صفحہ اول / پرسکون زندگی / درخت ماحول کے محافظ

درخت ماحول کے محافظ


بے قابو ہوتے موسموں کے جن کو ماحول دوست درختوں کی مدد سے قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔

ماحول کے تحفظ کے لیے، آلودگی سے نجات کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ضروری ہیں لیکن….
درخت لگاتے وقت یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ وہ درخت اس علاقے کے ماحول کے موافق ہو۔ ورنہ ناصرف نباتات اور دوسری مخلوقات کو نقصان ہوسکتا ہے بلکہ انسانوں کو بھی دمہ، الرجی اور صحت کے دیگر مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔  


گزشتہ صدّی کے اواخر سے موسم کے تغیرات ساری دنیا کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنتے جارہے ہیں۔ اب ایسے مقامات جہاں کبھی سخت گرمی پڑا کرتی تھی وہاں برف باری ہورہی ہے اور جہاں بارشوں کا نام ونشان تک نہ تھا وہاں باد و باراں کے طوفان آرہے ہیں۔
2000ء کی آمد سے ہی موسموں نے اپنا رویہ تیزی سے بدلنا شروع کردیا۔جون ، جولائی میں گرمی، اگست، ستمبرمیں بارش، مارچ، اپریل میں بہار اور دسمبر، جنوری میں سردی جیسی لگے بندھے معمولات میں تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ موسم سرما میں شدید کمی ، اپریل میں بارش اور مئی سے دسمبر تک گرمی اور جنوری فروری میں بہار کی آمد نے ماہرین موسمیات کو حیرت زدہ کردیا۔

پاکستان کے شہر کراچی سے برسوں بارش روٹھی ہوئی تھی، 2006ء اس شہر میں ایسی بارش برسی کہ سارا شہر جل تھل ہوگیا اور اب پھر دس تک دوبارہ روٹھی ہوئی ہے۔ دوسری طرف صحراؤں کے دیس ابو ظہبی اور دبئی اور دیگر ریاستوں میں شدید بارش اور ژالہ باری کی خبریں آئیں۔ انڈونیشیا میں سونامی کی تباہی کے بعد سے وہاں زلزلے ہر سال کا معمول بن گئے ہیں۔ امریکہ کی ریاستوں پر ہریکین (سمندری بگولوں)نے جیسے راستہ ہی دیکھ لیا۔ عالمی موسمیاتی ادارے نے 1998ء کو تاریخ کا سب سے گرم ترین سال قرار دیا تھا۔ لیکن یہ رینک سال بہ سال بڑھتا گیا، 1998کے بعد1999ء پھر 2000ء سے 2015ء تک ہر سال کو تاریخ کا گرم ترین سال قرار دیاجاتا رہا۔
دنیا کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت کرہ ارض پر موجود ماحولیاتی نظاموں کو خطرے میں ڈال رہا ہے، بڑھتی ہوئی حدت براہ راست گلیشیئرز پر اثر انداز ہوتی ہے جس سے سیلاب اور طغیانی کے خطرات ہیں اور پھر پانی کی کمی خشک سالی کو دعوت دیتی ہے ۔یہ وہ مظاہر ہیں جس سے زمین پر موجود ہر قسم کی حیات خطرے میں پڑسکتیہے۔
اس تمام صورت حال میں بہتری لانے کے لیے دنیا بھر کے سائنسداں دن و رات محنت کررہے ہیں اور آئے دن ان کے تجربات اور تجاویز سامنے آتی رہتی ہیں۔ لیکن ہم یہاں کسی سائنسی تجربے یا اعدادو شمار پر بات نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی کسی سرکاری حکمت عملی پر بحث کرنا چاہتے ہیں بلکہ ان سب کے بجائے صرف ایک آسان بات پر زور دیں گے اور وہ یہ کہ بچاؤ کی ایک ہی صورت ہے ، وہ ہے صرف اور صرف فطرت کے تشکیل کردہ اصولوں کے تحت زندگی بسر کرنا۔
اگرچہ یہ آج کے دور میں اتنا آسان نہیں رہا ہے لیکن کوشش تو کی جاسکتی ہے نا! جلد یا بدیر ہم حالات کو پھر اپنے حق میں کرسکتے ہیں۔ اور یہ اس وقت ممکن ہے جب ہم اپنے اردگرد درخت لگائیں گے ، اگر آپکے پاس جگہ نہیں ہے تو پودوں سے بھی کام چلا سکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ درخت لگانے سے ہم موسم کے بے قابو ہوتے جن کو خاصی حد تک قابو میں لا سکتے ہیں۔

