صفحہ اول / گوشۂ ادب / تاریخ وسیرت / زریاب، جس نے سکھائے دنیا کو آداب

زریاب، جس نے سکھائے دنیا کو آداب

Ziryab

اگر آپ  ٹوتھ پیسٹ ، شیمپو یا پرفیوم  استعمال کرتے  ہیں،  کھانےسے پہلے  سوپ  اور   بعد میں سوئٹ ڈش لیتے ہیں ، ماتھے  کے بال تراشتے ہیں ، یا موسم کی مناسبت سے  مختلف رنگوں کے لباس پہنتے ہیں     اور اسے یورپی طرزمعاشرت   سے اخذ کردہ سمجھتے ہیں  تو آپ کا خیال ٹھیک ہے ۔  یہ رواج یورپ سے ہی عام ہوئے لیکن ان میں سے زیادہ تر طریقوں  کے بانی اسپین  میں رہنے والے ایک جینئس مسلمان زریاب تھے۔

  یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا ، ہم بھی ان صفحات میں بار بار اس کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں  کہ مسلمانوں  نے  علم کے بیش بہاخزانے مغرب کو دئیے اور مغرب نے ان سے خوب استفادہ کیا۔  چاہے وہ طب ہو، کیمیا ہو، جغرافیہ ہو یا طبعیات، مگر کیا آپ یہ بات جانتے ہیں  کہ علمی میدان ہی میں  نہیں  بلکہ مغربی دنیا کےرہن سہن اور طرزِمعاشرت  میں بھی مسلمانوں  کا بہت کنٹریبیوشن ہے۔

آئیے….! آج ہم دوسری صدی ہجری کے ایک جینئس مسلمان کا تذکرہ کرتے ہیں۔ آج کے پڑھے لکھے مسلمانوں میں بھی شاید چند ہی لوگ ان صاحب کی شخصیت اور ان کے کارناموں کے بارے میں جانتے ہوں۔

یہ صاحب کون تھے….؟ خاندانی طور پر تو یہ صاحب غلام ابنِ غلام تھے۔

یہ ذکر ہے 799 عیسوی   (182ھ) کا جب  اس صدی کے تین روشن شہروں  میں  سے ایک بغداد میں   عباسی خلیفہ ہارون الرشید کا دربارسجتاتھا۔

عباسی خلیفہ کا یہ دور سائنسی، ثقافتی اور مذہبی رواداری کا دور کہلاتا ہے۔  ہارون رشید کے شستہ اور شاندار دربار نے سائنس ا ور آرٹ کی جیسی سرپرستی کی ویسی ہی سرپرستی نغمہ اور موسیقی کی بھی  کی اور سرپرستی بھی ایسی کی کہ آسمان موسیقی کے نہایت تابناک ستارے اسی افق پر جگمگانےلگے۔

Ziryab-1ہارون الرشید کو  موسیقی  سے بہت دلچسپی تھی۔ اس کے دربارمیں  دنیا کے مشاق اور اپنے وقت کے جانے مانے عظیم موسیقار اور  گائیکی میں   اپنی مثال آپ موسیقار اور گلوکار اسحاق الموصلی اپنے شاگردوں کے ساتھ حاضر تھے۔ ایک سیاہ فام شاگرد بھی  خلیفہ کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔

‘‘اچھا تو تم کیاسناؤگے ’’۔خلیفہ نے الموصلی  کے اس سیاہ فام شاگرد سے پوچھا….

‘‘عالی مقام جو فرمائیں  ،کئی انگنت ساز اور روح پرور کلام میرے سینے میں  ہیں۔ ایساکلام ایسی دھن  جو کسی نے اب تک نہ سنا ہو’’۔ سیاہ فام کی آواز میں  بلا کااعتماد تھا۔

خلیفہ نے پرشوق انداز میں  اس سیاہ فام کو گانے کا حکم دیا۔ شاگرد نے اپنے اُستاد کی طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھا۔ وقت کے عظیم موسیقار اسحاق الموصلی نے بھی نظروں کے اشارے سے اپنے شاگرد کو اجازت دی۔ سیاہ فام کی میٹھی سریلی آواز اور سحر انگیز گائیکی نے ماحول کو بے خود کردیا۔  اس کی انگلیاں  تاروں  کو چھوتیں تو جیسے جل ترنگ سے بجنے لگتے۔ محل میں تو  خاموشی گہری سے گہری تر ہوتی جاتی  صرف موسیقی اور گلوکاری کی صدا چاروں طرف پھیلتی رہی۔

