صفحہ اول / علم و معرفت / اسلام / رمضان المبارک اور ہماری زندگی

رمضان المبارک اور ہماری زندگی

Ramadan2 ماہ رمضان میں مرتب ومنظم زندگی گزارنے سے جہاں جسمانی بیماریوں سے نجات ملتی ہے وہاں ذہنی طور پر آسودگی حاصل ہونے سے روح تازہ دم ہوجاتی ہے اور اس سے معاشرتی زندگی پرنہایت مثبت اثرات پڑتے ہیں. ۔

 

 

 

الحمد اللہ! رحمت و مغفرت اور نجات کا مہینہ رمضان ہم پر سایہ فگن ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی قدر پہچاننے اور اس سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

سال کے بارہ مہینوں میں ایک ماہ کی یہ مدت وہ وقفۂعمل  ہے جو تمام مسلمانوں کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اس دوران  اگلے مرحلے کے لیے ذہنی یا روحانی سطح پر وہ فضیلت حاصل  کرلیں جس کی بنیاد پر زندگی کا کارواں مالککائنات کی مرضی اور منشاء کے مطابق اپنا سفر پورا کرسکے اور اس طرح  اپنا وہ ہدف پالے جسے قرآن میں روزہ کا مقصود قرار دیا گیا ہے۔ یعنی تقویٰ ….!

تقوی روحانی بالیدگی اور ارتقاء کی اعلیٰ صفت کا نام ہے۔ تقویٰ کی صفت انسان کے اندر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب نیت میں مکمل خلوص کے ساتھ عمل میں سنجیدگی اور متانت اس درجہ پر پہنچ جائے کہ وہ کسی بھی معاملے میں اپنے ذہنی رویے کا مطلق پابند نہ ہو۔ بلکہ وہ اس کو برتنے سے قبل اس سلسلے میں خدا کے حکم اور مرضی کو جاننے کا طلبگار ہو۔رمضان المبارک کا مقدس مہینہ خداوند کریم کی طرف سے بندہ مومن کی ذہنی و روحانی ترقی کے لیے ایک عظیمالشان انعام ہے۔ روزہ انسان کو جفاکشی سکھاتا ہے۔ حق پر رہنے کی قوت پیداکرتا ہے اور ضبط ِنفس کی تعلیم دیتا ہے۔ زندگی کی شاہراہ پر اعتدال کے ساتھ چلنے کا دَرس دیتا ہے۔ یوں  مسلمان اس مبارک مہینے کے دوران ایک ایسے تطہیری عمل سے گزرتے ہیں جس کی مثال شاید دنیا کے کسی بھی مذہب کی کسی بھی عبادت میں نہ مل سکے۔

ماہرین  نفسیات نے یہ ثابت کیاہے کہ اس مبارک مہینے میں ذہن و قلب  کوامن اور سکون میسر آنے سے جرائم کی شرح میں ایک واضح اور نمایاں کمی دیکھنے میں آتی ہے ۔ اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ روزہ دار حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی پر عمل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں ۔ حضور نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے اگر کوئی تم سے تنازعہ کرنا چاہے یا تمہیں برا بھلا کہے ، جھگڑا کرنے پر اُکسائے تواس سے کہہ دو‘‘میں روزہ سے ہوں’’۔(بخاری و مسلم)

 ماہ رمضان میں مرتب ومنظم زندگی گزارنے سے جہاں جسمانی بیماریوں سے نجات ملتی ہے وہاں ذہنی طور پر آسودگی حاصل ہونے سے روح تازہ دم ہوجاتی ہے اور اس سے معاشرتی زندگی پرنہایت  مثبت اثرات پڑتے ہیں، یعنی رمضان المبارک میں روزہ جیسی عبادت کی ادائیگی سے انسانی زندگی کا ہرشعبہ مثبت انداز میں متاثر ہوتاہے اور انسان‘‘صحت کامل’’ کے لیے راہ ہموار کرتاہے یعنی وہ  روحانی، جسمانی ، ذہنی ، دماغی، سماجی اور اقتصادی طور صحتمند ہوجاتاہے ۔

