صفحہ اول / طرز فکر و تربیت / خود شناسی / ذہن کی حد کہاں تک؟

ذہن کی حد کہاں تک؟

100% of Cerebral Capacity

کیا ہم دماغ کامحض 5 فیصد حصہ استعمال کرتے ہیں؟

عام انسان اور ذہین انسان کے دماغ میں کیا فرق ہے؟

کیا انسان اپنی ذہنی صلاحیتوں سے غیر معمولی کارنامے سرانجام سکتا ہے؟

ذہنی صلاحیتوں کی حد کہاں تک ہے؟

ذہن کی صلاحیتوں میں اضافہ کس طرح ممکن ہے؟

Lucy-2014 Movieچند روز قبل ایک نئی سائنس فکشن فلم ‘‘لُوسی Lucy’’ دیکھنے کا اتفاق ہوا ، فلم کی کہانی تو ایکشن اور مار دھاڑ پر مبنی تھی لیکن اس فلم کا مرکزی خیال جس نظریہ پر مبنی تھا، وہ یہ مضمون لکھنے کا موجب بنا….

فلم کا آغاز فرانس کے ایک نیورولوجسٹ پروفیسر نارمن کے انسان کی ذہنی قوتوں کے متعلق لیکچر سے ہوتا ہے، یہ پروفیسر مائنڈسائنسز میں ایک اتھارٹی رکھتے ہیں ، ان کی ریسرچ اس موضوع پر ہے کہ انسانی دماغ کو مکمل طور پر استعمال نہیں کیا جاتا ، مذکورہ پروفیسر دماغ کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو ممکن بنانے کے لئے کام کر رہے ہوتے ہیں۔

Lucy-2014 Movie 2

ان کے لیکچر کا خلاصہ یہ ہے کہ ‘‘انسان اپنے دماغ کا صرف 5 سے 7 فیصد حصہ استعمال کررہا ہے سب سے زیادہ استعمال کرنے والا جینئس بھی دماغ کا 10 فیصد سے زیادہ استعمال نہیں کرتا۔ جبکہ ایک ڈولفن مچھلی قدرتی طور پر اپنے دماغ کا 20 فیصد استعمال کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ذہن سے پیغام کو سونار لہروں کی طرح دوسری ڈولفن تک پہنچا سکتی ہے۔ دنیا کے ذہین ترین افراد بھی اپنے دماغ کو مکمل طور پر نہیں بلکہ اس کی صلاحیت کا صرف کچھ ہی حصہ استعمال کر پاتے ہیں اور اگر وہ دماغ کے غیر استعمال شدہ حصوں میں چند فیصد کو بھی کام میں لے آئیں تو غیر معمولی کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں۔ اگر کوئی انسان کسی طریقے سے دماغ کو مکمل طور پر یعنی 100 فیصد استعمال کر سکے تو آگے وہ انسان کیا کرسکتا ہے، اس کا تو تصور کرنا بھی محال ہے-’’

لوسی فلم میں انسانی ذہن کی حد کے متعلق پروفیسر نارمن لیکچر کی ویڈیو

دوسری جانب فلم کی مرکزی کردار لُوسی نامی ایک لڑکی سمیت 3 افراد کو تائیوان ڈرگ مافیا یرغمال بنا کر انتہائی خطرناک منشیات یورپ اسمگل کرنے پر مجبور کرتے ہیں، آپریشن کرکے وہ خطرناک ڈرگ ایک پولیتھین کے بیگ میں رکھ کر ان لوگوں کے پیٹ میں چھپا دی جاتی ہے- اس ڈرگ میں ایک میٹابولک اینزائم CPH4 (کاربوکسی ٹیٹرا ہائڈروپٹرین ) ہوتا ہے جو عموماً بچوں کی ذہنی نشونما کے لیے حاملہ خواتین کے جسم میں تخلیق پاتا ہے۔ ایک حادثہ میں لوسی کے پیٹ میں موجود تھیلی لیک کر جاتی ہے اور وہ اینزائم اس کے خون میں داخل ہو کر اس کے دماغ کے ساتھ ساتھ اس کے جسم پر بھی اپنے اثرات دکھانا شروع کر دیتی ہے- اس وجہ سے اس کا دماغ انتہائی تیزفتاری سے نشوونما پانے لگتا ہےاور وہ پیچیدہ سے پیچیدہ معلومات بھی سیکنڈوں میں ذہن نشین کرلیتی ہے۔ وہ چاہے تو اپنے جسم پر لگے کسی بھی زخم کی درد کو محسوس کرنا ختم کرسکتی ہے۔ دماغ کی 20فیصد صلاحیتیں استعمال کرنے پر وہ اپنی اردگرد کی چیزوں کے میکینزم کو محسوس کرنے لگتی ہے۔ 25فیصدہونے پر دنیا بھر کے علوم اور دوسری زبانیں سمجھنے لگتی ہے۔ 30فیصدپر وہ انسانوں کے خیالات پڑھنے لگتی ہے، لوسی ان لمحوں کو بھی یاد کرلیتی ہے جب وہ نومولود تھی۔ دماغ کے 50 فیصد استعمال پر وہ اپنے ذہن سے مادہ کو کنٹرول کرنے لگتی ہے۔ وہ بھاری سے بھاری اشیا بھی صرف آنکھوں کے اشارے سے ہلا لیتی ہے ۔ 60 فیصد صلاحیتوں پر وہ موبائل اور الیکٹرونک آلات پر دسترس پالیتی ہے۔
دماغی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ اس میں ماورائی قوتیں بیدار ہونے لگتی ہیں۔ ایک وقت آتا ہے کہ وہ ماضی اور مستقبل میں سفر کرنے کے قابل ہوجاتی ہے۔ 90فیصد ہونے پر اس کا مادی جسم ایک طرح کے ڈارک میٹر میں تبدیل ہونے لگتا ہے اور آخر کار زمان و مکان اور مادیت کی قید سے آزاد ہوجاتی ہے۔
اس فلم کو دیکھ کر یہ سوال ذہن میں اُبھرتا ہے کہ آیا سائنسی نقطہ نظر سے یہ بات درست ہے….؟ اس سائنس فکشن فلم میں کتنی سائنس اور کتنا فکشن ہے۔
کیا واقعی ذہین سے ذہین انسان بھی اپنے دماغ کا محض 10 فیصد حصہ استعمال کرتا ہے؟….
کیا انسانی دماغ کے بہت سے انتہائی کارآمد گوشے اور پہلو دریافت نہیں ہوسکے ہیں….
کیا واقعی سائنس دان ٹھیک ٹھیک اندازہ نہیں کر پائے ہیں کہ انسانی ذہن میں کس قدر صلاحیتیں اوراستعداد موجود ہے؟….
کیا آج تک جس قدر بھی پیش رفت اور ترقی ہوئی ہے وہ انسانی کی آٹھ تا دس فیصد صلاحیتوں کا ثمر ہے….