خلیفہ اس گائیکی سے بے انتہا متاثر ہوا اور اس کی خوب پذیرائی کی ۔اس نے حکم جاری کردیا کہ اس شاگرد پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے اس کے علاوہ بھی اسے کئی مراعات سے نوازا گیا۔

***

مقدمہ ابن خلدون

معروف مؤرخ ابن خلدون المقدمہ میں لکھتے ہیں

ibnkhuldoon‘‘ اہلِ موصل کے یہاں زریاب نام کا ایک غلام تھا جسے خود انہوں (اہلِ موصل )نے گانا سکھایا لیکن جب وہ استادِ کامل ہوگیا اور گانے میں  استادوں سے بھی سبقت لے گیا تو اہلِ موصل نے حسد کے مارے اسے مغرب کی طرف نکال دیا ۔ جو گھومتا ہوا  امیر الحکم ابن  ہشام بن عبدالرحمٰن امیر اندلس کے پاس پہنچا۔ حکم نے اس کی بڑی عزت کی یہاں تک کہ سواری لگا کر اسے لینے کے لیے نکلا اور بے انتہا انعام و اکرام اور جاگیر دے کر اپنا ندیم خاص بنالیا۔ اندلس میں اس کی بدولت  ہی موسیقی کو رواج حاصل ہوا۔  اشبیلہ میں بالخصوص اس کا بہت چرچا ہوا، اور جب اشبیلہ کی حکومت زوال پزیر ہوئی تو اس فن کے جاننے والے وہاں سے نکل کر  مغرب و افریقہ  میں پہنچ گئے’’۔ [مقدمہ ابن خلدون ، جز 5: فصل 32 ]

زریاب:

یہ  سیاہ فام  گلوکارکون تھا….؟

اس کا اصل نام تو ابو الحسن علی بن نافی تھا مگر خوش الحانی کی بدولت  لوگ اسے   ‘‘زریاب ’’کے نام سے زیادہ پکارتے تھے۔کردستان سے تعلق رکھنے والےاس سیاہ فام غلام کو  یہ لقب بغداد میں ملا۔

کہا جاتا ہے کہ اسے یہ لقب ایک خوش آواز سیاہ پرندے سے تشبیہ میں دیا گیا تھا۔ بعض اہلِ زبان کا یہ کہنا ہے کہ زریاب ‘‘مینا’’ کو کہتے ہیں۔  الد میری نے بھی اس نام کا مطلب ایک کالی پھدکنے والی خوش آواز چڑیا بتایا  ہے۔ اصل میں یہ فارسی لفظ ‘‘زہراب ’’ یعنی  بُلبُل تھا  جو  عربی میں تبدیل ہو کر زریاب ہوگیا۔

زریاب سیاہ  رنگت کا، سرو قدشخص تھا۔ ۔

زیادہ تر مورخین کا اندازہ ہے کہ اس  کی پیدائش بغداد  میں  تقریبا  770ء تا 780ء کے درمیان  میں  ہوئی۔

Ziryab-2

  زریاب کا بچپن خلیفہ مہدی کی  غلامی میں گزرا  ،     روایات میں ہے کہ زریاب کے والد بھی غلام تھے اس طرح زریاب نسلی اعتبار سے غلام تھا۔   بچپن میں ہی وہ  اپنے دور کے مشہور موسیقار  اسحاق الموصلی  کی شاگردی میں آیا اور نوجوانی میں اسحاق الموصلی نے اسے ہارون الرشید کے دربار میں پیش کیا ۔

موسیقی :

Ziryab-3 بغداد میں  ہنر کے اظہار کے بعد خلیفہ  اور اس کے درباریوں  نے زریاب کو اپنے سرآنکھوں پر بٹھایا۔ یہ دیکھ کر  اس کے استاد الموصلی اور دوسرے شاگرد عدم تحفظ محسوس کرنے لگے۔ اُن کے حسد کی وجہ سے   زریاب کو مشکلات  کا سامنا کرنا پڑا۔  خلیفہ ہارون الرشید کے انتقال کے بعد زریاب کو اپنی جان بچا کر بغداد سے نکلنا پڑا۔

