مائنڈ پاور

مائنڈ پاور
MIND POWER

سوچ کی ناقابل یقین قوت
The Incredible Power of Thoughts

مائنڈ پاور کے الفاظ سن کر عام طور پر لوگوں کے ذہنوں میں ٹیلی پیتھی، ہپناٹزم، مستقبل بینی، سائیکوکینیسز ، مائنڈ کنٹرول اور سائیکومیٹری جیسی ماورائی اور مافوق الفطرت صلاحیتوں کا نام آتا ہے ، جنہیں حاصل کرنے کے لیے ایک طویل عرصے صبر آزما ریاضتیں کرنا پڑتی ہیں، ہفتوں ، مہینوں اور برسوں مستقل مزاجی کے ساتھ ارتکازِ توجہ، یکسوئی، شمع بینی اور سانس کی مشقیں کی جاتی ہیں۔ تب کہیں جاکر ان مشقوں سے انسان کی زندگی میں انقلاب برپا ہوجاتا ہے اور اس کے اندر خوابیدہ قوتیں بیدار ہونے لگتی ہیں۔ جس کے بل بوتے پرانسان مافوق الفطرت کارنامے سرانجام دینے لگتا ہے۔ لوگ اسے اتنا ہی مشکل تصور کرتے ہیں جتنا پانی پر چلنا….
لیکن مائنڈ پاور پر کام کرنے والے سائنس دان ، ماہرین نفسیات اور نیورولوجسٹ کہتے ہیں کہ ، مائنڈپاور محض آپ کی سوچ اور احساس کا نام ہے۔
ہم زندگی میں ہر لمحہ کسی نہ کسی احساس سے گزرتے رہتے ہیں۔ خوشی، غم، محبت، نفرت، انتقام، بے چارگی، بے بسی، مایوسی یا پھر اس کے برعکس عزم، حوصلہ، مشکلات میں ہار نہ ماننے کا ناقابلِ شکست جذبہ، یہ سب احساسات اور جذبات انسانی سوچ کی پیداوار ہیں اور مائنڈ پاور انہی احساسات اور سوچ پر زندگی گزارنے کا دوسرا نام ہے۔
Candace Pertامریکی نیوروسائنٹسٹ اور کتاب مالیکیولز آف ایموشن Molecules of Emotionکی مصنفہ ڈاکٹر کینڈیس پرٹ Candace Pert کی تحقیق کے مطابق انسانی احساسات اور جذبات، جسم میں نیوروپیپٹائیڈ Neuropeptide کے نام سے ایک مالیکیول خارج کرتے ہیں۔ یہ نیورو پیپٹائیڈ پورے جسم میں سفر کرتا ہے ، اور ہر ریسپٹر سیلز Recepter cells کے پاس جاتا ہے،جو اس سے پیغام (سگنلز)لے کر اس کو متعلقہ کیمیکل یا یارمونز میں بدل دیتا ہے۔ اس طرح سے پورے جسم تک ایک پیغام پہنچتا ہے۔ یہ پیغام وہی احساس اور جذبہ ہے جو انسانی ذہن میں پیدا ہوتا ہے۔
خوشی، غم، اداسی۔ ڈر،خوف، نفرت یا کچھ بھی ہو ۔ اگر آپ یہ سوچیں گے کہ میرا دِل اداس ہے تو اس لمحے یقینا آپ کا جسم ایسے مالیکیولز کے زیر اثر ہو گا جو اداسی اور مایوسی کی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔
حیرت انگیز طور پر جب لوگ پُر امید، ہائی مورال اور خوشی کی ذہنی حالت میں ہوں تو اُمید کے نیوروپیپٹائیڈ خون میں انٹرفرون interferon اور انٹرلیوکن interleukin جیسے ہارمون پیدا کرتے ہیں جنہیں سائنسدانوں کے نزدیک کینسر جیسے موذی مرض سے لڑنے اور قوت مدافعت کے لیے طاقتور اور پراثر دوا مانا جاتا ہے۔
انہی حقائق کی بنیاد پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک ہی بیماری میں مبتلا افراد جو ایک ہی جیسی دوائیں کھا رہے ہوں وہ دو مختلف نتائج کیسے سامنے لے کر آتے ہیں۔ سارا کمال سوچ کا ہے۔ ایسے مریض جوسخت بیماری کے باوجود پُرامید رہیں، خود کو مثبت سوچ کے ساتھ جوڑے رکھیں، وہ ان مریضوں کی نسبت جلد صحت کی طرف لوٹ آتے ہیں جو بیماری میں مایوسی اور بے چارگی کا شکار ہو جائیں۔

