صفحہ اول / روحانی ڈاک

روحانی ڈاک

جنوری 2016ء

View category →


سوال :

  میری شادی چند ماہ   پہلے ہوئی ہے۔شوہر دوبئی  میں جاب کرتے ہیں۔وہاں جاکر انہوں نے  کمپنی میں فیملی ویزے کے لیے  اپلائی کیا۔ اُنہیں بتایا گیا کہ  کمپنی کے پالیسی کے مطابق ایک سال بعد فیملی ویزاملےگا۔

شوہر روزانہ  مجھ سے موبائل پر بات کرتے ہیں اورتسلی دیتے ہیں لیکن میرا دل نہیں مانتا۔میں شوہر سے لڑنے لگتی ہوں ،انہیں موردِالزام ٹھہراتی  ہوں ، سوچتی ہوں کہ میرے شوہر مجھے اپنے پاس بلوانا ہینہیںچاہتے۔

محترم  بھائی جان ….! آپ میری رہنمائی فرمائیں  کہ میں کیا کروں اورکوئی وظیفہ بھی بتائیں کہ کمپنی میرے  شوہر کوجلد فیملی ویزا دے دے۔


جواب:

میری دعاہے کہ اللہ تعالیٰ  آپ کو بہت خوشیاں  عطا فرمائیں۔آمین

اپنے شوہر کے پاس جلد جانے کی  خواہش  بالکل فطری  ہے۔ ساتھ میں یہ  بھی سمجھنا  چاہیے کہ   ملکوں اوراداروں کے قوانین اورضابطوں  کی پابندی  بھی لازمی ہے۔

آپ اپنے شوہر  کے پاس جانا چاہتی  ہیں ،یقین کیجئے کہ وہ بھی آپ کو اپنے پاس بلوانے کے لیے بے چین ہیں لیکن  اپنی کمپنی کے ضابطوں  کو تبدیل کرنا ان کے اختیار میں نہیں ہے۔

 شوہر سے بات کرتے ہوئے آپ اپنے اچھے جذبوں کا اظہار جھنجھلاہٹ  اورغصہ  کے بجائے  محبت اورنرمی  کے ساتھ کرنا سیکھئے۔

آپ کے شوہر کے بس میں ہوتا تو وہ اکیلے جاتے ہی نہیں  بلکہ آپ  کو ساتھ لے کر جاتے۔ دور بیٹھے ہوئے محبت کرنے والے شوہر پر غصہ کرکے آپ انہیں بھی پریشان کردیں گی….

تحمل اور برداشت میں اضافے  اور جذبات پر کنٹرول  کے لیے مراقبہ سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ آپ صبح سویرے یا رات سونے سے پہلے مراقبہکیاکریں۔

روزانہ صبح اکتالیس مرتبہ اللہ تعالیٰ کے اسماء 

یارؤف یا رحیم

 گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر  پانی پر دم کرکے پیئیں  ، اپنے اوپر بھی دم کرلیں اور اپنے مزاج میں تحمل کی دعا کریں۔


Please log in to rate this.
0 people found this helpful. Permalink

0 Comments - Leave a Comment


سوال :

ہمارا خاندان بزرگان دین سے عقیدت رکھتاہے۔  میرے نانا  کوسلسلۂ سہروردیہ میں  خلافت بھی ملی تھی ۔ بیس سال  پہلے نانا کے انتقال کے بعد  روحانی حوالے سے خاندان میں  ایک بڑ اخلا پیدا ہوگیا ۔ تقریباً پندرہ سال پہلے ہمارے  والد نے اپنے ایک دوست  کے پیر صاحب کے ہاں محفلوں میں جانا شروع کیا۔کچھ عرصہ بعد ہمارے والد ان پیر صاحب کے مریدہوگئے۔

والد ہم  سب گھر والوں کو بھی ان کے ہاں ہونے والی محفلوں  میں   لے جاتے ہیں ۔   ان محفلوں میں آیت کریمہ  کا ورد ہوتاہے ، اکثر قوالی بھی ہوتی ہے۔