کیا ہم دماغ کامحض 5 فیصد حصہ استعمال کرتے ہیں؟

اب تک کئی مغربی سائنس دان اس سوال کے ضمن میں چھان بین کر چکےہیں۔ اس سوال کو اگر نیوروسائنس کی نظر سے پرکھا جائے تو بیشتر سائنسدان اس نظریے کے تردید کرتے نظر آئیں گے۔
کیمبرج یونیورسٹی میں کلینیکل نیورو سائیکالوجی کے سائنسدانو ں کے مطابق یہ خام خیالی عام پائی جاتی ہے کہ ہم اپنے دماغ کا صرف پانچ یا دس فیصد حصہ استعمال کرتے ہیں اور عام انسانوں میں نوے فیصد دماغی صلاحیتیں پوشیدہ ہی رہتی ہیں ۔
کئی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ تصور قطعا بےبنیاد ہے کہ ہم عام طور پر اپنے دماغ کا ایک محدود حصہ ہی استعمال کرتے ہیں اور مکمل دماغ کواستعمال کرنے کی صلاحیت حاصل کرکے ہم کوئی انوکھے کرشمے کر سکتے ہیں۔ درحقیقت لوگ 10فیصد کا تعلق دماغی خلیوں سے سمجھتے ہیں۔ لیکن تحقیق و تجربے سے یہ بات بھی درست ثابت نہیں ہوتی۔
ماہرین نے دماغ کے حصوں کا پتہ چلانے کی خاطر ‘‘فنکشنل میگنیٹک ریزونینس امیجنگ’’ fMRIتکنیک استعمال کی جو مطلع کرتی ہے کہ انسان جب کچھ سوچے یا حرکت کرے تو دماغ کے کون سے حصے متحرک ہوتے ہیں۔ اس تجربے سے انکشاف ہوا کہ انسانی چاہے کیسی بھی ہلکی یا سخت حرکت کرے یا مسلسل سوچتا رہے، انسان دماغ کا ہر حصہ ہی متحرک ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ دوران نیند بھی ہمارا دماغ حرکت میں رہتا ہے۔ تب وہ مختلف عمل مثلاً نظام تنفس، دل کی دھڑکن وغیرہ کو کنٹرول کرتا ہے۔ہمارے بدن میں دماغ ہی سب سے زیادہ وسائل خرچ کرنے والا عضو ہے۔ مثلاً بذریعہ سانس جو آکسیجن ہمارے اندر داخل ہو، اس کا 20 فیصد حصہ دماغ میں کھپتا ہے۔
میڈیکل سائنس بتاتی ہے کہ انسان کے دماغ کے دوحصے ہیں۔ جنہیں Hemispheresکہتے ہیں۔ انسانی دماغ یا نروس سسٹم کا ڈیزائن کچھ اس طرح سے ہے کہ دایاں ہیمی سفیئر Hemisphereجسم کے بائیں حصے کو کنٹرول کرتا ہے اور بایاں ہیمی سفیئر Hemisphere جسم کے دائیں حصے کو کنٹرول کرتا ہے۔ ہمارے دماغ کے مختلف حصے مختلف جسمانی افعال کو کنٹرول کرتے ہیں او ر دماغ ہر وقت دیکھنے ،سننے ، حرکت کرنے ، چھونے اور سوچنے جیسے افعال کو کنٹرول کر رہا ہوتا ہے ۔ ہمارا دماغ ، اس کے سارے عصبی خلیے اور عضلات ہر وقت مصروف عمل رہتے ہیں۔ دماغ ایک بھی عصبی خلیہ کو فارغ نہیں بیٹھنے دیتا۔ ہمارے دماغ میں عصبی (Nerve) خلیے فالتو ہو جائیں تو وہ مر جاتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ٹھوس سائنسی حقائق نہ رکھنے کے باوجود پوری دنیا میں یہ کیوں مشہور ہو گیا کہ انسان محض 10 فیصد دماغ استعمال کرتا ہے؟
ان حقائق کے باوجود کئی لوگوں کا اصرار یہ کیوں ہوتا ہے کہ انسان دماغ کا محض 10 فیصداستعمال کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس فہرست میں تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل ہیں۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ نظریہ آئن اسٹائن کی تخلیق ہے۔ مگر محققین نے اس کی ساری کتابیں، ڈائریاں، مسودے وغیرہ چھان مارے، کہیں 10 فیصد کا ذکر نہیں۔
تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ امریکی فلسفی اور ڈاکٹر، ولیم جیمز نے 1908 ء میں اپنی کتاب ‘‘انسان کی توانائیاں’’ The energies of Men میں تحریر کیا ‘‘ہم اپنی ذہنی و جسمانی وسائل کا بہت مختصر حصہ ہی بروئے استعمال لارہے ہیں۔’’ تاہم ڈاکٹر ولیم نے کوئی ہندسہ یا فیصد نہیں لکھا اور نہ ہی اس سے ہمارے دماغ کے خلیے مراد تھے۔
1936ء میں پہلی بار مشہور امریکی ماہر نفسیات ڈیل کارنیگی نے اپنی کتاب لوگوں کو کیسے دوست بنایا جائے؟‘‘ میں 10 فیصد کا ہندسہ تحریر کیا۔
ممکن ہے کہ ہمارے دو جسمانی عجائب کی بنا پہ اس مغالطے نے جنم لیا ہو۔ ہمارے دماغ میں پائے جانے والے 90 فیصد خلیے ‘‘گلیل’’ (Glaial)کہلاتے ہیں۔ انھیں سفید مادہ (White matter) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ امدادی خلیے ہیں، یعنی دوسری اقسام کے خلیوں ’’نیورون‘‘ کو غذائیت و عملی مدد فراہم کرتے ہیں۔یہ ممکن ہے کہ جب بعض ماہرین نے معلوم کیاکہ سارا کام تو 10 فیصد خلیے کرتے ہیں تو انھیں گمان ہوا کہ بقیہ 90 فیصد خلیوں کو بھی ان جیسا بنانا ممکن ہے۔ حالانکہ گلیل بالکل مختلف قسم کے خلیے ہیں اور ایسا کوئی طریق کار نہیں جو انھیں نیورون بنا ڈالے تا کہ ہمارے دماغ کو مزید قوت مل جائے۔