آپ کی سوچ آپ کی معالج

ابھی تک تو ریسرچرز ہی یہ کہتے تھے مگر ہمیں یقین ہے کہ اس آرٹیکل کو پڑھنے کے بعد آپ بھی یہی کہیں گے کہ انسان بیمار جسم سے نہیں بلکہ اپنے دماغ یعنی سوچ سے بیمار ہوتا ہے۔
Morris Goodmanمشہور مصنف اورمقرر مورس گڈمین Morris Goodman کو دنیا کا کرشماتی آدمی کہا جاتا ہے ۔اس کی وجہ ایک ہوائی حادثہ ہے جس میں وہ بالکل مفلوج ہوکر رہ گئے تھے۔ 35 سالہ مورس گڈ مین اس وقت سوائے پلکیں جھپکانے کے اور کوئی معمولی سی حرکت کرنے سے بھی قاصر تھا۔ اس کا جسم ٹوٹی پھوٹی ہڈیوں کا مجموعہ بن گیا تھا۔ ڈاکٹروں کاخیال تھا کہ مورس اب سوائے آنکھیں جھپکنے کے اور کچھ نہیں کرسکتا ۔او ر ان ٹوٹی پھوٹی ہڈیوں کی بدولت سانس کی آمدورفت بھی شاید چند مہینے باقی رہے ۔ مورس خود کہتے ہیں کہ
‘‘پورے جسم میں بس میرا ایک دماغ ہی تھا جوٹھیک کام کررہا تھا۔ اس وقت بھی میں نے خود کو بطورمفلوج قبول نہیں کیا تھا۔ ہسپتال کے بستر پر لیٹے لیٹے میں اپنے آپ کو صحت مند سالم ہڈیوں کے ساتھ دیکھتا تھا۔ بس یہی ایک خیال میری آنکھوں کے سامنے رہتاتھا کہ میں مکمل طور سے صحت مند ہو گیا ہوں۔ بالآخر خود کو پھر سے چلتاپھرتا دیکھنے کی میری خواہش پوری ہوگئی۔ اس لگن میں کی گئی جدوجہد رنگ لے آئی اور پانچ ماہ بعد میں نے ڈاکٹرز کو ہکا بکا چھوڑ کر اپنے پیروں پر چلتے ہوئے اسپتال کوخیر بادکہہ دیا ۔
آج مورس پوری دنیا میں سیمینار کرتے ہیں ۔ لوگوں کو لیکچرز دیتے ہیں تاکہ وہ انہیں بتا سکیں کہ لوگ اپنی سوچ کی ناقابلِ یقین قوتوں کو کس طرح بروئے کار لا سکتے ہیں۔
کیا واقعی مورس گڈمین کے ساتھ کوئی کرشمہ ہوا تھا یا ہم اپنی سوچ کی پوشیدہ صلاحیتوں سے نا واقف ہیں؟ …. اگر واقعی ایسا ہے تو ہم کس طرح سے ان دماغی صلاحیتوں کو اپنی صحت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
ان سوالوں کا جواب ہمیں ڈاکٹر لیزا رینکن نے دینے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق ہم ڈاکٹرز اپنے کلینک میں دن رات لاتعداد کیسز کا مشاہدہ کرتے ہیں۔وہاں آنے والے مریضوں سے نہ صرف انٹرویو کرتے ہیں ۔ بلکہ انہیں صحتمندی کی جانب رواں رکھنے کے لیے کئی طرح کی وضاحت بھی دی جاتی ہے۔لیزا رینکن کہتی ہیں کہ ہم روز اپنے کلینک میں وہ سب دیکھتے ہیں جسے سائنس واضح نہیں کرسکتی۔ کبھی بھی اچانک سے ایک مریض اپنی بیماری کو شکست دے کر شفایاب ہو جاتا ہے اور کبھی کوئی اسی بیماری کے ہلکے سے اثر سے موت کے دہانے پہنچ جاتاہے ۔
Lissa Rankinچلیے اس حوالے سے چند دلچسپ کہانیاں سنتے ہیں۔ یہ کہانیاں امریکی ڈاکٹر اور مصنفہ لیزا رینکن Lissa Rankin کی کتاب Mind over medicine سے لی گئی ہیں۔
اسٹیمٹس موراٹس Stamatis Moraitis یونان سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جو برسوں پہلے امریکہ آ کر آباد ہو گیا۔ ادھیڑ عمری میں اسے کینسر تشخیص ہوا جو آخری سٹیج پر تھا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ اب اس کے پاس زندگی کے صرف نو مہینے ہیں۔ اس کے جسم میں کینسر پھیل چکا تھا اور ان نو مہینوں میں اس کے علاج کی کوئی امید نہ تھی۔ کچھ عرصہ وہ تکلیف دہ علاج سے گزرتا رہا، بالآخر موراٹس اور اس کی بیوی نے فیصلہ کیا کہ وہ زندگی کے اس مشکل مرحلے پر اپنے آبائی وطن واپس جانا چاہتے ہیں۔ موراٹس بھی یہی چاہتا تھا کہ اب زندگی کے جو دن باقی ہیں وہ اپنے آبائی گھر میں گزارے۔ یوں انہوں نے واپس یونان جانے کا ارادہ کر لیا۔
Stamatis Moraitisیونان کے صحت بخش اور خوبصورت جزیرے ائیکاریا Ikareaکا باسی اپنے آبائی گھر آ کر ذہنی طور پر بہت مطمئن ہو گیا۔ رفتہ رفتہ اس کے پرانے دوست اسے ملنے آنے لگے۔ اکثر احباب اور رشتہ دار اس کے پاس محفل جمائے بیٹھے رہتے۔ موراٹس کی طبیعت کچھ سنبھلنے لگی تو اس نے زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر سبزیاں اُگانا شروع کر دیں۔ اب دِن بھر وہ اس کام میں مشغول رہنے لگا۔ شام کو دوستوں کے ساتھ بورڈ گیمز کھیلتا۔ اس کے اندر امید اور خوشی کے جذبات پیدا ہونے لگے۔ مثبت سوچ نے بیمار جسم کو صحت بخش پیغامات دیئے اور موراٹس کی بیماری کی شدت معجزانہ طور پر کم ہوتی گئی۔ ڈاکٹروں کے بتائے ہوئے نو ماہ کب کے گزر گئے۔
اپنی بیماری کی تشخیص کے 25 سال بعد موراٹس واپس امریکہ گیا اور اپنے ٹیسٹ کروائے۔ ڈاکٹرز حیران تھے کہ ایک شخص جو کینسر کی آخری سٹیج پر تھا اور جسے ڈاکٹرز نے زندگی کے گنے چنے مہینے بتائے تھے وہ صحت یاب ہوچکا ہے۔ پھر موراٹس واپس اپنے آبائی گھر آ گیا۔ زندگی کی وہ صحت بخش مثبت روٹین جاری رہی۔ وہ 102 سال زندہ رہا۔
