رات میں تارے


آج کل جو شہر رات میں جتنی دیر تک پر رونق اور جلوہ ریز رہتاہے اتنا ہی ترقی یافتہ شہر مانا جاتاہے۔ بہت سے شہر کبھی تاریک ہوتے ہی نہیں۔ لیکن یہ زرق برق روشنی جہاں ہماری راتوں کی زندگی کو روشن کردیتی ہیں ، وہیں ہم سے اس کی بھاری قیمت بھی وصول کرتی ہیں ….  


مضمون کا عنوان پڑ ھ کر ہی آپ کہیں گے کہ محاورہ تو دن میں تارے نظر آنے کا ہے ، اور ہم رات میں تارے نظر آنے کی بات کررہے ہیں لیکن ہمیں امید ہے کہ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد آپ بھی ہماری طرح اس تشویش کا اظہار کریں گے کہ شاید مستقبل میں ‘‘رات میں تارے نظر آنا’’ بھی محض محاورہ ہی بن کر رہ جائے گا….
ماضیٔ قریب تک انسانوں نے جب بھی آسمان کی طرف نظر دوڑائی ہے، ستارے اور رات ان پر جگمگاتے نظر آتے ہیں …. لیکن اب دنیا کی ایک تہائی آبادی ان نظاروں کو نہیں دیکھ سکتی۔ ستاروں بھرا آسمان جس کا ذکر ہمارے آباوٴاجداد کیا کرتے تھے اب دنیا کی اکثر آبادی کیلئے غائب ہو رہا ہے۔
نیو اٹلس آف لائٹ پلیوشن نامی ریسرچ کے مطابق دنیا کی 80 فیصد آبادی آسمان کے حقیقی نظارے سے محروم ہے، جبکہ امریکا اور یورپ میں تو یہ شرح 99 فیصد تک جا پہنچی ہے ۔ یعنی دنیا کی 20 فیصد آبادی رات میں جس آسمان کو دیکھتی ہے ، دنیا کی 80 فیصد آبادی وہ آسمان دیکھ ہی نہیں پاتی….
آسمان اور ستاروں سے انسانوں کا جو تعلق تھا، وہ کئی دہائیوں سے ٹوٹا ہوا ہے۔ یہ ہمارا ایک بڑا فطری نقصان ہے کہ ہم رات کے وقت ستارے بھرے آسمان کا نظارہ نہیں کرسکتے۔ افسوس کہ آج زمین کی 80 فیصد آبادی ایسی جگہ رہتی ہے جہاں فضائیں مصنوعی روشنی سے ‘‘آلودہ’’ ہیں۔
جی ہاں روشنی سے آلودہ ….
اب تک ہم فضائی آلودگی، آبی آلودگی، شور کی آلودگی جیسے الفاظ ہی سنتے آئے ہیں، اب آلودگی کا ایک نیا روپ سامنے آیا ہے اور وہ ہے روشنی کی آلودگی….
آخر روشنی کی آلودگی ہے کیا؟ ….
اور اس سے کیا نقصان ہوسکتاہے؟….
اس سے پہلے ذرا ایک نظر دنیا بھر میں مصنوعی روشنی کے اُمڈتے سیلاب پر ڈال لیں….

