صفحہ اول / فیچر مضامین / قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات اور پاکستان

flood-pakistan

پاکستان میں ہر سال  سیلاب اور بارشوں سے تباہی ہوتی رہتی ہے،
کیا پاکستانی اس سیلاب کو ایک سالانہ آفت سمجھ کر قبول کرلیں
یا اس کے مقابلے کی کوئی صورت بھی ہے؟

سال کے وہ مہینے آ چکے ہیں جب اس ملک کے غریب و برباد عوام کو سیلاب کی تباہی آگھیرتی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں کی طرح اس سال بھی پاکستان شدید سیلابوں کی زد میں ہے۔
دریاؤں میں طغیانی کے باعث ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں جبکہ پانی کی تند و تیز لہریں کچے مکانات اور جھونپڑیوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے گئی ہیں۔ بے قابو سیلابی پانیوں نے ملک کے کئی حصوں میں کئی دیہات ملیا میٹ کر دیے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں سڑکیں اور پل تباہ ہو چکے ہیں، گلگت، بلتستان اور چترال کی خوبصورت وادیاں آفت زدہ قرار پا چکی ہے۔ پنجاب سے سندھ تک کے علاقوں میں بھی مکین در بدر ہو رہے ہیں، کہیں غذائی قلت کا خدشہ ہے اور کہیں وبائی امراض پھیلنے کا خوف چھایا ہوا ہے۔
غربت، بیروزگاری، بیماری، دہشت گردی اور ناخواندگی کے زخم ہی کیا کم تھے؟ یا بجلی کے بلوں کے جھٹکے ناکافی کہ اب اس ‘‘قدرتی’’ آفت نے یہاں کے محروم باسیوں کو آدبوچا ہے…..؟
بدعنوان سیاست ہو یا قاتل معیشت، یا پھر ‘‘قدرتی’’ آفات، نقصان تو اس ملک کے غریب اور کمزور ہی کو ہوتاہے۔ اس نظام میں نام نہاد قدرتی آفات بھی طبقاتی ہیں جو استحصال زدہ محروموں کو ہی نشانہ بناتی ہیں۔ یہ سیلاب یا زلزلے اگر قہر خداوندی ہیں۔ تو یہ قہر پہلے سے ہی مشکلات میں گھرے غریبوں پر ہی کیوں نازل ہوتا ہے….؟ دنیا کا وہ کون سا گناہ، جرم اور ظلم ہے جو امیر طبقات اور حکمرانوں میں نہیں ہوتا؟ان گناہوں کی پاداش میں زلزلوں اور سیلابوں سے ان طبقات کو کیا نقصان ہوتا ہے؟ ….
حالیہ بارشوں اور سیلاب میں مرنے والے درجنوں افراد اور متاثر یا بے گھر ولاچار ہو جانے والے ہزاروں افراد میں شاید ہی کوئی امیر یا حکمران طبقات کا فرد شامل ہو۔ سب کے سب غریب نادار اور محنت کرنے والے انسان ہیں۔ چند دنوں میں سینکڑوں غریب ڈوب چکے ہیں، لاکھوں بے گھر ہوگئے ہیں۔ بلند بانگ دعوؤں کے باوجود تباہی کی یہ داستان پاکستان میں ہر دوسرے تیسرے سال معمول کی ایک کہانی ہے۔ پاکستان کا منظر نامہ دیکھ کر محسن نقوی کا یہ شعر ذہن میں گونجنے لگتا ہے کہ

محسن غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں
ملبے میں دب گئے کبھی پانی میں بہہ گئے