عام انسان اور ذہین انسان کے دماغ میں کیا فرق ہے؟

سائنسدان ہوں، اہل وجدان ہوں یا عام انسان سب کے پاس ایک ہی طرح کا دماغ ہے۔ آئن اسٹائن کے دماغ پر تو آج تک لیبارٹریز میں تحقیق کی جارہی ہے کہ اس میں ایسی کیا بات تھی، جو دوسرے دماغوں میں نہیں تھی مگر انہیں ایسا کوئی فرق نہیں مل سکا جس کی بدولت وہ آئن اسٹائن کی دماغی ساخت کو ممتاز قرار دے سکیں۔ ایک عام آدمی کے دماغ میں اور آئنسٹائن کے دماغ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ کچھ لوگ جینئس بن جاتے ہیں اور اُن کے نظریات و اُفکار سے دنیا استفادہ کرتی ہے اور کچھ لوگ عام ذہنی سطح پر زندگی گزارتے ہیں۔
انسانی جسم میں تین پاؤنڈ کا وزن رکھنے والا دماغ Brain ایک نہایت پیچیدہ اور اہم حصہ ہے۔ اس کے اندر ایک سو بلین خلیے ہمہ وقت متحرک رہتے ہیں، اگر ہم انہیں گننے لگ جائیں تو اس میں 3 ہزار سال کا وقت لگے گا۔ اس کا ہر خلیہ ایک سپر کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے۔ اور دوسرے خلیے کو ایک سیکنڈ میں ایک ہزار بائٹ کی انفارمیشن پہنچاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی دماغ کے بارے میں جاننے کے لیے سائنس دان صدیوں ریسرچ کرتے رہے ، آخر کار پچھلی صدی کے وسط میں دماغ کے خلیوں کا ادراک حاصل ہوسکا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے سائنسدانوں کو اس قابل بنایا کہ وہ دماغ کے اندر تک رسائی حاصل کرکے اس کے ارتعاشات اور حرکات کا صحیح طرح معائنہ کرسکیں۔ لیکن اب بھی دماغ کے کچھ ایسے پیچیدہ پہلو ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انسانی دماغ قدرت کا ایک حیرت ناک عجو بہ ہے۔ ایک جانب تو دماغ کی نزاکت کا یہ عالم ہے کہ اس پر معمولی سا صدمہ شدید نوعیت کے نتائج پیدا کرسکتا ہے۔ دوسری جانب بعض حیرتناک واقعات نے بالکل مخالف نتائج دیے ہیں۔ مثلاً 1980 ء میں برطانوی معالج ڈاکٹر جان لوربر نے مشہور سائنسی رسالے ‘‘جرنل’’ میں انکشاف کیا کہ استسقائے دماغ (بیماری) میں مبتلا ایسا مریض اس کے زیر علاج ہے جس کے تقریباً تمام نیرون خلیے مردہ ہو چکے۔ پھر بھی اس کا دماغ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔ میڈیکل سائنس میں کئی ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جب کسی حادثہ کی صورت میں کسی انسان کے دماغ کا کوئی حصہ ختم ہوچکا ہوتا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے تمام تر حواس کو استعمال کرنے پر قادر ہوتے ہیں اور صحتیاب ہوکر نارمل زندگی بسر کررہے ہوتے ہیں۔
شاید آپ کو یقین نہ آئے کہ اس وقت دنیا میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جن میں آدھا دماغ موجود ہی نہیں ہے!…. جی ہاں!…. وہ صرف اپنے دائیں طرف والے دماغ کو کام میں لاتے ہیں اور بائیں طرف والے دماغ کے عدم استعمال کے باوجود ناصرف چلتے پھرتے، کھاتے پیتے اور ہنستے بولتے ہیں بلکہ وہ سارے کام سرانجام دیتے ہیں جو ایک نارمل انسان کرتا ہے ۔
مزید یہ بھی سچ ہے کہ اگر ہم نت نئی باتیں سیکھتے ہیں، اپنے ذہن کو ہر وقت متحرک رکھیں تو وہ تیز ہو جاتا ہے۔ نئی اُبھرتی سائنس، نیورو پلاسٹیسٹی Neuroplasticity کی تحقیق بھی یہی حقیقت واضح کرتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے دماغ میں نیا علاقہ دریافت ہو گیا، بلکہ نیورون خلیوں کے مابین نئے تعلق (کنکشن) جنم لینے سے ہماری ذہنی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
کچھ عرصہ قبلfMRI کی تیکنیک کے ذریعے کی جانی والی ایک ریسرچ سے پتہ چلا تھا کہ لندن کے بعض ٹیکسی ڈرائیوروں کے ہپوکیمپس کا پچھلا حصہ نارمل سے بڑا ہوگیا اور ہپو کیمپس Hippo campus کا سامنے والا حصّہ چھوٹا ہوگیا ۔ لمبک سسٹم کا یہ حصہ مختلف امور مثلاً آموزش، حافظے اور مکانی تعلقات کی تنظیم ِنو سے تعلق رکھتا ہے۔ اس سے یہ مطلب لیا گیاکہ شہر کے تفصیلی نقشے کو یاد کرنے کی کوشش میں دماغ کے اس متعلقہ حصّے نے اردگرد کے خلیوں کو بھی اپنی ٹیم میں بھرتی کرلیا تاکہ اپنی کارکردگی میں اضافہ کرسکے۔
ہاروڈ یونیورسٹی میں نیورولوجی کے پروفیسر الویرہ پاسکل لیون اور اُن کے ساتھیوں نے تجربات سے دریافت کیا ہےِکہ ایسے نابینا بالغ افراد جو بریل سسٹم Braille کے ذریعے پڑھنا سیکھتے ہیں، ان کے دماغ کے وہ رقبے جو انگلیوں سے آنے والی اطلاعات کو ریسیو کرتے ہیں، بڑے ہوگئے، دماغ کے اس رقبے کا نام Somato Sensory Cortex ہے جو کہ چُھونے کی حس کے لیے حساس ہوتا ہے۔
پہلے یہ تصور کیا جاتا تھا کہ دماغ ایک بائیولوجیکل کمپیوٹر کی طرح ہے جو کہ اُسی طرح سے خیالات کو خارج کرتا ہے جس طرح مختلف گلینڈز ہارمونز خارج کرتے ہیں۔ لیکن اب یہ کہا جارہا ہے کہ دماغ کی کچھ ساخت انسان کے ہر عمل اور ہر ادراک کے ساتھ بدل بھی سکتی ہے۔
اوپر دیے گئے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے جسم میں دو طرح کے دماغ موجود ہیں ۔ ایک مادّی دماغ، وہ گوشت کا لوتھڑا ہےجو انسانی کھوپڑی کے اندر ہوتا ہے اور دوسرا اصل دماغ ،یعنی ہمارا ذہن جو ہمارے دماغ کو تشکیل دیتا ہے۔ ہمارے مادی دماغ کے کسی حصہ کے ناکارہ یا مفلوج ہوجانے یا دماغ سے جدا ہوجانے کی صورت میں بھی ہمارا اصل دماغ (ذہن) اپنا کام نہایت مستعدی اور نارمل طرح سے کرتا ہے۔ جدید ریسرچ کے یہ نتائج ظاہر کررہے ہیں کہ دماغ کو تحریک ذہن سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ تجربات میں دماغ کے کچھ حصے اپنی استعداد سے زیادہ یا کسی دوسرے حصے کا کام کرتے پائے گئے۔
کیا دماغ اور ذہن دو الگ الگ چیزیں ہیں….؟
ہماری مختلف صلاحیتیں ہمارے دماغ کے مختلف حصوں میں موجود ہیں یا ہمارے ذہن میں …..؟
اگر ہمارا ذہن ہی ہماری اصل ہے تو وہ ہمارے جسم میں کہاں ہے….؟
مغربی دنیا میں اکثر نفیسات دان، سائیکو تھراپسٹ، فزیو تھراپسٹ اور روحانی معالجین کافی عرصے سے اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ہمارا دماغ اور ہمارا ذہن دو مختلف چیزیں ہیں۔
وہ اس کو شعور اور لاشعور سے متعارف کراتے ہیں۔ ان کے مطابق ہمارا گوشت پوست سے بنا ہوا دماغ صرف شعور کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ لاشعور اس دماغ سے ماورا ‘‘کہیں اور’’ موجود ہے اور وہ ہمارے اس دماغ اور شعور کو کنٹرول کررہا ہے…. یہی لاشعور اس دماغ کے دو مختلف حصوں سے ایک جیسے کام لیتا ہے اور یہی لاشعور ہماری ذہنی قوتوں کا اصل سرچشمہ ہے۔
سائنسدانوں کی ریسرچ کے مطابق ذہن کی تعریف کا خلاصہ یہ ہوگا کہ ذہن ایک نظر نہ آنے والی ایسی ایجنسی ہے جس نے ہر شے کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ جسم کی ہر حرکت اُسی کی تابع ہے۔ یہ کائنات سے توانائی حاصل کرتا ہے۔ توانائی کا حصول اور اخراج اگر درست طریقوں پر انجام دیا جائے تو فرد ذہن کی مدد سے اپنے حواس کو مزید فعال بناکر اپنی لاشعوری صلاحیتوں میں اضافہ کرسکتا ہے۔ جس کی مثال ڈاکٹر ٹلر کے نزدیک ماورائی واقعات کا ظہور میں آنا ہے۔
ان ماورائی طاقتوں کے حصول کا مقصد کیا ہے؟ اور یہ زندگی کے لیے کیوں ضروری ہیں….؟
اس بات کا جواب ابھی تک سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ ہے۔

