صفحہ اول / پرسکون زندگی / صحت و تندرستی / صرف ایک منٹ نکالیں

صرف ایک منٹ نکالیں

1Minute01

وقت کتنی جلدی ہاتھ سے پھسل جاتا ہے اور  انسان کو اپنی مصروفیات میں اپنی صحت پر توجہ دینے کا خیال تک نہیں آتا تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق صرف ایک منٹ کے معمولی کام ہی جسمانی حالت بہتر بنانے کے لیے کافی ہیں۔  ضروری نہیں کہ آپ سخت ورزش ہی کریں بلکہ چند دیگر طریقہ کار بھی آپ کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔

مغربی  ماہر صحت  ڈیبورا اینوسDeborah Enos    اور سارا کلین Sarah Klein کی تحریروں  سے انتخاب

صحت مند زندگی  کے لیے صرف  ایک منٹ  نکالیں

بہتر خوراک، روزانہ ورزش اور بہتر اور پوری نیند صحت مند زندگی گزارنے کے لئے ضروری ہے، لیکن جب تھکا دینے والا شیڈول ہمارے رستے میں حائل ہو تو ایسا کرنا مشکل بلکہ ناممکن  لگتا ہے ….  آخر ان چیزوں کے لیے کس کے پاس وقت ہے….؟  لیکن آپ کو یہ سن کر خوشی ہو گی کہ آپ ہر دن کسی طویل ورزشی دورانئےمیں پڑے بغیر اپنی صحت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ آپ کو روز مرہ زندگی سے صرف ایک منٹ اپنی صحت کے لیے خرچ کرنا ہو گا لیکن اس کے نتائج آپ کی صحت کے لیے حیران کن ہوں گے۔

1Minute02گہری سانس لینا

اگر آپ تناو کا شکار ہیں تو ذہن و جسم کو آرام کا احساس دلانے والے اس طریقہ کار کو مت بھولیں یعنی گہری سانس۔ ایک یا دو گہری سانسیں لینے سے آپ کے دل کی دھڑکن کی رفتار کم ہوجاتی ہے اور ایسا کرنے سے بلڈ پریشر کی شرح کو نیچے لانے میں بھی مدد ملتی ہے، جبکہ جسم میں تناؤ کا باعث بننے والے ہارمونز بننے کی رفتار سست پڑجاتیہے۔

1Minute03کسی سے گلے ملنا

کسی پیارے سے گلے ملنے سے زیادہ اچھا اور کیا طریقہ کار ہوسکتا ہے کیونکہ یہ گرمجوش معانقہ ہمیں خوشی کے احساس سے بھر دیتا ہے اور جسم میں سکون کی لہریں دوڑنے لگتی ہیں جبکہ اس کے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جیسے بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کی رفتار کم ہوجانا وغیرہ۔

1Minute04مسکراہٹ

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ جو لوگ زیادہ ہنستے ہیں وہ عام طور پر خوش باش افراد ہوتے ہیں مگر جو لوگ کھل کر مسکراتے ہیں وہ طویل زندگی بھی پاتے ہیں کیونکہ وہ ذہنی تناؤ کا شکار بہت کم ہوتے ہیں اور اس کی وجہ مسکراہٹ ہے جو مشکل حالات میں بھی ذہن کو تناؤ یا مایوسی کا شکار نہیں ہونے دیتی اور چہرے پر مسکراہٹ لانے میں وقت ہی کتنا چاہیئے ہوتا ہے؟

1Minute05کھُل کر  ہنسنا

ہنسی بہترین دوا ہے کیونکہ یہ نہ صرف جسم کو تناؤ سے نجات دلانے کا قدرتی ذریعہ ہے بلکہ اس سے دیگر طبی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں جیسے اگر دل کی دھڑکن کی رفتار تیز ہوگئی ہو یا بلڈپریشر آسمان کو چھو رہا ہو تو ایک منٹ تک ہنسنے سے ہی یہ معمول پر آجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ یادداشت کو بھی بہتر بناتی ہے اور ہنسی کا عمل جسمانی سرگرمی بھی ہے یعنی کچھ کیلوریز بھی جلتی ہیں جس سے موٹاپے سے کسی حد تک تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

1Minute06پْرامید رہنا

مشکل حالات میں بھی روشن رخ کو دیکھنا یا اس کی امید رکھنا صحت مند دل اور امراض کے خلاف طاقتور دفاعی نظام کا باعث بنتا ہے تو اگر کبھی آپ خود کو مشکل میں محسوس کریں تو ایک منٹ کے لیے ان خیالات کو ذہن سےنکال کر امید کے دامن کو تھامکر رکھیں۔