ابھی چند مہینے قبل کے اخبارات اُٹھا کر دیکھیے تو اُن دنوں ہمیں بتایا جا رہا تھا کہ پاکستان میں بارشوں کی کمی سے خشک سالی کا خطرہ ہے ۔ موسمیات کے بین الاقوامی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان کو گزشتہ سال کی بہ نسبت شدید قحط کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ساؤتھ ایشین موسمیاتی فورم کی جانب سے جاری کردہ نقشے کے مطابق شمالی علاقوں میں معمولی بارشیں ہوں گی جبکہ ملک کے زیادہ تر حصے میں معمول سے بھی کم بارشیں ہوں گی…پاکستان کے محکمہ موسمیات کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ‘‘ہم پاکستان میں بہت کم بارشیں دیکھ رہے ہیں، جو تقریباً 20 سے 25 ملی میٹر تک ہوسکتی ہیں۔ جو اس شدید قحط کی سی صورتحال میں ایک مدد معلوم ہوتی ہے، لیکن یہ مدد بھی پائیدار ثابت نہیں ہوگی، اس لیے کہ یہاں گرمی کی شدت کی وجہ سے بخارات بننے کی شرح 10 ملی میٹر روزانہ ہے۔’’
لیکن ہوا اس کے برعکس…! بادل پھٹ پڑے اور چند دنوں میں ہی اس قدر مینہ برسا جو پہلے کبھی ہفتوں یا مہینوں میں برستا تھا۔ دریائے سندھ طغیانی کے باعث اپنی حدوں کو پھلا نگتے ہوئے دیہاتوں، قصبوں ، دور دراز بستیوں اور چھوٹے بڑے بہت سے شہروں میں داخل ہوگیا… کس قدر بے چارگی ہے کہ اس سے قبل بھی ان علاقوں میں پانی کی کمی کا رونا تھا اور آج جب کہ ہر چیز پانی میں غرقاب ہوچکی ہے، تب بھی یہاں اللہ کی مخلوق تشنہ لب ہے۔بقول شاعر ؂

چار سُو ایک سمندر ہے مگر لب تشنہ
بوند پانی کی نہیں آتی نظر پانی میں

flood-pakistan-BUTTON
ہر سال کا معمول

پاکستان میں تقریباً ہر سال ہی چھوٹے بڑے سیلاب آتے رہتے ہیں۔ مون سون بارشیں کہیں رحمت کا باعث بنتی ہیں اورکہیں زحمت کا باعت بنتی ہیں۔ عوام تکالیف برداشت کرتے رہتے ہیں۔
مون سون کے موسم میں ہر سال پاکستان میں درجنوں افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ آسمان سے اتنا پانی برستا ہے کہ زمین برداشت نہیں کر سکتی۔ پانی کی لہریں ندی نالوں سے ہوتی ہوئی گھروں کے اندر تک پہنچ جاتی ہیں۔ یہ سیلابی لہریں کتنی ہی بڑی اور ہلاکت خیز آفت کیوں نہ ہوں، قدرتی آفات سے نمٹنے کے سرکاری اداروں کی مدد تو نہیں پہنچتی ، البتہ خطرے کی وارننگ ضرور پہنچ جاتی ہےاور وہ بھی کچھ دیر سے ۔ ایسے میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ہی اپنی جانیں اور اپنا مال اسباب بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
درد کے احساس سے وہی واقف ہوتا ہے جسے زخم لگتا ہے۔ غریب ہی غریب کا غم جانتا ہے۔ امداد اور ریسکیو کی سرگرمیوں میں خود عوام ہی سب سے آگے ہوتے ہیں۔ سرکاری اداروں اور فلاحی تنظیموں میں بھی اصل کام قلیل اجرتیں پانے والے محنت کش اور سپاہی کرتے ہیں۔ شعوری یا لاشعوری طور پر محنت کش طبقہ خود ہی اپنے زخموں پر مرہم رکھتا ہے۔
حکومت کی طرف سے زیادہ تر تو محض اظہارِافسوس وہمدردی اور میڈیا کی طرف سے کوریج کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ جہاں تک ہماری سول حکومت کا امدادی کاموں میں پھرتی دکھانے کا تعلق ہے تو وہ اس مشکل کے وقت میں ہماری فوجی قیادت سے حسب معمول پیچھے رہ جاتی ہے ۔ جبکہ تمام سیلابی علاقوں میں ہماری فوج کے جوان سیلاب زدہ پاکستانی عوام کی خدمت میں مصروف نظر آتے ہیں۔
سال و ماہ گزر جاتے ہیں عوام پھر سے تازہ دم ہو کر اپنی زندگی کے معاملات چلانے میں مصروف ہو جاتے ہیں اور ایسے ہی زندگی کے شب و روز رواں دواں ہیں۔ لوگ واپس انہی سیلابی گزرگاہوں پر ایسے زندگی گزراتے ہیں، جیسے یہ ان کے لیے ایک معمول کی بات ہو۔ پھر اگلے سال وہی سائیکل شروع ہوجاتا ہے۔
آفتوں کے سیلاب کتنی بار ہی کیوں نہ آئیں ان کی اذیت کم نہیں ہوتی۔ زخم ہر بار جب بھی لگے، درد تو ہوتا ہے۔ بقول غالب کہ
رنج سے خوگر ہو انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں
لیکن بربادیوں کے عذاب متواتر ہونے کے باوجود بھی کم نہیں ہوتے۔کہیں لوگ جاڑے سے مرتے ہیں تو کہیں گرمی سے۔ ہر سال سیلاب ایک مستقل سزا بن کے غریبوں اور محروموں کو مجروح کرتا ہے۔ خشک دریا دیکھ کر ان میں پانی بھر جانے کی تمنا ابھرتی ہے اور جب پانی ان دریاؤں سے چھلک کر تباہی پھیلانا شروع کرتا ہے تو بارش کی دعا مانگنے والے محروم اور مجبور انسان ہی اُجڑ تے ہیں۔ بستیاں بہہ جاتی ہیں اور پھر طوفان ٹلتے کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

