صفحہ اول / پرسکون زندگی / صحت و تندرستی / رکھیے اپنے دل کا خیال

رکھیے اپنے دل کا خیال

heart-day پاکستان سمیت دنیا بھر میں دل کے امراض سے بچاؤ کا عالمی دن 29 ستمبر کومنایا جاتا ہے۔  یہ دن منانے کا مقصد لوگوں میں دل کی بیماریوں کے بارے میں آگاہی اور ان سے بچاؤ  کیلئے شعور بیدار کرنا ہے۔ دنیا میں لاکھوں افراد ہر سال دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔  پاکستان میں دل کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہونے والی کل اموات میں سے ایک تہائی اموات شریانوں اور دل کی مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہو رہی  ہیں۔   ماہرین کے مطابق بلڈپریشر، خون میں کولسٹرول اور گلوکوز کا بڑھنا، تمباکو نوشی، خوراک میں سبزیوں اور پھلوں کا ناکافی استعمال، موٹاپا اور جسمانی مشقت کا فقدان دل کے امراض میں مبتلا ہونے کی بڑی وجوہات  ہیں۔  بڑی عمر کے افراد کے ساتھ ساتھ نوجوان اوربچے بھی دل کے امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

  ڈاکٹروں کے مطابق  ہلکی  پھلکی سادہ غذا اور دن میں صرف آدھے گھنٹے کی ایکسرسائزکومعمول بنا کردل کے بہت سے امراض سے بچا جا سکتا ہے۔

دھک دھک، دھک دھک …..

جی ہاں، یہ آپ کے دل کی  دھڑکن کی آواز ہے ،  یہی دھڑکن آپ  کے زندہ ہونے کا ثبوت ہے۔   دلچسپ بات ہے کہ ڈاکٹر دل کا معائنہ کرتے وقت دھک‌دھک کی جو آواز سنتے ہیں یہ دل کے پھیلنے اور سکڑنے کی آواز نہیں ہوتی بلکہ اُس کے والو کے بند ہونے کی آواز ہوتی ہے۔‏

 آپ کا دل دورانِ‌خون کے نظام میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔‏ دل ایک نہایت حیرت‌انگیز عضو ہے۔‏بالغ انسان کا دل دن میں کم‌ازکم ایک لاکھ بار دھڑکتا ہے۔‏ انسان جب ننھا بچہ ہوتا ہے تو اُس کا دل تقریباً 130 مرتبہ فی منٹ دھڑکتا ہے لیکن بالغ‌پن میں دل تقریباً 70  مرتبہ فی منٹ دھڑکتا ہے۔‏ بالغ انسان کا دل ایک منٹ میں 5 لیٹر خون پمپ کرتا ہے جوکہ جسم میں خون کی کُل مقدار کے برابر ہے۔‏ حیران‌کُن بات یہ ہے کہ ورزش کے دوران انسان کا دل ایک منٹ میں 20 لیٹر خون پمپ کر سکتا ہے۔‏  انسانی جسم میں دل ودماغ، یہی دو عضو سب سے اہم سمجھے جاتے ہیں۔

آج کل دل کی بیماریاں بڑھتی جا رہی ہے۔ کم عمر میں بھی لوگ ہارٹ اٹیک میں مبتلا ہو رہے ہیں، جس کی وجہ طرزِ زندگی اورکھانے پینے کی عادات میں آنے والی تبدیلی ہے۔ صحت مند دل ہی صحت مند زندگی کی راہ بناتا ہے۔ اس دل کا خیال دل سے رکھنا چاہئے ۔

دل کو صحت مند رکھنے کیلئے ایکسرسائز

ورزش اور کھیل کود صحت مند طرز زندگی کے بنیاد ہیں۔ ان سے دل بھی صحت مند اور مضبوط رہتا ہے۔ جسم کو صحت مند رکھنے کے لئے ضروری نہیں کہ ہم کسی کھلاڑی کی طرح کوئی خاص ایکسرسائز کریں۔ اگر آپ دوستوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے روزانہ آدھے گھنٹے ٹہلتے ہیں تو بھی بہت بڑا فرق دیکھ سکتے ہیں۔