1Minute07ایک منٹ تک کھڑا رہیں

اگر آپ اپنی عمر بڑھانا چاہتے ہیں تو ابھی اُٹھ کر کھڑے ہو جائیں ہم میں سے اکثر لوگ اپنے دن کا زیادہ تر حصہ بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ ذرا ایک سیکنڈ کے لئے اپنے دن بھر کے کام کاج پر غور کریں جو سارا دن آپ نے بیٹھ کر کیا ہے۔مثلاً دفتر میں اپنے ڈیسک پر بیٹھے رہے ہیں ، گاڑی چلاتے رہے ہیں۔ ٹی وی دیکھتے رہے ہیں اور بیٹھ کر کھانا کھایا وغیرہ اس ضمن میں، مَیں ایک سٹڈی کا حوالہ دوں گا جس کے مطابق وہ لوگ جو اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ ذہنی و نفسیاتی عوارض کا نسبتاً زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ اینوس کے مطابق ایسی عورتیں جو دن بھر 10گھنٹے سے زیادہ کا عرصہ بیٹھ کر گزارتی ہیں ان لوگوں کی نسبت جو پانچ چھ گھنٹے بیٹھ کر گزارتے ہیں عارضہ قلب میں زیادہ  مبتلا ہو جاتی ہیں۔ جب آپ کے ذہن میں کھڑا ہونے کا خیال آئے تو صرف ایک منٹ کے لئے کھڑا ہونا، عام وقت کے مقابلے میں آپ کی صحت کے لئے زیادہ اہم اور مفید ہے۔ امریکن کینسر سوسائٹی کے ایک سروے کے مطابق ایسی عورتیں جو روزانہ چھ گھنٹے سے زائد بیٹھی رہتی ہیں ان میں کم وقت بیٹھی رہنے والی عورتوں کی نسبت 34فیصد شرح اموات زیادہ ہے۔ اینوس کے بقول چھ گھنٹے بیٹھنے رہنے والے مرد حضرات چھ گھنٹے سے کم بیٹھے رہنے والے مردوں سے 17فیصد زائد شرحاموات رکھتے ہیں۔

کہنی کے بل زمین پر لیٹنا

1Minute08روزانہ صرف ایک منٹ کے لیے اپنی دونوں کہنیاں زمین پر ٹکا کر پش اپ کے پوز میں رہنا کوئی مشکل کام نہیں اور یہ مشق آپ کے پیٹ کے عضلات کو مضبوط بناتی ہے اور کمر درد سے نجات ملتی ہے جبکہ دیگر کئی امراض کے لیے مفید ہونے کے ساتھ یہ عام اوقات میں کمر کو سیدھا رکھ کر بیٹھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

1Minute09کمپیوٹر اسکرین سے نظر ہٹا لینا

اگر آپ ڈیسک جاب کرتے ہیں یا ٹیکنالوجی کے دیوانے ہیں تو آپ یقیناً اپنا زیادہ وقت کمپیوٹر اسکرینز کے سامنے گزارتے ہوں گے مگر جو وقت آپ اسکرین پر نظریں جماتے ہوئے گزارتے ہیں وہ ذہن کے لیے کافی تناو اور آنکھوں کے امراض کا باعث بنتا ہے تو ان حالات میں آپ کو ہر بیس منٹ بعد کمپیوٹر سے نظریں ہٹا کر خود سے بیس فٹ دور موجود کسی چیز کو محض بیس سیکنڈ تک دیکھنا چاہئے اور اس کا فائدہ آپ کو حیران کرکے رکھ دے گا۔

1Minute11ہاتھوں کو دھونا

اس کام میں بمشکل ہی بیس سیکنڈ لگتے ہیں اور اس کی اہمیت کا آپ اندازہ تک نہیں کرسکتے۔ درحقیقت ہاتھوں کی مناسب صفائی لوگوں کے اندر ہیضے کا خطرہ 31 فیصد اور فلو و سرد موسم میں لاحق ہونے والے امراض کا امکان 21 فیصد تک کم کر دیتی ہے۔

1Minute10دانت برش کریں

ہلکی پھلکی چیزیں کھانے کی طلب ہماری دشمن ہوتی ہے کیونکہ یہ ہمارے کھانا کھانے کی خواہش میں کمی کرتی ہیں آپ سنیکس کھانے کی خواہش کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اپنا پسندیدہ کھانا یا مشروب پینے کے بعد آپ ایک منٹ تک اپنے دانت صاف کیجئے۔ دانت برش کرنے کے بعد ان کا ذائقہ آپ کے  دہن سے ختم ہو جائے گا۔