1957ء میں جنرل آف پازیٹیو ٹیکنیکس میں برونو کلوفر Bruno Klopfer کی جانب سے ایک کیس رپورٹ کیا گیا ، ڈاکٹر ویسٹ کے ایک مریض مسٹر رائٹMr. Wright کینسر لمفوساکوما lymphosarcoma میں مبتلا تھے ، ڈاکٹر علاج میں ناکام تھے، اور وقت ختم ہو رہا تھا۔ مسٹر رائٹ کی گردن، سینے، پیٹ، بغلوں میں ٹیومر بھرچکے تھے۔ ان کی تلّی اور جگر بھی بڑھ رہے تھے۔ کینسر کی وجہ سے ان کا سینہ سیال مادہ سے بھر گیا تھا جس کے کا باعث انہیں سانس لینے میں دشواری پیش آرہی تھی۔ ڈاکٹر ویسٹ کے مطابق ان کے ایک ہفتے تک جینے کی توقع نہیں تھی لیکن مسٹر رائٹ جینا چاہتے تھے۔ انہی دنوں لمفوساکوما کے علاج کے لیے ایک نئے دوا سامنے آئی تھی ، مسٹر راٹ کو امید تھی کہ اس نئی دوا سے وہ ٹھیک ہوجائیں گے۔ انہوں نے نئی دوا کے ساتھ علاج کرنے کے لئے ڈاکٹر کی منت بھی کی ، لیکن یہ دوا صرف ان مریضوں کو دی جاتی تھی جن کا کینسر کم از کم تین مہینے کی اسٹیج میں ہو جبکہ مسٹر رائٹ کا کینسر آخری اسٹیج پر پہنچ چکا تھا۔ مسٹر رائٹ نے ہار نہیں مانی۔ ڈاکٹر ویسٹ نے انہیں اس نئی دوا کا انجیکشن دے دیا۔ ڈاکٹر ویسٹ کو اُمید نہیں تھی لیکن تیسرے دن وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کا مریض نہ صرف بستر سے اُٹھ گیاہے بلکہ چہل قدمی بھی کرنے لگا ہے۔ ٹیسٹ کیے تو معلوم ہوا کہ ان کے ٹیومر کا سائز تیسرے دن ہی پہلے کےمقابلے کم ہوگیاہے۔
ڈاکٹر ویسٹ دو مہینوں تک علاج کرتے رہے۔ ان کے ٹیومرز ختم ہونے لگے تھے۔ دو مہینے بعد ایک سائنسی جنرل میں اس نئی دوا کے بارے میں ریسرچ شائع ہوئی کہ وہ اتنی کارگر نہیں جتنی سمجھی جارہی تھی۔ اس خبر کا سنناتھا مسٹر رائٹ ڈپریشن میں مبتلا ہوگئے اور چند دنوں کے بعد ان کے ٹیومر دوبارہ بڑھنے لگے۔ اس بار، ڈاکٹر ویسٹ نے اپنے مریض کو بچانے کا عزم کیا اور انہیں بتا یا کہ یہ ریسرچ غلط ہے دراصل دوائیں شپنگ کے دوران خراب ہوگئی تھیں اس لیے انہوں نے خاص ان کے لیے ایک نئی کھیپ منگوائی ہے اور ان کا علاج دوبارہ شروع کیا گیا۔
ڈاکٹر ویسٹ کے دوبارہ علاج سے مسٹر رائٹ کے مرض میں دوبارہ بہتری آنے لگی مزید دو ماہ بعد ان کی ٹیسٹ رپورٹ بھی ٹھیک آئی۔ لیکن ایک بار پھر اس دوا کے متعلق امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی تحقیق سامنے آئی کہ یہ دوا بالکل کارگر نہیں ہے۔ اس خبر پر اس بار مسٹر رائٹ نے تمام اُمید یں کھو دیں ، ان کا کینسر دوبارہ بڑھ گیا، اور وہ دو دن بعد انتقال کر گئے۔
Anthony RobbinsکتابUnlimited Power کے مصنف انتھونی روبنز Anthony Robbins ایک نفسیاتی مریض کا کیس بیان کرتے ہیں جو دوہری شخصیت Split Personality کا مریض ہے۔ اس کی شخصیات میں سے ایک ذیابیطس کی مریض ہے۔ حیرت انگیز طور پر جب اسے دورہ پڑتا تو اس کے خون میں شکر کی مقدار غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی، اس دوران کیے گئے میڈیکل ٹیسٹ میں اس کے خون میں شکر پائی جاتی تھی لیکن جب وہ نارمل ہوتا تو اس کے خون میں شکر کی مقدار بھی نارمل ہوجاتی تھی۔
The Treatment of Multiple Personality Disorderکتاب The Treatment of Multiple Personality Disorder کے مصنف اور ماہر نفسیات بنیٹ براؤن Bennett Braun بھی ایک دوہری شخصیت کے مریض ٹمی Timmy، کی صورتحال بیان کرتے ہیں کہ اس کی ایک شخصیت کو اورنج جوس سے الرجی ہے۔ حیرت انگیز طور پر جب اس پر الرجک شخصیت غالب ہوتی ہے ، اس دوران اسے اورنج جوس پلادیا جائے تو اس کی حالت خراب ہوجاتی ہے اور اس کے حلق میں آبلے پڑجاتے ہیں جیسے کسی شہد کی مکھی یا بھڑ نے کاٹ لیا ہو ، تاہم جب وہ غیر الرجک شخصیت پر واپس منتقل ہوتا ہے تواس کے آبلے غائب ہو جاتے ہیں اور وہی اورنج جوس وہ آرام سے پیتا ہے۔
لیزا رینکن کہتی ہیں کہ ہمارے سامنے ایسے ہزار کیسز ریکارڈ میں موجود ہیں۔ جن میں انتہائی خطرناک بیماریوں میں مبتلا مریض اچانک سے اپنی بیماری کو شکست دے کر شفایاب ہو جاتے ہیں۔ ان تمام مریضوں نے سوچ لیا تھا کہ وہ صحت یاب ہو کر رہیں گے ۔انہوں نے اپنی بھر پور ول پاور یعنی قوتِ ارادی اور مثبت سوچ کا استعمال کیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ خیال کی طاقت مہلک بیماریوں کے خلاف خطرناک اسلحوں کا کام سر انجام دیتی ہے ۔