روشنیوں میں ڈوبے شہر

ہزاروں سال تک ہمارے پاس رات کو چلنے اور حفاظت کیلئے صرف آگ اور مشعل کی روشنی تھی۔ انیسویں صدی میں شہروں کی سڑکوں کو روشن کرنے اور جرائم کم کرنے کیلئے گیس کی روشنی استعمال میں لائی گئی۔ بلب اور ٹیوب کی روشنی بیسویں صدی میں متعارف کرائی گئی، ان مصنوعی روشنیوں سے شہر مستقل روشن رہنے لگے۔
آج دنیا کا ہر بڑا شہر ان گنت قسم کے بلب،راڈ، قمقمے اور دلفریب ودلکش فانوس کی روشنیوں میں ڈوبا رہتاہے۔ جیسے ہی شام کا دھندلکا شروع ہوتاہے ویسے ہی مصنوعی روشنی سے شہروں کے سجنے سنورنے کا عمل شروع ہوجاتاہے۔ تھوڑی ہی دیر میں سڑکوں پر لاکھوں بلب، عمارتوں کے سامنے لگی ہوئی مرکری روشنیاں، کاروں کی آنکھوں کو چوندھیا دینے والی لائٹیں، حفاظتی اور اشارتی بلب اور ٹاورز نما بلڈنگوں کے اندر مختلف رنگ اور ڈیزائن کے چھوٹے اور بڑے حسین وجمیل بلبوں کی ٹمٹماہٹ سے ایسا محسوس ہوتاہے کہ آسمان کے چاند ستارے ، شہر کے حسن وجمال پر آبِ زر چڑھانے کے لیے شہر کے بام ودر پر اُتر آئے ہوں۔ اسی دلفریب رونق کی وجہ سے دُکان، ہوٹل اور دوسرے مقامات رات گئے تک لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں۔
آج کل جو شہر رات میں جتنی دیر تک پر رونق اور جلوہ ریز رہتاہے اتنا ہی ترقی یافتہ شہر مانا جاتاہے۔ بہت سے شہر کبھی تاریک ہوتے ہی نہیں۔ خاص کر شمالی امریکہ کے مشرقی علاقے، مغربی یورپ، جاپان، جنوبی کوریا اور دوسرے بہت سے ممالک اور شہر مسلسل جگمگاہٹ میں ڈوبے رہتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق، جاپان کا 98.5فیصد، کینیڈا کا 97 فیصد، یورپی ممالک کا 85فیصد اور امریکہ کا 62فیصدحصہ مصنوعی روشنی کے اس سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔
یہ زرق برق روشنیاں ہم سے اس کی بھاری قیمت بھی وصول کرتی ہیں ۔

روشنی کی آلودگی

روشنی کی آلودگی کے نتیجے میں دنیا بھر کے شہروں میں آسمان پر مصنوعی روشنی کا جال سا بن گیا ہے ۔ اس جال کی وجہ سے اس وقت دنیا بھر کے ایک تہائی انسان رات کو ستاروں بھرے آسمان کو دیکھنے سے محروم ہوچکے ہیں۔
نیو اٹلس آف لائٹ پلیوشن نامی ریسرچ کے مطابق چند شہروں میں تو ‘‘روشنی کی آلودگی’’ اتنی زیادہ ہے کہ وہاں کے لوگوں نے کبھی آسمان پر چند ایک سے زیادہ ستارے نہیں دیکھے۔ جیسا کہ سنگاپور، وسطی افریقا جمہوریہ، چاڈ اور مڈگاسکر کے آسمان ستاروں سے سب سے زیادہ صاف ہیں۔


لائٹ پلوشن یا روشنی کی آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر شہر سنگا پور ہے۔ ایک جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ایک تحقیق کے مطابق سورج غروب ہونے کے بعد سنگاپور کی فضاءمصنوعی روشنیوں سے جگمگا اٹھتی ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کی آنکھیں اب تاریکی کو دیکھنے کے قابل ہی نہیں رہیں۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو سنگاپور ایسا شہر بن چکا ہے جہاں اب رات نہیں ہوتی۔
سنگاپور میں تو سو فیصد آبادی رات کی تاریکی کے اصل حسن کو دیکھنے سے محروم ہوچکی ہے ، جبکہ امریکا اور یورپ کی 99 فیصد آبادی کسی نہ کسی حد تک روشنی کی آلودگی میں زندگی گزار رہی ہے ۔ شمالی امریکا کے 80 فیصد باسی بھی ستاروں کو دیکھنے سے محروم ہیں۔ اس آلودگی سے متاثر ہونے والے دیگر ممالک میں کویت، قطر، یو اے ای، سعودی عرب اور جنوبی کوریا قابل ذکر ہیں۔
اس حوالے سے چاڈ، وسطی افریقی جمہوریہ اور مڈغاسکر سب سے کم متاثر ہیں جہاں اب بھی 75 فیصد سے زائد آبادی ستاروں سے جگمگاتے آسمان کا نظارہ کرتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا گیا ہے کہ روشنی کی آلودگی کئی مسائل کا باعث ہے، اس کے نتیجے میں پرندوں، جانوروں اور انسانوں کے انداز میں تبدیلی آرہی ہے۔