flood-pakistan-BUTTON
سیلاب اور ہماری تاریخ

دریاؤں میں طغیانی اور سیلاب کوئی نئی چیز نہیں …. جب سے زمین پر انسانی زندگی کا آغاز ہوا، انسان کا ان سے واسطہ پڑتا رہاہے ۔ آج بھی دریائے نیل میں طغیانی آئے تو مصری خوشیاں مناتے ہیں کہ یہ طغیانی ان کے لیے تباہی نہیں بلکہ رحمت ثابت ہوتی ہے۔لیکن اگر دور رَس حفاظتی اقدامات پر توجہ نہ دی جائے تو پھر طغیانی کو زحمت بلکہ ہلاکت خیز آفت بننے سے روکنا ممکن نہیں رہتا۔
سیلاب عمومی طور پر ایسے آبی ریلے کو کہتے ہیں جو عارضی طور پر زمین کو ڈھانپ لیتا ہے اور راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو تہہ و بالا کر دیتا ہے۔ سیلاب کا پانی ہر طرح کے تعمیراتی ڈھانچے جن میں عمارات، پل، سڑکیں ، سیوریج ، نہریں فصلیں اور مواصلات کے نظام کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ ریلے کی زد میں آنے والے انسان اور مویشی ہلاک ہوجاتے ہیں۔ متاثرہ علاقے میں پینے کے صاف پانی کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ ناصاف آلودہ پانی اور ماحول میں نمی کی وجہ سے بہت سی خطرناک بیماریاں جنم لیتی ہیں ۔ سیلاب کا پانی خوراک کے ذخیروں کو بھی بہا کر لے جاتا ہے۔ درختوں کی بڑی تعداد بھی پانی کی نذر ہوجاتی ہے۔ سیلاب کی وجہ سے تعمیراتی کام نا صرف یہ کہ رُک جاتا ہے بلکہ مستقبل قریب کے کئی منصوبے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ فصلیں متاثر ہونے کی وجہ سے روز مرہ اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
دریائے سندھ کے کنارے آ باد اقوام کی تاریخ گواہ ہے کہ دریائے سندھ کی طغیانیوں نے بعض مرتبہ کئی اقوام کو صفحہ ہستی سے مٹا کررکھ دیا ۔ ‘‘موئن جو دڑو ’’ کے آثار اس کی ایک مثال ہیں …..

flood-pakistan-1835
1830ء کے عشرے کے دوران دریائے سندھ میں گرنے والے شیوک دریا میں ایک بڑا گلیشیئر آگراتھا……. چنانچہ اس کی وجہ سے ایک بہت بڑی جھیل بن گئی اور جب یہ گلیشیئر پانی کے دباؤ سے ٹوٹا تو دریائے سندھ میں پانی کا نہایت تیز رفتار ریلا داخل ہوا ، گویا دریائے سندھ اُبل ہی پڑا۔ اس وقت دریائے سندھ کا بہاؤ اس قدر شدید تھا کہ دریائے کابل ، جو اٹک کے مقام پر دریائے سندھ میں گرتا ہے، اُلٹا بہنےلگا تھا …..