1Minute12اپنا موڈ تبدیل کیجئے چاکلیٹ کھائیے

آپ جانتے ہیں کہ جو کچھ بھی آپ کھاتے ہیں آپ پر اثر انداز ہوتا ہے اور آپ ویسے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ نے کیسے محسوس کیا۔اس سلسلے میں محققین کہتے ہیں کہ جو لوگ ہلکی پھلکی غذائیں کھاتے ہیں ان میں عام لوگوں کی نسبت ذہنی دباؤ15فیصد کم ہوتا ہے اس میں اینوس نے یہ کہتے ہوئے اضافہ کیا ہے کہ لوگ جتنا کھاتے جاتے ہیں اتنا ہی وہ ڈپریشن کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔ اس سے ہمارے Eating Cycle پر روشنی پڑتی ہے جب ہم اداس ہوتے ہیں تو چپس کے بیگ یا آئس کریم کے کارٹن میں ہمیں تسکین ملتی ہے، تو  اگلی بار ایسی حالت میں اپنے موڈ کو بدلنے کے لئے جنک فوڈ سے خود کو تسکین دینے کی بجائے ایک چاکلیٹ کھا کر اپنا موڈ تبدیل کریں اس سے آپ کے میٹھا کھانے کی خواہش بھی دب جائے گی اور آپ کو اچھا محسوس ہو گا۔ کوکا میں ایک قدرتی جز پایا جاتا ہے جو بلڈپریشر کم کرنے، اچھے کولیسٹرول کی مقدار بڑھانے جبکہ خراب کولیسٹرول کی شرح گرانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور یہ دوران خون کو بھی بہتر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ چاکلیٹ کا محدود مقدار میں استعمال ذیابیطس کو دور بھگاتا ہے اور جلد کی صحت کو برقرار رکھتا ہے۔

1Minute13ایک چمچ السی کے بیج کا استعمال

جب ہمارے معدے میں گڑگڑاہٹ ہوتی ہے تو ہم جو بھی پاس میسر ہوتا ہے کھا لیتے ہیں، جس کا نتیجہ زائد کھانے کی صورت میں نکلتا ہے خصوصاً گھر آنے اور کھانا کھانے کے دوران جب ہماری بھوک عروج پر ہوتی ہے، لیکن اس وقت ہمیں کھانا کھانے کے لئے تیار رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اینوس اس سلسلے میں ہمیں ون منٹ ٹپ دیتی ہے جس کی مدد سے ہم اپنی بھوک اور رات کے مکمل کھانے سے پہلے پیدا ہونے والی ہلکی پھلکی غذا کی خواہش کو لگام دے سکتے ہیں۔ ایسی صورت حال سے نپٹنے کے لئے ایک چمچ السی کے بیج flaxseed کھا لینے سے ہم گھر پہنچنے اور مکمل کھانا کھانے تک انتظار کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں، کیونکہ اس کے بیجوں میں زیادہ فائبر ہوتے ہیں جو فطری طور پر بھوک کو دبانے کا کام کرتے ہیں۔

اپنے ناشتے میں دارچینی کا شامل کرنا

نمک یا چینی کی بجائے دارچینی کو ترجیح دینا موٹاپے سے بچاؤکا انتہائی بہترین طریقہ ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ مصالحہ آپ کو ذیابیطس اور بلڈپریشر سے بھی تحفظ دیتا ہے جبکہ کولیسٹرول بڑھنے کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

وزن کم کرنے کے لیے

وزن کم کرنے اور بہترین صحت کے حصول کیلئے ورزش کامیاب ترین نسخہ ہے لیکن اکثر لوگ وقت کی کمی کا بہانہ بنا کر ورزش سے فرار اختیار کرتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ بہت افسوسناک ہوتا ہے۔ خوش قسمتی سے یونیورسٹی آف میک ماسٹر کے سائنسدانوں نے بہانے باز احباب کیلئے بہت ہی اچھی خبر دے دی ہے جس کے مطابق ہفتے میں صرف ایک  منٹ کی سخت ورزش صحت کے لئے بے پناہ فوائد کی حامل ہوسکتی ہے اور اب کوئی وجہ نہیں کہ کوئی بھی وقت کی کمی کا بہانہ بنا کر ورزش سے جی چرائے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہفتے میں ایک منٹ کی سخت ورزش تین دفعہ کرنی چاہیے لیکن ہرد فعہ جسم کو مناسب طور پر گرم کرنا اور اس کے بعد دھیرے دھیرے نارمل درجہ حرارت پر لانا ضروری ہے۔ تجربات میں شامل افراد نے ورزش کے آغاز میں تقریباً چار منٹ کیلئے ورزشی سائیکل نارمل رفتار سے چلائی تاکہ جسم وارم اپ ہوجائے۔ اس کے بعد 20 سیکنڈ کیلئے بھرپور ترین رفتار سے سائیکل چلائی، چند لمحے کا وقفہ کیا اور پھر 20 سیکنڈ کیلئے سائیکل چلائی، اور پھر چند لمحے وقفہ کے بعد 20 سیکنڈ کیلئے بھرپور رفتار سے سائیکل چلائی۔ یوں کل 60 سیکنڈ کیلئے سخت ورزش کی اور پھر تقریباً چار منٹ کیلئے نارمل رفتار پر ورزشی سائیکل چلا کر جسم کو نارمل درجہ حرارت پر لائے۔ یوں یہ ورزش ہفتے میں دس، دس منٹ کیلئے تین دفعہ کی جائے گی جس میں سے کل تین منٹ سخت ورزش کے ہوں گے۔ ڈیڑھ ماہ کی تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ شرکاءکی قوت برداشت میں 12 فیصد اضافہ ہوچکا تھا اور ان میں دل کی صحت اور بلڈ پریشر کے مسائل بھی واضح طور پر کم ہوچکے تھے، جبکہ ان کے وزن میں بھی کمی ہوچکی تھی۔