پیر صاحب  ہم سب کے ساتھ  بہت شفقت سے پیش آتے ہیں۔ہمیں اپنے ساتھ بٹھاکر  کھانا بھی کھلاتے ہیں لیکن مسئلہ  یہ  ہے کہ ہمارے  والد نے زندگی کے ہرمعاملے کو پیر صاحب کی اجازت سے منسلک کردیاہے۔

 چند ماہ پہلے ہمارے بھائی کو تیز بخار ہوا۔ محلے  کے ڈاکٹر کی دواؤں  سے آرام نہیں آرہا تھا ۔والد نے پیرصاحب  کو بتایا ۔انہوں نے  بتایا کہ  بخار کی وجہ پرانا نزلہ ہے ،بچے کو جوشاندہ پلایا جائے۔والد نے ڈاکٹری علاج بند کرواکر ہمارے بھائی کو دیسی دوائیں شروع کروادیں۔بھائی کی حالت بگڑتی رہی۔

ہمارے ایک چچا اسے خاموشی سے اپنے ساتھ ایک ہسپتال  لے گئے ،وہاں اس کے ایکسرے  اوردیگر ٹیسٹ  ہوئے ۔پتہ چلا کہ  بخار کا سبب  تونمونیہ ہے ۔

بھائی کی حالت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے اسے اینٹی بایوٹک کے ساتھ ساتھ کارٹیزون بھی دیں۔

ہماری ایک بہن کے پری میڈیکل میں بہت اچھے نمبر آئے  لیکن اسے دوسرے شہر  میں داخلہ مل سکا۔ والد  نے پیر صاحب سے ذکر کیا تو پیر صاحب نے کہا ….اکیلی لڑکی کا دوسرے شہرجاکر رہنا ٹھیک نہیں۔

پیر صاحب کی اس بات پر ہماری بہن کا میڈیکل کالج  میں پڑھنے کا ارمان ادھورا رہ گیا۔

پیر صاحب   ہمارے والد سے گاہے بہ گاہے ایسی فرمائشیں کرتے رہتے ہیں  جن کی تکمیل کے لیے ہمارے والد کو بھاری رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔ ہمارے والد کہتے ہیں  کہ پیر صاحب  کے فرمان پر عمل نہ کیا گیا تو آخرت برباد ہوجائے گی۔

باتیں توکئی  ہیں لیکن  میں نے مختصراً دومثالیں  بیانکی ہیں۔

اب ہمارے والد صاحب کہہ رہے ہیں کہ ہم بہنبھائی  بھی ان کے پیر صاحب کے مرید بن جائیں۔

محترم  وقار عظیمی صاحب! آپ خود ایک روحانیسلسلہ کا پرچار کرتے رہتے ہیں ۔آ پ کا رسالہ روحانی ڈائجسٹ  ہمارے گھر  میں طویل عرصے سے آرہا ہے۔اس رسالے میں  بہت اچھی اچھی باتیں لکھی ہوتی  ہیں  ۔ آپ کو یہ بتانا ہے  کہ میرا دل نہیں مانتا کہ میں اپنے والد کے پیر صاحب کی مرید بنوں۔میں آپ کو صحیح بتاؤں تو بات  یہ ہے کہ مجھے تو اب پیری مریدی سے ہی  اکتاہٹ  اوربیزاری محسوس ہونے لگی ہے۔

میری یہ باتیں آپ کو کڑوی لگ رہی ہوں تو مجھے معاف فرمائیے گا۔مجھے آپ سے صرف یہ پوچھنا  ہے کہ  اپنے والد کی اندھی عقیدت  کے نقصان دہ اثرات سے ہم بہن بھائی کس طرح محفوظ رہیں۔


جواب :