flood-pakistan-1841
اسی طرح کی ایک تباہی 1841ء میں آئی تھی،جب نانگا پر بت کا ایک بہت بڑا ٹکڑا جو خو دگویا ایک پہاڑ تھا ، ٹوٹ کر دریا میں اس مقام پر آن گرا جہاں استور دریا،دریائے سندھ میں شامل ہوتاہے۔چھ مہینے کے عرصے میں یہاں 35میل لمبی ایک طویل جھیل بن گئی ، اور دیکھتے دیکھتے پانی اس قدر بلند ہوتا گیا کہ اس کا دوسرا سرا گلگت شہر کوچھونے لگا۔
مقامی باشندوں کو اندازہ ہو چکا تھا کہ چند ماہ کے بعد کس قدر خوفناک تباہی آنے والی ہے، چنانچہ وہ لوگ یہاں سے بلند مقامات پر منتقل ہوگئے ۔ کچھ عرصے بعد قدرت کا بنایا ہوا یہ ڈیم پانی کے بےِپناہ دباؤ کے باعث ٹوٹ گیا ۔ جانی نقصان تو بہت کم ہوا لیکن کئی گاؤں دیہات دریا بُرد ہو گئے ۔دریائے سندھ کے زیر یں علاقوں کے لوگ چونکہ مواصلاتی رابطہ نہ ہونے کے باعث اس شدید سیلابی ریلے کے لیے تیار نہ تھے، اس لیے ان علاقوں میں بھی بہت تباہی ہوئی۔
1885ء کے دوران بھی ایسی ہی ایک تباہی کا تذکرہ ملتاہے جب ہنزہ میں لینڈ سلائیڈ نگ کے باعث قدرتی ڈیم بن گیا تھا ، پھر وہ اچانک ٹوٹا تو تین سو میل کے فاصلے پر دریائے سندھ میں صرف ایک رو ز میں اتنا پانی آیا کہ وہ 90فٹ بلند ہوگیا……
آزادی کے بعد 1950ء اور ستمبر 2015ء کے درمیان پاکستان کو تقریباً 2 درجن بڑے سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں 11ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، 6 لاکھ مربع کلومیٹرز سے زیادہ علاقہ متاثر ہوا اور اور ایک لاکھ 80ہزار 234دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ سیلاب اور موسم سے متعلق سرکاری محکمہ کی رپورٹ کے مطابق 1950 سے لے کر 1959تک پانچ بڑے سیلاب آئے تھے لیکن 1973کے بعد تو سیلابوں نے غیرمعمولی شکل اختیار کی اور 2015تک مزید 16سیلاب آچکے ہیں۔ اب تک دستیاب ریکارڈ کے مطابق حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی یقیناً بہت زیادہ ہے لیکن یہ سیلاب سب سے بڑا نہیں …… ماہرین کے مطابق پاکستان میں اب تک آنے والے سیلابوں میں پانی کے بہاؤ کے لحا ظ سے سب سے بڑا یعنی ’’ سپر فلڈ ‘‘ اگست 1976ء میں آیا تھا ، جب دریائے سندھ پر گڈو بیراج کے مقام پر پانی کا بہاؤ بارہ لاکھ کیوسکس ریکارڈ کیا گیا تھا…..( کیوسکس! پانی کے بہاؤ کا پیمانہ ہے،یعنی پانی کی کتنی مقدار کتنے وقت میں بہہ رہی ہے۔ ایک کیوسکس برابر ہے 28.32لیٹر پانی کا بہاؤ فی سیکنڈ کے) ……اُس سیلاب سے بھی بہت تباہی ہوئی تھی۔ میانوالی ، لیہ، بھکر ، مظفر گڑھ ، ڈیرہ غازی خان ، راجن پور ، سکھر ، نواب شاہ ، نوشہرو فیروز، حیدر آباد شہر اور ان شہروں کے اردگرد سینکڑوں دیہاتوں کو نقصان پہنچا تھا۔ 1992ء میں آنے والے سیلاب کی شدت تو اتنی نہیں تھی لیکن متاثرین کی تعداد 1976ء کے مقابلے میں تین گنا زیادہ یعنی ایک کروڑ 85لاکھ آٹھ ہزار چار سو بیالیس تھی…..
1950ء کے سیلاب میں 2190 افراد جاں بحق اور 17ہزار 920مربع کلومیٹرز پر پھیلے 10ہزار دیہات متاثر ہوئے تھے۔ بعض اندازوں کے مطابق 1950ء میں سیلاب سے ہلاکتیں 2900 رہیں۔ جون 1977ء میں سیلاب سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ 1992ء میں ہلاکتیں 1334 رہیں۔ 1995ء میں سیلاب سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔ مارچ 1998ء کے سیلاب میں ہزار ہلاکتیں ہوئیں۔ 2003ء میں بارشوں اور سیلاب سے سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ کراچی میں دو دنوں میں 284.5ملی میٹرز بارش نے تباہی پھیلادی اور معمولات زندگی مفلوج ہوگئے۔ ٹھٹھہ میں صورتحال بدترین رہی جہاں 404ملی میٹرز بارش نے پورے ضلع کو ہی متاثر کیا۔ 484افراد جاں بحق اور 4476دیہات متاثر ہوئے۔2007میں خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقے مون سون بارشوں سے شدید متاثر ہوئے۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں سب سے بدترین سیلاب 2010ء میں آیا جس میں نقصانات کا تخمینہ 43 ارب ڈالرز لگایا گیاجو دو سال کی ملکی برآمدات کے مساوی ہے۔سال2010 سے 2015 تک مون سون کی بارشوں میں شدت دیکھی گئی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال شدید سیلاب آرہے ہیں۔

