عید گاہ

eid-gah
اردو کے عظیم ادیب منشی پریم چند کا ایک شاہکار اور فکر انگیز افسانہ

رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد آج عید آئی ہے، کتنی سہانی اور رنگین صبح ہے ،بچے کی طرح پُر تبسم درختوں پر کچھ عجیب ہریا ول ہے ، کھیتوں میں کچھ عجیب رونق ہے ۔ آسمان پر کچھ عجیب فضا ہے ۔ آج کا آفتاب کتنا پیار اہے گویا دنیا کو عید کی خوشی پر مبارک باد دے رہا ہے ۔ گائوں میں کتنی چہل پہل ہے ۔ عید گاہ جانے کی دھوم ہے۔ کسی کے کرتے میں بٹن نہیں ہیں تو سوئی تا گا لینے دوڑ ا جا رہا ہے۔ کسی کے جوتے سخت ہو گئے ہیں اسے تیل اور پانی سے نرم کر رہا ہے ۔ جلدی جلدی بیلوں کو پانی دے دیں، عید گاہ سے لوٹتے لوٹتے دوپہر ہوجائے گی ۔ تین کوس کا پیدل راستہ پھر سینکڑوں رشتے قرابت والوں سے ملنا ملانا ۔ دوپہر سے پہلے لوٹنا غیر ممکن ہے۔ لڑکے سب سے زیادہ خوش ہیں کسی نے ایک روزہ رکھا وہ بھی دوپہر تک، کسی نے وہ بھی نہیں لیکن عید گاہ جانے کی خوشی ان کا حق ہے ۔ روزے بڑے بوڑھوں کے لیے ہوں گے، بچوں کے لیے تو عید ہے، روز عید کا نام رٹتے تھے، آج وہ آگئی اب جلدی پڑی ہوئی ہے کہ عید گاہ کیوں نہیں چلتے ۔ انہیں گھر کی فکروں سے کیا واسطہ۔۔۔۔۔؟ سیویوں کے لیے گھر میں دودھ اور شکر میوے ہیں یا نہیں ۔ اس کی انہیں کیا فکر ۔۔۔۔۔؟ وہ کیا جانیں ابا کیوں بد حواس گائوں کے مہاجن چودھری قاسم علی کے گھر دوڑے جا رہے ہیں۔ ان کی اپنی جیبوں میں تو قارون کا خزانہ رکھا ہواہے ۔ بار بار جیب سے اپنا خزانہ نکال کرگنتے ہیں، دوستوں کو دکھاتے ہیں اور خوش ہو کر رکھ لیتے ہیں۔ ان ہی دو چار پیسوں میں د نیا کی سات نعمتیں لائیں گے، کھلونے، مٹھائیاں ، بگل اور خدا جانے کیا کیا ۔ سب سے زیادہ خوش ہے حامد! وہ چار سال کا غریب صورت بچہ ہے جس کا باپ پچھلے سال ہیضہ کی نذر ہو گیا تھا اور ماں نہ جانے کیوں زرد ہوتی ہوتی ایک دن مر گئی کسی کو پتا نہ چلا کہ بیماری کیا ہے۔۔۔۔۔؟ کہتی کس کو ، کون سننے والاتھا۔۔۔۔۔۔؟دل پر جو گز رتی تھی سہتی تھی اور جب نہ سہا گیا تو دنیا سے رخصت ہو گئی۔ اب حامد اپنی بوڑھی دادی امینہ کی گود میں ہوتا ہے اور اتنا ہی خوش ہے۔ اس کے ابا جان بڑی دور روپے کمانے گئے تھے بہت سی تھلیاں لے کر آئیں گے۔امی جان اللہ میاں کے گھر مٹھائی لینے گئی ہیں اس لیے خاموش ہے ۔ حامد کے پائوں میں جوتے نہیں ہیں، سر پر ایک پرانی دھرانی ٹوپی ہے جس کا گوٹہ سیاہ ہو گیا ہے پھر بھی وہ خوش ہے۔ جب اس کے ابا جان تھیلیاں اور اماں جان نعمتیں لے کر آئیں گی تب وہ دل کے ارما ن نکالے گا۔ تب دیکھے گا کہ محمود، آذر، محسن ، اورسمیع کہاں سے اتنے پیسے لاتے ہیں۔
حامد اندر جا کر امینہ سے کہتا ہے ’’ تم ڈرنا نہیں اماں! میں گائوں والوں کا ساتھ نہ چھوڑوں گا ، بالکل نہ ڈرنا ۔۔۔۔۔‘‘ لیکن امینہ کا دل نہیں مانتا۔ گائوں کے بچے اپنے اپنے باپ کے ساتھ جا رہے ہیں، حامد کیا اکیلا ہی جائے گا۔۔۔۔۔؟ اس بھیڑ بھاڑ میں کہیں کھو جائے تو کیا ہو۔۔۔۔۔۔ نہیں امینہ اسے تنہا نہ جانے دے گی ننھی سی جان تین کوس چلے گا پائوں میں چھالے نہ پڑ جائیں گے۔
