ محل میں  آمد       1908ء
واکی  اور کامٹی میں قیام       1910-1909ء
شکر درہ میں واپسی       1910-1925ء
وصال         17 اگست 1925 ء

 

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

درخت ماحول کے محافظ

بے قابو ہوتے موسموں کے جن کو ماحول دوست درختوں کی مدد سے قابو میں …