آیئے! اب جدید سائنسی ریسرچ کی روشنی میں دیکھیں کہ روزہ انسانی جسم پر کس طرح اپنے مفید اثرات مرتب کرتا ہے۔

روزہ اور نظام ہضم :

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ نظام ہضم ایک دوسرے سے قریبی طور پر ملے ہوئے بہت سے اعضا پر مشتمل ہوتا ہے۔ اہم اعضا جیسے منہ اور جبڑے میں لعابی غدود، زبان، گلا، مقوی نالی  limentary Canal یعنی گلے سے معدہ تک خوراک لے جانے والی نالی۔ معدہ، بارہ انگشتی آنت، جگر اور لبلبہ اور آنتوں کے مختلف حصے وغیرہ تمام اعضا اس نظام کا حصہ ہیں۔ جیسے ہی ہم کچھ کھانا شروع کرتے ہیں یا کھانے کا ارادہ ہی کرتے ہیں یہ نظام حرکت میں آجاتا ہے اور ہر عضو اپنا مخصوص کام شروع کردیتا ہے۔

 ہمارے عام  لائف اسٹائل کی وجہ سے یہ سارا نظام چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر ہونے کے علاوہ اعصابی دباؤ ، جنکفوڈزاور طرح طرح کے مضر صحت الم غلم کھانوں کی وجہ سے متاثر ہوجاتا ہے۔ روزہ اس سارے نظام ہضم پر ایک ماہ کا آرام طاری کر دیتا ہے، اس کا حیران کن اثر بطور خاص جگر پر ہوتا ہے کیونکہ جگر نے نظام ہضم میں حصہ لینے کے علاوہ پندرہ مزید عمل بھی سرانجام دینے ہوتے ہیں۔ روزے کے ذریعے جگر کو چار سے چھ گھنٹوں تک آرام مل جاتا ہے۔ جگر کا یہ آرام  روزے کے بغیر قطعی ناممکن ہے کیونکہ بے حد معمولی مقدار کی خوراک یہاں تک کہ ایک گرام کے دسویں حصہ کے برابر بھی، اگر معدہ میں داخل ہوجائے تو پورا کا پورا نظام ہضم اپنا کام شروع کردیتا ہے اور جگر فوراً مصروف عمل ہوجاتا ہے۔ جگر کے انتہائی مشکل کاموں میں ایک کام اس توازن کو برقرار رکھنا بھی ہے جو غیر ہضم شدہ خوراک اور تحلیل شدہ خوراک کے درمیان ہوتا ہے۔ اسے یا تو ہر لقمے کو اسٹور میں رکھنا ہوتا ہے یا پھر خون کے ذریعے اس کے ہضم ہوکر تحلیل ہوجانے کے عمل کی نگرانی کرنا ہوتی ہے ،جبکہ روزے کے ذریعے جگر توانائی بخش کھانے کے اسٹور کرنے کے عمل سے بڑی حد تک آزاد ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جگر اپنی توانائی خون میں گلوبلن(Globulin)جو جسم کے محفوظ رکھنے والے مدافعتی نظام کو تقویت دیتا ہے، کی پیداوار پر صرف کرتاہے۔