کیا انسان اپنی ذہنی صلاحیتوں سے غیر معمولی کارنامے سرانجام سکتا ہے؟

کئی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بات غلط ہے کہ جینیس بنتے نہیں، پیدا ہوتے ہیں۔ کوئی شخص پیدائشی طور پر جینیس نہیں ہوتا، بلکہ حقیقت میں وہ ‘‘بنتا’’ ہے اور اسے جینیس بنانے میں حادثات بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
آئن اسٹائن، آئزک نیوٹن، ونسٹن چرچل اور ایسے کئی بڑے آدمیوں کی زندگیوں کے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ یہ لوگ بچپن میں نکھٹو، نالائق، کندذہن، شریر اور خبطی ہوتے ہیں اور اس وقت ان کی معمولی سمجھ بوجھ دیکھ کر ہر شخص کہہ دیتا ہے کہ یہ بچہ آگے چل کر زندگی میں کوئی نمایاں مقام حاصل نہیں کرسکے گا۔ لیکن عمر کی پختگی کے ساتھ ساتھ ان ‘‘نالائقوں’’ کے اندر چھپی ہوئی اعلیٰ ذہانت اور روشن دماغ کی صلاحیتوں کا ظہور ہونے لگتا ہے اور دوسرے عقل مندان کی باتوں اور حرکات پر حیرت کا اظہار کرنےلگتے ہیں۔ بات صرف ذہنی صلاحیتوں کے استعمال کی ہے۔ جینئس افراد اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرتے ہیں جبکہ عام آدمی اپنی صلاحیتوں کا عشر عشیر بھی استعمال نہیں کرتا۔ جینئس افراد کو اپنے مقاصد اور اپنے ارادوں پر پختہ یقین ہوتا ہے۔ یہ لوگ شک اور وسوسوں کا شکار نہیں ہوتے کہ شکوک سے انسانی دماغ کے خلیات شکست و ریخت کا تیزی سے شکار ہوجاتے ہیں اور روح کی اطلاعات کم سے کم وصول کرتے ہیں۔
کبھی آپ نے اس حقیقت پر غور کیا ہے کہ بے انتہا ترقی کے بعد بھی سائنس دان ٹھیک اندازہ نہیں کر پائے ہیں کہ آخرانسانی ذہن میں کس قدر صلاحیتیں اوراستعداد موجود ہے؟….
مغربی ماہرین کہتے ہیں کہ ہمارا شعور اور لاشعور ہمارے پورے وجود پر محیط ہوتاہے اور ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ لاشعور میں Programmedہوتاہے۔ اسی لیے شعور اور لاشعور کے تجزئیے کی مدد سے ہم کسی کی شخصیت کا بہتر طور پر اندازہ لگانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ جو لوگ ذہن کو جتنا زیادہ بروئے کار لاسکتے ہیں ان کی زندگی میں اتنی ہی انقلابی تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں اور ایسے لوگ دوسروں سے بہت نمایاں ہوکر زندگی بسر کرنے کے اہل ہوجاتے ہیں۔ آپ نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہوں گے جو اپنی ذہنی صلاحیت کو بروئے کار لاکر دوسروں کے ذہن اور خیالات کا با آسانی تجزیہ کرلیتے ہیں۔ یہ ہمارا ذہن ہی ہے جو خوابوں کے ذریعے ہمیں زمان ومکان کی حدود سے بہت دور لے جاتا ہے۔ ریکارڈ سے پتا چلتاہے کہ ایسے لوگ تاریخ کے ہر دور میں موجود رہے ہیں جو لاکھوں باتوں کو یاد رکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ایسے لوگ بھی گزرے ہیں کہ کسی بھی کتاب کو ایک نظر دیکھ لینے پر ہی اس کا ایک ایک صفحہ ان کے ذہن پر نقش ہوکر رہ جاتاتھا۔
ذہنی صلاحیتوں کے مظاہرے کے چند واقعات یہاں پیش کیے جارہے ہیں۔
لتھوانیا کا ایک عالم جس کا نام Elijah Ben Solomonایلیا بن سلیمان تھا انتہائی غیر معمولی حافظہ لے کر پیدا ہواتھا۔ وہ جس کتاب کو ایک بار پڑھ لیتا تھا وہ پھر اس کے ذہن سے محو نہیں ہوتی تھی۔ ایلیا کے ذہن میں ایک دو نہیں، پوری دو ہزار کتابیں محفوظ تھیں!….ان کتابوں کا ایک ایک لفظ اسے ازبر تھا۔ جہاں سے بھی چاہتے ، لوگ اس سے کوئی بھی پیراگراف سن سکتے تھے۔
فرانس کے ایک سیاستدان لیون گیمبیٹاLeon Gambetta کا بھی یہی حال تھا۔ وہ مواد کو یاد رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا تھا ، وکٹر ہیوگو کی تحریروں پر مبنی ہزاروں صفحات اسے مکمل طور پر ازبر تھے وہ ایک ایک لفظ کو پوری صحت کے ساتھ بیان کرسکتا تھا….
یونان کا رچرڈ پورسن Richard Porson بھی مواد کو پوری صحت کے ساتھ یاد رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتاتھا۔ اسے بھی درجنوں کتابیں یاد تھیں۔