 

***


The body Atlas of willpower
قوتِ ارادی   کا جسمانی نقشہ

ہماری سوچ ہی سب کچھ ہے۔  سوچ  کی  یہ  پوشیدہ قوت   بنا دوا کے استعمالdrug free اور پلاسیبو placebos اور جیسے  تجربات  میں بھر پور طریقے سے سامنے آئی ہے۔  جن میں  سر درد سے لے کر کینسر جیسے موذی مرض  کا   بھی علاج  کیا گیا ہے ۔  آپ  نے  دنیا کا نقشہ  یعنی  اٹلس تو دیکھاہوگا ۔ اپنے جسمانی نظام کا یہ  معلوماتی اٹلس بھی یاد کیجئے۔ یہ آپ کو بتائے گا کہ مائنڈ پاور  سے کون کون سے جسمانی نظام کو بہتر  کیا جاسکتا ہے ۔اور وہ کون کون سی بیماریاں ہیں جن کا علاج محض آپ کی سوچ میں پنہاں ہیں ۔

 دمہ  سے نجات

امریکی تحقیقاتی ٹیم کے مطابق 50 فیصد مریضوں میں دمہ کے بڑھنے یا زیادہ ایکٹو ہونے کی وجہ ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور منفی سوچ ہوتی ہے۔ یہاں بتاتے چلیں کہ منفی سوچ میں نفرت، حسد اور غصہ بھی آتا ہے۔  ڈاکٹرز نے ان مریضوں کے لئے بطورِ علاج ریلیکس سیشن  تیکنک اور یوگا  مشقوں کو تجویز کیا۔ ڈاکٹرز کے مطابق ریلیکس سیشن   ایکٹیوٹیز دماغ کے بائیں فرنٹل لوب کی سرگرمی کو بڑھا تیں ہیں ۔دماغ کا یہ حصہ ہمارے اچھے یا خوش مزاج ، یعنی  اچھے موڈ  اور ہوا کے نظام کو  کنٹرول کرتاہے ۔اس کی سرگرمی بڑھنے سے  مزاج میں واضح تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور ہوا یعنی آکسیجن کی سپلائی میں پیدا ہونیوالی رکاوٹ بھی دور ہوتی ہے ۔

دردِ شقیقہ  یا مائگرین

آپ کی قوتِ ارادی  آپ کو  درد شقیقہ یعنی مائگرین Migrainesکے درد اور اس کے لئے کھائی جانے والی ادویات سے نجات دلاسکتی ہے۔ یہ ثابت کرنے کے لئے ماہرین  جب مائگرین کے مریضوں کو  دوائی کے نام پر پلاسیبو   placebo(مریض کے اطمینان کے لیے دی جانے  والی فرضی دوا ) دی گئی  اور انہیں  اعصابی طور سے خود کو یہ باور کرانے پر زور دیا گیاکہ وہ ان  دوائیوں  کے ٹھیک ہو جائیں گے ۔  تو ہزاروں  کیسسز میں  مریضوں نے اپنی  تکلیف  میں کافی حد تک کمی محسوس کی ہے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ پلاسیبو لینے کے بعد  ان مریضوں کے خون میں قدرتی پین کلر مارفین کے ذرات پائے گئے ۔جن کی مقدار آٹھ ملی گرام کے قریب تھی ۔

