صفحہ اول / علم و معرفت / تصوف / حضرت سیّد عبداللہ شاہ غازیؒ

حضرت سیّد عبداللہ شاہ غازیؒ

abdullah-shah-ghazi
عبداللہ شاہ غازیؒ  کے مریدوں اور کراچی کے مقامی لوگوں میں  ایک  روایت نسل در نسل چلی آرہی ہے۔  ان کے مرید اس بات پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ بزرگ کے تحفظ میں ہونے کی وجہ سے اس شہر کو کوئی نقصان نہیں ،   اللہ کے ولی بندے عبداللہ شاہ غازی کے کراچی آمد سے پہلے کراچی بہت طوفانوں کی زد میں رہتا تھا،     اور ان کی دعاؤں کے طفیل سے  یہ شہر  کراچی آج تک سمندری طوفان اور ہر قسم کی سمندری بلا ؤں سے بچا  ہوا ہے۔   کراچی میں شدید طوفان کی  کئی پیش گوئیاں ہوئیں۔  مگر کوئی طوفان ساحل سے ٹکرانے سے پہلے ہی مر گیا۔ کسی نے اپنا رخ تبدیل کر لیا ۔ کسی کی شدت کراچی سے ٹکرانے سے پہلے اتنی کم ہوگئی کہ کراچی محفوظ ہی رہا۔

سن 760ء  کا ایک دن تھا، جب سمندر کنارے مچھیروں کی ایک چھوٹی سی بستی  میں ہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔   خوف و دہشت کے مارے لوگوں کے   چہرے پر ہوائیاں اُڑتی دکھائی دے رہی تھیں، کچھ لوگ اپنی کشتیوں  کو باندھنے اور شکار کی گئی مچھلیوں  کو محفوظ  کرنے کی کوشش میں مصروف تھے،   کچھ سہمے ہوئے لوگ  اپنے اپنے جھونپڑوں میں اپنے سامان کی حفاظت میں مصروف تھے ۔ ان کی نظریں بار بار   کبھی سامان اکٹھا کرنے پر  اور کبھی دور سمندر کے اوپر اٹھتے ہوئے گہرے اور خوفناک کالے بادلوں کی طرف جاتی  تھی ۔  گوکہ ان مچھیروں نے تمام عمر انہیں سمندروں میں مچھلیاں پکڑتے اورکشتیاں چلاتے گزار دی تھی مگر انہوں نے کبھی ہوا اورسمندر کا مزاج اتنا خراب نہیں دیکھا تھا جتنا آج نظر آ رہا تھا۔  آسمان کا رنگ بتارہا تھا کہ اگر یہ طوفان ساحل سے ٹکرا گیا تو یہ پوری بستی تہس نہس ہوسکتی ہے۔

کہتے ہیں کہ جب یہ مچھیرے ساحل سمندر کی اس بستی میں آباد ہوئے  تھے تو یہاں کے لوگ میٹھے پانی کے لئے بہت پریشان رہا کرتے تھے۔    جب ایک  عرب بزرگ کو ساحل کے قریب   پہاڑی پر  دفن کیا گیا  تو ان کے کچھ  مرید کہیں جانے کے بجائے یہیں ٹھہرگئے اور وہ پانی کے حصول میں پریشان تھے کہ ایک مرید کی آنکھ لگ گئی اور دورانِ خواب انہیں خود ان بزرگ نے  میٹھے پانی کے چشمے کی نشاندہی کی۔  صاحبِ مزار کی کرامت  سے  اُسی پہاڑی سے ایک میٹھے پانی کا چشمہ جاری ہوگیا اور عوام اُس سے فیضاب ہونے لگے۔  تب سے وہاں ارد گرد رہنے والے مقامی لوگ بھی  جن کی اکثریت مچھیروں کی تھی ، ان  بزرگ کے عقیدت مند  ہوگئےتھے۔

   طوفان کے آثار دیکھتے ہوئے  کچھ بزرگ  مچھیرے مل کر اس  مزار پر پہنچے  اور اللہ کے اس نیک بزرگ  کی قبر پر حاضری دے کر اللہ سے دعا کی کہ   یہ طوفان ختم ہوجائے ۔

           ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ بزرگ اس وقت حیات تھے۔ کچھ دنوں کے لیے یہیں ٹہر گئے تھے، مچھیروں  نے جب ان بزرگ سے دعا کی درخواست کی۔ تو وہ اپنی جھونپڑی سے باہر آئے۔ پہاڑی پر چڑھ کر آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا کر دعا کی یا اللہ اس طوفان کو ختم فرمادیں اور سمندر کی طرف رخ کیا۔ عالم جلال سے سمندر کی لہروں کو دیکھا ہاتھ سے سمندر کی طرف اشارہ کیا اور گرجدار آواز میں فرمایا

‘‘…. بس وہیں رُک جاؤ !….’’

دوسری روایت کے مطابق مچھیروں کی دعا کے بعد ایک غیبی آواز آئی تھی۔   بہر حال  ان الفاظ کا سُننا تھا کہ   سمندر گویا ٹھہرسا گیا۔ہوا کے منہ زور گھوڑے کو جیسے لگام لگ گئی  اور   پھر  لوگوں نے دیکھا کہ کچھ ہی دیر میں بادل چھٹ گئےاور طوفان ختم ہو گیا   ۔   لوگ ہنسی خوشی اہنے گھروں کی جانب روانہ ہوگئے۔

joint-typhon-warning-system
گزشتہ صدی کے ریکارڈ کے مطابق اب تک ایک بھی سمندری طوفان یا سائیکلون کراچی کے ساحل سے نہیں ٹکرایا ہے، اگر کچھ نقصان ہوا بھی ہے تو وہ سائیکلون کے تھم جانے سے پیدا ہونے والے اثرات (آفٹر ایفیکٹس)، طوفانی ہواؤں اور بارشوں سے ہوا ہے۔

***

سن 760 ء کے اُس عرب بزرگ کو آج لوگ  حضرت عبداللہ شاہ غازی ؒ  کے نام سے جانتے ہیں ، جنہوں  نے سمندر کو اشارہ کرکے کہا تھا کہ بس وہیں رک جا ؤ ! اور جس ساحل  پر یہ واقعہ پیش آیا آج وہاں پر  پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی آباد ہے۔

عبداللہ شاہ غازی کی دعاؤں سے طوفان ٹھہر جاتے ہیں ،    یہ روایت کسی  مشہور مستند کتاب میں تو موجود نہیں  البتہ عبداللہ شاہ غازی کے عقیدت مندوں اور کراچی کے مقامی لوگوں میں  یہ روایت نسل در نسل چلی آرہی ہے۔   اللہ کے ولی بندے عبداللہ شاہ غازی کے کراچی آمد سے پہلے کراچی بہت طوفانوں کی زد میں رہتا تھا،     اور ان کی دعاؤں کے طفیل سے  یہ شہر  کراچی آج تک سمندری طوفان اور ہر قسم کی سمندری بلا سے بچا  ہوا ہے۔

بارہ سو سال کی  قدیم تاریخ کا  تو علم نہیں لیکن گزشتہ ایک صدی کے معلوم ریکارڈز  بھی اس بات کی   تصدیق کرتے ہیں کہ  اس صدی میں کتنے ہی خطرناک سمندری طوفانوں کا رخ کراچی کی طرف ہوا  لیکن اچانک یہ طوفان  اپنا راستہ بدل کر نکل گئے ۔

گزشتہ صدی میں  کراچی کے ساحل پہ بہت سے طوفانوں نے حملہ کیا ۔ مئی1902 ء، جون 1907 ء، جولائی1944 ء ، جون 1964 ء، دسمبر1965 ء، مئی 1985 ء، نومبر 1993 ء، جون 1998 ء، مئی 1999ء،  مئی 2001 ء، اکتوبر2004 ء، جون 2007ء ،  نومبر 2009 ء   ،  جون 2010 ء ، نومبر 2010 ء   اور اکتوبر 2015ء یہ وہ مہینے ہیں جب کراچی کی جانب  خطرناک سمندری طوفانوں   جسے سائنسی زبان میں سائیکلون Clycon کہا جاتا ہے، کے آنے  کی پیشگوئی ہوئی ۔