پرسکون نیند کے لیے

دنیا کی بڑی آبادی بے خوابی کی شکار ہے اور ایسے افراد نشہ آور ادویات لینے پر مجبور ہوتے ہیں تاکہ چین کی نیند سو سکیں تاہم ماہرین نے ان دواؤں کو صھت کے لئے خطرناک قرار دیا ہے اور ایک ایسا طریقہ متعارف کرا دیا ہے جس سے صرف ایک منٹ میں انسان نیند کی آغوش میں جا سکتے ہیں۔  سائنسدانوں کی جانب سے اس طریقے کو 4، 7 اور 8 سانس کی مشقیں کہا گیا ہے جسے انسان کے اعصابی نظام کے لیے قدرتی سکون آور دوا کہا جا رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ان مشقوں کے لیے سب سے پہلے طریقے میں منہ کے ذریعے پوری سانس ایک زوردار آواز کے ساتھ خارج کریں، دوسرے مرحلے میں منہ بند کرکے ناک کے ذریعے دھیرے دھیرے سانس لیں اور ذہن میں چار تک گنتی گنتے ہوئے سانس لیتے رہیں اس کے بعد سانس روک کر رکھیں اور 7 تک گنتی گنیں اور یہ مدت پوری کرنے کے بعد منہ کے ذریعے پوری سانس خارج کر دیں اور دوبارہ وہی تیز آواز نکالیں۔ اس عمل میں ناک کے ذریعے آہستہ سے سانس لیں اور منہ کے ذریعے زوردار آواز کے ساتھ سانس باہر خارج کریں جبکہ اس پورے عمل میں زبان کی نوک ایک ہی پوزیشن میں رکھیں اور اس عمل کو 3 مرتبہ دوہرائیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ قدیم یوگا تکنیک پرانایاما سے لیا گیا ہے۔ اس عمل سے پھیپھڑوں میں آکسیجن اچھی طرح بھر جاتی ہے اور اعصاب کو آرام دے کر نیند لاتی ہے۔

1Minute14ایک منٹ  کا مراقبہ

  یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی تحقیق کے مطابق جو لوگ جو روزنہ کی بنیاد پر مراقبہ کرتے ہیں ان لوگوں کو  اسٹریس کا سامنا کم رہتا ہے۔تحقیق کار کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس کی وجہ سے ذہنی تناؤ میں کمی آتی ہے جس سے دماغ کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل سست ہوجاتا ہے۔ لفظ مراقبہ سنتے ہیں تو اکثر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ کوئی مشکل مشق  ہے جس میں کسی طرح آپ اپنے من کی کسی اور ہی دنیا میں چلے جاتے ہیں اور  گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں۔   نینسی بٹلر روس اپنی کتاب   Meditation Express میں تحریر کرتی ہیں کہ مراقبہ آپ کی سوچ سے زیادہ آسان ہے۔       مراقبہ  صرف ایک منٹ  میں بھی ممکن ہے ، اسے وہ ایکسپریس انداز   کا مراقبہ کہتی ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ  مراقبہ اپنی سوچ کو ایک خاص شئے پر مرکوز کرنے کا نام ہے ،    اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا جائے، اپنی آنکھوں کو بند کی  جائیں ،  اپنے ذہن کو پرسکون رکھتے ہوئے تمام فکروں سے آزاد  اور خیالات سے خالی کردیا جائے ۔ بس یہی ایک منٹ کا مراقبہ ہے۔    ایک  منٹ روزانہ کا یہ مراقبہ آپ کو ملٹی ٹاسکنگ یا ایک وقت میں کئی کام کرنے کی عادت کے منفی نتائج سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس سے ذہنی تناؤ اسٹریس بھی کم اور خوشی کا احساس بڑھتا ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

درخت ماحول کے محافظ

بے قابو ہوتے موسموں کے جن کو ماحول دوست درختوں کی مدد سے قابو میں …