صفحہ اول / علم و معرفت / روحانی سائنس / صدائے جرس ۔ جنوری 2016ء

صدائے جرس ۔ جنوری 2016ء

sadaejars
ہر  آدمی چاہتا ہے کہ وہ خوش رہے، صحت مند رہے، اسے کسی قسم کی تکلیف نہ ہو. ہر شخص کہتا ہے کہ میں خوش رہنا چاہتا ہوں۔ ہر دوسرا آدمی  تلقین کرتا ہے کہ خوش رہا کرو۔ آدمی کوئی چیز ساتھ نہیں لے جاتا۔ آدمی کپڑے پہنے ہوئے پیدا نہیں ہوتا۔ مرتا ہے تو کپڑے اتار لیے جاتے ہیں۔زندگی کا فلسفہ یہ ہے کہ آدمی پیدا ہوتا ہے تو اپنے ساتھ کچھ نہیں لاتا اور مرتا ہے تو اپنے ساتھ کچھ نہیں لے جاتا۔

زندگی میں کوئی اختیار نہیں ہے لیکن ہر آدمی خود کو با اختیار سمجھتا ہے۔ اختیار نہیں ہے تو خوش کیسے رہے گا۔ اختیار ہے تو نا خوش کیوں  ہوتا ہے..؟ جو شخص کہتا ہے کہ خوش رہا کرو، اُس سے قریب ہونے پر معلوم ہوتا ہے وہ تو ہم سب سے زیادہ غمگین ہے..

دنیا میں کوئی عمل دو رُخوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ آدمی اگر خوش رہے گا تو نا خوش بھی رہے گا۔

یہ سب الفاظ کا ہیر پھیر ہے۔ لفظوں کا گورکھ دھندا ہے۔ اصل صورتحال یہ ہے کہ آدمی خوش رہنے سے واقف ہے اور نہ اسے یہ معلوم ہے کہ غم کیا ہے….؟

اسے پانی کی ضرورت ہے پانی ہر جگہ موجود ہے۔ سردی، گرمی سے بچنے کے لیے بنیادی ضرورت مکان ہے۔ مکان بنانے کے لیے زمین پہلے سے موجود ہے۔ زمین نہ ہو تو مکان تعمیر نہیں  ہوں گے۔ زندگی کے لیے بنیادی ضروریات آدمی کی پیدائش سے پہلے اور آدمی کے مرنے کے بعد بھی موجود رہیں گی۔ ان کے لیے نا خوش ہونا اپنے اوپر ظلم  ہے اور ظلم ہی نا خوشی ہے۔   زندگی میں کام آنے والی بنیادی چیزیں اللہ تعالیٰ نے اس طرح فراہم کردی ہیں کہ انسان چاہے نہ چاہے وہ چیزیں اس کو ملتی رہتی ہیں۔

دوستو! غور کیجیے! اللہ تعالیٰ زمین نہ بناتے، گیہوں کا دانہ تخلیق نہ ہوتا۔ چاول بیج نہ بنتا۔ دھوپ نہ نکلتی تو کیا انسانی غذائی ضروریات پوری ہوجاتیں….؟   اللہ تعالیٰ چوپائے اور پرندے پیدا نہ کرتے تو گوشت کھانے کو کہاں سے ملتا….؟  ہم دودھ کہاں سے پیتے….؟

انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر کی مشینری پر تفکر کرے۔ انسانی مشین چلانے میں آدمی کیا کردار ادا کرتا ہے….؟ اقتدار کی خواہش انسان کے اندر اس وقت ہوتی ہے جب اس کے اندر کی مشینری چلتی رہے۔ دل دھڑکتا رہے۔ آنتیں چلتی رہیں۔ گُردے کام کرتے رہیں۔ دماغ سگنل وصول کرتا رہے۔ دماغی سیلز اعصاب کو متحرک رکھیں۔ آنکھ دیکھتی رہے ڈیلے حرکت کرتے رہیں۔ پلک جھپکتی رہے۔ دماغ پر عکس منعکس ہوتا رہے ۔ دماغ اطلاعات فراہم کرتا رہے۔ ہمارے اندر بصیرت ہو، عقل بھی ہو لیکن آنکھ نہ ہو تو آدمی دیکھ نہیں سکتا۔ دل نہ ہو تو حرکت کا وجود معدوم ہوجائے گا۔ انسانوں کا آنا زمین پر ابھی موقوف نہیں ہوا۔…عالمِ ارواح سے قافلہ چل پڑا ہے اسے دنیا سے گزرنا ہے۔ اس لیے یہاں وسائل فراہم کردیے گئے ہیں۔