رمضان المبارک میں موٹاپے کے شکار افراد کاچار سے پانچ کلو وزن کم ہوسکتا ہے جبکہ روزہ رکھنے سے اضافی چربی بھی ختم ہوجاتی ہے ۔ وہ خواتین جواولاد کی نعمت سے محروم ہیں اور موٹاپے کا شکار ہیں وہ ضرور روزے رکھیں تاکہ ان کا وزن کم ہوسکے۔یا د رہے کہ جدید میڈیکل سائنس کے مطابق وزن کم ہونے سے بے اولاد خواتین کو اولاد ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔روزے سے معدے کی رطوبتوں میں توازن آتا ہے۔نظامِ ہضم کی رطوبت خارج کرنے کا عمل دماغ کے ساتھ وابستہ ہے۔عام حالت میں بھوک کے دوران یہ رطوبتیں زیادہ مقدار میں خارج ہوتی ہیں، جس سے معدے میں تیزابیت بڑھ جاتی ہے۔جبکہ روزے کی حالت میں دماغ سے رطوبت خارج کرنے کا پیغام نہیں بھیجا جاتا کیونکہ دماغ کے خلیوں میں یہ بات موجود ہوتی ہے کہ روزے کے دوران کھانا پینا منع ہے۔ یوں نظامِ ہضم درست کام کرتاہے۔روزہ نظام ہضم کے سب سے حساس حصے گلے اور غذائی نالی کو تقویت دیتا ہے اس کے اثر سے معدہ کی رطوبتیں بہتر طور پر متوازن ہو جاتی ہیں ،جس سے تیزابیت (Acidity)جمع نہیں ہوتی اور اس کی پیداوار رک جاتی ہے ۔معدہ کے ریاحی دردوں میں کافی افاقہ ہوتا ہے ،قبض کی شکایت رفع ہو جاتی ہے اور پھر شام کو روزہ کھولنے کے بعد معدہ زیادہ کامیابی سے ہضم کا کام انجام دیتا ہے ۔روزہ آنتوں کو بھی آرام اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ یہ صحت مند رطوبت کے بننے اور معدہ کے پٹھوں کی حرکت سے ہوتا ہے۔ آنتوں کی شرائین کے غلاف کے نیچے محفوظ رکھنے والے نظام کا بنیادی عنصر موجود ہوتا ہےمثلاً انتڑیوں کا جال، روزے کے دوران ان کو نئی توانائی اور تازگی حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح ہم ان تمام بیماریوں کے حملوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں جو ہضم کرنے والی نالیوں پر ہوسکتے ہیں۔

روزہ اور دوران خون :

روزےکے جسم پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر خون کے روغنی مادوں میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں، خصوصاًدل کے لیے مفید چکنائی ‘‘ایچ ڈی ایل ’’کی سطح میں تبدیلی بڑی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ اس سے دل اور شریانوں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح دو مزید چکنائیاں ایل ڈی ایل اور ٹرائیگلیسر ائیڈ کی سطحیں بھی معمول پر آ جاتی ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رمضان المبارک ہمیں غذائی بےاعتدالیوں پر قابو پانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے اور اس میں روزہ رکھنے سے چکنائیوں کے استحالے (میٹا بولزم )کی شرح بھی بہت بہتر ہو جاتی ہے۔یاد رہے کہ دوران رمضان چکنائی والی اشیا ء کا کثرت سے استعمال ان فوائد کو مفقود کرسکتا ہے۔

دن میں روزے کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہوجاتی ہے، یہ اثر دل کو انتہائی مفید آرام مہیا کرتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ روزے کے دوران بڑھا ہوا خون کا دباؤ کم سطح پر ہوتا ہے ۔شریانوں کی کمزوری اور فرسودگی کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک وجہ خون میں باقی ماندہ مادے (Remnanuls)کا پوری طرح تحلیل نہ ہو سکنا ہے ۔ افطار کے وقت تک خون میں موجود غذائیت کے تمام ذرے تحلیل ہو چکے ہوتے ہیں، اس طرح خون کی شریانوں کی دیواروں پر چربی یا دیگر اجزاجم نہیں پاتے جس کے نتیجے میں شریانیں سکڑنے سے محفوظ رہتی ہیں۔ چنانچہ موجودہ دور کی انتہائی خطرناک بیماری شریانوں کی دیواروں کی سختی (Arteriosclerosis)سے بچنے کی بہترین تدبیر روزہ ہی ہے ۔روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودا حرکت پذیر ہو جاتا ہے اور خون کی پیدائش میں اضافہ ہو جاتا ہے، اس کے نتیجے میں کمزور لوگ روزہ رکھ کر آسانی سے اپنے اندر خون کی کمی دورکر سکتے ہیں۔

روزہ اور انسانی خلیات :