درخت، انسان کے دوست

درخت انسان کے دوست و خدمت گزار ہیں، ماحول کے محافظ ہیں اور زمین پر حیات کے بنیادی ستونہیں۔ جنگلات اور درختوں کی اپنی ایک الگ حیثیت اور تنوع ہے۔ یہ Biodiversity کا مرکزی نقطہ ہیں۔ ان درختوں میں پرندے اور جنگلی حیات پنپتی ہے جو اس قدرتی نظام کو چلانے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ یہ ایک ماحولیاتی چین (Eco chain) ہے جس میں فطرت نے ہم سب کو باندھ رکھا ہے۔ درخت جہاں ہمیں انواع و اقسام کے پھل اور پھول فراہم کرتے ہیں وہیں انسانی زندگی کو قائم رکھنے کے لیے اہم عنصر آکسیجن بھی مہیا کرتے ہیں۔ درختوں اور پودوں کے پتوں، تنوں، جڑوں، پھل اور پھولوں میں قدرت نے بڑی شفا رکھی ہے۔ بے شمار بیماریوں کے علاج میں انہیں استعمال کیا جاتاہے۔ درختوں کی کثرت آب و ہوا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جہاں بہت زیادہ درخت اور جنگلات ہوں وہاں بارشیں بھی کثرت سے ہوتیہیں۔
آج یہ عالم ہے کہ ہمارے ہاں درختوں کو بڑی تیزی سے تلف اور ختم کیا جاچکاہے۔ اتنے پودے لگائے نہیں جاتے، جتنے کاٹ دیے جاتے ہیں۔
کسی زمانے میں پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں درختوں کا بہت بڑا ذخیرہ موجود تھا مگر اب وہ آہستہ آہستہ کم ہورہاہے۔ کبھی مری کی پہاڑیاں درختوں سے اٹی ہوتی تھیں، مگر اب اکثر چوٹیاں درختوں سے خالی نظر آتی ہیں۔ درختوں کے بےشمار فوائد کے باوجود مجموعی لحاظ سے درخت کم ہوتے جارہے ہیں، یہی وجہ ہے دنیا بھر میں آب وہوا کا توازن بگڑتاجارہا ہے۔ ایسے خطے جہاں درختوں کی بے تحاشا کمی ہوتی ہے وہاں بارشوں کا نظام بری طرح متاثر ہوتاہے، درختوں کی کمی فضائی آلودگی میں بے پناہ اضافہ کرتی ہے ،اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے درخت فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرلیتے ہیں۔ اگر درخت بہت کم ہوجائیں گے تو ظاہر ہے کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی افراط ہوجائے گی جو انسانی صحت کے لیے بےحد خطرناک ہے، اس کے نتیجے میں گلوبل وارمنگ لازمی ہے۔ مختلف زمینی خطوں کی آب ہوابھی تبدیل ہوکر رہجائے گی۔ موسم بالکل بدل جائیں گے۔
پاکستان میں درختوں کی بے تحاشا کٹائی سے ملک کے موسم بھی تبدیل ہوگئے ہیں کبھی جولائی اور دسمبر میں بارشیں ہوا کرتی تھیں اور جھڑیاں لگتی تھیں مگر اب صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔ بارشیں بے موسم ہوتی جارہی ہیں اور بعض اوقات طویل خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے زیرِزمین پینے کے لیے استعمال ہونے والے پانی کی سطح مزید نیچے گرتی جارہی ہے۔ یہ واضح رہے کہ ا س صورتِ حال کے مجموعی طور پر ہم خود ذمہ دار ہیں۔ ہم اپنی قیمتی متاع اپنے دوست اور خدمت گار درختوں کا صفایا کررہے ہیں ۔اس طرح ہم اپنے پاؤں پر خود کلہاڑے ماررہے ہیں۔
عالمی معیار کے مطابق کسی بھی شہر کے پچیس فیصد رقبے پر درخت ہونے چاہئیں ، اس کے برعکس پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں درختوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ کراچی سے بارش نے منہ موڑ لیا کیونکہ بادلوں سے درختوں کا ایک خفیہ ناتہ ہے۔
پاکستان کے خلائی اور فضائی تحقیق کے کمیشن سپارکو کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں فضائی آلودگی کی شرح انتہائی تشویشناک ہوچکی ہے۔ دھوئیں کے باعث سینے، ناک اور حلق سے متعلق بیماریوں میں چند برسوں کے دوران ساٹھ فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ سپارکو کی رپورٹ میں ایم اے جناح روڈ اور تبت سینٹر کے درمیانی اور صدر تا میری ویدر ٹاور تک علاقے کو سب سے زیادہ آلودہ قرار دیا گیا ہے۔
اگر ہر شخص یہ عہد کرے کہ اس نے کم از کم سال میں ایک درخت لگانا ہے پھر اس کی دیکھ بھال کرکے اسے پروان چڑھانا ہے تو سالانہ کروڑوں درختوں کا اضافہ ہوسکتاہے۔ مگر ہم درخت کاٹ رہے ہیں اور کوئی نیا درخت نہیں لگارہے۔