دل  کے بند والو کھولیں

امریکی کارڈیولوجسٹ اور ہارٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر ڈین آرنش  Dean Ornishنے اپنے ایک مریض کو رضا کارانہ طور پر ایک مراقبہ کروایا۔  اس سے کہا گیا کہ وہ مسلسل یہ تصور قائم کرے کہ ا س کے  دل کے بند والو کھل گئے ہیں  اور خون کا بہاؤ پھر سے بحال ہو گیا ہے ۔اس دوران سی ٹی سکین کے ذریعے اس کے دل کی دھڑکن اور اور پروگریس کو بھی جانچا جاتارہا ، اسے اورنیش وِل پاور تیکنک کا نام دیا جاتا ہے۔ جس کے مطابق دل کے والوکھولنے کے لئے محض یہ ایک تصو ر  قائم کرلینا ہی کافی ہے ۔اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ دل ایک ایسا عضو ہے جو خود کو صحت یاب کرنے اور نئے خلیے بنانے کی اہلیت رکھتا ہے اور یہ تیکنیک دراصل اسی اہلیت کو مزید متحرک کرنے کا ایک طریقہ ہے ۔

بدہضمی اور بایو فیڈبیک میتھڈ

لئیژ Liège یونیورسٹی بیلجئم  کی  ریسرچ کے مطابق بدہضمی کا آپ کی سوچ سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔  اس کے  طریقہ علاج کو انھوں نے بایو فیڈ بیک میتھڈ  کا نام دیا ہے۔اس میتھڈ میں  الیکٹروڈز مریض  کی  انگلیوں کے حساس پوروں  سے کنیکٹ کئے جاتے ہیں  جو منسلک کمپیوٹر  کو سگنل بھیجتے ہیں۔ مونیٹر پر  دل کی دھڑکن، درجہ حرارت، سانس کی آمدورفت اور بلڈ پریشر ظاہر ہونے لگتا ہے ،  جس سے پتا چل جاتا ہے مریض اس وقت اسٹریس کی حالت میں ہے یا نارمل ہے۔  مریض کے ذہنی دباؤ کی شرح کو جانچتے ہوئے   ڈاکٹرز  ریلیکس سیشن مشقیں بتاتے ہیں۔مریض  کو اس کے اعضاء اور جسمانی  نظام سے ذہن سے  فوکس کرنا سکھایا جاتا ہے ۔اس تھراپی میں   ان برین ویوز کو  کنٹرول کیا جاتاہے  جواس بدہضمی، معدے کے شدید درد میں ابنارمل ہو جاتی ہیں۔ اس  طرح سے مریض اپنی ذہنی حالت  کے ساتھ اس تکلیف یا درد کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتاہے۔ یہ تھرا پی  عموما ڈاکٹرز کی زیرِ نگرانی کی جاتی ہے۔   یہ ایک کمپیوٹر پروگرامنگ ہے  جس میں  بایو فیڈ  سینسر کو  مریض   اپنے ذاتی کمپوٹر سے کنیکٹ کرکے   خود اپنی مانیٹرنگ  بھی کر سکتا ہے ۔

ہائی بلڈ پریشر اور مثبت سوچ

ہائی بلڈ پیشر کے لئے بھی پلاسیبو یا میٹھی گولیوں نے حیرت  انگیز نتائج دئیے ۔  امریکی ڈاکٹر جیفری کوچ Jeffrey Koch نے ہائی بلڈپریشر کے مریضوں کے ایک مخصوص گروپ کو پلاسیبو کو بطور دوائی کے  اس اعلان  کے ساتھ استعمال   کروایا کہ یہ  دوسروں کے لئے بہت اچھے کام کرچکے ہیں۔ کامیاب نتائج کے بارے میں ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ یہ احساس کہ وہ دوسروں کے لئے بہت اچھے ثابت ہوئے پلاسیبو کو ٹریگر کرنے اور جسم کے خودکار شفایابی نظام کو متحرک کرنے لئے بہت اہم  اور کافی ثابت ہوا   اور 60 فیصد  مریضوں میں بہتری نظر آئی۔

کمر کے درد سے نجات

جارجیا  Georgia یو نیورسٹی میں ہونے والے ایک تجربے میں لوگوں کے ایک گروپ کو پندرہ پندرہ منٹ کے دو سیشن کروائے گئے ۔جس میں انہیں پندرہ منٹ کے لئے میڈیٹیشن  روزانہ  طویل عرصے تک کروائیں گئیں۔ ان ریلیکسیشن میڈیٹیشن  کے بعد 50 فیصد سے زائد  لوگوں کی کمر درد کی شکایت ختم ہو گئی۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کمر درد کی بنیادی اور عمومی وجوہات میں اسٹریس  اور روز مرہ کا ڈپریشن ہوتا ہے۔ 70 فیصد سے زائد لوگوں میں ارتکازی مشقوں کے ذریعے کارٹیسل Cartisol ہارمون کے اخراج کو معمول پر لے آتی ہیں ۔جو کمر درد سے نجات کا باعث بنتا ہے ۔