عزیز بیٹی  ….! پہلے تو یہ بتادوں کہ مجھے آپ کی باتیں کڑوی نہیں لگیں ۔

 دینِ اسلام کی تبلیغ اور لوگوں کی تعلیم اور اصلاح کے لیے  تصوف   اور سلاسلِ طریقت  کی خدمات  تاریخ  میں جگمگارہی ہیں۔   آج کل مسئلہ یہ ہوگیا ہے  کہ  بعض افراد نے  صوفیانہ تعلیمات    کو اپنی دکانداری کا ذریعہ بنالیا ہے۔    آپ کی  ذہنی اُلجھن  کا سبب بھی  میرے خیال میں  یہ ہے  کہ آپ  تصوف کی تعلیمات  اور موجودہ دور کی  پیری مریدی  میں فرق نہیں کرپارہیں۔

آپ روحانی ڈائجسٹ کی پرانی قاری  ہیں۔روحانی  ڈائجسٹ  کی کئی تحریروں پر ذرا  سا غورکرلیں  تو آپ پر واضح  ہوجائے گا کہ ہم تو خود روایتی پیری مریدی  اوراندھی عقیدت کے حق میںنہیں ہیں۔

میرے والد حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے  اورمیں نے  بالمشافہ ملاقات یا خط وکتابت  کے ذریعے  کثیر تعداد میں مریضوں کو ڈاکٹری علاج کا مشورہ دیاہے۔میں نے تو ایسے کئی مریضوں کو جوخود  ہی ڈاکٹری علاج نہیں  کروانا چاہتے تھے ،بہت اصرار کرکے میڈیکل چیک کروانے او رڈاکٹر کے مشوروں پر عمل کرنے پر قائل کیا ہے۔

لڑکیوں کی تعلیم پروالدین کو ترغیب دینے میں بھی سلسلہ ٔ عظیمیہ اورروحانی ڈائجسٹ  کی کوششیں  سب کے سامنے ہیں۔

 سلسلہ ٔ طریقت میں کسی مجاز ہستی کے ہاتھ پر بیعت کرنا دراصل ایک استاد اورایک شاگرد کے  درمیان ایک معاہدے کی طرح ہے۔بیعت  ہونے کا اصل مقصد یہ ہے کہ مرید کو شیخ کی جانب سے تعلیم دی جائے گی ،اس کی تربیت  کی جائے گی، تذکیہ نفس کے لیے اس کی رہنمائی اورمدد کی جائے گی۔روح کی صلاحیتوں  کو سمجھنے، عرفان نفس اور عرفان الٰہی  کے سفر میں اس کی رہنمائی کی جائے گی۔اسے اللہ تعالیٰ  کی عبادت اوررسول اللہؐ کی اطاعت کی ترغیب دیجائے گی۔

کوئی مرید اپنے شیخ سے اپنے  دنیاوی معاملات  میں  یا اپنے  گھریلو امور میں مشورہ لیناچاہے  تو ضرورلے لیکن یہ سمجھنا یا یہ عقیدہ رکھنا درست  نہیں کہ مرید کے گھر والوں پر شیخ کے مشوروں پرعمل کرنا لازم ہے  ۔یہ خیال بھی درست نہیں  کہ پیر صاحب کی فرمائشیں  پوری نہ کرنا آخرت میں  کسی نقصان کا سبب ہوگا۔

ہمیں یہ  بھی  سمجھنا  چاہیئے کہ  موجودہ دور میں پیر ی مریدی  کے ذریعے  کئی لوگ تعلیم ،تربیت واصلاح کے فرائض  سرانجام  دینے کے بجائے لوگوں کے  کمزورعقیدوں سے فائدہ  اٹھانےکے لیے  دم درود  اور تعویذ ،دھاگوں کے کاموں میں  لگے ہوئے ہیں۔ لوگوں  کی ایک بڑی تعداد نے  اس کام کو تصوف سمجھ رکھا ہے۔

کسی مجازبزرگ  کے ہاتھ پر بیعت  ہونا ہر شخص  کی ذاتی خواہش اور قلبی میلان  پر منحصر ہے۔اس میں کسی پر کوئی زبردستی نہیں ہے۔

اگر آپ  اور آپ کے بہن بھائی اپنے والد  صاحب کے پیر سے بیعت ہونا نہیں چاہتے تو آپ یہ بات اپنے والد صاحب کو بتادیں۔


Please log in to rate this.
1 person found this helpful. Permalink

0 Comments - Leave a Comment