مصنوعی روشنی کے اثرات

روشنی کی آلودگی سے کیا کیا مسائل پیدا ہورہے ہیں؟…. جس طرح سورج کی روشنی، بارش کا پانی، ندی، تالاب، درخت، آبشاروغیرہ انسان کو قدرت کی جانب سے عطا کیے جانے والے عظیم تحفے ہیں، ٹھیک اُسی طرح چاند ستاروں کی روشنی سے جگمگاتا آسمان بھی ایک قدرتی تحفہ ہے، جسے موجودہ دور کے طرز ِ زندگی نے شدید متاثر کیا ہے۔


لندن کے ایک انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین گورڈن ماسٹرسن کے مطابق کرۂ ارض کا 18.7فیصدی حصہ روشنی کی آلودگی سے متاثر ہے۔ رات کو اسٹریٹ لائٹس اور گھروں کی روشنیاں فضا تک پہنچتی ہیں،اور ہم آسمان کو اس کے فطری روپ میں نہیں دیکھپاتے۔
تاریک رات میں جب کوئی آسمان کی طرف دیکھتا ہے تو تقریباً 3500ستارے اور سیارے دیکھ سکتا ہے لیکن آج کل شہروں میں دکھائی دینے والے تاروں کی تعداد درجنوں میں سمٹ گئی ہے ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ستاروں کی روشنی شہروں کی فضا میں موجود گرد کے ذرات سے ٹکرا کر پھیل جاتی ہے اور گلابی مائل تمتماہٹ پیدا کرتی ہے اس سے چند بہت چمکدار ستاروں کے علاوہ تمام ستاروں کی چمک ماند پڑ جاتی ہے۔