تقریباً 813ء میں  وہ بغداد سے دمشق (شام) اور پھر قاہرہ و اسکندریہ (مصر   )اور سفر کی کئی منازل طے کرتے ہوئے  قیروان (تیونس)  پہنچا۔

زریاب بلا مبالغہ   اس دور  کا تان سین  تھا۔ ایک رِوایت کے مطابق اُسے ہزار راگ یاد تھے۔

تیونس کے امیر  زیادۃ اللہ نے اسے اپنے پاس  مہمان  رکھا۔ دوسری جانب زریاب کے تیونس پہنچنے کی خبر  اندلس یعنی اسپین  کے امیر الحکم ابن  ہشام ابن عبدالرحمٰن  کو ملی۔  وہ بھی موسیقی اور فن کا دلدادہ تھا، الحکم نے زریاب کو اندلس (اسپین) آنے کی دعوت دی…. اس دعوت پر زریاب اندلس کے دارلحکومت  قرطبہ پہنچا۔   قرطبہ میں امیر الحکم نے اس کی خوب پزیرائی کی  اور اس پر نوازشات کی بارش کرتے ہوئے ماہانہ 200دینار  وظیفہ مقرر کیا۔

 امیرالحکم زریاب کی لیاقت و دانائی سے بے انتہا متاثر تھے۔ زریاب کو اپنے اور اپنے بیٹوں  کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھلاتے تھے۔ باوجود یہ کہ زریاب کو امیر الحکم  کے  مزاج میں  بہت دخل ہو گیا تھا اور قرطبہ کے عوام بھی زریاب کے پاس سفارش کے لیے آنے لگے،  مگر زریاب سیاسی اور ملکی معاملات میں  دخل دینے سے ہمیشہ پر ہیز کرتا تھا۔

الحکم  کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا عبدالرحمٰن دوم تخت نشین ہوا۔  وہ بھی  زریاب کی ذہانت سے متاثر تھا،    عبدالرحمٰن کے  دربار میں  زریاب کی   حیثیت اور  بڑھ گئی ۔ اب زریاب،   زریاب قرطبی   کے نام سے پکارا جانے لگا۔

 فنِ  موسیقی میں زریاب کوکمال حاصل تھا۔ اس وقت اندلس میں‘‘عود’’نام کا ایک سازاستعمال کیا جاتا تھا۔عودمیں چارتارہوتے تھے۔ زریاب نے ان چار تاروں کے ساتھ ایک اور تارکااضافہ کردیا۔   یہ موسیقی میں  زریاب  کا ایک  بہت بڑا کنٹری بیوشن مانا جاتا ہے ۔ کہا جاتا ہے  کہ عود میں چار تاروں  کی حیثیت اگر نفس کی ہے تو زریاب کے متعارف کردہ  پانچویں  تار کی حیثیت جوہر (روح)کی سی  ہے۔

 عود کے تاروں کو حرکت دینے کے لیے لکڑی کے ٹکڑے استعمال کیے جاتے تھے۔ زریاب نے عود بجانے کے لیے عقاب کی چونچ کروائی۔  آج گٹاربجانے کے لیے‘‘پلاسٹک کی نوکدار تکون ـ’’ استعمال ہوتی ہے۔یہ عقاب کی چونچ کی  ایک تبدیل شدہ شکل ہی ہے۔زریاب نے اندلس کی پوری موسیقی تبدیل کردی۔ اس نے جدید خطوط پرنئی موسیقی ترتیب دی۔ آج بھی اسپین کی موسیقی پر زریاب کے تجربات کی گہری چھاپ ہے۔

طرزِ معاشرت Life Style:

  موسیقی و دیگر فنونِ لطیفہ کا ماہر  ہونے کے ساتھ ساتھ زریاب  گویا   ہر فن مولا بھی تھا۔ اُس کا ذوقِلطیف بڑا عالی تھا ۔ وہ بے حد ذہین اور جدت طراز شخص تھا۔

زریاب کا جمالیاتی ذوق اور جدت طرازی اِسلامی سپین میں تمدن پر بھرپور انداز میں اثر انداز ہوئی۔ اُس نے اسپین میں ‘‘فنِ آرائش’’  Decorative Art کو متعارف کروایا۔ وہ شاہی مجالس کی تزئین و آرائش کا ماہر تھا۔  یہ کام وہ  اس حسن وخوبی سے کرتا تھا کہ قرطبہ کے  حکمران اور امراء  دنگ رہ جاتے تھے۔ اشرافیہ اور عوام  اسےایک غیرمعمولی انسان قرار دیتے تھے۔