مگر وہ ساتھ چلی جائے تو یہاں سیویاں کون پکائے گا، حامد بھوکا پیاسا دوپہر کو لوٹے گا ، کیا اس وقت سیویاں پکانے بیٹھے گی۔۔۔۔۔؟ رونا تو یہ ہے کہ امینہ کے پاس پیسے نہیں ہیں ۔ اس نے فہمین کے کپڑے سیے تھے آٹھ آنے ملے تھے ۔ اس اٹھنی کو ایمان کی طرح بچاتی چلی آئی تھی اس عید کے لیے، لیکن گھر میں پیسے اور نہ تھے اور گوالن کے پیسے اور چڑھ گئے تھے، دینے پڑے۔ حامد کے لیے روز دو پیسے کا دودھ تو لینا پڑتا ہے اب کُل دو آنے بچ رہے ہیں ۔ تین پیسے حامد کی جیب میں اور پانچ امینہ کے بٹوے میں،یہی بساط ہے۔۔۔۔۔ اللہ ہی بیڑا پار کرے۔۔۔۔۔ دھوبن، مہترانی اور نائن بھی تو آئیں گی سب کو سیویاں چاہئیں، کس کس سے منہ چھپائے ۔۔۔۔؟ سال بھر کا تہوار ہے، زندگی خیریت سے رہے ان کی تقدیر بھی تو اس کے ساتھ ہے بچے کو خدا سلامت رکھے یہ دن بھی یوں ہی کٹ جائیںگے۔
گائوں سے لوگ چلے اور حامد بھی بچوں کے ساتھ تھا۔ سب کے سب دوڑ کر نکل جاتے پھر کسی درخت کے نیچے کھڑے ہو کر ساتھ والوں کا انتظار کرتے۔ یہ لوگ کیوں اتنے آہستہ آہستہ چل رہے ہیں۔
شہر کا سرا شروع ہو گیا ۔ سڑک کے دونوں طرف امیروں کے باغ ہیں، پختہ چہار دیواری بنی ہوئی ہے،درختوں میں آم لگے ہوئے ہیں ۔حامد نے ایک کنکری اُٹھا کر ایک آم پر نشانہ لگایا مالی اندر سے گالی دیتا ہوا باہر آیا، بچے ایک فرلانگ پر ہیں خوب ہنس رہے ہیں، مالی کو خوب الو بنایا۔
بڑی بڑی عمارتیں آنے لگیں، یہ عدالت ہے ، یہ مدرسہ ہے ، یہ کلب گھر ہے۔
اتنے بڑے مدرسے میں کتنے سارے لڑکے پڑھتے ہوں گے ۔۔۔۔؟ لڑکے نہیں ہیں جی بڑے بڑے آدمی ہیں سچ ان کی بڑی بڑی مونچھیں ہیں اتنے بڑے ہو گئے اب تک پڑھنے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔؟ آج چھٹی ہے لیکن ایک بار جب پہلے آئے تھے تو بہت سے داڑھی مونچھوں والے لڑکے یہاں کھیل رہے تھے ۔ نہ جانے کب تک پڑھیں گے اور کیا کریں گے اتنا پڑھ کر ۔ گائوں کے دیہاتی مدرسے میں دو تین بڑے بڑے لڑکے ہیں بالکل کوئوں جیسے ، کام سے جی چرانے والے یہ لڑکے بھی اسی طرح کے ہوں گے جی اور کیا نہیں کیا تو اب تک پڑھتے ہوتے تو ۔ وہ کلب گھر ہے، وہاں جادو کا کھیل ہوتا ہے سنا ہے۔ مردوں کی کھوپڑیاں اُڑتی ہیں آدمی کو بے ہوش کر دیتے ہیں پھر اس سے جو کچھ پوچھتے ہیں وہ سب بتلا دیتے ہیں ۔ بڑے بڑے تماشے ہوتے ہیں اور میمیں بھی کھیلتی ہیں ۔ بیٹ گھماتی ہیں، ہماری اماں سے تو کبھی نہ ہو سکے گا۔
محسن نے کہا ’’ ہماری اماں جان تو اسے پکڑ ہی نہ سکیں ہاتھ کانپنے لگیں اللہ تو ۔‘‘
حامد نے اس سے اختلاف کیا ’’چلو!‘‘ منوں آٹا پیس ڈالتی ہیں، ذرا سی بیٹ پکڑ لیں گی تو ہاتھ کانپنے لگے گا۔۔۔۔۔؟ سینکڑوں گھڑے پانی روز نکالتی ہیں کسی میم کو ایک گھر، پانی نکالنا پڑے آنکھوں تلے اندھیرا آجائے۔‘‘
محسن : لیکن دوڑتی تو نہیں ، اچھل کود نہیں سکتیں۔
حامد : کام آپڑتا ہے تو دوڑ بھی لیتی ہیں ابھی اس دن تمہاری گائے کھل گئی تھی اور چودھری کے کھیت میں جا پڑی تھی تو تمہاری اماں ہی تو دوڑ کر اسے بھگا لائی تھیں، کتنی تیزی سے دوڑتی تھیں، ہم تو دونوں ان سے پیچھے رہ گئے۔
پھر آگے چلے، حلوائیوں کی دکانیں شروع ہو گئیں۔ آج خوب سجی ہوئی تھیں،اتنی مٹھائیاں کون کھاتا ہے ۔۔۔۔؟ دیکھو نا ایک ایک دکان پر منوں ہوں گی۔ سنا ہے رات گئے ایک جن ہر ایک دکان پر جاتا ہے ،جتنا مال بچا ہوتا ہے وہ سب خرید لیتا ہے اور سچ مچ کے روپے دیتا ہے بالکل ایسے ہی چاندی کے روپے۔
محمود کو یقین نہ آیا ایسے روپے جنات کو کہاں سے مل جائیں گے ۔
محسن ’’ جنات کو روپوں کی کیا کمی ۔۔۔۔۔؟ جس خزانہ میںچاہے چلے جائیںکوئی انہیں دیکھ نہیں سکتا ، لوہے کے دروازے تک نہیں روک سکتے، جناب آپ ہیں کس خیال میں ہیرے جواہرات ان کے پاس رہتے ہیں جس سے خوش ہو گئے اسے ٹوکروںجواہرات دے دئیے ۔ پانچ منٹ میں کہو کابل پہنچ جائیں ۔ ‘‘