نیورو پلاسٹیسٹی اور آرتھرائیٹس

ایک تجربے میں جوڑوں کے درد میں مبتلا 180 مریض آپریشن تھیٹر میں لائے گئے ۔ان میں سے نصف سے زائد مریضوں کا آپریشن سر ے سے کیا ہی نہیں گیا ۔یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ فرضی  آپریشن کئے گئے ۔ یہ مریض بالکل اسی طرح رو بہ صحت ہوئے جس طرح اصلی آپریشن والے مریض تھے ۔یا شاید ان سے بھی زیادہ تیزی سے ۔اس کی وجہ ڈاکٹرز  بتاتے ہیں کہ ان مریضوں کو آپریشن تھیٹر ضرور لایا گیا۔ چونکہ ان کے گھٹنوں پر  ہلکاسا کٹ لگایا گیا ۔جس سے ان کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہو گیاکہ ان  کے گھٹنوں کی  سرجری ہو رہی ہے ۔اس احساس کے پیدا ہوتے ہی  اعصابی خلیوں یا نرو سیلز  میں   زخم کو ہیل کرنے کا شفایابی کا ابتدائی   مدافعتی نظام متحرک ہو گیا ۔ اس طریقہ علاج کو نیورو پلاسٹیسٹی کہا جاتا ہے۔ آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر بروس  موسلے   Bruce Moseley  کا کہنا ہے  کہ  مریضوں پر کیے جانے والے غیر حقیقی آپریشنز بھی اتنے ہی کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔ جتنے کہ حقیقی آپریشنز ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ ان کے یقین کا اس قدر مضبوط ہو جانا ہے کہ آپریشن کے بعد یہ تکلیف باقی نہیں رہتی ۔ انہوں  نے بتایا کہ آرتھرائیٹس کے ایسے مریض جو گھٹنوں کے شدید درد میں مبتلا تھے۔ جب انہوں نے یہ سوچ لیا کہ انھیں اس مرض سے نجات پانی ہے تو انہوں نے نجات پا لی۔

***

منفی سوچ بیماری کی جڑ ہے

لیزا رینکن کہتی ہیں کہ اسٹریس یعنی ذہنی دباؤ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں ہمارے جسم کا خودکار شفایابی کا نظام یا نیچرل سیلف ریپئیر میکینزم Natural Self-Repair Mechanismsکام کرنابند کردیتا ہے۔ ہمارے جسم کا یہ قدرتی خود کار نظام اسی وقت کام کرتاہے جب ہم اسٹر یس اور منفی سوچ سے دور ہوتے ہیں ۔ یہ بات بھی اب قابلِ تصدیق ہے کہ ہماری سوچ ہمارے جسم کا ایک حصہ ہے جسے ناپا جا سکتا ہے، جانا جا سکتاہے ۔ بہت سارے ڈاکٹرز کے خیال میں مورس گڈمین کے ساتھ کوئی کرشمہ نہیں ہوا تھا بلکہ یقینی طور پر جسم کے پیچیدہ ری جنیریشن سسٹم Regeneration System کو مائنڈپاور سے کنٹرول کیا گیا ہے۔
Jerome Groopmanہارڈوڈ میڈیکل اسکول کے ماہر آنکولوجسٹ جیروم گروپمین Jerome Groopman ، اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سائنس کی زبان میں جذبات کی تعریف مختلف ہارمونز اور نیورو ٹرانسمیٹرز کے خارج ہونے والی کیمیائی مادے ہیں۔ مثال کے طور پر ایپی نیفرین Epinephrine ڈر، ناراضی او ردل جوئی جیسی کیفیات پیدا کرتاہے ۔تو نارایپی نیفرین Norepinephrine کا کام اچانک کسی صدمے میں ردعمل کا اظہار کرنا ہے۔ خطرے کی حالت میں انسان وہاں سے بھاگتا دوڑتا ہے۔خون کادباؤ بڑھاتا ہے ۔دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے ۔جسم گرم ہوجاتا ہے۔ سوچتے سوچتے آنکھوں میں پانی بھر آتا ہے ۔دل کی رفتار سست پڑنے لگتی ہے۔ شریانوں میں اکڑن ہونے لگتی ہے۔مطلب رنج و غم کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔تو اس کا مطلب ایسیٹالکولین Acetylcholine سر گرمِ عمل ہے۔ اس کے برعکس سیراٹونِن Serotonin ذمہ دار ہے کہ وہ آپ کو خوش رکھے ، مطمئن رکھے ۔
پھر یہ بات بہت آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ جب آپ کسی بھی چیز کے بارے منفی سوچ رکھتے ہیں یا کوئی منفی جذبہ پیدا ہوتاہے ۔چاہے آپ اس وقت اس منفی سوچ کے دباؤ کا شکار نہ ہوں ۔مگر اس جذبے یا سوچ کے تحت خارج ہونے والے کیمیائی مادے جسمانی نظام کے ساتھ اعصابی نظام پر بھی پر اثر انداز ہو جاتے ہیں ۔نتیجے میں غیر محسوس طریقے سے آپ ذہنی دباؤ اسٹریس یا ڈپریشن کے مریض بنتے چلے جاتے ہیں یا پھر جسمانی نظام کا آپ کا کوئی نہ کوئی حصہ اس کا شکار ہوکر بیماری کی صورت میں سامنے آتاہے ۔