آدابِ طعام:Dining Etiquette

Ziryab-4زریاب  نے اندلسیوں  کے طرزِطعام میں بھی حیرت انگیز تبدیلیاں متعارف کروائیں۔   مثال کے طور پر میز پر کھانا کھانے کا رواج۔

درحقیقت میز کرسی پر کھانا کھانے کا رواج انگریزوں کا نہیں  بلکہ اسپینش لوگوں کا  ہے، اسپین میں اسے  زریاب نے  متعارف کروایا تھا۔  صفائی اور خوشنمائی کے لیے  کھانے کی میز پر شیٹ ڈالنے کا رواج بھی زریاب سے شروع ہوا۔ اس کام کے لیے زریاب نے   لکڑی کی میز کو ڈھانپنے کے لیے چمڑے کی باریک تہوں والی شیٹ استعمال کیں۔

زریاب کی یہ اختراع کھانے کی  میز کو چادر ، پلاسٹک شیٹ یا کسی اور چیز  سے کور کرنے کی صورت میں  آج تک چلی آرہی ہے۔

مشرقی ممالک میں کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں  کہ کھانے میں چمچے، کانٹے اور چھری کا استعمال انگریزوں کا وطیرہ ہے۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ یہ انداز ِ طعام یورپ سے آیا ہے تاہم  یورپ میں اس اندازِطعام کی ابتداء انگریزوں سے نہیں بلکہ اندلس سے ہوئی۔ اندلس یعنی اسپین میں اس رواج کا بانی کوئی اور نہیں بلکہ زریاب تھا۔

اندلس میں لوگ کھانے  پینے کے لیے دھات کے بنے ہوئے برتن اورگلاس استعمال کرتے تھے۔امیرلوگ سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا کھاتے تھے۔ زریاب نے مشروبات کے لیے شیشے کے انتہائی خوبصورت گلاس متعارف کروائے۔  اندلس کے لوگوں  نے سونے ، چاندی ، تانبا اور دیگر دھاتوں کے بجائے شیشے کے برتنوں  کااستعمال زریاب ہی سے سیکھا۔

زریاب کی اس دریافت سے آج تک دنیا کے ہر حصے کے لوگ فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ اندلس میں بڑی بڑی دعوتوں  اور ضیافتوں  میں  شیشے کے برتنوں  کا استعمال باعثِ افتخار سمجھا جاتا تھا۔ شیشے کے برتنوں کے علاوہ زریاب نے دورانِ طعام  چمچ اور چھری کانٹے کا استعمال بھی متعارف کروایا۔

پکوان: Cuisine

Ziryab-5زریاب  نے کھانا پکانے میں بھی کئی جدتیں  کیں۔  اس دور کے اسپین میں  زیادہ تربھنا ہواگوشت پسند کیا جاتا تھا۔ زریاب نے لوگوں کو بتایا کہ گوشت کو صرف بھوننے کے علاوہ بھی مختلف طریقوں سے پکایا جائے ۔ اُس نے گوشت کو سبزیوں  کے ساتھ پکانا بھی متعارف کروایا۔ زریاب نے کئی ڈشز کے لیےمختلف اجزاء پر مشتمل تراکیب (Recipes)  ترتیب دیں۔  پکے ہوئے کھانوں کے ساتھ  تازہ سبزیوں اورسلاد کا استعمال بھی  زریاب سے منسوب ہے۔ زریاب نے لوگوں کوقائل کیاکہ کھانے میں سبزیاں اورپھل زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ سفید موصلی (Asparagus) کوکھانے کے لیے استعمال کرنے والا زریاب تھا۔آج بھی مغرب میں اسپراگس کو ایک مہنگی ترین سبزی کے طورپراستعمال کیاجاتاہے۔

بہت سی مٹھائیاں  بھی زریاب کی طرف منسوب ہیں ۔ جلیبی برِصغیر کے لوگوں کی ایک نہایت پسندیدہ مٹھائی ہے۔  جلیبی بھی دراصل اسپین میں رہتے ہوئے زریاب کی ہی تیار کردہ ہے۔ جلیبی کا لفظ دراصل زلابیہ کی تبدیل شدہ شکل ہے۔  اس  کی ترکیب  عرب اپنے ساتھ ہندوستان لائے تھے ۔