flood-pakistan-2015

ذرائع ابلاغ کے مطابق 2015ء کے سیلاب میں اب تک سو کے قریب اموات ہوچکی ہیں۔پانچ لاکھ کے قریب لوگ متاثر ہوئے، سیلاب کے پانی سے وسیع رقبہ زیر آب آگیا ہے،ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے ۔

flood-pakistan-BUTTON
قدرتی آفات یا

نسل انسان کی تاریخ ہی قدرتی آفات پر قابو پانے اور فطری حوادث کو انسانوں کی بہتری کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں سے عبارت ہے۔
حالیہ سیلاب اپنے بہاؤ کے اعتبار سے ماضی کے سیلابوں سے کم ہے لیکن اس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی اور جانی و مالی نقصان میں ہماری اجتماعی غفلت کا دخل زیادہ دکھائی دیتاہے۔
مثال کے طور پر پاکستان میں کل رقبے کا صرف 2.5فیصد حصہ ہی جنگلات پر مشتمل ہے ۔ جنگلات سے ناصرف سیلابی ریلے کی رفتار کم ہوتی ہے بلکہ عارضی طور پر سیلاب کو روکا بھی جاسکتا ہے ، ساتھ ہی ساتھ جنگلات کی وجہ سے سیلابی پانی میں مٹی کا بہت کم حصہ شامل ہوتاہے۔ جنگلات کی کمی کی وجہ سے پہاڑوں سے سیلابی ریلا بہت تیزی سے نیچے آتا ہے اور بہت بڑی مقدار میں مٹی بھی ہمراہ لے آتا ہے جو بیراجوں اور ڈیموں میں کچھ ہی برسوں میں جمع ہو کر ان کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو کم کر دیتی ہے ……انتہائی افسوسناک اور تشویش ناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں محض 2.5فیصد رقبے پر موجود جنگلات کو بھی مسلسل کاٹا جا رہا ہے اور نئے درخت نہیں لگائے جارہے ، چنانچہ اس طرح کی آفت تو آنی ہی تھی، پھرمزید ستم یہ ہوا کہ دریاؤں کے پشتوں کے ساتھ ساتھ غیرقانونی طور پر بے تحاشہ ریت کھود کھود نکالی گئی اور دریاؤں کو ہر طرح کی آلائشوں سے آلودہ کیا جاتا رہا۔
1947ء میں پاکستان کی آبادی کی مناسبت سے پانی کی دستیاب شرح فی کس پانچ ہزار چھ سو کیو بک میٹر تھی۔ یہ شرح اب گھٹ کر گیارہ سو کیوبک میٹر فی کس سے بھی کم رہ گئی ہے ۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق 2020ء تک یہ شرح885کیوبک میٹر فی کس تک رہ جائے گی ۔ 2003ء میں ہی ورلڈ بینک ہمیں خبر دار کرچکا تھا کہ پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی کی شرح ایتھوپیا ، لیبیا ، اور الجیریا کو بھی پیچھے چھوڑ چکی ہے، جبکہ آج ہم پانی کے حوالے سے ریڈزون میں شمار کیے جاتے ہیں ۔پاکستان !سندھ طاس معاہدے کی رو سے 30دن کا پانی ذخیرہ کر سکتا ہے۔ یہ صلاحیت بھی ہمارے ڈیموں اور بیراجوں میں مٹی بھر جانے کی وجہ سے سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ شاید اس لیے کہ ہمارے ہاں جدید سائنٹفک طریقوں سے استفادہ نہیں کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں 36ریاستوں میں بسنے والے سو ا ارب افراد کے لیے چارہزار پانچ سو آبی ذخائر تعمیر ہو چکے ہیں ، اور مزید ڈیموں کی تعمیر اور منصوبہ بندی جاری ہے …… وہاں پانی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 38ہزار میگا واٹ تک جا پہنچی ہے…… شاید ہمارے ہاں طبقہ اشرافیہ اور صاحب اقتدار لوگوں کے لیے ‘‘پانی’’کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے……. اس لیے کہ انہوں نے تو منرل واٹر کلچر کو فروغ دے کر اپنا مسئلہ حل کر لیا ہے ۔ جبکہ ملک کے 90فیصد عوام پانی کی بوندبوند کو ترس رہے ہیں ….. اور جب آسمان سے یا دریاؤں سے پانی آتا ہے تو ان کے گھر ، فصلیں اور مال مویشی ہی نہیں ان کی امیدیں اور خواب سب کچھ ڈوب جاتے ہیں …….
ساری دنیا میں سیلابوں سے انسانی آبادیوں کو بچانے کے لیے لوگ خود اور حکومتیں کوششیں کرتے ہیں۔ پاکستان میں دریاؤں کے کنارے آباد بستیوں کو ہمیشہ سیلاب سے نقصان پہنچتا ہے۔ اس طرح نشیبی علاقوں میں آباد بستیوں کو بھی سیلاب سے نقصان پہنچتا ہے۔ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی لوگ ان جگہوں پر آباد ہوتے ہیں۔ کیا کیا جائے….؟ یہ ان لوگوں کی مجبوری ہے کہ ان کے لیے سرچھپانے کے امکانات بھی یہیں زیادہ ہوتے ہیں۔
اس ملک میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے، سستی بجلی کے حصول، وسیع و عریض بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے اور سیلابوں کے خاتمے کے لئے کئی بڑے اور ہزاروں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ نظام آبپاشی کو پختہ کرنے کی ضرورت ہے۔ استحصال پر مبنی یہ متروک نظام، بدعنوان اور حریص حکمران طبقہ ایک جدید سماج کی تعمیر کے یہ بنیادی فرائض کبھی بھی ادا نہیں کرسکتے۔ قدرتی آفات سے عوام کے تحفظ اور کروڑوں انسانوں کو محرومی سے نجات دلانے کے لئے ایک ایسا سماجی و معاشی نظام درکار ہے جس میں پیداوار، تعمیر اور خدمات کی قوت محرکہ منافع اور شرح منافع کی بجائے انسانی فلاح اور ضرورت کی تکمیل پرہو۔