روز انہ کم از کم آدھا گھنٹہ ایکسرسائز ضرور کریں۔ اگر آپ بہت مصروف ہیں تو ایکسرسائز کا وقت تقسیم کرسکتے ہیں۔ جیسے صبح پندرہ منٹ کی ایکسرسائز کرنے کے بعد شام کو بھی ہلکی پھلکی چہل قدمی کر سکتے ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ جم ہی جائیں۔ آپ صبح کی سیر اور یوگا، مراقبہ جیسے طریقوں کوبھی اپنا سکتے ہیں۔

سیڑھی چڑھنا:

یہ ایسی سرگرمی ہے جسے گھر پر یا آپ کے کام کی جگہ دونوں جگہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی ایک طرح کی ایروبک ایکسرسائز ہی ہے۔ جو لوگ روزانہ چار پانچ ہزار قدم پیدل چلیں، ان میں خون کا دبائو معمول پر رہتا ہے۔ یوں وہ امراضِ قلب سے بچ سکتے ہیں۔

اُٹھک بیٹھک کریں:

جی ہاں!کینڈین ماہرین کے مطابق  جو شخص ایک منٹ میں زیادہ سے زیادہ اُٹھک بیٹھک کرے۔  وہ دوسروں کی نسبت 13سال زیادہ جیتا ہے۔  وجہ یہ ہے کہ اُٹھک بیٹھک کرنا پیٹ کے عضلات مضبوط رکھتا ہے ، وہاں چربی جمع نہیں ہوتی اور پیٹ پر چربی جتنی کم ہو، دل کی بیماریاں بھی اتنی ہی کم چمٹتی ہیں۔

دوڑتے ہوئے تنوع رکھیے:

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انسان کا 10تا 15فیصد وزن بھی کم ہوجائے، تو انسانی جسم میں ذخیرہ شدہ چربی 25تا 40فیصد کم ہوجاتی ہے اور وزن کم کرنے کا ایک اچھا اور آسان طریقہ دوڑنا ہے۔ اب تحقیق  سے معلوم  ہوا ہے کہ انسان بھاگتے ہوئے تیز اور کبھی آہستہ دوڑے، تو وزن یکساں رفتار سے بھاگنے کی نسبت جلد کم ہوتا ہے۔

سائیکل چلا ئیے:

طبی سائنس کے مطابق  جو لوگ  ڈپریشن ہیں، وہ دوسروں کی نسبت جلد امراضِ قلب میں مبتلا ہو  جاتے ہیں۔ کئی افراد  ادویہ کھا کر ڈپریشن بھگا نے کی سعی کرتے ہیں۔ مگر جدید تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ ڈپریشن سے نجات کا ایک بہترین طریقہ کوئی بھی ورزش کرنا مثلاً سائیکل چلانا یا بیڈمنٹن کھیلناہے۔

سوئمنگ،ہائیکنگ،بوٹنگ:

برطانوی ماہرین  کے مطابق جو مردوزن شدید جسمانی سرگرمی مثلاً تیرنے یا پہاڑ پر چڑھنے (ہائکنگ) سے محض 50حرارے بھی جلائیں، ان میں امراض قلب کا خطرہ 62فیصد کم ہوجاتا ہے۔ تاہم ہلکی ورزش مثلاً چلنے یا گالف کھیلنے سے اتنا فائدہ نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو مشورہ دیتے ہیں کہ کشتی رانی کیجیے۔ یہ بھاگنے سے بھی بہتر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کشتی چلاتے ہوئے جسم کے زیادہ عضلات استعمال ہوتے ہیں۔ دل پورے جسم میں زیادہ خون پمپ کرتاہے۔جس کے باعث قلب کو مجموعی صحت حاصل ہوتی ہے۔

یوگا :

جسمانی اور نفسیاتی ورزش کا طریقہ ‘‘یوگا’’ انسانی صحت پر نہایت خوشگوار اثرا ت مرتب کرتاہے۔ یوگا اعضائے رئیسہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔

حالیہ سائنسی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ دل کی دھڑکن کی رفتار کو اپنے معمول پر رکھنے میں یوگا اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ ایسے افرا د جنہیں اپنی دھڑکن معمول پر رکھنے کے لیے ادویات کا سہارا لینا پڑتا ہے ، وہ یوگا کے استعمال سےدواؤں سے چھٹکارہ یا ان میں کمی کرسکتے ہیں۔ یوگا میں شامل سانس لینے کی ورزشیں، بازو پھیلانے ، جسم کو کچھ دیر کے لیے مخصوص حالتوں میں رکھنے ، سستانے اور مراقبے کا عمل مجموعی طورپر دھڑکن کو اعتدال میں رکھنے اور دل کی صحت بہتر بنانے میں مددملتی ہے۔