گُڑ کو پکا کر مونگ پھلی یا  دیگر میووں کو ملا کر ایک مٹھائی    تیار کی جاتی ہے اسے ہمارے یہاں گُڑ کی  پت   (Guirlache) کہتے ہیں۔  یہ بھی سب سے پہلے  زریاب ہی نے تیار کی تھی۔

زریاب نے ایک خاص قسم کے کباب بھی بنائے جن کو  ‘‘ نُقایا’’  کہا جاتا تھا۔ ایک خاص قسم کے سموسے بھی اُسی  کی طرف منسوب ہیں  جنہیں  ‘‘تُقیہ’’ کہتے تھے۔

زریاب نے کچھ نئے مصالحوں اورچندسبزیوں کو پہلی بارکھانے کے طورپراستعمال کیا۔

Three Course Meal:

زریاب نے اسپین کی شاہی دعوتوں میں  کورس میل  کی طرح ۔ ڈالی ۔ اس کورس میل میں  مہمانوں کو  پہلے ایک گرم مشروب (Soup) پیش کیا جاتا۔ اس کے بعد   مختلف کھانے اور   پھر شیرینی یعنی Sweet Dish اور Desert  پیش کیے جاتے۔   زریاب کے شروع کردہ تھری کورس میل کا رواج صدیاں گزرنے کے بعد آج بھی قائم ہے۔

 مہمانوں کی  تواضع کے لیے دعوتوں  میں  کئی  مفرح مشروبات زریاب نے متعارف کروائے۔

بناؤ سنگھار:

 اب ہم آپ کو بتاتے ہیں  کہ  زریاب نے اسپین کے  بناؤ سنگھار میں  کیا کیا جدتیں  کیں۔

Ziryab-6جس زمانے میں  زریاب اندلس میں  داخل ہوا  ان دنوں  وہاں  کے تمام مردو عورت پیشانی کے اوپر مانگ نکالا کرتے تھے  اور بالوں  کو کنپٹی اور ابروؤں  پر چھوڑ دیتے تھے۔   نفاست پسند زریاب کو بالوں  کا یہ اسٹائل   پسند نہ آیا ۔اس    نے اسپین  میں  ہیئر اسٹائل  کو بھی جدتیں بخشیں۔   زریاب اپنے بالوں  کو صاف کر کے ٹیڑھی مانگ نکالتا اور بالوں  کو کانوں  کے  پیچھے کر لیتا۔  امراء  کو زریاب کا یہ ہیئر اسٹائل  بہت بھایا اور  رفتہ رفتہ اکثر لوگوں نے  یہی ہیئر اسٹائل اپنالیا۔

زریاب نے   آرائشِ گیسو کے لیے دیگر کئی منفرد اسٹائل بھی  وضع کیے، اس دور میں مرد اور عورت دونوں  ہی لمبے لمبے بال  رکھتے تھے۔  زریاب نے   شاٹہیر   کا اسٹائل متعارف کروایا، ساتھ ہی اس نے  پیشانی پر چھتری یا جھالر کی طرح بکھرائے   ہوئے بالوں  کا فیشن (سامنے کے بالوں کو اس طرح کاٹنا کہ پیشانی پر لٹکتے ہوں)بھی نکالا۔  اسے آجکل Bangs  اورفرِنج  Fringe کہا جاتا ہے۔  حیرت کی بات یہ ہے کہ زریاب کا وضع کردہ یہ فیشن آج بھی دنیا بھر میں مقبول ہے۔

ملبوسات:     Dress Designing

زریاب کی فطرت ہی میں  جدت تھی ۔وہ ایک انتہائی نفیس انسان تھا ۔ اپنی نفاست  کا اظہار زریاب نے ملبوسات میں  بھی کیا۔ کردستان میں پیدا ہونے والے  اس  غلام زادے نے اسپین کے لوگوں کو سکھایا کہ   وقت اور موسم کی مناسبت سے  اچھی تراش خراش کے ساتھ اُنہی رنگوں کے لباس پہننے چاہئیں  جو پہننے  والے پر اچھے لگیں ۔

 زریاب کے اس  نظریے  نے تو  اسپین میں گویا  تہلکہ  ہی مچادیا۔    اس نظریے سے  ایک نئی انڈسٹری  یعنی فیشن انڈسٹری کی  ابتدائی صورت سامنے آئی ۔