امریکہ کے ہیری نیلسن پلز بری Harry Nelson Pillsburry کی ذہنی قوت اس قدر تھی کہ وہ بیک وقت شطرنج کی 22بازیاں یاد رکھ سکتاتھا اور یوں اتنے ہی افراد سے بیک وقت مقابلہ کرتاتھا۔ ایک نظر ڈال کر وہ پوری بازی کو تمام چالوں کے ساتھ اپنے ذہن میں محفوظ کرلیتاتھا۔ وہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر بھی شطرنج کھیلنے کا ماہر تھا۔
میتھورین ویز یئر قدیم ایران کے بادشاہ کا لائبریرین تھا۔ وہ اس قدرقوی حافظے کا مالک تھا کہ اگر کسی بھی شخص سے کسی بھی زبان میں کوئی بات سنتاتھا تو بعد میں اس بات کو من وعن بیان کرسکتا تھا۔ ایک بار اس کی اس صلاحیت کی آزمائش بھی کی گئی۔ 12افراد کے سامنے اسے پیش کیا گیا اور ہر ایک نے بالکل مختلف زبان میں چند جملے ادا کیے اور بعد میں ویزئیر نے ہر ایک کا جملہ اسی زبان میں پوری صحت اور درست لہجے کے ساتھ ادا کیا۔
امریکہ کا زے را کولبرنZerah Colburn ریاضی کے حوالے سے حیرت انگیز ذہانت کا حامل تھا۔ وہ آٹھ سال کی عمر سے ہی حساب کا کوئی بھی سوال بڑی آسانی سے حل کرلیتاتھا۔ اس کی اس صلاحیت نے سب کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ ایک بار اس نے لندن میں ماہرین کے سامنے 21,735 کو 543 سے ضرب دیا اور محض چار سیکنڈز میں جواب بتادیا۔
اطالوی نابغہ لیونارڈوڈاونچی جسے ہم شہرہ ٴ آفاق تخلیق مونالیزا کے حوالے سے جانتے ہیں‘ تاریخ انسانی کا ایک ناقابل فراموش کردار ہے۔ وہ محض ایک عظیم مصور ہی نہیں سائنسدان بھی تھا کم از کم ڈیڑھ سو ایجادات لیونارڈو ڈاونچی سے منسوب ہیں، جب کہ نباتات، علم الابدان، فن تعمیر، انجنیئرنگ، نقشہ گری، ارضیات، فلکیات، موسیقی، فلسفہ، ریاضی، اسلحہ سازی، ہوابازی اور لکھاری، موسیقی اور نہ جانے کن کن شعبوں میں اس کا کام یادگار ہے۔ قدرت نے اسے یہ ملکہ عطا کیا تھا کہ وہ بیک وقت ایک ہاتھ سے پینٹنگ اور دوسرے ہاتھ سے گاڑی کے انجن کو مرمت کر سکتا تھا۔
صرف مغرب میں ہی نہیں بلکہ ہمارے مسلم معاشرے میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ حضرت اما م جعفرصادق ان نادرِ روزگار افراد میں شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کو علم پھیلانے میں صرف کیا۔ انہوں نے پینسٹھ برس کی عمر پائی اس دوران انہوں نے علم الحدیث، علم الکلام، فلسفہ کیمیا، فلسفہ، طبیعیات، ہئیت، منطق، طب، فلکیات، تشریح الاجسام (بائیولوجی)، ما بعد الطبیعیات اوردیگر علوم پر کئی کتابیں تحریرکیں، علاوہ ازیں آپ کے چار ہزار سے زائد شاگرد تھے ۔
اسی طرح امام بخاری نے 62برس عمر پائی۔ دورطالب عمری میں ہی انہوں نے مشہور عالموں کی کتابیں اور 15ہزار سے زائد احادیث حفظ کرلیں تھیں۔علم حدیث کے شوق میں انہوں نے اس دورمیں شام، مصر اور جزیرہ کا دومرتبہ اور بصرے کا چارمرتبہ سفر کیا۔ چھ سال مکہ میں گذارے۔ احادیث کے علاوہ انہوں نے تاریخ ، تفسیر اورفقہ پر بھی کئی کئی جلدوں میں کتابیں تصنیف کیں۔
بوعلی سینا کا شمار عظیم سائنسدانوں میں ہوتاہے۔ انہوں نے 47برس عمر پائی۔سترہ برس کی عمر تک حصول تعلیم میں مصروف رہے تھے۔ ایک سال بعد مزید علوم حاصل کرنے کے لیے انہوں نے خوارزم سے عراق ، اجرجان سے اصفہان تک کے کئی سفر کیے اور تقریباً 15سال سفر میں گزارے۔اس کے بعد انہوں نے فلسفہ ، منطق ،ریاضی ،فزکس، کیمیا، ارضیات اور طب کے موضاعات پر کئی ضمیم کتب لکھیں جو آج بھی انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتی ہیں۔
امام غزالی ؒ نے 55برس عمرپائی اور تصانیف کا سلسلہ بیس برس کی عمر میں شروع کیا ، دس گیارہ برس صحرانوردی میں گزارے۔ انہوں نے 25سال کی مدت میں 69کتابیں لکھیں۔ جن میں سے اکثر کئی کئی جلدوں پر مشتمل ہیں۔
ڈاکٹر رضی الدین صدیقی کی زندگی پر ایک نگاہ دوڑائی جائے تو ان پر جینئیس کا گمان ہوتا ہے وہ ایک ہی وقت میں کئی علوم کے درجہ کمال پر فائز تھے۔ ڈاکٹر صدیقی ممتاز ریاضی دان، فلسفی، ادبی شخصیت، ماہرِ تعلیم، اسلامی تمدن کے اسکالر اور کئی زبانوں کے ماہر تھے ، انہوں نے فزکس اور کوانٹم مکینکس پر بھی مقالے تحریرکیے۔
ان تمام واقعات کو پڑھ کر یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ آخر کچھ لوگوں میں ذہنی استعداد اتنی زیادہ کیوں ہوتی ہے اور عام آدمی میں کم کیوں اور اس کی حد کہاں تک ہے؟….

