لہروں کےدوش پر

telepathic

انسان جانوروں درختوں ، جمادات، ستاروں،  سیاروں   اور دوسری مخلوقات سے رابطہ کرسکتا ہے۔


سرورِ کائنات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ایک اونٹ کے قریب سےگزرے تو اونٹ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اس کے مالک سے ارشاد فرمایا کہ

‘‘یہ اونٹ تیری شکایت کررہا ہے کہ تو اس پر بوجھ  پورا لادتا ہے لیکن اس کے خورد و نوش کا انتظام پورا نہیں کرتا’’۔[سنن ابو داؤد: کتاب الجہاد]

حضرت سلیمانؑ نے (کسی مہم کے سلسلہ میں ) جنوں،انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے۔ جب وہ چیونٹیوں کی ایک وادی پر پہنچے تو ایک چیونٹی بولی کہ اے چیونٹیو….!  اپنے گھروں میں چلی جاؤ تمہیں  بے خبری  میں سلیمان اور ان کالشکر کچل نہ ڈالیں۔ سلیمان اس چیونٹی کی آواز سن کر مسکرائے۔چیونٹی کی نہایت باریک آواز جو ہم کو قریب سے بھی معلوم نہیں ہوتی حضرت سلیمان نے دور سے سن لی۔

تاریخ اسلام میں حضرت عمر فاروقؓ کا دریائے نیل  سے بظاہر بذریعہ خط رابطہ  کرنا  تاریخ ِ عالم میں اپنی  مثل آپ  ہے۔

حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں  ایک بار مصر کا دریائے نیل خشک ہوگیا۔ مصری رعایا نے مصر کے گورنر حضرت عمر بن العاص ؓ کی خدمت میں عرض  کی کہ  ہمارا یہ دستور تھا کہ جب دریائے نیل خشک ہوجاتا تھا تو ہم لوگ ایک خوبصورت کنواری لڑکی کو دریا  کی بھینٹ چڑھایا کرتے تھے۔  اس کے بعد دریا پھر جاری ہوا کرتا تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اب ہم کیا کریں….؟

 گورنر نے   امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ   کو خط لکھ کر دریائے نیل خشک ہونے  اور مصریوں کے رواج کا حال بتایا۔  امیر المومنین حضرت عمر نے دریائے نیل کے نام خط لکھا کہ:

 ‘‘ اے دریائے نیل ! اگر تو خود بخود جاری ہوا کرتا تھا تو ہم کو تیری کوئی ضرورت نہیں ہے اور اگر تو اﷲ تعالیٰ کے حکم سے جاری ہوتا تھا  کہ تو پھر اﷲ تعالیٰ کے نام پر جاری ہوجا’’….

چنانچہ جوں ہی آپ کا خط دریائے نیل میں ڈالا گیا تو دریا فوراً جاری ہوگیا اور ایسا جاری ہوا کہ آج تک خشک نہیں ہوا۔  [ازالہ  الخلفاء ،  شاہ ولی الله ]

حضرت شاہ ولی اللہ: کے والد محترم حضرت شاہ عبدالرحیم دہلوی ؒ بیان کرتے تھے کہ

‘‘رمضان کے آخری روز جبکہ  چاند رات ہونے کاگمان تھا مسجد میں بیٹھا  ہوا تھا۔ ایک چڑیا آئی اور کہا کل عید ہے۔  میں نے یہ بات حاضرین کو بتادی ۔  فرہاد بیگ نے کہا حیوانات کی زبان کا کیا اعتبار۔  میں نے خیال کے ذریعے یہ بات چڑیا کو بتائی تو اس چڑیا نے کہا کہ  جھوٹ انسان کی خاصیت ہے ہماری جنس میں جھوٹ نہیں ہوتا۔ پھر وہ اُڑ گئی۔ دوسری چڑیا بھی آئی تھی اس نے بھی اس بات کی تصدیق کی۔

اس واقعے کے تھوڑی دیر بعد ہی قاضی کے سامنے چاند دیکھنے کی شہادتیں پیش ہوگئیں ’’ ۔[ انفاس العارفین۔ شاہ ولی الله ]

سلسلۂ عظیمیہ کے امام حضرت محمد عظیم برخیاء ؒ  نے تحریر فرمایا کہ

‘‘ایک دن حضرت بابا تاج الدین ناگپوریؒ واکی شریف کے جنگل میں پہاڑی ٹبّے پر چند لوگوں کے ہمراہ چڑھتے چلے گئے۔ آپؒ مسکرا کرکہنے لگے :

‘‘میاں جس کو شیر کاڈر ہو وہ چلا جائے ، میں تو یہاں ذرا سی دیر آرام کروں گا ۔ خیال ہے کہ شیر ضرور آئے گا۔ جتنی دیر قیام کرے اس کی مرضی۔ تم لوگ خواہ مخواہ انتظار میں مبتلا نہ رہو ، جاؤ کھاؤ پیو اور مزہ کرو’’۔

بعض لوگ ادھر ادھر چھپ گئے اور زیادہ چلے گئے۔

میں نے حیات خاں سے کہا ، ‘‘کیا ارادہ ہے ’’۔ پہلے تو حیات خاں سوچتا رہا۔ پھر زیرِ لب مسکرا کرخاموش ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے پھر سوال کیا

‘‘چلنا ہے یا تماشا دیکھنا ہے ؟’’….