مگر  بعد میں کوئی طوفان ساحل سے ٹکرانے سے پہلے ہی مرگیا۔ کسی نے اپنا رخ تبدیل کر لیا اور ٹھٹھہ  بلوچستان  یا گجرات کے ساحلوں سے جا ٹکرایا۔ کسی کی شدت کراچی سے ٹکرانے سے پہلے اتنی کم ہوگئی کہ کراچی محفوظ ہی رہا۔  گزشتہ صدی کے  ریکارڈ کے مطابق کراچی کے قریب سمندر میں بننے والا کوئی بھی سمندری  طوفان  یا سائیکلون کراچی کے ساحل سے نہیں ٹکرایا ہے، اگر کچھ نقصان ہوا بھی ہے تو وہ سائیکلون کے  تھم جانے  سے  پیدا ہونے  والے آفٹر ایفیکٹس،   طوفانی ہواؤں اور  بارشوں سے ہوا ہے۔

کراچی میں ہر سال مئی کے آخری ہفتے میں سمندری ہوائیں بہت خطرناک ہوجاتی ہیں۔ کوئی سال ایسا بھی آتا ہے کہ خطرناک  سمندری طوفان کی پیش گوئی کی جاتی ہے لیکن آخری لمحوں میں طوفان اپنا رخ بدل لیتا ہے ۔

***

طوفانوں سے بچانے والے بزرگ

ذیل میں گزشتہ سو برسوں میں کراچی کی طرف آنے والے خطرناک سمندری طوفانوں (سائیکلون Clycon ) کی فہرست قابل دید ہے جس کا رخ کراچی کی جانب تھا لیکن کوئی بھی طوفان کراچی کے ساحل سے آج تک نہیں ٹکرایا۔
1895ء میں ایک سمندری طوفان مکران کے ساحل سے ٹکراگیا۔
karachi-cyclon-1902 مئی 1902ء میں، ایک سمندری طوفان سائیکلون کراچی سے مڑ کر قریبی ساحل سے ٹکرایا ۔
جون 1907 ء میں، ایک حاری طوفان Tropical Storm کراچی سے مڑ کر قریبی ساحل سے ٹکراگیا ۔
27، جولائی 1944 ء کو ایک طوفان کی آمد پر دس ہزار سے زائد لوگ کراچی میں گھر چھوڑ کر چلے گئے مگر طوفان نے ٹھٹھہ کی جانب رخ موڑلیا۔ اگرچہ بارش اور ہواؤں کی وجہ سے کچھ اموات ہوئیں ۔
12 جون 1964ء کراچی کی جانب بڑھتا ہوا ایک سائیکلون رخ بدل کر ضلعی ٹھٹھہ کی بندرگاہ کیٹی بندر کے قریبی ساحل سے ٹکرایا ۔
15 دسمبر 1965، میں آنے والا سائیکلون کیرالہ سے ممبئی اور گجرات سے ہوتا ہوا کراچی کے قریب دم توڑ گیا۔ البتہ تیز طوفانی ہواؤں سے ہونے والے لینڈفال اور بارش کا پانی بھرجانے کی وجہ سے جانی نقصان بھی ہوا ۔
cyclon-dataمئی 1985 میں، ایک طوفان کراچی کی جانب بڑھا تھا اور کراچی کے جنوب میں 100 کلومیٹر دور ہی کمزور ہوکر ختم ہوگیا۔
نومبر 1993 میں، کیٹیگری 1 کا سائیکلون طوفان مڑ کر سندھ و گجرات سرحد کے قریبی ساحل سے ٹکرایا، یہ طوفان کراچی میں صرف بڑے پیمانے بارش کی وجہ بھی بنا۔
جون 1998 میں، کیٹیگری 3 کا سمندری طوفان سائیکلون کراچی کی جانب آتے آتے جنوبی مشرقی سندھ کی طرف بڑھ گیا، سوائے چند مچھیروں کے کوئی بڑا جانی نقصان نہ ہوا۔
مئی 1999 میں، ایک کیٹیگری 3 کا سمندری طوفان کراچی کے قریب ٹکرایا ؛ اس سمندری طوفان نے سندھ کے ساحلی علاقوں کو کافی نقصان پہنچایا، یہ پاکستان کا ریکارڈ ڈ سخت ترین طوفان تھا۔
مئی 2001 میں، طاقتور کیٹگری 3 کا سائیکلون گجرات کے سرحد سے ٹکرایا ۔
اکتوبر 2004 میں، اونیل Onil نامی سائیکلون کراچی اور سندھ کے ساحل کی جانب لپکا لیکن بعد سمندر کی طرف واپس مڑ گیا، اور کراچی میں تیز بارش کا باعث بنا ۔
جون 2007 کے اوائل میں، گونو Gonu نامی سپر سائیکلون سے کراچی محفوظ رہا۔
جون 2007 ہی میں، یمین Yemyin نام ایک سمندری و ہوائی طوفان کراچی کے قریب گزر ا۔
نومبر 2009 میں، پھائنPhyan نامی سائیکلون پہلے ہی دم توڑ گیا ور اس کی باقیات کراچی سمیت سندھ کے ساحل میں تیز ہواؤں کا باعث بنیں۔
جون 2010 میں، پھیٹ Phet نامی سائیکلون جو کیٹیگری 4 کا طاقتور قسم کا طوفان تھا، کراچی کے قریب کمزور پڑگیا، البتی طوفانی ہوئیں کراچی میں پہنچیں۔ اسی سال نومبر 2010ء میں، جل Jal نامی سمندری و بادی طوفان بھی کراچی پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گیا اور اس کی باقیات کی وجہ سے کراچی اور جنوب مشرقی سندھ میں گرد آلود ہواؤں کے ساتھ بوندا باندی ہوئی ۔
دو سال قبل بھی 2014ء میں نیلو فر نامی طوفان کا بھی اخبارات میں بہت شور ہوا ، اس سائیکلون کا رخ بھی کراچی کی جانب تھا، لیکن عین موقع پر اس نے اپنا رخ گجرات کی جانب کرلیاور کراچی ایک مرتبہ پھر سمندری طوفان سے محفوظ رہا۔