ذہنی صلاحیتوں کی حد کہاں تک ہے؟

ذہن کی حدو استعداد پر بحث کافی عرصہ سے جاری ہے۔ مختلف زاویوں سے ذہنی استعداد کاجائزہ لیا جاتا رہا۔ بعض سائنسدانوں نے اسے نسلی میراث قرار دیا۔
آئی کیوٹیسٹ کے بعد حاصل ہونے والے نتائج سے ماہرین نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سفید فام لوگ، سیاہ فام لوگوں کے مقابلہ میں زیادہ ذہین ہوتے ہیں لیکن اس نظریہ کو حتمی نظریہ قرار نہیں دیا جاسکا۔ یہ نظریہ پیش کرنے والے IQ and Raceآئی کیو اینڈ ریس نامی کتاب کے مصنف مرے نے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ سیا ہ فام افراد، سفید فاموں کے مقابلے میں کمتر ذہانت کے مالک ہوتے ہیں…. اس کے نتیجے میں اسے سیاہ فاموں کے شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا اور اُس کی اس اختراع کو بے نتیجہ قرار دیا گیا۔
ذہانت یا ذہنی صلاحیتوں کی استعداد کو صنفی لحاظ سے بھی محدود کرنے کی کوشش کی گئی اور کہا گیا کہ خواتین میں ذہانت کی شرح کم ہوتی ہے۔ ذہانت کم ہونے کی وجہ سے وہ ریاضی کی مشکل مساواتوں کو حل نہیں کرپاتیں اور سائنسدان نہیں بن سکتیں ۔ لیکن مختلف تجربات ومشاہدات ان نظریات کی نفی کرتے رہے۔ ذہانت کو نہ ہی نسلی میراث تسلیم کیا گیااور نہ ہی اسے کسی صنف کے لیے مخصوص کیا جاسکا ۔
دیکھا جائے تو تمام لوگ ہی تھوڑے بہت تخلیقی ذہن کے مالک ہوتے ہیں۔ عام لوگ بھی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں کوئی نیا یا غیر مانوس ردِ عمل یا خیال ضرور ظاہر کرتے ہیں۔ مثلاً کپڑوں کی ڈیزائننگ، گھر کی ڈیکوریشن یا کوکنگ وغیرہ میں ہر کسی سے کوئی نئی اختراع ہوتی رہتی ہے۔
لیکن تخلیقی افراد کا باقاعدہ خطاب عموماً اُنہی لوگوں کو دیا جاتا ہے جن کی تخلیقی کاوش بڑے پیمانے پر افراد اور معاشرے پر اثر انداز ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم تخلیقی افراد کے متعلق سوچتے ہیں تو ذہن میں بڑے بڑے نام آتے ہیں۔ مثلاً نیوٹن، آئن سٹائن، ڈاکٹر علامہ اقبال وغیرہ۔ اس کے علاوہ روحانی تخلیقی افراد یا روحانی سائنسدانوں کی ایک طویل لسٹ ہے۔ جنہوں نے وسیع پیمانے پر عوام الناس پر اپنے تخلیقی علوم کے ذریعے اثرات مرتب کئے۔ علامہ اقبال کی بامقصد تخلیقی شاعری نے مسلمانانِ برصغیر میں ایک تڑپ اور نئی روح بیدار کی۔
چونکہ کائناتی علوم تخلیقیت کا سورس یعنی منبع و ماخذ ہیں، وہ تمام افراد کے لاشعور میں موجود ہیں۔ اور ہر انسان ان سے استفادہ کرسکتا ہے۔ اس بنا پر ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ تمام افراد تخلیقی صلاحیت کے حامل بن سکتے ہیں۔ اگر ایک چھوٹے بچے پر غور کریں تو وہ قدم قدم پر نئے ردِ عمل اور نئی نئی مہارتوں کا اظہار کرتا ہے۔ اس بناء پر کہا جاسکتا ہے کہ ایک بچہ بہت زیادہ تخلیقی صلاحیتیوں کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن اس کی تخلیقی صلاحیتیوں کا دائرہ کار اُس کی کم شعوری نشوونما اور استعداد کی بنا پر صرف اُس کی ماحولی مطابقت تک ہی محدود رہتا ہے۔