flood-pakistan-BUTTON
سیلاب ۔ زحمت سے رحمت

قوموں کی پہچان دعوؤں اور نعروں سے نہیں ہوتی، بلکہ فیصلوں سے ہوا کرتی ہے۔ جو قوم اپنا مستقبل اوج ثریا پر چمکتا دمکتا دیکھنا چاہتی ہے، وہ ہر میدان میں فیصلے بھی اسی طرح بلند وبالا کیا کرتی ہے۔
سیلاب ایک قدرتی پروسیس ہے، جس سے چھٹکارہ حاصل کرنا کسی بھی ملک کے بس کی بات نہیں ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال سیلاب کے نتیجے میں لاکھوں لوگ متاثر ہوتے ہیں، ہزاروں ہلاک اور زخمی ہوجاتے ہیں۔ اربوں ڈالر کا بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، لیکن جو ممالک سیلاب کا زور توڑنے اورتباہی پھیلانے والے پانی پر قابو پا کر اسے کارآمد بنانے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، وہی سرخرو ٹھہرتے ہیں۔ اس معاملے میں ہم چین کی مثال سامنے رکھتے ہیں۔
چین کی تاریخ خوف ناک سیلابوں سے بھری پڑی ہے۔شمالی چین ہر سال تباہ کن سیلابوں میں بہہ جاتا تھا، جس سے کروڑوں افراد متاثر ہوتے تھے اور ہزاروں موت کا شکار ہو جاتے تھے۔
چین میں 1887 میں آنے والے سیلاب نے 9 لاکھ افراد کی جان لی۔ 1911 میں ایک لاکھ لوگ سیلاب کی نذر ہوگئے۔ 1931 میں 3 لاکھ 50 ہزار اور 1938 میں 5 لاکھ افراد کو سیلابوں نے ہلاک کردیا، لیکن پھر چینی قوم نے ایک زندہ قوم بن کر سوچا۔ دانشمندی اور ہمت سے ان سیلابوں کے سامنے بندھ باندھنے کی ٹھانی۔
چینی حکومت نے 1950 کی دہائی میں ایک سروے کیا۔ 15 بڑے دریاؤں کے پانیوں کو اسٹور کرنے کے لیے ڈیم بنانے کا آغاز کردیا۔ صرف بیس سالوں میں یعنی 1950ء سے1970 تک چین کے شمال میں 1282 ڈیمز اور نہروں کا جال بچھا دیا گیا ، مزید ڈیمز کی تعمیر کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ چینی حکومت کے بروقت فیصلوں نے زحمت کو رحمت میں تبدیل کردیا۔
چین میں اب بھی بارشیں ہوتی ہیں اور ان کے نتیجے میں سیلاب بھی آتے ہیں، لیکن ڈیمز لبالب بھر کر ان سیلابوں کی شدت کو کم کردیتے ہیں۔ اب چین میں سیلابوں کی وجہ سے ہونے والے نقصان میں کئی سو گنا کمی آگئی ہے۔ وہ پانی جو کبھی عذاب بن کر نازل ہوتا تھا، اب خوشحالی کا نقیب بن کر آتا ہے۔ چین نے ہر سال ضایع ہونے والے پانی کو محفوظ کر کے اپنی زمینوں میں کاشت کاری کی اور گویا کہ سونا اگادیا اور آج اناج میں خود کفیل ہوگیا ہے۔ اس پانی سے چین نے اور بہت سے فوائد حاصل کیے ہیں۔
دنیا بھر کے مختلف ممالک میں سیلاب آتے رہتے ہیں۔ سیلاب کے نقصانات سے بچنے کے لیے کئی ممالک نے دور رس منصوبہ بندی کر کے اس نا گہانی آفت سے بہت حد تک خود کو محفوظ بنا لیا ہے۔
1910ء میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں تباہ کن سیلاب کے بعد شہر کے درمیان جھیلیں بنا کر سیلاب کے پانی کو متبادل راستہ فراہم کیا گیا۔ یہ جھیلیں شہر کو تباہی سے بچانے کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے لیے تفریح کا مرکز بھی بن گئیں۔