روزانہ 20منٹ مراقبہ : امراضِ قلب میں مبتلا افراد خاص طور پر روزانہ صرف 20منٹ مراقبہ کرنے کے لیے نکالیں۔ یہ عمل گھبراہٹ اور بے چینی سے نجات دلا کر انسان کو پرسکون کرتا ہے۔

گرد  و غبار اور دھوئیں  سے دور رہیں

سگریٹ نوشی کرنے والے لوگوں میں دل کی بیماریوں کا خطرہ دوسروں سے چار گنا زیادہ ہوتا ہے ۔ چین اسموکنگ کرنے والوں میں تو یہ خطرہ 30 فیصد تک بڑھ جاتاہے۔

سیکنڈ ہینڈ اسموک:یہی نہیں اگر آپ  سگریٹ نہیں پیتے تو اس کے دھوئیں سے بھی بچیے ۔ امریکی ڈاکٹروں نے دریافت کیا ہے کہ جو خواتین و حضرات ہفتے میں تین بار 30منٹ تک سگریٹ کے دھوئیں کی زد میں رہیں، ان میں امراض قلب میں مبتلا ہونے کا خدشہ 26فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ لہٰذا کبھی سگریٹ کے دھوئیں والے ماحول میں نہ بیٹھیں۔

گردوغبار سے بچیں: آلودہ ماحول میں رہنے اور سانس لینے سے خون میں آکسیجن کم ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں دل کی نالیوں میں لوتھڑے بننے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

8 گھنٹے کی نیند دل کو صحت مند رکھے

نیند تو سب کو ہی پیاری ہوتی ہے مگر کچھ لوگ اتنے زیادہ مصروف رہتے  ہیں کہ بہت کم سو پاتے ہیں اور اگر کوئی شخص رات میں 6 گھنٹے سے بھی کم سوتا ہو تو اس میں دل کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔  برطانوی سائنس دانوں کے مطابق   نیند کی کمی والے  لوگوں میں فیبر نیوجن مادے کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہی پروٹینی مادہ خون میں لوتھڑے بننے میں مدد دیتا اور دل و دماغ تک خون جانے سے روکتا ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ رات کو 8 یا اس سے زائد گھنٹے تک سوتے ہیں ان کی دل کی صحت 6 یا 7 گھنٹوں کی نیند لینے والوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ بہترہوتی ہے۔

 موٹاپا سے چھٹکارا پائیں

موٹاپا دل کی بیماریوں کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹاپے کے ساتھ ساتھ ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور ذیابیطس بھی دل کی دھڑکن  تیز ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔  زیادہ وزن کی وجہ سے دل پر دباؤ پڑتا ہے اور اسے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے ۔اس سے ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھجاتا ہے۔

لندن کالج یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کسی بھی عمر میں جسمانی وزن کم کرنا آپ کے دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق جس شخص کا وزن زیادہ ہو گا اسے درمیانی یا بڑھاپے کی عمر میں دل سے متعلق مسائل کا سامنا زیادہ ہو گا۔

پریشانی اور ذہنی تناؤ سے بچیں

پریشانی ،ذہنی تناؤ وغیرہ سے آپ کے دل پرُ برا اثر پڑتا ہے۔کچھ لوگ ایسی حالت میں سگریٹ پینے لگتے ہیں۔اس سے صورت حال اور بگڑ جاتی ہے ۔ اس لیے پریشانی کی صورت میں پرسکون رہ کر مسئلے کا حل ڈھونڈنے میں مصروف ہوجائیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی  تحقیق سے یہ دلچسپ انکشاف ہوا کہ جو افراد  عموماً خوش و خرم رہتے اور مثبت انداز فکر رکھتے ہیں، امراضِ قلب ان کے قریب نہیں پھٹکتے۔

ہنسی اور دل:

ہنسی دنیا کی بہترین اور مفت دوا ہے کیوں کہ ہمارا جسم ہنسنے پر کئی ہارمون کی مقدار کو کم کرتا ہے۔  جب تناؤ کم ہوتا ہے تو بلڈ پریشر بھی گر جاتا ہے،   حالیہ تحقیق کے مطابق تناؤ  رہنے پر دل کے دورے کا خطرہ ہنسنے ہنسانے والے افراد کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔  تناؤ اور ڈپریشن دل کی صحت کو متاثر کرتا ہے۔

شکرگزاری:

کیلیفورنیا یونیورسٹی (امریکا)کی تحقیق کے مطابق آپ بہت معمولی کوشش سے دل کی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔  اگر آپ دل کی بیماریوں سے دور اور صحت مند رہنا چاہتے ہیں تو تھینک یو یا شکریہ کہنا اپنی عادت بنالیں۔  شکر گزاری کا احساس دل کی صحت کو بہتر بنانے کا سب سے آسان نسخہ ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دل کے ایسے مریض جو اپنی زندگی کی مثبت چیزوں پر شکر گزاری کا اظہار کرتے ہیں ان کی ذہنی اور جسمانی صحت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آتی ہے۔   مریضوں کے اندر شکر گزاری کی کیفیت ان کے مزاج کو خوشگوار اور  نیند کو بہتر بناتی ہے جبکہ وہ تھکاوٹ اور ورم کی کیفیت سے کافی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔

مثبت سوچ:

برطانوی طبی تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ پر امید اور مثبت سوچ رکھنے والے افراد میں دل کے دورے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

دوست بنائیے:

ماہرین کہتے ہیں کہ تنہا انسان ‘‘ڈپریشن’’  کا صحیح طرح مقابلہ نہیں کر پاتا اور بہت جلد امراضِ قلب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ مگر دوست احباب رکھنے والے مردوزن پریشانی اور بے چینی سے چھٹکارا پانے میں کامیاب رہتے ہیں۔

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ گھرمیں استعمال ہونے والی چند غذائیں ایسی ہیں جو دل کو مضبوط بنا کر اسے بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔

 جئی (Oats) :

اپنے دن کی شروعات کے لیے جئی کے استعمال کا مشورہ اکثر ماہر خوراک دیتے ہیں۔ جئی  ناصرف فائبر سے بھرپور ہوتی ہے بلکہ یہ خون کوصاف بھی رکھتی ہے۔

دہی:

مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دہی ناصرف ہاضمے کے نظام کو سدھارتی ہے بلکہ یہ بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت کو بھی بڑھاتی ہے یہ دل کی صحت کو بھی بہتر بنانے میں معاون ہے۔

 زیتون کا تیل:

اپنی باقاعدہ ڈائٹ میں نارمل تیل یا مکھن کی بجائے زیتون کا تیل استعمال کرنے سے آپ کو ایک صحتمند اور لمبی زندگی ملتی ہے۔ زیتون کا تیل دل کی بیماری کے خطرہ کو کم کرتا ہے۔  یہ برے LDL کولیسٹرول کو کم کرنے میں بھی معاون ہوتا ہے۔ جبکہ اس میں شامل مونو سیچوریٹد فیٹس دل کے لیے مفید ہے۔  ایکسٹرا ورجن (Extra Virgin)زیتون کے تیل میں پولی فینولزجسم کو اضافی طاقت مہیا کرتا ہے۔ سلاد بنانے کے بعد اس پر کچھ زیتون کا تیل چھڑک کر اس کا استعمال کریں۔

تِل کا تیل :

تل کاتیل بلڈ پریشر کم کرتا ہے۔ خدانخواستہ اگر آپ دل کی بیماری میں مبتلا ہیں، تو طبیب کی اجازت سے تلوں کا تیل استعمال کیجیے۔

السی کے بیج :

السی کے بیج غذا میں شامل رکھیں۔ یہ اومیگا تھری مادوں کا عمدہ ذریعہ ہیں۔

 پالک:

  ماہرین طب کاکہنا ہے کہ پتے والی سبزیاں جیسے پالک، میتھی، مولی کے پتے، سلاد وغیرہ انتہائی صحت افزا سبزیاں ہیں جو دل کی بیماریوں حتیٰ کہ کینسر میں بھی بے حد مفید ہیں۔ ان سبزیوں میں کم چکنائی، کلوریز اور زیادہ ڈائٹری فائبر موجود ہوتے ہیں۔  اس کے علاوہ یہ سبزیاں اپنے اندر فولک ایسڈ، میگنیشیم، کیلشیم، پوٹاشیم سے بھی بھری ہوتی ہیں جو دل کے زیادہ تر فنکشنز میں مدد کرتی ہیں۔