فطری تخیل سے ٹوٹا ناتا

قدیم زمانے میں لوگ ستاروں سے وقت اور مقام کا تعین کرلیتے تھے، جنوبی ستارہ شعریٰ سے صحراؤں اور سمندروں میں سمتوں کا تعین کیا جاتا تھا، عرب میں ستاروں کے جھرمٹ ثریا Pleiades کو آسمان کی بلند ترین حد سمجھا جاتا تھا، اور ستاروں پر کئی اشعار اور محاورے موجود ہیں۔ چاند کی پریوں سے لے کر اڑن طشتریوں کی کہانیوں کا تخیل انسان نے ان ستاروں کو دیکھ کر ہی بُنا، آسمان کامشاہدہ کرنے سے سائنسی علم بھی حاصل ہوتا ہے۔ فلکیات کے ماہرین خلاء کا مشاہدہ کرکے اس سے کائنات کے آغاز کا سراغ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن آج ترقی یافتہ شہروں میں آسمان کا مشاہدہ کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ آج کے نوجوان ستاروں کے حوالے سے پرانی کہاوتوں کو نہیں سمجھ پاتے، جو ستاروں کی بہتات اور ان گنت تعداد کے حوالےسےہیں۔
کینیڈا کے فلکیات کے محقق کار ٹیرنس ڈکنسن اپنے افسوس کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں ‘‘اب یہ ممکن ہے کہ آدمی بڑھاپے کو پہنچ جائے لیکن فطری خوبصورتی اور شبینہ آسمان کے جمالِ بے مثال سے واقف نہ ہو’’۔
آسمان اور فطرت سے توٹے اس ناتے کے ہم پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں اس حوالے سے چند برسوں پہلے ایک ڈوکیومنٹری فلم منظر عام پر آئی تھی جس کا نام تھا The City Dark ‘‘دی سٹی ڈارک’’ ….
اس فلم کے ڈائریکٹر آئن چینی Ian Cheney کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا بچپن امریکہ کے ایک دیہاتی علاقے میں واقع اپنے خاندانی فارم پر ستارے گننے میں گذارا تھا۔ مگر جب وہ نوجوانی میں نیویارک آگئے تو رات میں آسمان کے نظارے کی کمی محسوس کرنے لگے۔
آج دنیا میں بہت سے بچے اب لاکھوں کروڑوں ستاروں پر مشتمل کہکشاں کو دیکھے بغیر بڑے ہو رہے ہیں ۔ اگر ہم رات، اس کے اندھیرے اور آسمان کو کھو دیں تو ہم کیا کچھ کھودیں گے۔’’چنانچہ انہیں اس موضوع پر ڈوکیومنٹری بنانے کا خیال آیا۔
آئن چینی کا کہنا تھا ‘‘جب لوگ رات کے آسمان کے بغیر زندگی کے عادی ہو جائیں گے تو اس کاکیا اثر ہو گا۔ کیا اس سے سائنسدان کم پیدا ہوں گے، شاعر کم ہونگے، یا فلسفی کم پیدا ہونگے۔ ان سوالوں کا جواب ملے نہ ملے مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ رات کے آسمان کے خوبصورت نظارے کو دیکھ کر آپ کو تخلیقی کام کرنے کی بہت تحریک ملتی ہے۔’’

ماحولیاتی حیات کو خطرہ

تحقیق بتاتی ہے کہ مصنوعی روشنیوں کی بہتات ناصرف انسانوں بلکہ جانوروں پر بھی منفی اثرات ڈالتی ہے۔ جیسا کہ کچھ درخت مصنوعی روشنی کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت نہیں رکھ پاتے۔ جدید ریسرچ کے مطابق رات کی روشنی سینے کے سرطان، مایوسی اور دوسرے امراض کے روزافزوں اضافے کا اہم سبب بن رہی ہے۔ بہت سے جنگلی جانوروں اور پودوں کے لیے رات میں روشنی زہریلے عناصر کے مانند ضرر رساں ہے۔
ساحل سمندر پر مصنوعی روشنی کا شکار کچھوے کے لاکھوں بچے ہوتے ہیں۔ سمندری کچھوؤں کے انڈوں سے نکلنے والے بچوں کو مصنوعی روشنیوں کی وجہ سے اپنا راستہ تلاش کرنے میں دشواری ہوتی ہے کیونکہ فطری طور پر وہ چاند کی روشنی میں سمندر تک پہنچتے ہیں۔
جہاں مصنوعی روشنی سڑکوں پر ہمیں راستہ دکھاتی ہے وہیں یہ جانوروں اور پرندوں کو راستہ بھلا دیتی ہے۔ مثلاً ہجرت کرنے والے کئی پرندوں کے دماغ میں ستاروں کا نقشہ محفوظ ہوتا ہے جو ان کو بہار میں شمال کے طرف اور خزاں میں جنوب کی طرف سفر کرنے میں مدد دیتا ہے۔جب پرندے شہروں کے اوپر سے گذرتے ہیں تو وہ اکثر مصنوعی روشنیوں کو ستاروں کی روشنی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے پرندوں میں اکثر روشنی کے تعاقب میں بلند وبالا عمارتوں پر نصب روشن ٹاورز اور روشنی سے چمکتی ہوئی پر شکوہ عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشوں سے ٹکرا کر مرجاتے ہیں۔ صرف شمالی امریکہ میں ہی لاکھوں پرندے اس طرح موت کے شکار ہوجاتے ہیں۔ ٹورنٹو شہر میں اونچی عمارتوں سے ٹکرا کر مرنے اور زخمی ہونے والے پرندوں کی سالانہ تعداد24ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
شکاگو کے فیلڈ میوزیم میں زولوجسٹ ڈیوڈ وِلرڈ کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً ایک ارب پرندے کھڑکیوں سے ٹکرا کر موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مصنوعی روشنی حیوانات پر تین طرح سے اثر انداز ہورہی ہیں،