حامد ’’ جنات بہت بڑے ہوتے ہوں گے ۔‘‘
محسن ’’ اور کیا ایک ایک آسمان کے برابر ہوتا ہے۔ زمین پر کھڑا ہوجائے تو اس کا سر آسمان سے جالگے مگر چاہے تو ایک لوٹے میں گھس جائے۔ ‘‘
سمیع ’’ سنا ہے چودھری صاحب کے قبضہ میں بہت سے جنات ہیں، کوئی چیز چوری ہوجائے چودھری صاحب اس کا پتا بتا دیں گے اور چور کا نام تک بتا دیں گے ۔ جمعراتی کا بچھڑ ا اس دن کھو گیا تھا ۔ تین دن حیران ہوئے کہیں نہ ملا تب جھک ما کر چودھری کے پاس گئے چودھری نے کہا مویشی خانہ میں ہے اور وہیں ملا، جنات آکر انہیں سب خبریں دے جایا کرتے ہیں۔ ‘‘
اب ہر ایک کی سمجھ میں آگیا کہ چودھری قاسم علی کے پاس کیوں اس قدر دولت ہے اور کیوں وہ قرب و جوار کے مواضعات کے مہاجن ہیں۔۔۔۔۔۔؟ جنات آکر انہیں روپے دے جاتے ہیں ۔ آگے چلیے یہ پولیس لائن ہے، یہاں پولیس والے قواعد کرتے ہیںرائٹ لپ ، پھام پھو۔
نوری نے تصیح کی ’’ یہاں پولیس والے پہرہ دیتے ہیں جب ہی تو انہیں خبر ہے ۔ اجی حضرت یہ لوگ چوریاں کراتے ہیں شہر کے جتنے چور ڈاکو ہیں سب ان سے ملے رہتے ہیں۔ رات کو سب ایک محلہ میں چوروں سے کہتے ہیں اور دور سے محلہ میں پکارتے ہیں جاگتے رہو ۔ میرے ماموں صاحب ایک تھانہ میں سپاہی ہیں بیس روپے مہینہ پاتے ہیں لیکن تھیلیاں بھر بھر کر گھر بھیجتے ہیں ۔ میں نے ایک بار پوچھا تھا ماموں اتنے روپے کہاں سے آتے ہیں ، انہوں نے بتایا تھا کہ چاہیں تو ایک دن میں لاکھوں مار لائیں لیکن اتنا ہی لیتے ہیں جس میں اپنی بدنامی نہ ہو اور نوکری بنی رہے۔ ‘‘
حامد نے تعجب سے پوچھا ’’ یہ چوری کراتے ہیں تو انہیں کوئی پکڑتا نہیں ۔ ‘‘
نوری نے اس کی کوتاہ فہمی پر رحم کھا کر کہا ’’ ارے حامد انہیں کون پکڑے۔ پکڑنے والے تو یہ خود ہیں لیکن اللہ انہیں سزا بھی خوب دیتا ہے۔ تھوڑے دن ہوئے ماموں کے گھر میںآگ لگ گئی سار ا مال متاع جل گیا ، ایک برتن تک نہ بچا کئی دن تک درخت کے سائے کے نیچے سوئے ، اللہ قسم پھر نہ جانے کہاں سے قرض لائے تو برتن بھانڈ ے آئے۔ ‘‘
بستی گھنی ہونے لگی، عید گاہ جانے والوں کے مجمع نظر آنے لگے۔ ایک سے ایک رزق برق پوشاک پہنے ہوئے۔ کوئی تانگے پر سوار، کوئی موٹر پر چلتے تھے تو کپڑوں سے عطر کی خوشبو آئی تھی ۔
دہقانوں کی یہ مختصر سی ٹولی اپنی بے سروسا مانی سے بے حس اپنی خستہ حالی میں مگر صابر و شاکر چلی جاتی تھی ۔ جس چیز کی طرف تاکتے، تاکتے رہ جاتے اور پیچھے سے بار بار ہارن کی آواز ہونے پر بھی خبر نہ ہوتی تھی ۔ محسن تو موٹر کے نیچے آتے جاتے بچا۔
وہ عید گاہ نظر آ ئی، جماعت شروع ہوگئی اور املی کے گھنے درختوں کا سایہ ہے ۔ نیچے کھلا ہوا پختہ فرش ہے۔ جس پر جاجم بچھا ہوا ہے اور نمازیوں کی قطاریں ایک کے پیچھے دوسرے ، خدا جانے کہاں تک چلی گئی ہیں جو آتے جاتے ہیں پیچھے کھڑے ہوتے جاتے ہیں۔ آگے اب جگہ نہیں رہی یہاں کوئی رتبہ اور عہد ہ نہیں دیکھتا۔ اسلام کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ دہقانوں نے بھی وضو کیا اور جماعت میں شامل ہو گئے۔ کتنی باقاعدہ منظم جماعت ہے ، لاکھوں آدمی ایک ساتھ جھکتے ہیں ایک ساتھ دوزانو بیٹھ جاتے ہیں اور یہ عمل بار بار ہوتا ہے۔ ایسامعلوم ہو رہاہے گویابجلی کی لاکھوں بتیاں ایک ساتھ روشن ہوجائیں اور ایک ساتھ بجھ جائیں۔ کتنا پُر احترام رعب انگیز نظارہ ہے جس کی ہم آہنگی اور وسعت اور تعداد دلوں پر ایک وجدانی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ گویا اخوت کا رشتہ ان تمام روحوں کو منسلک کیے ہوئے ہے ۔