Ziryab-7

نئے نئے فیشن نکالنے میں اُسے کمال مہارت حاصل تھی۔  اُس نے  اسپین کے  لوگوں کو خوش لباسی سکھائی۔  اس کے منہ سے نکلا ہرلفظ اہمیت اور جسم کی ہر حرکت ایک فیشن کا  درجہ حاصل کرنے لگی تھی۔  زریاب نے اس دور میں لوگوں  کے طرزِ معاشرت میں  ایک انقلاب پیدا کردیا۔  یورپ بھر میں اُسے فیشن کا باوا آدم سمجھا جاتا تھا۔  اس کے وضع کردہ فیشن  اتنے پائیدار تھے کہ   ان  کے اَثرات آج بھی  یورپ  اور دنیا  کے دیگر خطوں میں دیکھے جا سکتے ہیں  ۔

زریاب نے صبح،شام اوررات کے علیحدہ علیحدہ لباس کاتصوردیا۔ یعنی ہروقت کاپہناوامختلف ہونا چاہیے۔ زریاب  نے لوگوں  کو سکھایا کہ وقت اور موسم کے لحاظ سے لباس کی تراش خراش اور وضع قطع   مختلف ہونی  چاہئے۔ دراصل اس دور میں لوگ بھاری اورکڑھے ہوئے لباس کواہم سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اندلس  کے خواص و عوام  کو ملبوسات میں کپڑے کے انتخاب اور رنگوں کی اہمیت کا کچھ زیادہ  شعور نہ تھا۔  اگر انہوں  نے   موسمِ گرما کے دوران کپڑوں میں ایک رنگ کا استعمال شروع کر دیا مثال کے طور پر اگر وہ ہلکا نیلا رنگ  استعمال کر رہے ہیں  تو چاہے گرمیاں  ختم  ہو کر سردیاں  شروع ہوجائیں  مگر ہلکے نیلے رنگ  کا استعمال جاری رکھتے تھے۔  اسی طرح  گرمیوں  میں  گہرے رنگ استعمال کرتے  رہتے تھے۔

Ziryab-8   زریاب نے اہلِ اسپین کو موسم کے مطابق  کپڑے اور رنگوں کے انتخاب کا شعور دیا۔ اس نے لوگوں  کو بتایا کہ گرمیوں  میں  ہلکے کپڑے اور موسم کی مناسبت سے ہلکے رنگ استعمال کرنا چاہیے۔ سردیوں  میں   گہرے رنگ کے موٹے کپڑے استعمال کرنا چاہیے یعنی  زریاب نے یہ شعور دیا کہ موسم کے ساتھ ساتھ بتدریج لباس  کا کپڑا اور رنگ تبدیل ہونا چاہیے۔ زریاب نے دربار میں حاضر رہنے والے وزراء اور امراء کے لیے بھی مخصوص لباس تیار کیے۔ عہدوں کی نشاندہی کے لیے زریاب نے مختلف رنگوں اور وضع کے مفلر یا ربن تیار کیے۔ اسے قمیض یا کرتا کے گلے پر لگایا جاتا تھا۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کئی صدیوں بعد بھی مغرب نے اپنے کئی فیشن زریاب کے تجربے کوسامنے رکھ کر ترتیب دیے ہیں۔یاہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ آج کے مغرب کے فیشن کی بنیاد زریاب کے تجربات پر ہے۔   اکثر مغربی مفکرین اپنی کتابوں میں اس حقیقت کو تسلیم بھی کرتے ہیں ۔

صحت و حسن : Health & Beauty

اس دور کے اسپین میں روزانہ غسل کاکوئی رواج نہ تھا۔  یورپ میں اکثرلوگ تو کئی کئی ہفتے نہیں نہاتے تھے۔زریاب نے اہلِ اسپین کو  دن میں دووقت یعنی صبح اورشام نہانے کے فوائد بتائے۔ زریاب کی اس ترغیب پر شاہی خاندان  اور اُمراء  میں دو وقت نہانے کا رواج چل پڑا۔

اسپین میں لوگ دانتوں کی صفائی پر خاص توجہ نہیں دیتے تھے۔ زریاب نے لوگوں کو سمجھایا کہ وہ اپنے دانتوں کی صفائی  کا خاص اہتمام کریں۔  اس کے ساتھ ساتھ  زریاب نے  مقامی جڑی بوٹیوں کواستعمال کرتے ہوئے  دنیاکاسب سے پہلا”ٹوتھ پیسٹ” بنایا۔  اس ٹوٹھ پیسٹ کے اجزاء کے متعلق تو پتہ نہیں مگر  کتابوں میں اتنا ضرور ملتا ہے کہ یہ خوش ذائقہ اور خوشبودار  بھی تھا۔