مائنڈ پاور سے کینسر کا علاج

جی ہاں ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ یہی مائنڈ پاور ہمیں کینسر کے بہت سے مریضوں میں بھی نظر آتی ہے۔ جن کے جسم میں بڑھتے ہوئے ٹیومرز اچانک سکڑنا شروع ہو جاتے ہیں اور مریض کینسر جیسے مرض کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ریسرچرز کے مطابق کینسر کا ٹیومر اپنے اندرNerve Fiber رکھتا ہے۔ یہ ہمارے دماغ اور سنٹرل نروس سسٹم حصہ بن جاتا ہے اور ا سے حاصل ہونے والی توانائی کوجذب کرکے خود کو ضرب دیتا رہتا ہے۔ ریسرچرز کا ماننا ہے کہ مریض کی منفی سوچ اور اس موذی بیماری کے بارے میں خدشات، موت کا خوف ان ٹیومرز کی تعداد بڑھانے اور قوتِ مدافت کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جو مریض اس بات پر پختہ یقین کر لیں کہ وہ صحت مند ہو سکتے ہیں ۔وہ یقیناً اپنی بیماری کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یعنی ان کا یقین جتنا پختہ ہوتا ہے وہ اتنے ہی زیادہ دفاعی خلیے یعنی Immune Cells بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

Carl Stonier

ڈاکٹر کارل اسٹونئیر Carl Stonierجنہوں نے حال ہی میں کینسر جیسے موزی بیماری کی شفایابی میں جسمانی اور نفسیاتی تعلق پر اپنا ڈاکٹریٹ کیا ہے کاکہناہے کہ
‘‘ جب کوئی کینسر پیشنٹ میرے پاس آتا ہے تو میں اس سے باتیں کرتاہوں ۔اس کے لئے ایک خیالی دنیا آباد کرتا ہوں۔اسے انہیں زندگی کے اس خیالی مقام تک لے جاتا ہوں جہاں وہ خود کو سب سے زیادہ مطمئن اور خوش محسوس کرتاہے ۔ اسی طرح کے کم سے کم دو سیششن کرنے کے بعد ۔ ڈاکٹر کا رل ان کو خیالی کنٹرول روم میں لے جاتے ہیں ۔جہاں وہ سیکھتے ہیں کہ کس طرح وہ اپنی سوچ پر قابو پائیں اور کینسر سیلز کے سگنلز اور پروڈکشن کا بٹن آف کریں۔
اوہایو یونیورسٹی Ohio Universityکے ریسرچرز نے اسی بنیاد پر ایک ایسا طریقہ علاج نکالا ہے۔ جس میں ناکارہ یا مفلوج پٹھوں Musclesکو اپنی سوچ کے ذریعے Regenerate کیا جا سکتا ہے۔ یعنی اس طریقہ علاج میں کوئی ٹیکنالوجی درکار نہیں ہے۔ بلکہ اس طریقہ علاج میں 12 ہفتوں کے لیے مریض کو روزانہ 15 منٹ کی ایک مشق کرائی جاتی ہے۔ اس مشق کے دوران مریض اپنے مفلوج اعضاء کو حرکت کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ جس کا مقصد دماغ کو اس ناکارہ عضو یا پٹھے کو حرکت کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

سوچ جینٹک کوڈ کو بدل سکتی ہے

Bruce Liptonجی ہاں ! کو ئی بھی اچانک صدمہ یا پھر ایسا منفی ماحول جہاں ذہنی دباؤ کے سوا کچھ نہ ہو جینز پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے ۔سیل بایولوجسٹ بروس لپٹن Bruce Lipton کا کہنا ہے کہ خلئے اپنی تقسیم کے دوران ما حول کا اثر قبول کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ آپ کے لائف اسٹائل اور تجربات کی چھاپ رہ جاتی ہے۔
میکس پلانک انسٹیٹیوٹ فار سائیکیٹری Max Planck Institute for Psychiatryنے پہلی بار جذبات و کیفیات اور جین کے درمیان ربط پر اپنی تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ اسٹریس چاہے ماحول کا ہو ، مزاج کا ہو یا کسی اچانک صدمے کا یہ براہ راست خلیوں کی بایو کیمیائی خصوصیات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مثبت سوچ اور اچھی کیفیات ہمارے ڈی این اے کوتبدیل بھی کیا جاسکتا ہے….؟ یہ سوال تھا یونیورسٹی آف کیلگری University of Calgaryکینیڈا کے ریسرچرز کا ، جس کے جوا ب حاصل کرنے کے لئے انہوں نے میڈیٹیشنز تیکنکس کے ساتھ 90 منٹ روزانہ 12 ہفتے کا ایک پروگرام منعقد کیا۔ مراقبے کی مختلف تیکنکس کے ذریعے ڈی این اے میں بایو کمییکل تبدیلیوں کو جاننے اور پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے لئے جب مراقبہ کرنے والے افراد کا بلڈ ٹیسٹ کیا گیا تو ان کے کرموسوم کے آخری سرے ٹیلو مر کنٹرول گروپ کے مقابلے میں زیادہ لمبے پائے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سیل کی تقسیم کے بعد اس کا سائز کم ہوتا جاتا ہے ۔لہذا جیسے جیسے عمر بڑھتی جاتی ہے ۔اس کے سائز میں کمی واقع ہوتی جاتی ہے اور جیسے جیسے اس کے سائز میں کمی ہوتی ہے ویسے ویسے زندگی بھی کم ہوتی جاتی ہے ۔اور اس کا لمبا ہونا اچھی، صحتمند اور درازی عمری کی نشانی ہے۔