نماز ختم ہو گئی ہے۔ لوگ باہم گلے مل رہے ہیں ۔ کچھ لوگ محتاجوں اور سائلوں کو خیرات کر رہے ہیں جو آج یہاں ہزاروں جمع ہو گئے ہیں۔ ہمارے دہقانوں نے مٹھائی اور کھلونوں کی دکان پر یورش کی۔ بوڑھے بھی ان دلچسپیوں میں بچوں سے کم نہیں ہیں ۔ یہ دیکھو ہنڈ ولا ہے ایک پیسہ دے کر آسمان پر جاتے معلوم ہوں گے کبھی زمین پر گرتے ۔ یہ چرخی ہے، لکڑی کے گھوڑے ، اونٹ ، ہاتھی منجوں سے لٹکے ہوئے ہیں، ایک پیسہ دے کر بیٹھ جائو اور پچیس چکروں کا مزہ لو ۔ محمود اور محسن دونوں ہنڈولے پر بیٹھے ہیں حامد دور کھڑا ہے۔ تین ہی پیسے تو اس کے پاس ہیں، ذرا سا چکر کھانے کے لیے وہ اپنے خزانہ کا ثلث نہیں صر ف کر سکتا ۔ محسن کا باپ بار بار اسے چرخی پر بلاتا ہے ۔ لیکن وہ راضی نہیں ہوتا ۔ بوڑھے کہتے ہیں اس لڑکے میں ابھی سے اپنا پرایا آگیا ہے ۔ حامد سوچتا ہے کیوں کسی کا احسان لوں، عسرت نے اسے ضرورت سے زیادہ زکی الحس بنا دیاہے ۔سب لوگ چرخی سے اُترتے ہیں۔ کھلونوں کی خرید شرو ع ہوتی ہے سپاہی اور گجریا اور راجہ رانی اور وکیل اور دھوبی اور بہشتی بے امتیاز ران سے ران ملائے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ دھوبی راجا رانی کی بغل میں ہے اور بہشتی وکیل صاحب کی بغل میں ۔ واہ کتنے خوبصورت ہیں بولا ہی چاہتے ہیں ۔ محمود سپاہی پر لٹو ہوجاتا ہے ، خاکی وردی اور پگڑی لال ، کندھے پر بندوق معلوم ہوتا ہے ابھی قواعد کے لیے چلا آرہاہے ۔ محسن کو بہشتی پسند آیا۔ کمر جھکی ہوئی ہے اس پر مشک کا دھانہ ایک ہاتھ میں پکڑے ہوئے ہے، دوسرے ہاتھ میں رسی ہے ،کتنا بشاش چہرہ ہے شاید کوئی گیت گا رہا ہے، مشک سے پانی ٹپکتا ہوا معلوم ہوتا ہے ۔ نوری کو وکیل سے مناسبت ہے، کتنی عالمانہ صورت ہے سیاہ چغہ نیچے سفید اچکن، اچکن کے سینہ کی جیب میں سنہری زنجیر ، ایک ہاتھ میں قانون کی کتاب لیے ہوئے ہے، معلوم ہوتا ہے ابھی کسی عدالت سے جرح یا بحث کرکے چلے آرہے ہیں ۔یہ سب دو دو پیسے کے کھلونے ہیں۔ حامد کے پاس کل تین پیسے ہیں اگر دو کا ایک کھلونا لے لے تو پھر اور کیا لے گا ۔ نہیں کھلونے فضول ہیں ہاتھ سے گر پڑ ے تو چور چور ہوجائے، ذرا سا پانی پڑ جائے، تو سارا رنگ دھل جائے، ان کھلونوں کو لے کر وہ کیا کر ے گا۔۔۔۔۔؟ کس مصرف کے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟
محسن کہتا ہے ’’ میرا بہشتی روز پانی دے جائے گا صبح و شام ۔ ‘‘
محمود ’’ اور میرا سپاہی گھر کا پہرہ دے گا کوئی چور آئے گا تو فوراً بندوق سے فائر کر دے گا ۔ ‘ـ‘
نوری ’’ اور میرا وکیل روز مقدمے لڑے گا اور روز روپے لائے گا۔ ‘‘
حامد کھلونوں کی مذمت کرتا ہے ،مٹی کے ہی ہیں گریں تو چکنا چور ہوجائیں، لیکن ہر چیز کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ذرا دیر کے لیے انہیں ہاتھ میں لے سکتا۔ یہ بساطی کی دکان ہے، طرح طرح کی ضروری چیزیں ایک چادر پر بچھی ہوئی ہے ، گیند ، سیٹیاں ، بگل ، بھنورے ، ربڑ کے کھلونے اور ہزاروں چیزیں ۔ محسن ایک سیٹی لیتا ہے محمود گیند، نوری ربڑ کابت جو چوں چوں کرتا ہے اور سمیع ایک خنجری، اسے وہ بجا بجا کر گائے گا ۔ حامد کھڑا ہر ایک کو حسرت سے دیکھ رہا ہے جب اس کا رفیق کوئی چیز خرید لیتا ہے تو وہ بڑے اشتیاق سے ایک بار اسے ہاتھ میں لے کر دیکھنے لگتا ہے لیکن لڑکے اتنے دوست نواز نہیں ہوتے خاص کر جب کہ ابھی دلچسپی تازہ ہے بے چارہ یوں ہی مایوس ہو کر رہ جاتاہے ۔