لندن کو سیلاب سے بچانے کیلئے دریائے ٹیمز کے ساتھ ساتھ بڑے Barrier.ِMechanicalبنائے گئے ہیں،جب پانی کی سطح بلند ہوتی ہے تو ان میکینیکل دیواروں کو اوپر اٹھا دیا جاتا ہے۔
وینس میں بھی سیلاب سے بچاؤ کا اسی طرح کا انتظام کیا گیا ہے۔ اٹلی کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ایک زیر زمین نہر بنائی گئی ہے ۔ شدید سیلاب کے ایام میں اسی نہر کے ذریعے سن 1966ء اور 2000ء میں پانی کے اخراج سے شمالی اٹلی کو بچایا جا سکا۔
آسٹریلیا کے مختلف علاقوں کو سیلاب سے بچانے کیلئے 150سال پہلے جو سسٹم بنایا گیا تھا، وہ آج تک کارآمد ہے ۔
چین ، بھارت اور یہاں تک کہ بنگلہ دیش نے بھی سیلابی پانی سے بچاؤ کے لیے محفوظ منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔چین نے اپنے سب سے بڑے دریا‘‘یانگ سی’’کو تھری گو رجنر ڈیم بنا کر روک لیا ہے۔ اس مون سون میں اس ڈیم کی بدولت اتنا پانی ذخیرہ کر لیا گیا کہ کروڑوں عوام اور لاکھوں ایکٹر رقبے پر زیرِ کاشت فصلوں کو سیلاب کی تباہی سے بچا یا جاسکا۔
مصر میں بھی1899ء کے دوران دریائے نیل پر اسوان ڈیم تعمیر کرکے سیلابی پانی کو کنٹرول کرکے آبپاشی کا انقلابی نظام بنا لیا گیا تھا۔
سیلاب جہاں تباہی اور بربادی کا سبب بنتا ہے وہاں انسانی زندگی اور ماحول میں مثبت تبدیلی کا باعث بھی بنتا ہے۔ سیلابی پانی کی وجہ سے زیر زمین میٹھے پانی کے ذخیرے کو تقویت ملتی ہے۔ سیلابی پانی اپنے ساتھ مختلف طرح کی کھاد اور زمین کو طاقت دینے والے معدنی اجزاء لاتا ہے، جو زمین کی زرخیزی کا باعث بنتے ہیں۔دریاکی گزر گاہوں کے علاقے میں مچھلیوں اور دوسرے آبی پرندوں کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہے۔جدید دنیا میں سیلاب کوئی ایسی آفت نہیں رہی جس سے محفوظ نہیں رہا جاسکے ۔ اگر دریاؤں کو گہرا کیا جائے، پانی کو محفوظ کرنے کے لیے ، نہریں ، جھیلیں اور ڈیم تعمیر کیے جائیں تو نا صرف ان سیلابوں کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے بلکہ اس پانی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اسے استعمال میں لا کر بجلی بھی حاصل کی جاسکتی ہے اور بارشیں نہ ہونے کی صورت میں خشک سالی کی تباہی سے بھی محفوظ رہا جاسکتا ہے۔
جدید دنیا میں فالٹ لائنز پر رہنے والے لوگوں نے اپنے تعمیراتی طریقوں اور طرز زندگی میں تبدیلیاں لا کر اپنے نقصانات کو کم کر لیا ہے لیکن ہم اتنے سالوں سے دریائی علاقوں میں موجود بستیوں کو نہیں ہٹا سکے۔ ہم پیشگی حفاظتی انتظامات کی بجائے آفت کے آنے پر شور مچانے اور آفت آنے پر کام شروع کرنے کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ تیزی سے رونما ہوتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلیوں نے پاکستان میں سیلاب کو ہر سال کا مسئلہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق قدرت سے تو نہیں لڑا جا سکتا لیکن سیلابوں سے نمٹنا سیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں سیلابی نقصانات کو کم کرنے کے لیے نئے آبی ذخائر کی تعمیر، موجودہ آبی ذخائر کی مرمت و صفائی، حفاظتی پُشتوں کی مضبوطی، آبپاشی اور دیگر متعلقہ محکموں سے کرپشن کو ختم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی بھی ایک مسئلہ ہے اور جو شخص مکان خریدنے کی سکت نہیں رکھتا، وہ دریائی علاقے میں جا کر گھر بنا لیتا ہے، ’’پانی آنے پر اسے مدد کی ضرورت پڑتی ہے اور پانی جانے پر وہ پھر وہاں آکر دوبارہ آباد ہو جاتا ہے۔
پاکستان پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے جو اثرات رونما ہو رہے ہیں، ان سے میڈیا، سیاست دان اور پالیسی سازوں سمیت دیگر متعلقہ لوگ پوری طرح آگاہ محسوس نہیں ہوتے۔ بدقسمتی سے ماحولیات جیسے ترقیاتی امور پاکستان کی قومی ابلاغی پالیسی کا کبھی حصہ نہیں رہے۔ اگر حکمران چاہیں تو نہ صرف اتنے بڑے نقصانات سے بچاجاسکتا ہے، بلکہ پانی کے اس قیمتی خزانے کو محفوظ کر کے ملکی ترقی کے لیے گنج پائے گراں مایہ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ چھوٹے بڑے ڈیم بنا کر بجلی کی قلت کو پورا کر سکتے ہیں۔ پانی کو بے آب و گیاہ زمینوں تک لے جا کر سبزے اگا سکتے ہیں۔ بارانی علاقوں میں نہروں کے ذریعے پانی نے جا کر بنجر زمینوں سے لہلاتی فصلیں پیدا کر سکتے ہیں۔ ندی نالوں کو پختہ کر کے ان کے پشتے بنا کر پانی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، لیکن ستم دیکھیے! صرف نااہلی و کاہلی کی وجہ سے ہم قدرت کی ایک انمول نعمت کو اپنے لیے باعث زحمت بنا لیتے ہیں۔
ہر سال آنے والے ہولناک سیلابوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ کوئی لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ ہم چین کی طرح سیلابوں کی تعداد، مقدار اور نقصان کو کئی گنا کم کر سکتے تھے، لیکن اگر حکمران اس معاملے کو سنجیدگی کے ساتھ لیں تب ہی یہ سب کچھ ہوسکتا ہے۔
اگر ہم ملک کے طول و عرض میں چھوٹے بڑے ڈیموں اور نہروں کا جال بچھا دیں تو ہم اس سیلابی پانی سے زندگی کشید کرسکتے ہیں۔ہم بارشوں کے پانی کو ضایع ہونے سے بچاسکتے ہیں۔ اس کو استعمال میں لا کر بجلی بنا سکتے ہیں، زراعت کو ترقی دے سکتے ہیں۔ اگر چھوٹے یا بڑے ڈیمز ملکی ضروریات کے مطابق بنا دیے جائیں تو گلیشیئرز کے پگھلنے سے پیدا ہونیوالے تند رو پانی اور بارشوں کے سیلابی ریلے زحمت کے بجائے رحمت کا روپ دھار سکتے ہیں۔

‘‘اور کیاان کو دکھائی نہیں دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں، پھر بھی نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں’’۔ [سورۂ توبہ:آیت 126]

تحریر ابنِ وصی

    [روحانی ڈائجسٹ، ستمبر 2015ء سے انتخاب]

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

مائنڈ پاور

مائنڈ پاور MIND POWER سوچ کی ناقابل یقین قوت The Incredible Power of Thoughts مائنڈ …