ذہن کی صلاحیتوں میں اضافہ کس طرح ممکن ہے؟

آج زیادہ تر نوجوان یہ سوچتے ہیں کہ ذہین وہی لوگ ہوتے ہیں جو چوبیس گھنٹے کتابوں میں غرق رہتے ہیں یا ٹیلی ویژن کے اشتہاروں کی طرح مخصوص غذائیت والے مشروبات پیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہانت میں کئی عوامل کا دخل ہوتا ہے، جیسے مواقع، تحریک، دلچسپی اور حالات وغیرہ….
ہر انسان جینیس یا ذہین بن سکتا ہے لیکن ہم لوگ عام طور پر ان باتوں کو اتنا ہی مشکل سمجھتے ہیں، جتنا پانی پر چلنا، لیکن کیا یہ باتیں واقعی اتنی مشکل ہیں یا ہم میں بھی بہت زیادہ ذہنی صلاحیت موجود ہے ۔
ہم میں سے ہر شخص کے پاس ذہانت کا ایک ذخیرہ موجود ہے جسے ہم صرف ہنگامی حالات یا غیر معمولی ضرورت کے وقت ہی استعمال کرتے ہیں۔ سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگوں کو اس فن یا علم کے جاننے اور سیکھنے میں بہت کم دقت پیش آتی ہے، جسے ہم اہم تصور کرتے ہیں ۔ کئی ایسے طلباء ہیں جنہیں تاریخ کے سن تو یاد نہیں رہتے لیکن اپنے من پسند کھیل کرکٹ اور اس کے کھلاڑیوں کے رنز کی تعداد خوب یاد رہتی ہے۔کم فہم شخص اگر عزائم رکھتا ہو تو ذی فہم کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ مستقل مزاجی کی بنا پر بچپن کے سُست اور کند ذہن بچے بڑے ہو کر زندگی کے سفر میں بڑے بڑے عقل مندوں سے آگے نکلجاتےہیں۔
ذہنی استعداد میں اضافہ کے لیے محنت اور مشق سے مدد لی جاسکتی ہے۔ اب تک کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ یکسوئی اور توجہ سے یقینا دماغی ساخت یا نیورل پوٹینشل میں تبدیلی لائیجاسکتیہے ۔
امریکی ماہر نفسیات ہارورڈ گارڈز کی تھیوری (The Theory Of Multiple Intelligences) نے اپنی ایک ریسرچ میں بتایا ہے کہ انسان صرف ایک قسم کی ذہانت نہیں رکھتا بلکہ مختلف قسم کی ذہانتوں کا مرکب ہے۔ انہوں نے تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ انسان میں پیدائشی طور پر نو قسم کی ذہانتیں پائی جاتی ہیں۔انسان میں سیکھنے کی صلاحیت قدرتی طور پر رکھی گئی ہے۔ وہ سیکھ کر ان مہارتوں کو پالش کر سکتا ہے۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جو ذہانت ودیعت کی گئی ہے اس سے کام لیں۔ فوکس رکھیں۔ بعض اوقات ذہانت موجود ہوتی ہے لیکن اس کو پالش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے…. ان ذہانتوں کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
Linguistic Intelligence: زبان دانی کی مہارت …. یہ صلاحیت جن لوگوں میں ہوتی ہے وہ بچپن میں بہت جلد بولنا سیکھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگ ٹرانسلیٹر، سیاستدان اور مصنف وغیرہ بن سکتے ہیں۔
Logical-Mathematical Intelligence
نمبروں کو سمجھنے کی ذہانت…. بعض لوگوں کا دماغ نمبروں میں زیادہ چلتا ہے۔ ایسے لوگ میتھس اور نمبروں میں ماہر ہوتے ہیں اور لوجکس سیکھ سکتے ہیں، بینک اکاؤنٹنگ میں بہت آگے جاسکتے ہیں۔
Vocal Intelligence :بات کو سمجھانے کی ذہانت…. اپنی بات کو دوسروں تک پہنچانا۔ یہ فن ہرکوئی نہیں جانتا۔ ایسے لوگ زبردست قسم کے مقرر، خطیب اور اینکرز بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
Visual Intelligence :دیکھنے کی ذہانت…. بعض لوگوں میں چیزوں کو آبزرو کرنے کی صلاحیت بہت زبردست قسم کی پائی جاتی ہے۔ ایسے لوگ زبردست تخلیق کار ہوتے ہیں۔ چیزوں کو بہت گہرائی سے جانچتے ہیں۔
Naturalization Intelligence : نیچر سے دلچسپی…. فطرت سے دلچسپی تھوڑی یا زیادہ ہر ایک کو ہوتی ہے۔ ایسے لوگ جن میں زیادہ ہوتی ہے۔ مصور، شاعر وغیرہ بہت اچھے بن سکتے ہیں۔
Inter Person Intelligence : تعلق بنانے کی ذہانت…. جو لوگ تعلق اچھا بنانے کی ذہانت رکھتے ہیں وہ سوشل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ جب دنیا سے جاتے ہیں تو ہر آنکھ اشکبار ہوتی ہے۔ ایسے لوگ اچھے ٹیچر بن سکتے ہیں۔
Intra Person Intelligence : اپنے آپ کو جاننے کی ذہانت….جو لوگ خود کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں ان کی کامیابی کا گراف بہت بلند ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ …. ایسے لوگ فلسفی، نفسیات دان، مفکر اور روحانی اسکالر بن سکتے ہیں۔
Map Intelligence: نقشوں کو جاننے کی ذہانت….جو لوگ یہ ذہانت رکھتے ہیں وہ راستوں کو بہت جلد سمجھ لیتے ہیں۔