کھلونو ں کے بعد مٹھائیوں کا نمبر آیا کسی نے ریوڑیاں لی ہیں، کسی نے گلاب جامن، کسی نے سوہن حلوہ اور مزے سے کھارہے ہیں۔ حامد برادری سے خارج ہے ، کمبخت کی جیب میں تین پیسے تو ہیں کیوں نہیں کچھ لے کر کھاتا، حریص نگاہوں سے سب کی طرف دیکھتا ہے ۔
محسن نے کہا ’’ حامد یہ ریوڑی لے جا کتنی خوشبو دار ہیں۔۔۔۔۔؟‘‘
حامد سمجھ گیا یہ محض شرارت ہے محسن اتنا فیاض طبع نہ تھا، پھر بھی وہ اس کے پاس گیا، محسن نے دو نے سے دو تین ریوڑیاں نکالیں، حامد کی طرف بڑھائیں، حامد نے ہاتھ پھیلایا، محسن نے ہاتھ کھینچ لیا اور ریوڑیاں اپنے منہ میں رکھ لیں محمود ، نوری اور سمیع خوب تالیاں بجا بجا کر ہنسنے لگے۔ حامد کھسیانہ ہو گیا محسن نے کہا ’’ اچھا اب ضروردیں گے، یہ لے جائو اللہ قسم ۔ ‘‘
حامد نے کہا ۔ ’’ رکھیے رکھیے ،کیا میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔۔۔۔؟‘‘
سمیع بولا ’’ تین ہی پیسے تو ہیں کیا کیا لو گے ۔۔۔؟‘‘
محمود ’’ تم اس سے مت بولو، حامد میرے پاس آئو، یہ گلاب جامن لے لو۔ ‘ ‘
حامد ’’ مٹھائی کون سی بڑی نعمت ہے، کتاب میں اس کی برائیاں لکھی ہیں۔ ‘‘
محسن ’’ لیکن جی میں کہہ رہے ہو گے کہ کچھ مل جائے تو کھالیں ۔ اپنے پیسے کیوں نہیں نکالتے۔ ‘‘
محمود ’ ’ اس کی ہوشیاری میں سمجھتا ہوں جب ہمار ے سارے پیسے خر چ ہوجائیں گے تب یہ مٹھائی لے گا اور ہمیں چڑا چڑا کر کھائے گا۔ ‘‘
حلوائیوں کی دکانوں کے آگے کچھ دکانیں لو ہے کی چیزوں کی تھیں، کچھ گلٹ اور ملمع کے زیورات کی۔ لڑکوں کے لیے یہاں دلچسپی کا کوئی سامان نہ تھا۔ حامد لوہے کی دکان پر ایک لمحہ کے لیے رک گیا ، دست پناہ رکھے ہوئے تھے ، وہ دست پناہ خریدے گا۔ امّاں کے پاس دست پناہ نہیں ہے ، توے سے روٹیاں اُتارتی ہیں تو ہاتھ جل جاتا ہے اگر وہ دست پناہ لے جا کر اماں کو دے دے تو وہ کتنی خوش ہوںگی ۔ پھر ان کی انگلیاں کبھی نہیں جلیں گی ، گھر میں ایک کام کی چیز ہوجائے گی۔ کھلونوں سے کیا فائدہ مفت میں پیسے خراب ہوتے ہیں۔ ذرا دیر ہی خوشی ہوتی ہے۔ پھر تو انہیں کوئی آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا یا تو گھر پہنچتے پہنچتے ٹوٹ پھوٹ کر برباد ہوجائیں گے یا چھوٹے بچے جو عید گاہ نہیں جا سکتے ضد کرکے لے لیں گے اور توڑ ڈالیں گے ۔ دست پناہ کتنے فائدہ کی چیز ہے روٹیاں تو ے سے اُتار لو، چولہے سے آگ نکال کر دے دو۔ اماں کو فرصت کہاں ہے بازار آئیں۔۔۔۔۔؟ اور اتنے پیسے کہاں ملتے ہیں۔۔۔۔۔۔؟ روز ہاتھ جلا لیتی ہیں ۔ اس کے ساتھی آگے بڑھ گئے ہیں۔ سبیل پر سب کے سب پانی پی رہے ہیں۔ کتنے لالچی ہیں۔ سب نے اتنی مٹھائیاں لیں کسی نے مجھے ایک بھی نہ دی ۔ اس پر کہتے ہیں میرے ساتھ کھیلو، میری تختی دھولا ئو، اب اگر یہاں محسن نے کوئی کام کرنے کو کہا تو خبر لوں گا ، کھائیں مٹھائیاں آپ منہ سڑے گا، پھوڑے پھنسیاں نکلیں گی، آپ ہی زبان چٹوری ہو جائے، تب پیسے چرائیں گے اور مار کھائیں گے میری زبان کیوں خراب ہوگی۔ اس نے پھر سوچا اماں دست پناہ دیکھتے ہی دوڑ کر میرے ہاتھ سے لے لیں گی اور کہیں گی میرا بیٹا اپنی ماں کے لیے دست پناہ لایا ہے۔ ہزاروں دعائیں دیں گی پھر اسے پڑوسیوں کو دکھائیں گی۔ سارے گائوں میں واہ واہ مچ جائے گی ۔ ان لوگوں کے کھلونوں پر کون انہیں دعائیں دے گا ۔ بزرگوں کی دعائیں سیدھی خدا کی بارگاہ میں پہنچتی ہیں اور فوراً قبول ہوتی ہیں۔ میرے پاس بہت سے پیسے نہیں ہیں جب ہی تو محسن اور محمود یوں مزاج دکھاتے ہیں، میں بھی ان کو مزاج دکھائوں گا وہ کھلونے کھیلیں،مٹھائیں کھائیں ،میں غریب سہی کسی سے کچھ مانگنے تو نہیں جاتا۔ آخر ابا کبھی نہ کبھی تو آئیں گے ہی پھر ان لوگوں سے پوچھوں گا کتنے کھلونے لو گے ایک ایک کو ایک ٹوکری دوں اور دکھا دوں کہ دوستوں کے ساتھ اس طرح سلوک کیا جاتا ہے۔ جتنے غریب لڑکے ہیں سب کو اچھے اچھے کرتے دلوادوں گا ، اور کتابیں دے دوں گا ، یہ نہیں کہ ایک پیسہ کی ریوڑیاں لیں تو چڑ ا چڑا کر کھانے لگیں۔