  1. ہجرتی پرندے، وہیل مچھلیاں، کچھوئے اور ایسے حیوانات جو روشنی اور مقناطیسی میدان کی مدد سے سفر کرتے ہیں ، مصنوعی روشنیاں کی وجہ سے راستہ بھول جاتے ہیں، رات میں سفر کرنے والے پرندے ان روشنیوں کی وجہ سے عمارتوں کی کھڑکیوں سے جاٹکراتے ہیں۔
  2. چمگادڑ، الّو، مینڈک اور دیگر حیوانات جو اندھیرے میں زندگی بسر کرتے ہیں مصنوعی روشیوں کی وجہ سے اپنا مسکن چھوڑنے پر مجبور ہیں، جس سے ان کی حیات تنوع کا شکار ہے۔
  3. بے وقت اور مستقل تیز روشنی نے دن اور رات کا تصور ختم کردیا ہے جس کی وجہ سے حیوانات کی حیاتیاتی گھڑی متاثر ہوتی ہے، مرغ ، کوئل اور دیگر پرندے جو صبح صادق پر بانگ دیتے اور چہچہاتے ہیں دن و رات کا فرق نہیں کرپاتے، لم ڈھنگ اور بعض پرندے اندھیرے میں ہی انڈے دیتے ہیں اور مصنوعی روشنی سے دن کی طوالت ان کی حیات کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اسی طرح تتلیوں اور شہد کی مکھیوں کا لائف سائیکل بھی متاثر ہورہا ہے۔

انسانی صحت متاثر

روشنی کے تعلق سے کئی غلط فہمیاں بھی عام پائی جاتی ہیں، اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ جتنی زیادہ روشنی ہوگی، ہمارے لیے اتنی ہی فائدہ مند ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں اب مصنوعی روشنیاں ایک اور شہری آلودگی بن چکی ہیں جو انسانی صحت اور ماحولیاتی نظام کیلئے سخت مضر ہیں۔
مثال کے طور پر رات کے وقت تیز روشنی کا استعمال ہماری قوتِ بصارت کے لیے ضرر رساں ہوسکتا ہے۔ یہ بینائی سے محرومی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ رات کا اندھیرا ہمارے جسم کی ضرورت ہے، یہ صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔سورج، چاند اور ستاروں کے سوا تمام روشنیاں مصنوعی ہیں۔
قدرتی روشنی رحمت ہے اور انسان کے لیے قدرت کی بیش بہا نعمت بھی لیکن جدید طرزِ زندگی کی یہ نت نئی اور چکاچوند کردینے والی روشنیاں انسانی جسم اور ذہن پر شدید منفی اثرات مرتب کررہی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں بہت سے لوگوں کی آنکھیں ہمیشہ روشنی میں رہتی ہیں۔ دنیا کے 80 فیصد لوگوں کے ذہن و دماغ کے خانوں سے رات کا تصور ختم ہوچکا ہے اور تاریک رات ان کے لیے ایک خواب بن چکی ہے۔
بے وقت اور مستقل تیز روشنی انسان کی حیاتی گھڑی Biological Clockکو بھی درہم برہم کرکے طرح طرح کی نفسیاتی و ذہنی امراض پیدا کررہی ہے۔ بہت زیادہ روشنی انسان کی دل کی دھڑکن پر بھی اثرانداز ہوتی ہےجس کا تعلق روشنی اور اندھیرے کے روزانہ سائیکل سے ہے۔


