صفحہ اول / علم و معرفت / اسلام / صدائے جرس ۔ جون 2016ء

صدائے جرس ۔ جون 2016ء

sadaejarsرمضان المبارک میں مسلمان محض اللہ تعالیٰ کیلئے بھوکا پیاسا رہتا ہے۔  افطاری تیار کرتا ہے کھانوں کی خوشبو سے اشتہاء (خواہش)پیدا ہوتی ہے اس کے باوجود صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے حلال چیز کو بھی استعمال نہیں کرتا۔  روزہ دار اس بات کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرتا ہے کہ ہر اس عمل سے بچےجو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے کیونکہ اس کے ذہن میں یہ بات مسلسل دور کرتی رہتی ہے کہ میں نے ایسا کوئی کام نہیں کرنا  جو روزے کے آداب کے خلاف ہے۔

بے شمار جسمانی فوائد کے ساتھ ساتھ  روزے کا روحانی فائدہ یہ ہے کہ روزے دار کے اندر اللہ تعالیٰ کے نور کا ذخیرہ ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے :

‘‘روزہ کی جزا  میں ہوں۔’’

٭٭٭

پورے آداب کے ساتھ روزے رکھنے سے  روشنیاں روزِ دار میں ذخیرہ ہوجاتی ہیں اور آدمی کی ‘‘روح’’ اللہ سے قرب پانے کے لیے تیار ہونے لگتی ہے اور  روح کی پرواز عالم بالا کی طرف ہوجاتی ہے۔

رمضان المبارک میں دن بھر محض اللہ کیلئے بھوکا پیاسا رہتے ہوئے اور دنیاوی مشاغل سے ‘‘کافی حد’’ تک کنارہ کشی کرتے ہوئے اللہ کی یاد میں یکسو ہوکر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کی برکتوں اور  اللہ تعالیٰ کے    فضل وکرم سے لیلۃالقدر کے انعامات سے فیضیاب ہوجاتا ہے۔

21، 23، 25، 27، 29 رمضان المبارک کی راتوں میں لیلۃ القدر کی بشارت ہے۔

 لیلۃ القدر ایسے حواس ہیں کہ اس رات میں  پورے آداب اور احترامات کے ساتھ روزہ رکھنے والے مرد وخواتین  میں دیکھنے  کی حس اور آواز سُننے کی  ویولینتھ (WAVE LENGHT) 60 ہزار گنا  تک ہوجاتی ہے، اعتکاف کرنے والے  خواتین اور مرد حضرات پر عالم بالا کی رونمائی ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

لیلۃ القدر کیا ہے ،لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور اس رات میں فرشتے  نزول فرماتے ہیں جن کی زیارت اور مشاہدہ ہوتا ہے ۔

آخری نبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے محبوب کا ارشاد ہے:

‘‘لیلۃ القدر میں سعد لوگوں سے حضرت جبرائیل علیہ السلام مصافحہ کرتے ہیں۔’’

(بیہقی، تفسیر ابنِ کثیر)

دنیا کا ہر ذی ہوش آدمی بلکہ ہر مخلوق یہ جانتی ہے کہ اللہ کا نظام رات اور دن پر قائم ہے،رات میں بیداری یعنی شعور کا غلبہ نہیں ہوتا…… لاشعور کا غلبہ ہوتا ہے۔لاشعور میں زمان ومکان (Time & Space)کی حد بندیاں وہ نہیں رہتیں جو شعور کی محدودیت میں ہیں۔

٭٭٭

دین ِ اسلام میں ارکان کی حیثیت انفرادی اور اجتماعی ہے ۔غور وفکر ہمیں یہ آگہی بخشتا ہے کہ اسلام دراصل انفرادی سوچ سے نکل کر اجتماعی سوچ اور فکر کی دعوت دیتا ہے ۔

نماز باجماعت ،جمعہ کی نمازاور عیدین کی نماز یں،زکوٰۃ، حج،اللہ کی عبادت  کے ساتھ ساتھ  اُمت کی اجتماعیت،  اخلاص اور عالمگیر بھائی چارے کی علامتیں بھی ہیں۔

٭٭٭

جولوگ رمضان کے پہلے دو عشرے  پورے آداب کے ساتھ گزارتے ہیں۔ دن میں صوم اور  رات میں قیام  (تراویح) کے ذریعے قرآن سے تعلق بناتے ہیں اور آخری عشرے میں اعتکاف کے ذریعے اللہ کے حضور حاضری کے لیے دنیاوی معاملات سے کنارہ کشی کرتے ہیں۔ دن اور رات   مساجد میں  (خواتین گھر کے کسی کونے میں) اللہ کے ذکر میں اللہ کی یاد میں محو رہتے ہیں۔ ان میں ایک خاص طرح کی ذہنی مرکزیت  قائم ہوجاتی ہے۔ اعتکاف  دراصل ماورائی حواس کی بیداری میں معاونت کرنے والا ایک پروگرام ہے۔

رمضان المبارک  کے شب و روز صوم اور قیام اللیل میں  بسر کرتے ہوئے اور اعتکاف میں اللہ سے تعلق کے لیے ہونے والی ذہنی مرکزیت  سے روزہ دار عابد کی شعوری استعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ بات اس کے ذہن میں راسخ ہونے لگتی ہے کہ دنیا میں سب کچھ  اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ کی طرف ہی لوٹ رہی ہے۔ اعتکاف کی برکتوں سے بندہ مومن مرتبۂ احسان کا اُمید وار بھی بن جاتا ہے۔

روزوں کا حاصل تقویٰ اور بندہ مومن کے لیے رمضان کا انعام اللہ کی رضا اور قربت ہے۔

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

تعارف: خواجہ شمس الدین عظیمی

سلسلۂ عظیمیہ کے مرشد،روحانی اسکالرخواجہ شمس الدین عظیمی، ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ کراچی اور ماہنامہ قلندر شعورکے چیف ایڈیٹر ہیں۔ پاکستان کے مختلف اخبارات اور میگزین میں روحانی ڈاک، خواب کی تعبیر ، قارئین کے مسائل اور پیراسائیکالوجی کے عنوان سے کالم لکھے ۔سیرت طیبہ حضرت محمدمصطفی ﷺ، روحانیت، پیراسائیکالوجی اور دیگر موضوعات پر70کتابیں تصنیف کیں اور60کتابچے تحریر کئے ہیں۔ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی (ملتان)میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی ہیں۔ روحانی علوم کے فروغ اور عوام الناس کے بہبود کے لیے دنیا بھر میں روحانی مراکز اور پاکستان میں اسکول اور کالج ، لائبریریاں اور ہسپتال قائم ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ

را ت کے آخری پہر جہاں خلقت نیند کی وادیوں میں گم تھی۔ تاروں کی …