جو چیز موجود ہے اس کے لیے خود کو محدود کرلینا نادانی ہے۔ وسائل کی قدر و قیمت اس حد تک ہو کہ وسائل استعمال کے لیے بنائے گئے ہیں، تو آدمی خوش رہتا ہے اور جب کوئی انسان وسائل کی قیمت اتنی لگا دیتا ہے کہ اس کی اپنی قیمت کم ہوجائے تو آدمی نا خوش ہوجاتا ہے۔  انسان دنیا والوں سے توقعات قائم کرلیتا ہے تو اس کے اوپر خوشی اور غم اس لیے مسلط ہوجاتے ہیں کہ جس سے توقعات قائم کی گئی ہیں۔ وہ خود محتاج، عاجز و لاچار ہے۔ جو انسان خود وسائل کا محتاج ہے وہ دوسروں کو کیا دے سکتا ہے….؟

یہ کیسی نادانی ہے کہ بیس سال کا آدمی اکیسویں سال میں داخل ہونے کے لیے پریشان ہے، لیکن وہ یہ نہیں سوچتا کہ پیدائش کے پہلے دن سے  اب  تک اللہ نے ہر ہر طرح میری کفالت کی ہے۔ میں بھوکا نہیں رہا۔ ننگا نہیں رہا۔ ایک تھا ایک سے دو ہوا۔ دو سے آٹھ ہوئے۔ بچوں کی شادیاں کیں۔ بچوں کے بچے ہوئے۔ انسان اپنے ماضی پر کبھی غور نہیں کرتا کہ میں کس طرح پیدا ہوا۔ کس طرح میری پرورش ہوئی۔ بچے ہوئے، بچوں کے بچے ہوئے۔ پیدا ہوا تو میرے پاس جھونپڑی نہیں تھی اور اب میں ساٹھ سال کا ہوں۔ روزگار اور میرے تمام بچوں کے پاس الگ زندگی گزارنے کی تمام سہولتیں موجود ہیں۔

یہ خیال کیوں نہیں آتا….؟ اس لیے نہیں آتا کہ آدمی ذات کے خول میں بند ہے۔ انسان مستقبل کے بارے میں تو سوچتا ہے لیکن گزرے ہوئے زمانے کو یاد نہیں کرتا۔ روحانی نقطۂ نظر سے زندگی انسان کی ہو، سیارو ں کی ہو، سورج یا چاند کی ہو یا درخت کی ہو یا کسی اور کی ہو….ماضی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ جب کوئی قوم ماضی سے اپنا رشتہ توڑ لیتی ہے اور اسلاف کے نقوش قدم پر پیرا ہو کر اپنی حالت سنبھالنے کے لیے عملی اقدام نہیں کرتی…. کوشش، حرکت، عمل اس کی زندگی سے نکل جاتے ہیں تو ایسی قومیں زمین سے نیست و نابود ہوجاتی ہیں۔ جو قومیں ماضی سے اپنا رشتہ مستحکم رکھتی ہیں اور اسلاف کے کارناموں کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا کر عمل کرتی ہیں وہ عروج و ترقی کے محلات تعمیر کرتی ہیں۔

 اگر انسان فی الواقع خوش رہنا چاہتا ہے تو روزانہ ماضی کو یاد کرے اور حساب لگائے کہ اللہ نے پچاس ساٹھ سالہ زندگی میں کتنی نعمتیں عطا کی ہیں۔ انسان اپنے جیسے انسانوں سے توقعات توڑ کر اللہ سے توقعات قائم کر کے جدوجہد کرے تو محدودیت سے نکل جاتا ہے۔ وہ ایسے لا محدود دائرے میں محفوظ ہوجاتا ہے جہاں خوف اور غم نہیں ہے۔

خوشی ایک فطری عمل ہے….جبکہ نا خوش ہونا اور غمگین  ہونا غیر فطری عمل ہے۔

نا خوش انسان خود اپنے آپ سے دور ہوجاتا ہے جبکہ خوش رہنے والا انسان اپنی ذات میں انجمن ہوتا ہے….اور دوسرے لوگ بھی اس کے گرویدہ ہوجاتے ہیں….

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

تعارف: خواجہ شمس الدین عظیمی

سلسلۂ عظیمیہ کے مرشد،روحانی اسکالرخواجہ شمس الدین عظیمی، ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ کراچی اور ماہنامہ قلندر شعورکے چیف ایڈیٹر ہیں۔ پاکستان کے مختلف اخبارات اور میگزین میں روحانی ڈاک، خواب کی تعبیر ، قارئین کے مسائل اور پیراسائیکالوجی کے عنوان سے کالم لکھے ۔سیرت طیبہ حضرت محمدمصطفی ﷺ، روحانیت، پیراسائیکالوجی اور دیگر موضوعات پر70کتابیں تصنیف کیں اور60کتابچے تحریر کئے ہیں۔ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی (ملتان)میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی ہیں۔ روحانی علوم کے فروغ اور عوام الناس کے بہبود کے لیے دنیا بھر میں روحانی مراکز اور پاکستان میں اسکول اور کالج ، لائبریریاں اور ہسپتال قائم ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

صدائے جرس ۔ جون 2016ء

رمضان المبارک میں مسلمان محض اللہ تعالیٰ کیلئے بھوکا پیاسا رہتا ہے۔  افطاری تیار کرتا …