جدید تحقیق کے مطابق الٹرا وائیلٹ (بالائے بنفشئی) شعاعوں اور ایکس ریز کی زیادتی جلد کے سرطان کا سبب بن سکتی ہے۔اگر روشنی کی آلودگی کے منفی نتائج کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس سے کئی سنگین بیماریاں بھی ظاہر ہوتی ہیں،جیسے ہمیشہ تھکان محسوس ہونا، ہائپرٹینشن، سینے کا کینسر ، دماغی عدم توازن وغیرہ، رات میں تیز روشنی ہارمون سسٹم میں بھی خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔
امریکی یونیورسٹی آف کنکٹی کٹ ہیلتھ سینٹر میں کام کرنے والے وبائی امراض کے ماہر رچرڈ اسٹون کا خیال ہے کہ رات کی مصنوعی روشنی اہم ہارمون کی سطح کم کردیتی ہے جس سے انسانی صحت کا متاثر ہونا ناگزیر ہے۔ گہرے مطالعے کے بعد اسٹون اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہلکی روشنی والا بلب بھی انسانی صحت پر اثر انداز ہوسکتاہے کیونکہ میلاٹونین ہارمون کی پیدائش مکمل تاریکی میں ہوتی ہے ۔ میلاٹو نین کے تناسب میں کمی ، مایوسی اور حوصلہ شکنی ، پیدائشی نظام میں بے قاعدگی ، حتیٰ کہ کینسر تک پہنچا سکتی ہے، خصوصاً ایسی عورتیں جو تیز روشنی میں زیادہ کام کرتی ہیں مثلاً نرس وغیرہ ان میں سینے کے سرطان کا خدشہ عام عورتوں کے مقابلے میں 60فیصد زیادہ ہوتاہے۔
ملاٹونین ہارمونز کی تخلیق کا سلسلہ رات کی آمد کے ساتھ شروع ہوتاہے۔ ایک سے دو بجے رات کے دوران یہ اپنے شباب پر ہوتا ہے اور سورج کی تابناک کرنوں کے ساتھ ہی یہ سلسلہ ختم ہوجاتا ہے، اس لیے جو لوگ رات میں روشن جگہوں پر کام کرتے ہیں ان میں میلا ٹونین کی نشوونما کم ہوجاتی ہے۔
اسٹون کے مطابق ان عورتوں میں سرطان کے خدشات زیادہ ہیں جو روشن کمروں میں سوتی ہیں یا جہاں اتنی روشنی ہوتی ہے جس میں کتاب وغیرہ بہ آسانی پڑھی جاسکے۔ اس تحقیق کے مطابق بڑے شہروں کی دن نما راتیں اور روشنی کی زرق برق چادر خطرات کے وہ محرکات ہیں جن کی جانب دفاعی اقدامات اشد ضروری ہیں کیونکہ ہارمون کی سطح اگر اسی طرح روز بروز گھٹتی رہی تو زندگی کے مراحل دشوار گزار ہوسکتے ہیں۔
جرمنی میں کی جانے والی ایک ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مصنوعی روشنی کی بہت زیادہ مقدار سے جسم میں وہی کیمیائی Bio Chemical تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو اعصابی تناؤ سے وقوع پذیر ہوتی ہیں ،خصوصاً ہائی پریشر ،سوڈیم ریپر روشنی میں تو یہ عمل بہت بڑھ جاتاہے ۔ اسی رپورٹ میں ایک اور چونکا دینے والا انکشاف یہ بھی ہواہے کہ شمالی امریکہ سے لے کرمغربی یورپ تک لاکھوں لڑکیاں وقت سے پہلے بلوغت تک پہنچ جاتی ہیں ۔ اس کی بڑی وجہ مصنوعی روشنی کو قرار دیا گیا ہے۔