روزے کا سب سے اہم اثر خلیوں کے درمیان اور خلیوں کے اندرونی سیال مادوں کے درمیان توازن کو قائم  رکھنا ہے۔ چونکہ روزے کے دوران مختلف سیال مقدار میں کم ہوجاتے ہیں۔ خلیوں کے عمل میں بڑی حد تک سکون پیدا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح لعاب دار جھلی کی بالائی سطح سے متعلق خلیے جنہیں ایپی تھیلیل   (Epithelial)سیل کہتے ہیں اور جو جسم کی رطوبت کے متواتر اخراج کے ذمہ دار ہوتے ہیں، ان کو بھی صرف روزے کے ذریعے بڑی حد تک آرام اور سکون ملتا ہے، جس کی وجہ ان کی صحت مندی میں اضافہ ہوتا ہے۔ سائنسی نکتہ نظر سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ لعاب بنانے والے غدود، گردن کے غدود(گلینڈز)، تیموسیہ اور لبلبہ   (Pencreas) کے غدود شدید بے چینی سے ماہ رمضان کا انتظار کرتے ہیں تاکہ روزے کی برکت سے کچھ سستانے کا موقع حاصل کرسکیں اور مزید کام کرنے کے لیے اپنی توانائیوں کو جلا دے سکیں۔

روزہ اور نظام اعصاب :

روزہ کے دوران بعض لوگوں کو غصے اور چڑچڑےپن کا مظاہرہ کرتے دیکھا گیا ہے مگر اس بات کو یہاں پر اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان باتوں کا روزہ اور اعصاب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔اس قسم کی صورت حال انانیت (egotistic)یا طبیعت کی سختی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ۔دوران روزہ ہمارے جسم کا اعصابی نظام بہت پرسکو ن اور آرام کی حالت میں ہوتا ہے نیز عبادات کی بجاآواری سے حاصل شدہ تسکین ہماری تمام کدورتوں اور غصے کو دور کردیتی ہیں ۔اس سلسلے میں زیادہ خشوع وخضوع اور اللہ کی مرضی کے سامنے سرنگوں ہونے کی وجہ سے تو ہماری پریشانیاں بھی تحلیل ہو کر ختم ہو جاتی ہیں۔روزہ کے دوران چونکہ ہم نفسانی خواہشات سے دور رہتے ہیں چنانچہ اس وجہ سے بھی ہمارے اعصابی نظام پر کسی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے ۔

روزہ اور وضو کے مشترکہ اثر سے جو مضبوط ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے، اس سے دماغ میں دوران خون کا بے مثال توازن قائم ہو جاتا ہے جو کہ صحت مند اعصابی نظام کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ انسانی شعور جو رمضان کے دوران عبادت کی یکسوئی  کی بدولت صاف شفاف  ہو جاتا ہے ،اعصابی نظام سے ہر قسم کے تناؤاور الجھن کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے ۔ روزہ محض کھانے پینے سے رُک جانے کا نام نہیں۔ بلکہ انسانی جسم کے ہر اعضاءکی تربیت کا نام ہے ۔ جیسے زبان کا روزہ ، آنکھ اور کان کاروزہ ، ہاتھ اور پاؤں کا روزہ ، گویا ہمارے تمام اعمال  اللہ کی خوشنودی کے تحت اداہوں  اورہم اللہ کی رضا کے لیے قیام اللیل کا اہتمام کریں۔ نوافل، صدقات، مساکین کی مدد، یتیموں کی حوصلہ افزائی ، بیوگان کو سہاراجیسے معاملات کو اپنی زندگی کے ساتھ جوڑے رکھیں۔ اس حقیقت سے ہمیں روگردانی نہیں کرنی چاہئے کہ ہم رمضان کے مقدس مہینے میں ہی اچھے عمل کریں اورباقی گیارہ ماہ لہو لعب کی نذر ہوں۔یہ اسلام کا مقصود نہیں ہے ۔ جس قدر  رمضان کے مہینے میں نیک اعمال کے اعتبار سے ہم مصروف رہتے ہیں۔ اسی طرح باقی گیارہ مہینے بھی  اسی اصول و ضابطے کے تحت گزارنے چاہییں  اوراس ٹریننگ کا مقصد زندگی کے حقیقی مقاصد سے جڑ نے کی تربیت ہے ۔

ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ
اگست 2011ء کے شمارے سے انتخاب
تحریر : مشعل رحیم

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

درخت ماحول کے محافظ

بے قابو ہوتے موسموں کے جن کو ماحول دوست درختوں کی مدد سے قابو میں …