دست پناہ دیکھ کر سب کے سب ہنسیں گے احمق تو ہیں ہی۔ سب۔ اس نے ڈرتے ڈرتے دکاندار سے پوچھا ’’ یہ دست پناہ بیچو گے ۔۔۔۔؟‘‘
دکاندار نے اس کی طرف دیکھا اور ساتھ کوئی آدمی نہ دیکھ کر کہا’’ وہ تمہارے کام کا نہیں ہے ۔‘‘
’’ بکائو ہے یا نہیں ۔۔۔۔؟ـ‘‘
’’ بکائو ہے جی اور یہاں کیوں لاد کر لائے ہیں۔ ‘‘
’’ تو بتلاتے کیوں نہیں کتنے پیسے کا دو گے ۔۔۔۔؟‘‘
’’ چھے پیسے ۔ ‘‘
حامد کا دل بیٹھ گیا کلیجہ مضبوط کرکے بولا ’’ تین پیسے لو گے۔۔۔۔؟ اور آگے بڑھا کہ دکاندار کی جھڑکیاں نہ سنے مگر دکاندار نے جھڑکیاں نہ دیں دست پناہ اس کی طرف بڑھا دیا اور پیسے لے لیے۔
حامد نے دست پناہ کندھے پر رکھ لیا ، گویا بندوق ہے اور شان سے اکڑتا ہوا اپنے رفیقوں کے پاس آیا۔
محسن نے ہنستے ہوئے کہا ’’ یہ دست پناہ لایا ہے ، احمق اس سے کیا کرو گے ۔۔۔۔؟‘‘
حامد نے دست پناہ کو زمین پر پٹک کر کہا ’’ ذرا اپنا بہشتی زمین پر گرادو ساری پسلیاں چو چور ہوجائیں گی بچے کی ۔‘‘
محمود ’’ تو یہ دست پناہ کوئی کھلونا ہے ۔۔۔۔؟‘‘
حامد ’’ کھلونا کیوں نہیں ہے ابھی کندھے پر رکھا بندوق ہوگیا، ہاتھ میں لے لیا فقیر کا چمٹا ہو گیا۔ چاہوں تو اس سے تمہاری ناک پکڑ لوں ، ایک چمٹا دوں تو تم لوگوں کے سارے کھلونوں کی جان نکل جائے تمہارے کھلونے کتنا ہی زور لگائیں اس کا بال بیکا نہیں کر سکتے۔ میرا بہادر شیر ہے یہ دست پناہ۔ ‘‘
سمیع متاثر ہو کر بولا ’’ میری خنجری سے بدلو گے دو آنے کی ہے۔ ‘‘
حامد نے خنجری کی طرف حقارت سے دیکھ کر کہا ’’ میرا دست پناہ چاہے تو تمہاری خنجری کا پیٹ پھاڑ ڈالے ۔ بس ایک چمڑے کی جھلی لگا دی ڈھپ ڈھپ بولنے لگی ذرا سا پانی لگے تو ختم ہوجائے۔ میرا بہادر دست پناہ تو آگ میں، پانی میں ،آندھی میں طوفان میں برابر ڈٹا رہے گا ۔
میلہ بہت دور پیچھے چھوٹ چکا تھا ۔ دس بج رہے تھے گھر پہنچنے کی جلدی تھی، اب دست پناہ نہیں مل سکتا ۔ اب کسی کے پاس پیسے بھی تو نہیں رہے، حامد ہے بڑا ہوشیار اب دو فریق ہو گئے محمود ، محسن اور نوری ایک طرف حامد تنہا دوسری طرف۔ سمیع غیر جانبدار ہے، جس کی فتح دیکھے گا اس کی طرف ہوجائے گا۔ مناظرہ شروع ہوگیا، آج حامد کی زبان بڑی صفائی سے چل رہی ہے ۔اتحاد ثلاثہ اس کے جارحانہ عمل سے پریشان ہو رہا ہے۔ ثلاثہ کے پاس تعداد کی طاقت ہے حامد کے پاس حق اور اخلاق !۔۔۔۔۔۔ ایک طرف مٹی ربڑ اور لکڑی کی چیزیں دوسری جانب اکیلا لوہا جو اس وقت اپنے آپ کو فولاد کہہ رہا ہے وہ صف شکن ہے’’اگر کہیں شیر کی آواز کان میں آجائے تو میاں بہشتی کے اوسان خطا ہوجائیں ۔ میاں سپاہی مٹکی بندوق چھوڑ کر بھاگیں ۔ وکیل صاحب کا سار ا قانون پیٹ میں سما جائے ۔ منہ چھپا کر لیٹ جائیں مگر بہادر ، یہ رستم ہند لپک کر شیر کی گردن پر سوار ہوجائے گا اور اس کی آنکھیں نکال دے گا ۔ ‘‘ حامد نے کہا۔
محسن نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر کہا ’’ اچھا تمہارا دست پناہ پانی تو نہیں بھر سکتا ۔ حامد نے دست پناہ کو سیدھا کرکے کہا کہ’’ یہ بہشتی کو ایک ڈانٹ پلائے گا تو دوڑا ہو پانی لا کر اس کے دروازے پر چھڑ کنے لگے گا جناب اس سے جتنے چاہے گھڑے مٹکے اور کونڈے بھر لو۔ ‘‘