میسا چیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایک سائنسدان رابٹ نیر نے بوسٹن میں واقع معمر سپاہیوں کے ایک ہوسٹل کے مکینوں کو اپنی ریسرچ کا مرکز بنایا ۔ انہوں نے جلد ہی یہ بات معلوم کرلی کہ موسمِ سرما کی شدت جیسے جیسے بڑھی ، ویسے ویسے مصنوعی روشنی کے زیرِ اثر ان لوگوں کے جسم میں کیلشیم جذب کرنے کی صلاحیت کم ہوتی گئی ۔ اس کمی سے ہڈیوں اور دانتوں کے امراض نے جنم لیا، بعد میں انہوں نے ان میں سے نصف افراد کو روزانہ آٹھ گھنٹے قدرتی روشنی میں رکھا، نتیجتاً ایک ماہ کے اندر ہی اندر ان میں کیلشیم جذب کرنے کی صلاحیت میں 15فیصد اضافہ ہوگیا، جبکہ باقی نصف میں یہ صلاحیت 25فیصد مزید کم ہوگئی ۔ رابرٹ کے مطابق دفاتر اور گھروں میں مناسب قدرتی روشنی کا انتظام عام صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔ قدرتی روشنی ہڈیوں اور دانتوں کی صحت کے لیے کافی معدنیات Minerals فراہم کرتی ہے۔ تیز روشنی کے انسانی صحت پر انتہائی خطرناک نتائج کو دیکھتے ہوئے احتیاطی اقدامات اُٹھانا ضروری ہوگئے ہیں۔ مشہور سائنس دان ٹراوس لانگ کور کے مطابق ہمیں روشنی کی آلودگی پر اتنی ہی توجہ دینی چاہییے جتنی ہم دوسری ماحولیاتی آلودگیوں پر دیتے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق 1960ء سے ہرسال روشنی کے باعث آلودگی میں دس فیصد کااضافہ ہورہاہے، ترقی یافتہ ممالک میں کئی تنظیموں کی جانب سے حفاظتی اقدامات کی کوششیں کی جارہی ہیں کہ مدّھم روشنی کو عام کیا جائے اور ایسے بلب لگائے جائیں جن سےاُفق کو روشنی کی آلودگی سے بچایا جاسکے۔ معاشی طور پر بھی دیکھا جائے تو اس سے بجلی زیادہ خرچ ہوتی ہے اور اربوں روپے ضائع ہوجاتےہیں ، جس سے روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
روشنی کی آلودگی سے لاحق خطرات کو ہمیں سنجید گی سے لینا چاہیے۔ ضرورت نہ ہونے پرہم بلب آف کردیں، لیمپ شیڈ کا استعمال کریں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں روزانہ اپنا کچھ وقت سورج اور چاند کی روشنی میں گزارنا چاہیے اور اپنی صحت کی ذمہ داری خودقبول کرنی چاہیے۔
سورج کی روشنی ہمارے جسم کی پرورش کرتی ہے اور قدرتی ماحول کے ساتھ ہمیں ہم آہنگ کرتی ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو بھی پیش ِنظر رکھنا چاہیے کہ لاکھوں سال سے سورج کی روشنی میں اور اس کے ذریعے سے ہماری گذشتہ نسلو ں کی تشکیل ہوئی اورآج بھی روشنی پر ہی ہماری حیات کا دارومدار ہے۔
وقت پر احتیاط کرلینے سے ہی ہم آنے والی نسل اور فطرت کا نظام ، دونوں کے ساتھ انصاف کرپائیں گے۔ ظاہر ہے کہ اگر قدرتی روشنی بر قرار رہے گی تب ہی ہم آسمان کے قدرتی نظارے اور کہکشاؤں کے دل آویز منظرسے لطف اندوز ہوسکیں گے

[روحانی ڈائجسٹ اکتوبر 2016ء سے انتخاب]

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

مائنڈ پاور

مائنڈ پاور MIND POWER سوچ کی ناقابل یقین قوت The Incredible Power of Thoughts مائنڈ …