Spatial Intelligence:محسوس کرنے کی ذہانت…. حساس لوگ بہت اچھے سائکالوجسٹ بن سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں اداکاری کرنے کی صلاحیت عام لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔
یہ ذہنی صلاحیتیں تمام افراد کے اندر پیدائشی طور پر اس کے شعور کے پسِ پردہ لاشعوری نظام میں موجود ہوتی ہے۔ جو لوگ اس صلاحیت کو شعوری طور پر متحرک کرلیتے ہیں اُن کا شمار تخلیقی افراد میں ہوتا ہے۔ جو لوگ اس صلاحیت کو متحرک نہیں کرپاتے اُن کا شمار غیر تخلیقی افراد میں ہوتا ہے۔
یہاں پر یہ سوال بھی آسکتا ہے کہ اگر تخلیقیت کی صلاحیت تمام افراد کے اندر موجود ہوتی ہے تو پھر کچھ لوگ بہت زیادہ تخلیقی صلاحیت حاصل کرلیتے ہیں جب کہ کچھ بہت کم تخلیقی ہوتے ہیں…. ایسا کیوں ہے؟
کسی خاص صلاحیت کی طرف متوجہ رہنے اور اس کی مسلسل ذہنی مشق کرتے رہنے سے ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ کیاجاسکتاہے۔ ذہنی صلاحیتیں تو تمام افراد میں پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہیں لیکن ایک فرد اُن سے کتنا استفادہ کرتا ہے اس میں انفرادی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ذہنی صلاحیت کا گہرا تعلق تجسس کی استعداد سے ہے۔
حضرت قلندر با با اولیاء ؒ تجسس کی تعریف ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں کہ ‘‘تجسس وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے ہم کائنات کے ہر ذرے سے روشناسی حاصل کرتے ہیں۔ اس قوت کی صلاحیتیں اس قدر ہیں کہ جب ان سے کام لیا جائے تو وہ کائنات کی تمام ایسی موجودات سے جو پہلے کبھی تھیں یا آئندہ ہوں گی واقف ہوجاتی ہیں’’۔
مختلف افراد میں تجسس کی صلاحیت کے مختلف درجے پائے جاتے ہیں آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ افراد میں اشیاء کو جاننے اور ان کی حقیقت کا کھوج لگانے کے لئے بہت زیادہ تجسس پایا جاتا ہے۔ جب کہ کچھ میں بہت کم پایا جاتا ہے۔ فی الحقیقت یہ تجسس کی صلاحیت ہی فرد کے ذہنی صلاحیتوں کے زیادہ ہونے یا کم ہونے کا تعین کرتی ہے۔ جو لوگ زیادہ ذہنی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ اُن میں اشیاء کی حقیقت جاننے کا بہت زیادہ تجسس موجود ہوتا ہے۔ باالفاظ دیگر ان میں بہت زیادہ یکسوئی یا قوتِ ارتکاز کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ وہ زیرِ غور مسئلے یا نکتے پر غور و فکر کرتے کرتے اس پر اس حد تک ارتکاز کرجاتے ہیں کہ نکتے کی حقیقت ان کے سامنے آجاتی ہے یا باطنی یا وجدانی علم متحرک ہوجاتا ہے….
نتیجہ یہ نکلا کہ تخلیقی صلاحیتیوں میں انفرادی اختلافات تجسس یا قوتِ ارتکاز کے مختلف درجوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ تجسس کی صلاحیت دراصل ارتکازہی کی صلاحیت ہے اور اسی صلاحیت کی بنا پر فرد ہر کائناتی اسرار یا حقیقت سے آشنا ہوسکتا ہے۔
آپ غور کریں کہ جب آپ کا ذہن منتشر یا پریشان ہو اور ایسی صورت میں آپ کچھ لکھنا یا پڑھنا اور سمجھنا چاہیں تو آپ کو بہت دقّت ہوگی، کیونکہ خیالات بے ترتیب ہوں گے۔ جب فرد ارادی طور پر یقین یا اعلیٰ خیالات کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یکسوئی بڑھتی جاتی ہے اور آہستہ آہستہ ہوتا یوں ہے کہ شک یا اسفل خیالات ختم ہوجاتے ہیں۔ ان لوگوں کا شمار جینئس لوگوں میں ہوتا ہے، اور ان کے لیے کامیابی کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔
ذہن میں یقین کا پیٹرن بن جائے تو جہاں شک و شبہات اور وسوسے ختم ہوجاتے ہیں، وہیں انسان کا اپنی باطنی دنیا کے ساتھ ایک غیر محسوس تعلق بھی قائم ہوجاتا ہے ۔ پیغمبرانہ تعلیمات میں اس نکتے پر زور دیا گیا ہے کہ شک اور وسواس کو اپنے دل میں جگہ نہ دی جائے، یقین کو مستحکم کیا جائے….ایسا یقین ہماری زندگی میں ہرہر قدم پر کامیابی کا ضامن ہے۔

ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ
نومبر 2014ء کے شمارے سے انتخاب
تحریر ابنِ وصی

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

تعارف: ابنِ وصی

ابنِ وصی گزشتہ دس برس سےزائد عرصہ سے روحانی ڈائجسٹ کے شعبہ مضامین سے وابستہ ہیں، آپ نے مختلف سائنسی علوم، مائنڈ سائنس، پرسنل ڈیولپمنٹ اور تصوف کے موضوع پر کئی مضامین تحریر کیے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

مائنڈ پاور

مائنڈ پاور MIND POWER سوچ کی ناقابل یقین قوت The Incredible Power of Thoughts مائنڈ …

  • Ali Hassan
    AOA sir kindly apna font style simple karen..is ki bilkul mushkil se samajh aati hai..thanks