محسن کا ناطقہ بند ہو گیاتو نوری نے کمک پہنچائی ’’ بچہ گرفتار ہو جائیں تو عدالت میں بندھے بندھے پھر یں گے تب تو ہمارے وکیل صاحب ہی پیروی کریں گے، بولیے جناب ۔ ‘‘
حامد کے پاس اس وار کا دفاع اتنا آسان نہ تھا دفعتاً اس نے ذرا مہلت پا جانے کے ارادے سے پوچھا ’’ اسے پکڑنے کون آئے گا ۔۔۔۔؟‘‘
محمود نے کہا ’’ یہ سپاہی بندوق والا ۔ ‘‘
حامد نے منہ چڑا کر کہا’’ یہ بچارے اس رستم ہند کو پکڑ لیں گے ۔۔۔۔؟ اچھا لائو ابھی ذرا مقابلہ ہوجائے اس کی صورت دیکھتے ہی بچہ کی ماں مر جائے گی پکڑیں گے کیا بیچارے۔۔۔۔؟‘‘
محسن نے تازہ دم ہو کر وار کیا ’’ تمہارے دست پناہ کا منہ روز آگ میں جلا کرے گا ۔‘‘
حامد کے پاس جواب تیار تھا ’’ آگ میں بہادر کو دتے ہیں جناب! تمہارے یہ وکیل اور سپاہی اور بہشتی ڈر پورک ہیں سب گھر میں گھس جائیں گے آگ میں کود نا وہ کام ہے جو رستم ہی کر سکتا ہے ۔ ‘‘
نوری نے انتہا ئی جدت سے کام لیا ’’ تمہارا دست پناہ باورچی خانہ میں زمین پر پڑ ا رہے گا میرا وکیل شان سے میز کرسی لگا کر بیٹھے گا۔۔۔۔۔‘‘ اس جملے نے مردوں میں بھی جان ڈال دی سمیع بھی جیت گیا۔ ’’بے شک بڑے معر کے کی بات کہی ،دست پناہ باورچی خانہ میں پڑ ا رہے گا۔ ‘‘
حامد نے دھاندلی کی ’’ میرا دست پناہ باورچی خانہ میں رہے گا وکیل صاحب کرسی پر بیٹھیں گے تو جا کر انہیں زمین پر سے پٹک دے گا اور سارا قانون ان کے پیٹ میں ڈال دے گا۔ ‘‘
اس جواب میں بالکل جان نہ تھی بالکل بے تکی سے بات تھی لیکن قانون پیٹ میں ڈالنے والی بات چھا گئی تینوں سورما تکتے رہ گئے۔ حامد نے میدان جیت لیا ، گوثلاثہ کے پاس ابھی گیند ، سیٹی اور بت ریزرو تھے مگر ان مشین گنوں کے سامنے ان بزدلوں کو کون پوچھتا ہے، دست پناہ رستم ہے اس میںکسی کو چون و چرا کی گنجائش نہیں۔
سب نے تین تین آنے خرچ کیے اور کوئی کام کی چیز نہ لے سکے۔ حامد نے تین ہی پیسوں میں رنگ جما لیا ۔کھلونوں کا کیا اعتبار وہ ایک دن میں ٹوٹ پھوٹ جائیں گے حامد کا دست پناہ تو فاتح رہے گا ہمیشہ۔ اب صلح کی شرطیں طے ہونے لگیں۔
محسن نے کہا ’’ ذرا اپنا چمٹا دو ہم بھی دیکھیں تم چاہو تو ہمارا وکیل دیکھ لو ۔‘‘
حامد بولا ’’ ہمیں اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔۔‘‘وہ فیاض طبع فاتح ہے دست پناہ باری باری سے محمود، محسن، نوری اور سمیع سب کے ہاتھوں میں گیا اور ان کے کھلونے باری باری حامدکے ہاتھ میں آئے کتنے خوبصورت کھلونے ہیں! معلوم ہوتا ہے بولا ہی چاہتے ہیں مگر ان کھلونوں کے لیے انہیں دعا کون دے گا ۔۔۔۔؟ کون کون ان کھلونوں کو دیکھ کر اتنا خوش ہوگا جتنا اماں جان دست پناہ کو دیکھ کر ہوں گی ۔ اسے اپنے طرز عمل پر مطلق پچھتاوا نہیں ہے پھر اب تو دست پناہ تو سب کا بادشاہ ہے ۔ راستے میں محمود نے ایک پیسے کی ککڑیاں لیں اس میں حامد کو بھی خراج ملا حالانکہ وہ انکار کرتا رہا۔ محسن اور سمیع نے ایک ایک پیسے کے فالسے لیے حامد کو خراج ملا یہ سب رستم ہند کی برکت تھی۔