‘‘بھلا بابا صاحب کو چھوڑ کے میں کہا ں جاؤں گا!’’ حیات خان بولا۔

گرمی کا موسم تھا۔ درختوں کا سایہ اور ٹھنڈی ہوا خمار کے طوفان اٹھا رہی تھی۔ تھوڑی دور ہٹ کر میں ایک گھنی جھاڑی کے نیچے لیٹ گیا۔ چند قدم کے فاصلے پر حیات خاں اس طرح بیٹھ گیا کہ نانا تاج الدین کو کن انکھیوں سے دیکھتا رہے۔ اب وہ دبیز گھاس پر لیٹ چکے تھے۔ آنکھیں بند تھیں۔ فضا میں بالکل سناٹا چھایا ہوا تھا۔  چند منٹ گزرے تھے کہ جنگل بھیانک محسوس ہونے لگا۔ آدھ گھنٹہ ،پھر ایک گھنٹہ۔ اس کے بعد بھی کچھ وقفہ ایسے گز رگیا جیسے شدید انتظار ہو۔ یہ انتظار کسی سادھو ، کسی جوگی ، کسی ولی، کسی انسان کا نہیں تھا بلکہ ایک درندہ کا تھا جو کم از کم میرے ذہن میں قدم بقدم حرکت کررہا تھا۔

یکایک نانا ؒ کی طرف نگاہیں متوجہ ہوگئیں۔ اُن کے پیروں کی طرف ایک طویل القامت شیر ڈھلان سے اوپر چڑھ رہا تھا۔ بڑی آہستہ خرامی سے ، بڑے ادب کے ساتھ۔  شیر نیم وا آنکھوں سے نانا تاج الدین کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ذرا دیر میں وہ پیروں کے بالکل قریب آگیا۔ نانا گہری نیند میں بے خبر تھے۔ شیر زبان سے تلوے چھو رہا تھا۔ چند منٹ بعد اس کی آنکھیں مستانہ واری سے بند ہوگئیں ۔ سرزمین پر رکھ دیا۔  نانا تاج الدین ابھی تک سورہے تھے۔ شیر نے اب زیادہ جرأت کرکے تلوے چاٹنا شروع کردیئے۔ اس حرکت سے نانا کی آنکھ کھل گئی۔ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ شیر کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ کہنے لگے

‘‘تو آگیا۔ اب تیری صحت بالکل ٹھیک ہے۔ میں تجھے تندرست دیکھ کر بہت خوش ہوں ۔ اچھا اب جاؤ’’۔

شیر نے بڑی ممنونیت سے دم ہلائی اور چلا گیا۔[تذکرہ بابا تاج الدین ]

کتاب ‘‘تذکرہ قلندر بابا اولیاء ’’ میں جناب خواجہ شمس الدین عظیمی تحریر کرتے ہیں:

‘‘جس کمرے میں حضور قلندر بابا اولیاءؒ قیام فرما تھے اس کے سامنے احاطہ کی دیوار سے باہر بادام کا ایک درخت تھا۔ ایک روز باتوں باتوں میں حضور بابا صاحبؒ نے فرمایا :

‘‘ یہ درخت مجھ سے اس قدر باتیں کرتا ہے کہ میں عاجز آگیا ہوں ۔ میں نے اس سے کئی مرتبہ کہا ہے کہ زیادہ باتیں نہ کیا کر۔ میرے کام میں خلل پڑتا ہے۔ مگر یہ سنتا ہی نہیں’’۔ بات رفت گزشت ہوگئی۔ ایک روز صبح بیدار ہونے کے بعد دیکھا کہ درخت غائب ہے۔ بڑی حیرانی ہوئی کہ اتنا بڑا درخت راتوں رات کہاں غائب ہوگیا۔ باہر جاکر دیکھا کہ درخت کو جڑ سے اُکھاڑ لیا گیا ہے ۔  آج تک یہ بات معمہ بنی ہوئی ہے کہ اتنے بڑے درخت کو کس نے کاٹا اور کیسے لے گیا۔ نیز درخت کاٹنے میں جب اُس پر کلہاڑی پڑی ہوگی تو آواز بھی ہوئی ہوگی۔ لیکن کسی کی آنکھ بھی نہیں کھلی۔ میں نے اس سلسلے میں حضور بابا صاحبؒ سے پوچھا تو وہ مسکرا کر خاموش ہوگئے’’۔