***

عبداللہ شاہ غازی     ؒ کا مزار کم و بیش 1280برس سے کراچی میں مرجع خلائق  ہے۔     حضرت عبداللہ شاہ غازی  ؒ کون تھے کہاں سے آئے تھے…..؟

  آئیے ان کی حیات مبارکہ کا مختصرا  تذکرہ پڑھتےہیں   ….

پہلی صدی ہجری یعنی آج سے تیرہ سو سال قبل کے آخر میں بنو اُمیہ کی سلطنت اپنی آخری ہچکیاں لے رہی تھی ،  ہر طرف انتشار پھیلا ہوا تھا۔  انہی دنوں میں  سید محمد نفس ذکیہ کے گھر ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی۔بچے کا نام عبداﷲ رکھا گیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم کے زیرِ سایہ حاصل کی۔    دوسری صدی ہجری کے آغاز میں بنو امیہ کی حکومت ختم ہوچکی تھی سید عبداﷲ اپنے والد بزرگوار کی پیروی میں علومِ ظاہری حاصل کرنے کے بعد ریاضت و مجاہدے میں مشغول ہوگئے۔  اُس وقت عباسیوں اور علویوں کے درمیان خلافت کے سلسلے میں شدید کشمکش جاری تھی اور سادات کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جارہا تھا ۔

138ہجری میں آپؒ کے والدِ گرامی سید محمد نفس ذکیہ نے اس ظلم کے خلاف  احتجاج کیا۔ اس کی ابتداء مدینہ منورہ سے کی اور اپنے بھائی حضرت ابراہیم بن عبداﷲ کو اس سلسلے میں بصرہ روانہ کیا۔  لیکن عباسی حکمرانوں نے سادات کی بیخ کنی شروع کردی کیونکہ وہ اِن سے خطرہ محسوس کرتےتھے۔ سادات کے قتلِ عام میں کوئی کسر باقی نہ رکھی گئی۔   اس  دور میں سادات کے کئی بچے یتیم ہوئے اور کئی خواتین بیوہ ہوئیں۔