ماحول موافق شجر کاری :

ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اکثر شجر کاری علاقے کے ماحول کو پیش نظر رکھ کر نہیں ہورہی۔ کئی جگہ جو درخت لگا ئے جارہے ہیں وہ ماحول دوست نہیں بلکہ ماحول مخالفہیں۔

ماحول مخالف درخت….؟

درخت اور پودے ماحول کو خوشگوار بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن یہ بات ہمارے بعض قارئین کے لیے شاید ایک خبر ہو کہ کئی خطوں میں بعض درخت انسانی صحت پر منفی اثرات بھی مرتب کرتے ہیں اور ہمارے ماحول کو آلودہ کرنے کا باعث بھی بنتے ہیں۔
سائنسدانوں نے اسے حیاتیاتی آلودگی (Bio Pollution)کا نام دیا ہے جس سے انسانی جسمانی نظام میں کئی طرح کی خرابیاں پیدا ہورہی ہیں۔ ماحول مخالف یہ پودے جانوروں اور خوردوبینی جانداروں کو دنیا کےایک حصہ سے دوسرے حصہ میں پھیلانے کا باعث بھی بن رہے ہیں جس سے دنیا کے حیاتیاتی تنوع کو کسی اور شے کی نسبت سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔
سائنسی ماہرین کے مطابق یہ وہ پودے ہیں جو کسی ایک خطے سے دوسرے خطے میں لے جاکر لگائے جاتے ہیں، ماہرین کے مطابق مختلف پودوں پر مختلف آب و ہوا کے مختلف اثرات پڑتے ہیں یعنی جس پودے کو امریکا کی زمین اور آب و ہوا موافق ہو ضروری نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک میں بھی مفید ہو۔ درخت کاپورے خطے کی تبدیلی سے کراس ری ایکشن ہوسکتا ہے۔ اس کی واضح مثال امریکی کپاس ہے۔
1998ء میں پاکستان میں امریکن روئی کی فصل کو بغیر کسی تجربہ کے کاشت کیا گیا جس کی وجہ سے زرعی کیڑے کی قوت مدافت میں اضافہ ہونے لگا اور اس سال پاکستان کو کپاس کی پیدوارا میں ریکارڈ مالی نقصان پہنچا ۔ پاکستان میں اس کیڑے کے پھیلنے کا سبب 1960ء کی دہائی میں امریکا سے درآمد کی گئی روئی کی ایک قسم ڈیلٹاپائن Deltapine بتائی گئی جو اس فصل کی کاشت میں استعمال کی گئی تھی۔ کسی غیر ملکی پودے یا کیڑے سے سالہا سال تک ہونے والے مالی نقصان کی یہ ایک واضح مثال ہے۔

جاپانی ہفت بند، وسط ایشیائی پنروا اور ہمالیہ کا بلسام …. یہ وہ پودے ہیں جن کو لگانے اور درآمد کرنے پر برطانیہ میں ہابندی لگ چکی ہے۔