 اندلس کے بادشاہ  اور امراء  گلاب اور  دیگر خوشبو دار پھولوں  کو پسوا کر خوشبو کے لیے کپڑوں  پر چھڑک لیا کرتے تھے مگر اس سے کپڑوں  پر دھبے پڑجاتے تھے۔  زریاب نے  خوشبو کو کپڑوں اور جسم میں بسانے کے لیے ایک خاص قسم کا مرکب بنایا۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ زریاب کا تیار کردہ یہ مرکب موجودہ دور کے   پرفیوم اور ڈیوڈرینٹ  کی  ابتدائی شکل تھی  ۔

اس دور میں عورتیں اورمرد ایک خاص عرق سے بال دھوتے تھے اس میں گلاب ملا ہوتاتھا۔ زریاب نے اس عرق میں چند نمکیات اور خوشبودار بوٹیوں  کااضافہ کردیا۔   بال دھونے کے لیے زریاب کے تیار کردہ اس عرق سے بالوں کی صفائی  بھی ہوتی تھی اور مضبوط بھی ہوجاتے تھے۔ یوں کہہ لیجیے کہ یہ آج کے شیمپوکی  ایک قدیمشکلتھی۔

کپڑوں  سے غلاضت اور عفونت کو دور کرنے  کے لیے  زریاب نے واشنگ پاؤڈر  تیار  کیا۔ اس کے استعمال  سے  میلے کپڑے نہایت صاف ہوجاتے تھے۔ اس کی ترکیب کی بہت تعریف کی گئی۔

اندلس کے عوام زریاب کی جدّت طبع سے بےحد متاثر تھے۔ وضع دارانہ زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی بات میں  بھی زریاب  کو ایک اعلیٰ نمونہ قرار دیا جاتا تھا۔

طرزِ تعمیر:       Architecture

  نویں  صدی  میں   یورپ  کے اکثر مکانات  کچھ اس طرح تعمیر ہوتے تھے کہ کمرے میں صرف ایک دروازہ ہوتا تھا۔ ہوا اور روشنی کے گزرنے کا کوئی تصور نہ تھا۔  زریاب نے اس طرزِ تعمیر میں  تبدیلی کروائی۔ اس نے  اہلِ اسپین کو  ہوا اور روشنی کے لیے کمروں  میں  بڑے  اور کشادہ روشن دانوں  کا تصور دیا۔

متفرق:

زریاب نے  کئی پودوں  اور بوٹیوں  کے طبی خواص بھی  بتائے اور انہیں استعمال کرنے کے مختلف طریقوں  سے آگاہ کیا۔زریاب نے موسیقی کا اسکول ، بیوٹی پارلر اور ریسٹورنٹ بھی تعمیر کیے ۔

جس طرح  ہم جانتے ہیں کہ ابن الہیشم اور الفارابی نے فزکس، جابر بن حیان نے کیمیا، الاصمعی نے بائیولوجی، الرازی اور الزہراوی نے طب،  ابن خلدون اور البیرونی نے تاریخ، المسعودی الادریسی نے  جغرافیہ  ،  الجاحظ اورالغزالی نے فلسفہ،  ابن رشد  اور طوسی نے علم ہیئت و فلکیات اور الکندی اور خوارزمی نے ریاضی و الجبراء  کا علم دنیا کو دیا،  اور ان کے کارناموں کو مغرب نے ہاتھوں ہاتھ اپنایا، اسی طرح زریاب نے   بھی فن ِ موسیقی کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ  اچھی طرزمعاشرت اور  صحت بخش رہن سہن کے   اعلیٰ تصورات سے آشنا کیا۔

آج بھی دنیا کے ہرگھرمیں  نویں صدی عیسوی کے اس سیاہ فام  موسیقار ، فیشن ڈیزائنر، اسٹائل ٹرینڈر اور طباخ(شیف)  زریاب کے ذہن اورتجربے سے گندھی ہوئی کوئی نہ کوئی چیزاستعمال ہورہی ہوگی۔

***

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

درخت ماحول کے محافظ

بے قابو ہوتے موسموں کے جن کو ماحول دوست درختوں کی مدد سے قابو میں …