سید نفس ذکیہ نے اپنے بیٹے حضرت عبداﷲ شاہ غازیؒ کو اپنے بھائی حضرت ابراہیم کے پاس بھیج دیا۔   لیکن جب حضرت عبداللہ کے چچا  حضرت ابراہیم  دیباج  کو  زندہ دیوار میں چنوادیا گیا…. تو حضرتِ عبداﷲ شاہ غازیؒ اس انتشار سے اس سے محفوظ رہنے کے لیے عراق سے ہوتے ہوئے سرزمینِ سندھ کی جانب روانہ ہوگئے۔   آپ اپنے بیس رفقاء کے ساتھ پہلے کوفہ گئے ۔ وہاں کئی گھوڑے تجارت کی غرض سے خریدے اور طویل مسافت طے کرتے ہوئے سندھ پہنچے۔ آپؒ بحیثیت تاجر سندھ میںداخلہوئے ۔

برصغیر میں خطہ سندھ کو یہ سعادت حاصل ہے کہ یہاں سب سے پہلے اسلام کا سورج طلوع ہوا…. اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام اہل اﷲ کے پاکیزہ کردار اور حسنِ اخلاق سے پھیلا…. اس سلسلے میں ابتدائی کرن حضرت عبداﷲ شاہ غازیؒ ہیں۔ اس لحاظ سے آپ سندھ کی دھرتی پر پہلے صوفی تھے جس نے اسلام کی شمع روشن کی۔ آپؒ نے اسلام کی ترویج کے لئے کوششیں کیں اور صدہا لوگوں کو اسلام سےآشنا کرایا….

 حضرت عبداﷲ شاہ غازیؒ اپنے حسن اخلاق سے بہت جلد لوگوں کے دلوں میں گھر کرگئے اور آپؒ کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہونے لگا ۔ کیونکہ سادات اور اہلِ بیت میں آپؒ ہی واحد ہستی تھے جن کی آمد سب سے پہلے یہاں ہوئی لہٰذا کچھ حاسدین بھی پیدا ہوگئے ، ان لوگوں نے یہاں کے گورنر عمر بن حفص جو کہ عباسی خلیفہ کی طرف سے مقرر تھا ، کو حضرت عبداﷲ شاہ غازیؒ کے بارے میں منفی  پروپیگنڈہ   اور جھوٹی اطلاعات فراہم کیں اور کہا کہ تجارت تو ایک بہانہ ہے اصل میں سندھ میں خلیفہ کے خلاف محاذ قائم کرکے تختہ اُلٹنا مقصود ہے ۔  لیکن عمر بن حفص پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا کیونکہ وہ ان  سے بہت اُنس رکھتا تھا اور اُن کا بے حد احترام کرتا تھا اس لیے اس نے لوگوں کی بات سنی اَن سنی کردی بلکہ حضرت عبداﷲ شاہ غازیؒ کی خدمت میں حاضر ہوکر شرفِ بیعت حاصل کی اور درپردہ آپؒ کی حمایت کرتا رہا۔  عمر بن حفص بہت دن اس معاملے کو ٹالتا رہا اور اس کوشش میں رہا کہ خلیفہ کے ذہن سے حضرت کا خیال نکل جائے مگر ایسا نہ ہوسکا….