آج سے ڈیڑھ سو سال قبل کچھ انگریز جاپان گئے تو وہاں سے ‘‘ہفت بند’’ Japanese Knotweed نامی ایک پودا ساتھ لے آئے کیونکہ وہ انہیں خوبصورت لگا تھا۔ انہیں اندازہ نہ تھا کہ وہ کس بلا کو اپنے وطن لے آئے ہیں۔ بانس جیسی شاخوں اور کریم رنگ پھولوں سے جاپانی ہفت بند واقعی دل کو بھاتا ہے۔ تاہم اب اسے برطانیہ کے سب سے خطرناک حملہ آور پودے کا لقب حاصل ہوچکا ہے۔ برطانیہ لانے والوں نے جاپانی ہفت بند کو اپنے باغات میں لگایا۔ جب وہ ان کے پودے چٹ کرنے لگا تو انہوں نے اکھاڑ کر باہر پھینک دیا۔ وہ پودے باہر اُگ گئے اور پھر پورے انگلینڈ میں پھیلتے چلے گئے۔جاپان سے برطانیہ لاکر لگائے گئے اس پودے نے برطانیہ کی آب و ہوا کے موافق کئی پودوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ برطانیہ میں یہی صورتحال قفقاز (وسط ایشیا ء) سے لائے پنروا Giant Hogweed اور ہمالیہ سے لائے بلسام Himalayan Balsam کے ساتھ بھی پیش آئی۔
ہمارے ملک میں متعدد جگہوں پر ایسے درخت جابجا نظر آتے ہیں جنہیں ماحول اور نوع انسانی پر پڑنے والے اثرات کو بلا سوچے سمجھے یہاں لگادیا گیا ہے۔
ماہرین نباتات یہ دلچسپ اور حیرت انگیز انکشاف کرتے ہیں کہ اگرچہ پودوں کے دماغ اور اعصابی خیلات نہیں ہوتے لیکن بعض اقسام کے پودے اپنی حدود ملکیت میں کسی کی دخل اندازی برداشت نہیں کرتے یعنی اس سلسلے میں باقاعدہ خود غرض ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں ہونے والی مزید تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ جن پودوں اور دوسرے نباتات کو ہم بالکل دیدہ بےنور اور وجود بےعقل سمجھتے ہیں وہ دراصل ایسے نہیں ہیں بلکہ ان میں اپنے لیے اچھے برے کی واضح تمیز کرنے کی صلاحیت ہمارے اندازوں سے بڑھ کر پائی گئی ہے۔
جب غیر ملکی پودے کسی اور جگہ کاشت کیے جاتے ہیں تو اکثر ناموافق آب و ہوا اور آپس کے مزاج میں مماثلت نہ ہونے کے سبب تصادم کا شکار ہوجاتےہیں۔
حیاتیاتی یلغار، حیاتیاتی آلودگی:
غیر ملکی پودوں کے ری ایکشن کا اک سبب غیرموافق زمینی سطح بھی ہوتی ہے ۔ اسی صورتحال کے پیش نظر جب پودوں، حیوانات اور دیگر خورد بینی جانداروں کی انواع کو جغرافیائی حدود سے باہر کسی علاقے میں منتقل کیا جاتا ہے تو نباتات کے قدرتی طریقہ کار میں خلل واقع ہوجاتا ہے۔
سائنسدانوں نے اسے حیاتیاتی یلغار Bio Invasion یا حیاتیاتی آلودگی Bio Pollution کا نام دیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق حیاتیاتی آلودگی کیمیائی آلودگی سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ کیمیائی اجزاء اپنے آپ کو خود بخود نہیں بڑھا سکتے جبکہ نباتات میں افزائش نسل کی بھرپور صلاحیت ہوتی ہے وہ اپنی مقدار جلد بڑھا کر ماحولیات پر کلی طور پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

What is Bio Invasion…..?