اناج :

گندم، باجرہ،  دالیں اور لوبیا  میں موجود قدرتی فائبر اور وٹامنز دل کے لیے انتہائی مفید ہیں۔ ان غذاؤں میں وٹامنز ای، آئرن، میگنیشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس شامل ہوتے ہیں جو دل کو مضبوط رکھتے ہیں اور بلڈ پریشر کو بھی کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جو(Barley) میں بیٹا گلوکین موجود ہوتاہے جو حل شدہ فائبر ہوتا ہے جو کولیسٹرول لیول کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

پھلیاں :

ماہرین کا کہنا ہے کہ جو مرد و زن ہفتے میں تین چار بار پھلیاں کھائیں، ان میں امراضِ قلب پیدا ہونے کا امکان بہت گھٹ جاتا ہے۔

 سویا بین :

سویا بین  سرخ گوشت کا نعم البدل ہے جس میں آئیسیو فلیون موجود ہوتے ہیں جو کولیسٹرول کو تحلیل کردیتے ہیں۔

ٹماٹر :

ٹماٹر میں لائکو پین مادہ ہوتا ہے۔ یہ خون کی نالیوں میں کولیسٹرول جمع نہیں ہونے دیتا۔ ٹماٹر کی خالص چٹنی معتدل مقدار میں استعمال کیجیے۔  ٹماٹر میں وٹامنز بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ ٹماٹر کا مسلسل استعمال دل کی بیماریوں کا خطرہ کم کردیتا ہے جبکہ اس میں موجود وٹامنK برین ہیمرج کے  خدشے کو بھی کم کرتا ہے۔

سیب :

کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ روزانہ ایک سیب انسان کو ڈاکٹر سے دور رکھتا ہے کیوں کہ اس میں موجود گیورس ٹن جو کہ فوٹو کیمیکل اینٹی ان فلیمیٹری خاصیتیں رکھتا ہے جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے اور خون کو جمنے سے روکتا ہے۔ ناشتے میں دلیہ وغیرہ کے ساتھ سیب کھانا انتہائی مفید ہے۔

بادام:

بادم کے اندر موجود وٹامنز بی 17 اور میگنیشیم، آئرن، اور زنک جیسی معدنیات  مینو سیچوریٹڈ فیٹس کا بہترین ذریعہ ہیں جو کولیسٹرول کے لیول کو کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

گری دار میوے:

ایک تجربے میں آسٹریلوی ماہرین نے تین ماہ تک سترہ مردوزن کو گری دار میوے کھلائے۔ جب چوتھے ماہ ان کامعاینہ ہوا، تو مردوزن میں 3تا 5فیصد کولیسٹرول کم پایا گیا۔ وجہ یہ ہے کہ گری دار میوے مونوان سیچوریٹڈ چکنائی کثیر مقدار میں رکھتے ہیں۔

لہسن:

 یہ تو بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ لہسن کھانے کا ذائقہ بڑھانے کے ساتھ  ساتھ صحت بھی ہوتا ہے ۔ ایک نئی تحقیق میں یہ پتہ چلا ہے کہ پرانے لہسن میں تازہ لہسن کی بنسبت اینٹی آکسیڈینٹ سرگرمی زیادہ ہوتی ہے ، جو دل کی صحت کے لئے بہت فائدہ مند ہوتا ہے ۔  امریکہ کی یونیورسٹی آف لووا کے ریسرچرز نے بتایا کہ  لہسن کھانے سے کولیسٹرول ، بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کے خطرے کو قدرتی طور پر کم کیاجاسکتا ہے ۔

ادرک:

  یہ قدرتی جڑی بوٹی کولیسٹرول کم کرتی اور الرجی  کو دور بھگاتی ہے۔ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہارٹ اٹیک یا آپریشن کے بعد دل کو صحت مند بناتی ہے۔ ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ جن لوگوں  کو روزانہ ادرک کھلائی جائےان میں دوسروں کی نسبت دل کی حفاظت کرنے والے ضِد تکسیدی مادے زیادہ پائے گئے ہیں۔