جب حضرت عبداﷲ شاہ غازیؒ کو اس کی اطلاع ملی تو آپؒ  مسکرا کر خاموش ہوگئے۔ لیکن آپؒ کی تبلیغ و ترویج میں رکاوٹ آگئی، عمر بن حفص نے احتیاطاً آپؒ  کو  ایک ساحلی ریاست میں بھیج دیا اور وہاں کے راجہ جو اسلامی حکومت کا اطاعت گزار تھا، کو ہدایت کی کہ حضرت عبداﷲ شاہ غازیؒ کا ہر طرح سے خیالرکھا جائے ۔

تاریخ الکامل لابن اثیر عربی کے مصنف جلد پنجم صفحہ 20 پر ،آپؒ کی تبلیغ کے اثر سے مسلمان ہونے والوں کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ ‘‘اہلِ بصیرت و دانش میں سے تقریباً چار سو لوگ آپؒ کے ساتھ ہوگئے’’۔تقریباً چارسال تک آپؒ راجہ کے مہمان رہے اور اس عرصہ میں مسلسل پیغمبرانہ تعلیمات کی تبلیغ کرتے رہے۔ آپؒ کی کاوش سے ریاست میں کافی لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ اُدھر خلیفہ منصور کی پریشانی برابر بڑھتی رہی۔ وہ سندھ میں آپؒ کی موجودگی کو خلافت کے لئے بہت بڑا خطرہمحسوس کر رہا تھا….

آخر خلیفہ منصور نے 151ھ میں عمر بن حفص کو سندھ کی گورنری سے معزول کرکے افریقہ بھیج دیا اور اس کی جگہ ہشام بن عمر تغلبی کو سندھ کا گورنر مقرر کردیا۔  عمر بن حفص کے معزول ہونے کے بعد خلیفہ منصور عباسی نے ہشام بن عمر کو خط لکھا کہ سندھ کی جس ریاست میں حضرت عبداﷲ شاہ غازیؒ سکونت پذیر ہیں، اس کے راجہ کو لکھا جائے کہ عبداﷲ شاہ غازیؒ کو ہمارے حوالے کردے ورنہ اس پر حملہ کردیا جائے گا۔ لیکن ہشام نے حضرت کو گرفتار کرنا مناسب نہ سمجھا۔  ابھی ہشام تعمیل حکم کے سلسلے میں کوئی قدم اُٹھانے نہ پائے تھے کہ سندھ کے ایک علاقے میں حکومت کے خلاف بغاوت شروع ہوگئی جس کو کچلنے کے لیے ہشام نے اپنے بھائی سیفح بن عمر کو بھیجا وہ جب دریائے مہران کے قریب پہنچا تو سامنے سے غبار اُڑتا ہوا نظر آیا…. یہ حضرت عبداﷲ شاہ غازیؒ تھے جو اپنے رفقاء  کے ساتھ ادھر آنکلے تھے۔ سیفح نے انہیں جب مسلح دیکھا تو اپنا حریف سمجھ کر لڑائی شروع کردی۔

فوج کے لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عبداﷲ غازیؒ ہیں  لیکن سیفح نے سُنی اَن سُنی کردی ۔  سیفح نے لڑائی کا آغاز کردیا۔ حضرت عبداﷲ شاہ غازیؒ تمام حالات کو بغور دیکھتے رہے آپؒ کا ارادہ لڑائی کا نہ تھا۔  آپ تو خونریزی سے حتیُ الامکان بچنا چاہتے تھے لیکن جب آپؒ نے دیکھا کہ  سیفح نے اپنی فوج کو حملہ کا اشارہ دے دیا ہے تو آپؒ میدان میں صف بندی کرکے کھڑے ہوگئے۔  ایک خونریز معرکہ ہوا….آپؒ اپنے رفقاء کے ساتھ دشمنوں پر بے جگری سے ٹوٹ پڑے اور دشمن کے قدم اُکھڑنے لگے اتنے میں ایک ظالم کی تلوار آپؒ کے سرِ مبارک پر پڑی….آپؒ کی زبان سے ‘‘اﷲاکبر’’ نکلا اور آپؒ اس گہرے زخم کے باوجود دشمنوں کا مقابلہ کرتے رہے بالآخر زخموں سے نڈھال ہوکر میدانِ کارزار میں گرگئے۔    ‘‘اناﷲواناالیہ راجعون’’