پوری دنیا ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ بظاہر معصوم نظر آنے والی انواع Species کو کسی نئے یا اجنبی خطہ میں منتقل کرنے پر وہ وہاں غارت گر حملہ آور بن گئیں۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا کا درخت Mela Leuca جو اپنی بے انتہا نمو کی وجہ سے زیرِزمین پانی کی سطح کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، 1906ء میں اس درخت کو فلوریڈا منتقل کیا گیا تاکہ وہاں زیر زمین پانی کی سطح کو کم کیا جائے۔ لیکن امریکہ میں یہ درخت ایک طرز کا نباتاتی حملہ آور (Bio Invader)ثابت ہوا، اس نے مقامی پودوں کی کئی اقسام میں گھس کر پانچ لاکھ ایکڑ رقبہ کو سخت مصیبت میں مبتلا کردیا۔
ایسے تمام پودوں کو حملہ آور اجنبی انواع Invasive Alien Species میں شمار کیا جاتاہے۔حملہ آور بدیسی پودے یا اجنبی انواع سے مراد نباتات کا وہ گروہ ہے جو اپنے فطری مسکن سے باہر کے علاقوں میں متعارف کروایا گیا۔ ایسے کئی پودے جب کسی نئے خطہ زمین میں لگائے جاتے ہیں تو اپنی موت آپ مر جاتے ہیں یعنی وہ خطہ انہیں قبول نہیں کرتا اور وہ اجنبی ماحول میں اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پاتے۔ اجنبی پودوں کے لیے نئے خطوں میں جانے سے ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ اس خطے کے درختوں ، پودوں اور ماحول کو نقصان پہنچا کر کئی حیوانات حتیٰ کہ انسانوں کی صحت کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں۔
نباتاتی حملہ کا مسئلہ 1950ء میں ہی سائنسدانوں نے محسوس کرلیا تھا لیکن اس کے بارے میں زیادہ آگہی اب ہورہی ہے۔ 1992ء میں منعقدہ سی بی ڈی (C.B.D) کی ارتھ سمٹ کے کنونشن میں دستخط کرنے والے 161 ممالک نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ایسے بدیسی پودے جن سے ایکو سسٹم اور مقامی انواع کو خطرہ ہو ان کی درآمد کو کنٹرول کیا جائے۔ 1996ء میں مونٹریال میں ہونے والے ورلڈ کانگرس کے اجلاس میں بھی اس مسئلہ کو اجاگر کیا گیا۔ دو سال بعد کیلی فورنیا میں آئی یو سی این نے ایک عالمی اقدام شروع کیا۔

مفید اور نقصان دہ نباتات:

پاکستان میں اگرچہ حملہ آور پودوں اور جانوروں پر کافی معلومات میسر نہیں پھر بھی تخمیناً بدیسی پودوں کی 700 انواع موجود ہیں۔ جن میں سے اکثر آزادی سے قبل لائے گئے۔ ان میں سے بہت سی اقسام ہمارے ماحول سے مطابقت اختیار کرکے ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی ہیں۔ مثلاً امریکہ اور میکسیکو سے گیہوں کی اور فلپائن سے چاولوں کی نو دریافت شدہ اقسام کو بےحد مفید پایا گیا۔ پھلوں میں انگور کی 14 نئی اقسام امریکہ اور یورپ سے لاکر سوات کے علاقے میں متعارف کرائی گئیں۔ سیب کی کئی اقسام بلوچستان اور شمالی علاقہ جات میں لگائی گئیں جن میں امریکی گولڈن قسم کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ لیکن بہت سی مثالیں اس کے برعکس بھی ہیں۔ بعض انواع ایسی بھی تھیں جنہوں نے مقامی پودوں کو نقصان پہنچایا۔ بعض حملہ آور انواع کسی نامعلوم ذریعہ سے پہنچیں اور پھر انہوں نے مقامی ماحولیاتی نظام سے مطابقت اختیار کرکے مقامی انواع کی جگہ لینا شروع کردی۔
آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ کیکر بھی مقامی درخت یا جھاڑ نہیں ہے، اس کا انگریزی نام Mesquite اور اس کا اصل وطن ویسٹ انڈیز اور میکسیکو ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک امریکی پودا ہے، لیکن اب یہ دنیا کے کئی ملکوں میں اپنی بنیادیں مضبوط کرچکا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق 1878ء میں اس کا بیج پہلے پہل آسٹریلیا سے سندھ منگوایا گیا اور بغیر کسی تحقیق کے ملک کے مختلف حصوں میں فضائی چھڑکاؤ کے ذریعے اس کو اُگانے کا تجربہ کیا گیا ۔ تھوڑے ہی عرصے بعد یہ خود بہ خودد تیزی سے پھیلنے لگا۔ یہ ایک سخت جان پودا ہے جو پانی کے بغیر بھی کافی عرصہ تک زندہ رہ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ زرخیز زمین میں وسیع پیمانے پر جڑیں گاڑ لے تو اس سے جان چھڑانی مشکل ہوجاتی ہے۔ آج یہ صوبہ سندھ میں کئی قسم کے مقامی پودوں پر حملہ آور ہے ۔ کیکر کی وجہ سے کئی مقامی پودے نابود ہونے کے قریب ہیں۔ کیکر میں کئی زہریلے مادے بھی ہیں جو مقامی جڑی بوٹیوں کی نمو کو روکتے ہیں۔بالخصوص اس کا شکار ہونے والا درخت ببول ہے جو زمین کے کٹاؤ کو روکنے میں بہت مفید ہے۔
اسی طرح گل بکاؤلی کا پودا بھی ہے جس کا انگریزی نام Water Hyacinth یا Eichhoenia Grassipis ہے جو آج کل ماہرین ماحولیات اور نباتات کے لیے تشویش کا سبب بن چکا ہے۔ اس پودے کا اصل وطن جنوبی امریکا ہے، لیکن یہ پانچ براعظموں کے پچاس ملکوں میں پھیل چکا ہے، پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔ یہ پودا اپنی تیز نشوو نما اور پھیلاؤ کے باعث مقامی پودوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے، اس کا یہ پھیلاؤ فطری نظام میں بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے۔ پانی کی یہ گھاس سندھ اور پنجاب کی آبی حیات پر بڑی تیزی سے حاوی ہورہی ہے۔ یہ پانی کی سطح پر ایک ناقابل نفوذ تہہ بناتے ہوئے مقامی انواع کی رسد بند کردیتی ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اس کو بلا روک ٹوک بڑھنے دیا جائے تو یہ دریاؤں کے آبی ایکو سسٹم کو متاثر کرسکتی ہے جس کا منفی اثر نتیجتاً ماہی گیری کی صنعت پر پڑےگا۔
اس طرز کا ایک غیر مقامی پودا واٹر فرن بھی ہے جس کا انگریزی نام Karibaweed ہے۔ اس پودے کا اصل وطن جنوبی امریکا ہے۔ یہ پانی میں پائی جانے والی جھاڑی ہے جس کی لمبائی 30 سینٹی میٹر تک ہوتی ہے۔ اس کے پتے گروہ کی شکل میں ہوتے ہیں پودے کا رنگ سبز اور زیر آب پائے جانے والے پتے کتھئی رنگ کے ہوتے ہیں۔ یہ کب اور کس ذریعے سے یہاں تک پہنچا اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔ پہلی مرتبہ اسے کینجھر جھیل ٹھٹھہ میں دیکھا گیا۔ آب گاہوں اور آب پاشی کے نظام کے ذریعے یہ پورے ضلع ٹھٹھہ میں پھیل چکا ہے۔ اس کےپتے پانی کی سطح کو مکمل طور پر ڈھانپ دیتے ہیں اور زیر آب موجود حیات کے لیے آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے۔ یہ پودا بھی اپنے منفی خواص اور جارحانہ پھیلاؤ کے باعث ہمارے فطری ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

گل توت سے الرجی:

ایک اہم مثال گل توت ہے، اس کا انگریزی نام Paper Mulberry ہے اور اس کا اصل مقام جنوبی مشرقی ایشیا ہے۔ یہ درمیانے سائز کا ہوتا ہے۔ تنا سفیدی مائل سرمئی رنگ کا ہوتا ہے اس پودے کو تقریباًً 100 سال پہلے برصغیر میں متعارف کرایا گیا، غالباً 1880ء میں سہارن پور کے علاقے میں اسے اگایا گیا لیکن 1924ء تک یہ لاہور تک پھیل گیا۔ اس پھیلاؤ کا ذریعہ مشترکہ نہریں اور دریا تھے۔ گل توت نے ہمارے ماحول میں دخل اندازی کرکے بہت سے مسائل پیدا کردئیے ہیں۔ پاکستان میں اس کا پھیلاؤ لاہور سے پشاور تک ہے۔ لیکن اس کا منفی ہدف اسلامآباد اور اس کے گرد و نواح کا علاقہ ہے۔ اسلامآبادد کو سرسبز بنانے کی غرض سے اس علاقے میں گل توت لگایا گیالیکن صرف تیس سال میں یہ اپنے تیز تر پھیلاؤ کےباعث مقامی انواع کے لیے خطرہ بن گیا۔ مرگلہ نیشنل پارک میں اس کا پھیلاؤ دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ آزاد جموں و کشمیر تک پھیل چکا ہے۔ پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل کے مطابق اس خطہ میں الرجی میں مبتلا ہونے والے 45 فیصد افراد گل توت سے ہی متاثر ہوتےہیں۔

سفیدہ کا درخت اور چمگادڑ:

سفیدہ کا درخت چوبیس گھنٹوں میں 17 لیٹرپانی زمین سے جذب کرکے فضا میں چھوڑتا ہے۔ یہ کراچی جیسے ساحلی شہر میں نمی Humidity میں اضافے کا باعث بنتا ہے

آسٹریلیا کا یوکلپٹس یا سفیدہ اسی طرح کی ایک حملہ آور پودہ ہے۔ سو سال پہلے لایا جانے والا یہ درخت بڑے پیمانے پر اب بھی ملک بھر میں بڑے شوق سے لگایا جارہا ہے اور اس چیز کا ادراک نہیں کیا جارہا ہے کہ یہ فلائنگ فوکس Flying Fox کی نشو و نما کے لیے بےحد کارگر ہے۔ یہ پھل کھانے والے چمگادڑ ہیں جن کی بہتات ملکی باغات کے لیے بڑا خطرہ بنتی جارہی ہے۔ یوکلپٹس یا سفیدہ کی گری ہوئی پتیاں کیمیائی اور طبعی طور پر مقامی جڑی بوٹیوں کی نشو و نما کو روکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں موجود تیل کی وجہ سے یہ جلد آگ پکڑ لیتا ہے, موسم گرما میں سخت تپش، خشکی اور تیز ہواؤں کی بدولت ان درختوں میں آگ لگ جانے کا زبردست خطرہ موجود رہتا ہے۔ یوکلپٹس زیر زمین پانی کی بڑی مقدار کو کھینچ کر آبی بخارات کی شکل میں فضا میں پھیلا دیتا ہے۔ سفیدہ اور چائنا پاپولر کے درخت چوبیس گھنٹوں میں ½4 گیلن (17 لیٹر)پانی زمین سے جذب کرکے فضا میں چھوڑتے ہیں جس سے فضا میں نمی پیدا ہوتی ہے ، یہ درخت خشک موسم والے علاقوں کے لیے مفید ہے۔ دوسری جانب یہ کراچی جیسے ساحلی شہر میں نمی Humidity میں اضافے کا باعث بنتا ہے ۔
ماہرین کے مطابق سفیدے کے درخت سیم و تھور جیسے متاثرہ علاقوں کے لیے مفید ہیں لیکن کراچی جیسے شہروں میں جہاں سمندر کی وجہ سے ہوا میں نمی کا تناسب پہلے ہی زیادہ ہے اور جہاں زیر زمین پانی بھی کم ہو وہاں سفیدے کے درختوں کی بہتات نے نہ صرف زیرزمین پانی کے ذخائر کم کیے، شہری علاقوں میں پانی و سیوریج کی لائنوں کی توڑ پھوڑ میں کردار ادا کیا، بلکہ کراچی میں ہوا میں نمی کے تناسب میں اضافے کا سبب بھی بنے۔
چند سال پہلے کراچی شہر میں درختوں کی ایک نئی قسم متعارف کرادی گئی جس پر ہارٹیکلچر سوسائٹی پاکستان سمیت مختلف تنظیموں نے اعتراضات کیے مگر کراچی میں شجر کاری مہم پر محکمہ باغات نے کسی کی ایک نہ سنی اور ہزاروں کی تعداد میں کونوکارپس conocarpusکے پودے شہرکی سڑکوں پر لگا دیے ۔ کراچی میں لگائے گئے کونوکارپس بھی ماحول دوست ثابت نہ ہوسکے، کونو کارپس کی افادیت صرف اتنی ہے کہ یہ جلد بڑا ہوجاتا ہے اور اسے بہت کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے تاہم ماہرین کے مطابق یہ درخت کراچی شہر میں پولن الرجی اور دمہ کے امراض میں اضافے کا باعث بن رہاہے۔