گیارہ بجے سارے گائوں میں چہل پہل ہوگئی ۔میلے والے آگئے ۔محسن کی چھوٹی بہن نے دوڑ کر بہشتی اس کے ہاتھ سے چھین لیا اور مارے خوشی کے جو اچھلی تو میاں بخشی نیچے آرہے اور عالم جادوانی کو سدھارے ۔ اس پر بھائی بہن میں مار پیٹ ہوئی۔ دونوں خوب روئے ان کی اماں جان یہ کہرام سن کر اور بگڑیں دونوں کو اوپر سے دو دو چانٹے رسید کیے ۔ میاں نوری کے وکیل صاحب کا حشر اس سے بھی بدتر ہوا۔ وکیل زمین پر یا طاق پر تو نہیں بیٹھ سکتا۔ اس کی پوزیشن کا لحاظ کرنا یہ ہوگا ،دیوار میں دو کھونٹیاں گاڑی گئیں، ان پر چیڑ کا ایک پرانا ٹکڑا رکھا گیا، اس پر سرخ رنگ کا ایک چیتھڑا بچھا دیا گیا۔ وکیل صاحب عالم بالا پہ جلوہ افروز ہوئے۔ یہیں سے قانونی بحث کریں گے ۔ نوری ایک پنکھا لے کر جھلنے لگا۔ معلوم نہیں پنکھے کی ہوا سے یا پنکھے کی چوٹ سے وکیل صاحب عالم بالا سے دنیائے فانی میں آرہے اور ان کے مجسمہ خاکی کے پرزے ہوئے۔ پھر بڑے زور کا ماتم ہوا اور وکیل صاحب کی میت پارسی دستور کے مطابق کوڑے پر پھینک دی گئی تاکہ بے کار نہ جا کر زاغ وزغن کے کام آجائے۔
اب رہے میاں محمود کے سپاہی! محترم اور ذی رعب ہستی ہے، اپنے پیروں چلنے کی ذلت اسے گوارا نہیں، محمود نے اپنی بکری کا بچہ پکڑا اور اس پر سپاہی کو سوار کیا محمود کی بہن ایک ہاتھ سے سپاہی پکڑے ہوئے تھی اور محمود بکری کے بچہ کا کان پکڑ کر اسے دروازے پر چلا جا رہا تھا ۔ معلوم نہیں کیا ہوا میاں سپاہی اپنے گھوڑے کی پیٹھ سے گر پڑے اور اپنی بندوق لیے زمین پر آرہے ایک ٹانگ مضر وب ہو گئی مگر کوئی مضائقہ نہیں، محمود ہوشیار ڈاکٹر ہے ڈاکٹر نگم اور بھاٹیہ اس کی شاگرد ی کر سکتے ہیں اور یہ ٹوٹی ٹانگ آنا ً فاناً میں جوڑ دے گا۔ صرف گولر کا دودھ چاہیے ۔ گولر کا دودھ آتا ہے ٹانگ جوڑی جاتی ہے لیکن جوںہی کھڑا ہوتا ہے ٹانگ پھر الگ ہوجاتی ہے ۔ عملی جراہی ناکام ہوجاتی ہے تب محمود اس کی دوسری ٹانگ بھی توڑ دیتا ہے اب وہ آرام سے ایک جگہ بیٹھ سکتا ہے۔ ایک ٹانگ سے تو نہ چل سکتا تھا ، نہ بیٹھ سکتا تھا اب وہ گوشہ میں بیٹھ کر کرٹٹی کی آڑ میں شکار کھیلے گا۔
اب میاں حامد کا قصہ سنیے امینہ اس کی آواز سنتے ہی دوڑی اور اسے گود میں اُٹھا کر پیارکرنے لگی۔ دفعتاً اس کے ہاتھ میں چمٹا دیکھ کر چونک پڑی۔
’’ یہ دست پناہ کہا ں تھا بیٹا ۔۔۔۔؟‘‘
’’ میں نے مول لیا ہے تین پیسے میں ‘‘
امینہ نے سینہ پیٹ لیا ’’ یہ کیسا بے سمجھ لڑکا ہے کہ دوپہر ہوگئی نہ کچھ کھایا نہ پیا، لایاکیا یہ دست پناہ ،سارے میلے میں تجھے اور کوئی چیز نہ ملی۔ ‘‘
حامد نے خطاوارانہ انداز سے کہا ’’ تمہاری انگلیاں توے سے جل جاتی تھیں کہ نہیں ‘‘
امینہ کا غصہ فوراً شفقت میں تبدل ہو گیا اور شفقت بھی وہ نہیں جو منہ پر بیان ہوتی ہے اور اپنی ساری تاثیر لفظوں میں منتشر کر دیتی ہے۔ یہ بے زبان شفقت تھی درد التجا میں ڈوبی ہوئی۔ اف کتنی نفس کشی ہے کتنی جانسوزی ہے ، غریب نے اپنے طفلانہ اشتیاق کو روکنے کے لیے کتنا ضبط کیا ۔ جب دوسرے لڑکے کھلونے لے رہے ہوں گے ، مٹھائیاں کھا رہے ہوں گے ،اس کا دل کتنا لہراتا ہوگا اپنی بوڑھی ماں کی یاد اسے وہاں بھی رہی میرا لال میری کتنی فکر رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس کے دل میں ایک ایسا جذبہ پیدا ہوا کہ اس کے ہاتھ میں دنیا کی بادشاہت آجائے اوروہ اسے حامد کے اوپر نثار کر دے۔ تب بڑی دلچسپ بات ہوئی، بڑھیا امینہ ننھی سی امینہ بن گئی وہ رونے لگی دامن پھیلا کر حامد کو دعائیں دیتی جاتی تھی اور آنکھوں سے آنسو کی بڑی بڑی بوند گراتی جاتی تھی ۔ حامد اس کا راز کیا سمجھتا اور نہ شاید ہمارے بعض قارئین ہی سمجھ سکیں گے۔

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

درخت ماحول کے محافظ

بے قابو ہوتے موسموں کے جن کو ماحول دوست درختوں کی مدد سے قابو میں …