میدانِ جنگ کا منظر کچھ اس طرح تھا کہ دشمن کی فوج حواس باختہ ہوکر بھاگ گئی۔ اس وقت جو رفقاء بچ گئے اُنہوں نے دیکھا تو آپؒ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرچکی تھی۔ رفقاء نے آپؒ کی میت کو اپنے حصار میں لے لیا کہ مبادا دشمن کی منتشر فوج دوبارہ نہ پلٹ آئے پھر جب اطمینان ہوا تو آپ کے جسدِ مبارک کو لے کر ایک چھوٹے سے ساحلی گاؤں میں جاپہنچے۔ وہاں قریب ہی ایک پہاڑ تھا جس کے اوپر لے جاکر آپؒ کے جسدِ مبارک کو سپردِ خاک کیا گیا۔ یہ واقعہ 151ھ میں رونما ہوا۔     حضرت عبد اﷲشاہ غازی کا مزار  مریدوں نے درختوں کی لکڑیوں وپتوں سے بنایا تھا۔ بعض مریدین  آپ کی قبر کے قریب ہی مقیم ہوگئے ۔

 مریدوں کو سب سے زیادہ دقت یہ پیش آتی کہ وہاں پینے کا میٹھا پانی میسر نہیں تھا سمندری زمین پر پہاڑی جہاں میٹھے پانی کا ہونا ناممکن تھا ۔مریدوں کی دعاسے حضرت عبداﷲشاہ غازی  کے مزار کی  پہاڑی کے نیچے سے میٹھے پانی کا چشمہ جاری ہوا  جو آج بھی جاری وساری ہے ۔ سمندر سے ملحقہ اس پہاڑی کے دامن سے میٹھے پانی کا چشمہ صدیوں سے بہہ رہا ہے۔   اطراف کے کھارے سمندری پانی کے بیچ میں میٹھے پانی کی موجودگی، یہ عبد اﷲشاہ غازی کی  ایسی کرامات ہے جس سے  آج بھی اللہ کی مخلوق فائدہ اُٹھارہیہے۔

اس زمانے کے  اُجاڑ مقام  کا وہ پہاڑ  جہاں آپ کا مزار تعمیر کیا گیا، آج  بین الاقوامی شہرت کےحامل شہر کراچی کا حصہ ہے۔   کراچی  کے ساحلی علاقے کلفٹن  میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔ 151ہجری سے آج تک آپ کے مزار مقدس پر لوگ جوق در جوق حاضری دیتے ہیں۔

حضرت عبداﷲ شاہ غازیؒ کا عرسِ مبارک  ہر سال ماہ ذوالحجہ کی 20,21,22تاریخ کو بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔ آپ کی خدمات دینیہ کے پیش نظر اہل سندھ او ر دنیا بھر سے لوگ اپنی عقیدت کے اظہار کے لئے آپ کے مزار اقدس پر حاضر ہوکر شاندار ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔

***

kurrochee-past-present-futureکراچی میں حضرت بابا عبداللہ شاہ غازی ؒ کے مزار پر عرس کی تقریب 1890ء میں بھی ہوا کرتی تھی، جب کراچی کی آبادی بہت کم تھی اور مسلمان لیاری، گزری اور ملحقہ دیہاتوں یا سمندری جزائر پر آباد تھے۔

الیگزینڈر ایف بیلی Alexander F. Baillie نے اپنی کتاب کُراچی:  ماضی،  حال اور مستقبل  Kurrochee Past, Present Futureمیں کراچی میں مذہبی تہواروں کا تفصیل سے تذکرہ کیا ہے۔

abdullah-shah-ghazi-1875اس نے لکھا ہے کہ مسلمان منگھوپیر ، منوڑہ ، لیاری اور کلفٹن کی پہاڑی پر واقع بزرگوں کے عرس مناتے ہیں ، جبکہ عیسائی پارسی اور ہندو بھی تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس وقت بھی حضرت عبداللہ شاہ غازی ؒ تمام مذہب کے ماننے والوں کے لیے قابل احترام تھے اور آج بھی تمام مکاتب فکر کے لوگ آپ ؒ کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔

***

ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ،  ستمبر 2016ء کے شمارے سے انتخاب

تحریر : آصف انیس خان

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

درخت ماحول کے محافظ

بے قابو ہوتے موسموں کے جن کو ماحول دوست درختوں کی مدد سے قابو میں …