کدّو:

 اس سبزی کے بیج خصوصاً میگنشیم کاخزانہ ہیں۔ قلب صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ روزانہ کم از کم 420ملی گرام یہ معدن ضرور غذا میں شامل ہو۔ میگنیشم کی کمی سے انسان میں بلڈ پریشر جنم لیتا ہے، کولیسٹرول کی سطح بڑھتی اور نالیوں میں لوتھڑے بننے لگتے ہیں۔

چینی کے بجائے شہد :

امریکی الینائے یونیورسٹی نے دریافت کیا ہے کہ شہد طاقت ور ضدِ تکسیدی مادے رکھتا ہے۔ یہ مادے امراضِ قلب کا خوب مقابلہ کرتے ہیں۔ دوسری طرف چینی کا متواتر استعمال انسانی بدن میں اچھے HDL (کولیسٹرول ) کی سطح کم کردیتا ہے  یوں دل کی بیماری لگنے  کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔

کھجور:

اگر چاہتے ہیں کہ آپ کا دل ہمیشہ توانا اور صحتمند رہے تو آپ کو کھجور کا استعمال شروع کردینا چاہیے کیونکہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کھجور کا استعمال کمزور دل کے لیے انتہائی مفید ہے۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کھجور سے دل کے دورے سمیت دیگر امراض پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

وٹامنز:

 یونیورسٹی آف لیڈز کے سائنسدانوں کے مطابق  وٹامن ڈی تھری قلبی صحت پر گہرا اثر مرتب کرتا ہے۔ وٹامن ڈی کی ایک خاص قسم کا ایک عرصے تک استعمال دل میں خون پمپ کرنے کی صلاحیت 30 سے 40 فیصد تک بڑھادیتا ہے۔

جدید ماہرین طب نے انکشاف  کیا ہے کہ جن لوگوں کی غذا میں وٹامنز بی کی مقدار کم ہو، وہ امراضِ قلب میں بآسانی مبتلا  ہوسکتے  ہیں۔

فولک ایسڈ :

فولک ایسڈ وٹامن ہی کی ایک قسم ہے۔ یہ حیاتین نئے خلیے بنانے میں کام آتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے جو مردوزن اس کی مطلوبہ مقدار لیں، وہ امراضِ قلب میں کم ہی مبتلا ہوتے ہیں۔ لہٰذا فولک ایسڈ رکھنے والی غذائیں روزمرہ خوراک میں شامل رکھیے۔ یہ حیاتین گائے کے جگر، ساگ، چاول، شاخ گوبھی اور پھلیوں میں ملتا ہے۔

گریپ فروٹ :

یہ بڑے کام کا پھل ہے۔ صرف ایک گریپ فروٹ روزانہ کھانے سے خون کی نالیوں میں رکاوٹیں دور ہوتی ہیں، بُرے کولیسٹرول کی مقدار 10فیصد تک کم ہوتی اور بلڈ پریشرنارمل رہتا ہے۔

روزانہ کھائیں ایک انڈا :

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ ہائی کولیسٹرول پر مشتمل کھانے یا باقاعدہ طور پر ایک انڈے کھانے سے دل کی بیماری کا خطرہ نہیں ہوتا ہے۔  سبزیاں اور انڈے کی زردی اپنے اندر ایک صحت بخش کیمیائی مادہ، لوتینLuteinرکھتی ہیں۔ یہ مادہ قلب کو بیماریوں سے بچانے والے ضِد تکسیدی مادے خلیوں اور بافتوں تک پہنچاتا ہے۔

پانی :

روزانہ پانچ چھ گلاس پانی ضرور پیجیے۔ یوں دل کی بیماریاں چمٹنے کا خطرہ 60فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ سگریٹ نوشی ترک کرنے، بُرا (LDL) کولیسٹرول کم کرنے اور وزن گھٹانے سے بھی انسان کو یہی فائدہ ملتا ہے۔

 Ghana-HCO-Digest---7.5x5.5-Inches-(preview-only)

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

درخت ماحول کے محافظ

بے قابو ہوتے موسموں کے جن کو ماحول دوست درختوں کی مدد سے قابو میں …