کراچی میں کونو کارپس درخت پولن الرجی اور دمہ کے امراض کا باعث بن رہاہے۔

کراچی یونیورسٹی کے بوٹانیکل ڈیپارٹمنٹ اور آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (AKUH) کے ڈاکٹر انجم پروین، ڈاکٹر محمد قیصر، میاں سعد الاسلام اور ڈاکٹر آصف امام کی مشترکہ تحقیق کے مطابق کراچی میں موجود پودوں کی 32 بڑی اقسام میں سے 12 اقسام ایسی ہیں جو جلدی امراض، پولن الرجی اور سانس کے مسائل میں اضافہ کررہی ہیں ان پودوں میں کونو کارپس، جنگلی چولائی، پالک کوہی، لونا، لان گراس، بروا(جنگلی جوار)، رائی، کیکر، اسپغول، باتھوا، سفیدہ اور ببول شامل ہیں
ماحولیاتی تنظیموں کے مطابق ملک بھر میں ہرسال کم و بیش 10 کروڑ نئے درخت لگانے کی ضرورت ہے جس میں سے صرف کراچی میں ایک کروڑ لگانے چاہئیں۔ کراچی کی آب و ہوا کی مناسبت سے یہاں برگد، بڑ، پیپل ، مدار ، ناریل،  لیموں، آم، سیب ، بیر، امرود، چیکو، ناشپاتی، جامن ، املی، املتاس، بادام ، گُل مہر، اشوکا، مولسری، چوب، شمشاد اور نیم کے درخت سمیت دیگر درخت شامل ہونے چاہئیں۔
قدرت نے مختلف خطوں کے لیے مختلف نباتاتی انواع تخلیق کی ہیں، ہر ایک کی اپنے خطہ کے حوالے سے کوئی نہ کوئی افادیت ضرور ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ان کے وہی فوائد ددوسرے خطوں میں بھی سامنے آسکیں۔ لہٰذا کسی دوسرے خطے کی نباتات کو اپنے ہاں متعارف کرانے سے پہلے اس پر تجربات کیے جانے چاہئیں اور ان کے نقصانات اور فوائد کا تجزیہ کیا جانا چاہیے اگر فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہوں تو پھر ان نباتاتی انواع کو اپنے ملک میں اگانے سے گریز کرناچاہیے۔
اپنے ماحول کے مطابق درخت لگا کر ہی ہم روٹھے موسموں کو واپس لاسکتے ہیں۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ہمارے ملک میں گندم، چاول، گنا، کپاس ، دال ، سبزیوں اور پھلوں کی کئی اقسام پیدا ہوتی ہیں۔ پاکستان کے کئی پھلوں میں قدرت نے جو ذائقہ عطا کیا ہے وہ دنیا کے دوسرے خطوں میں پیدا ہونے والے پھلوں میں نہیں ہے۔
پاکستان میں زراعت اور باغبانی کے ماحول کو فصلوں اور باغات کے لیے زیادہ سے زیادہ موافق بنانے کے لیے دیگر کئی اقدامات کے ساتھ ساتھ ہر علاقے میں ماحول موافق اور ماحول دوست درخت اور پودے لگانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے کسی بھی علاقے میں یا کسی بھی شہر میں درخت یا پودے لگاتے ہوئے اس علاقے یا شہر کے فطری ماحول کو بھی لازماً پیشِ نظر رکھا جائے۔

[روحانی ڈائجسٹ اپریل 2016ء سے انتخاب]

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

مائنڈ پاور

مائنڈ پاور MIND POWER سوچ کی ناقابل یقین قوت The Incredible Power of Thoughts مائنڈ …