   اللہ کے پیارے بندے نزدیک ودور کی چیزیں دیکھتے ہیں اور دو ر کی ماورائے سماعت  آواز بھی باذن الٰہی سنتے ہیں۔  اکثر بزرگوں سے متعلق واقعات میں یہ تصریح ملتی ہے کہ کئی روحانی بزرگ  لوگوں کے کچھ کہنے سے پہلے ہی انہیں  درپیش مسئلہ کا حل بتا دیتے۔  اس ضمن میں انبیائے کرام، صحابہ اور اولیاء اللہ کے سینکڑوں واقعات روایتوں اور کتابوں میں ملتے ہیں۔   ان  تمام واقعات  سے واضح  ہوتا ہے کہ  انسان کا درختوں ، جانوروں جیسی جاندار یہاں تک کی ۛ،  جمادات، سیاروں ستاروں اور دریاؤں سے بھی تبادلہ خیال ہوسکتا ہے ۔

حضرت قلندر بابا اولیاء اپنی تصنیف تذکرہ بابا تاجالدین میں  تحریر کرتے ہیں کہ حضرت بابا تاجالدین ناگپوریؒ فرماتے ہیں:

‘‘کہکشانی نظاموں اور ہمارے درمیان بڑا مستحکم رشتہ ہے۔ پے درپے جو خیالات ہمارے ذہن میں آتے ہیں وہ دوسرے نظاموں اور ان کی آبادیوں سے ہمیں موصول ہوتے رہتے ہیں۔ یہ خیالات روشنی کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں۔ روشنی کی چھوٹی بڑی شعاعیں خیالات کے لاشمار تصویر خانے لے کر آتی ہیں۔ ان ہی تصویر خانوں کو ہم اپنی زبان میں توہم، خیال، تصور اور تفکر  وغیرہ کا نام دیتے ہیں’’۔

ابدالِ حق قلندر بابا اولیاءؒ کے اس فرمان سے واضح ہوجاتا ہے کہ‘‘خیال کہاں سے آتا ہے….؟’’

جب ذہن میں کوئی خیال آتا ہے تو اس کا کوئی کائناتی سبب ضرور موجود ہوتا ہے۔ خیال کا آنا اس بات کی دلیل ہے کہ ذہن کے پردوں میں حرکت ہوئی ہے۔ یہ حرکت ذہن کی ذاتی حرکت نہیں ہوتی۔ اس کا تعلق کائنات کے ان تاروں سے ہے جو کائنات کے نظام کو ایک خاص ترتیب میں حرکت دیتے ہیں’’۔

اس  موضوع پر حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے اپنی کتاب لوح و قلم میں نہایت مفصّل انداز میں روشنی ڈالی ہے۔

آپ اپنی ایک رباعی میں فرماتے ہیں؎

ہر چیز خیالات کی ہے پیمائش
ہیں نام کے دنیا میں غم و آسائش
تبدیل ہوئی جو خاک گورستاں میں
سب کوچہ و بازار کی تھی زیبائش

حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے اس رباعی کی تشریح یوں کی ہے:

‘‘ہم کسی چیز کو پہچانتے ہیں یا کوئی کام کرتے ہیں، خوش ہوتے ہیں یا غم کے بادل ہمارے اوپر چھا جاتے ہیں….سب کا دارومدار خیال پر ہے…. یہ خیال درجہ بدرجہ گہرا ہو کر، تصور سے گزر کر احساس میں جلوہ گر ہوتا ہے اورمظہر بن کر ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے….  خیالات میں جذبات و احساسات بنتے ہیں….

خیال ہی زندگی ہے!….  خیال ہی کائنات کی اساس ہے!….  خیال کی قوت سے آگاہ بندہ کائنات کے ذرّے ذرّے سے اس کی اصل حقیقت کے ساتھ واقف ہوسکتا ہے مگر آج کا انسان ایک حیرت انگیز طاقت کاحامل ہونے کے باوجود کنوئیں کے سامنے پیاسا کھڑا نظر آتا ہے۔

خیال یا اطلاع کے علم سے واقفیت قرآن پر تفکر کئے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔

 حواسِ خمسہ سے بڑھ کر ادراکی قوت عموماً ایک خداداد صلاحیت ہے۔  کچھ لوگوں میں یہ  قوت   غیر ارادی طور پر مستحکم ہوتی ہے۔ وہ عام حواس خمسہ سے ماورا کسی اور طریقہ سے ان باتوں کا ادراک کرلیتے ہیں جو ابھی واقع نہ ہوئی ہوں یا عام ذرائع سے ان تک اس کا ذکر نہ پہنچا ہو۔  بعض لوگوں کو یہ قوت زیادہ منتقل ہوتی ہے اور بعض کو صرف ایک یادو خاصیتیں ملتی ہیں۔ بہت سے لوگ اس خداداد صلاحیت کو شاذہی استعمال کرپاتے ہیں۔

جن لوگوں میں ایسی صلاحیت موجود ہوتی ہے، ان میں سے اکثر اسے کوئی اہمیت نہیں دیتے بعض کو اپنی غیرمعمولی صلاحیت کا علم بھی نہیں ہوپاتا۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ توجہ، اعتماد اور ذہنی یکسوئی کی کمی کی وجہ سے بعض لوگوں میں موجود یہ  انوکھی صلاحیت معدوم بھی ہوجاتی ہے۔

روحانی علوم کےماہرین  بتاتے ہیں کہ ہمارے درمیان تبادلہ خیال درحقیقت الفاظ کی صورت میں نہیں ہوتا بلکہ ہم نے اپنے خیال کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے کچھ کوڈ  بنالئے ہیں اسی کو ہم زبان کہتے ہیں  حقیقتاً  تبادلہ  لہروں کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔

کئی حیوانات  بھی آواز کے بغیر انہی لہروں کے ذریعے  ایک دوسرے کو اپنے حال سے مطلع کردیتے ہیں۔  درختوں میں بھی تبادلۂ خیال کا یہی قانون پایا جاتا ہے۔ درختوں میں گفتگو کے لئے ان کا آمنے سامنے ہونا بھی ضروری نہیں بلکہ ہزاروں میل کے فاصلے پر بھی درخت ایک دوسرے کے خیال سے واقف ہوجاتے ہیں۔ یہی قانون جمادات میں بھی رائج ہے۔ کنکروں ، پتھروں ،مٹی کے ذروں میں من و عن اسی طرح تبادلہ خیال ہوتا ہے۔   خیال کی لہر میں تفکر اور توجہ کرکے ہم ان تحریکات   کو سمجھ سکتے ہیں۔

ایک آدمی  کے اچھے جذبات کا اثر جلد یا بدیر دوسرے آدمی پر ضرور ہوتاہے۔اگر آپ کسی کے لیے مخلصانہ جذبات رکھتے ہیں،اس کے لیے اچھا چاہتے ہیں تو وہ شخص آپ کے بتائے بغیر بھی آپ کے جذبات سے آگاہ ہوسکتاہے۔

یہ کام کیسے ہوگا….؟

اس کے بارے میں اہلِ روحانیت کا نقطۂ نظر  حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے ان الفاظ میں پیش کیا ہے۔

اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اس شخص کے لیے اچھا سوچیں ۔اس کی بھلائی ،اس کی کامیابی اور  اس کی خوشیوں کے لیے دعائیں کرنے لگیں۔

جو لوگ دوسروں کے لیے اچھے جذبات رکھتے ہیں ان کے وجود سے مثبت اورلطیف لہروں کا اخراج ہوتاہے۔ان لطیف لہروں کے اخراج سے ماحول کو بھی لطافت اورسکون میسر آتاہے اور یہ لطیف لہریں دوسرے کئی لوگوں کو بھی مسرت اور اطمینان بخشتی ہیں۔اگر یہ  اچھے خیالات  کسی ایک خاص شخص  کے لیے ہوں تو  اس کے لیے ضرور خوشی کا سبب  بنتے ہیں۔

اس کے برعکس  جو لوگ دوسروں کے لیے بُرے جذبات رکھتے ہیں ، تنگ دلی محسوس کرتے ہیں  ان کے وجود سے منفی  اورکثیف لہروں کا اخراج ہونے لگتاہے۔

انسانی وجود سے خارج ہونے والی یہ کثیف لہریں ماحول کوبوجھل بنا دیتی ہیں۔یہ کثیف لہریں کسی ایک یا زیادہ لوگوں کے لیے تکلیف  ،پریشانیوں ،بیماریوں کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔نظر بد اورحسد  وغیرہ میں بھی انسانوں اوردوسری مخلوقات کے لیے نقصان دہ کثیف لہروں کا اخراج ہوتا ہے۔

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

تعارف: روحانی ڈائجسٹ

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

درخت ماحول کے محافظ

بے قابو ہوتے موسموں کے جن کو ماحول دوست درختوں کی مدد سے قابو میں …