***

6 Mind Power Tricks

مائنڈ پاور ایکٹیو کرنے کے 6 فارمولے

ریسرچ کے مطابق جو لوگ  نفسیاتی طور پر مطمئن،  پرسکون  اور   مثبت سوچ رکھتے ہیں وہ کم بیمار پڑتے ہیں اور جو لوگ منفی خیالات رکھتے ہیں اور ذرا سی بات پر  اسٹریس  لے لیتے ہیں وہ جلد بیماری میں  مبتلا ہوجاتے  ہیں۔ اینڈوکرائنولوجسٹ Endocrinologist  کرسٹوفر برگر Christopher Berger   کہتے ہیں کہ   ‘‘ بیماری میں نفسیاتی عوامل اہم ا کردار ادا کرتے ہیں’’۔    اپنے ذہن کو  نااُمیدی سے اُمید   کی طرف کس طرح لائیں اور اپنے منفی خیالات پر   کیسے قابو پائیں اس کے لیے  6 فارمولے  بنائے گئے ہیں۔

6 Hour Formula

جب آپ سو  رہے ہوتے ہیں ، تو  ہمارا جسم  فی سیکنڈ   50 ارب خلیات کی  مرمت کر سکتا ہے،  سیل کی بحالی کا یہ rejuvenation programme پروگرام،  جسم اور   ذہن  دونوں کے لئے بھی     کام کرتا ہے ۔      چنانچہ آپ روزانہ کم از کم 6 گھنٹے بھرپور نیند لینے کے بعد   زیادہ تر چیلنجز  کا بہت آسانی سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔  کم سونے سے آپ کا کنسنٹریشن لیول    بھی کم ہوسکتا ہے۔

90 Degree Formula


جرمن  ماہر نفسیات  ساشا ٹوپولنسکی Sascha Topolinski کہتے ہیں کہ جسم کا ڈھیلا ڈھالا اور خم دار انداز  Slumped Posture ناصرف منفی خیالات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ یہ ان کو تخلیق بھی کرتا ہے،      جبکہ چست  رہنے والے  افراد  زیادہ پر اُمید، حوصلہ افزاء  اور مضبوط ہوتے ہیں۔ لہٰذا  نشست    کے دوران جسم کو اتنا چست رکھیں کہ وہ  90 ڈگری  زاویہ سئ نہ کم ہو نہ زیادہ۔

15+  Formula

جب ہم ہنستے اور مسکراتے ہیں ہیں، تو ہمارے چیرے کے وہ  80مسلز ایکٹیو ہوتے ہیں جن  سے ہمارا دماغ  ایک خاص کیمیکل  سیروٹونن خارج کرتا ہے۔ یہ کیمیکل ہمارے  اندر اطمینان اور سکون کے جذبات پیدا کرتے ہیں۔  ماہر نفسیات فرٹز اسٹراک Fritz Strack کے مطابق آپ مسکرا کر اپنے ذہن کو مطمئن  اور وِل پاور کو مضبوط بناسکتے ہیں چاہے  وہ مسکراہٹ مصنوعی Symmetrical  Smile کیوں نہ ہو،  بس آپ نے روزانہ کم از کم 15 مرتبہ مسکرانا ہے،  کیا آپ جانتے ہیں کہ  ایک بچہ دن میں 400 مرتبہ مسکراتا ہے۔

3 Question Formula

کچھ لوگوں کو  لگتا ہے کہ  تمام  پریشانیاں، مسائل اور بیماریاں ان کی قسمت میں ہی لکھ دی گئی ہیں اور ان کا  زندگی پر کوئی کنٹرول نہیں ہے ، یہی نااُمیدی    اُن کی قوت مدافعت کو بھی کمزور کرنے لگتی ہے۔   ماہرین      کہتے ہیں کہ ایسے لوگ  روزانہ 3 مرتبہ  یہ سوال خود سے پوچھیں  کہ ‘‘اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے  میں آج کیا کر سکتا ہوں؟ ’’ اور ان 3 جملوں  سے خود کو دور رکھیں ، ‘‘کاش میں یہ کرسکتا’’،  ‘‘کاش میرے پاس یہ ہوتا’’، ‘‘اگر میں یہ کرتا تو ایسا نہ ہوتا، شاید ایسا ہی ہونا تھا’’….   یہ مشق آپ کے اندر مثبت سوچ اُجاگر کردے گی۔

12 Week Formula

کیلگری یونیورسٹی کینیڈا   میں  سینے کے سرطان میں مبتلا لوگوں کو  12 ہفتے  تک ہر روز مائنڈ فلنیس بیسڈ مراقبہ اور ہاتھا  یوگا مشق  کرائی گئی تو ان کے کروموسوم میں  ٹیلومرس    telomeres دوسروں کی نسبت زیادہ صحت مند  پائے  گئے، جن کا تعلق  بیماریوں کے خلاف مدافعت اور عمر  بڑھنے کی رفتار  سے ہوتا ہے۔   صحت مند ٹیلومرس  رکھنے والے لوگ دوسروں کی نسبت   دیر سے بوڑھے ہوتے ہیں ۔    لہٰذا  جسم اور دماغ کے درمیان اس ‘‘کیمیائی لائن’’ کو  تندرست کرنے کے لیے  12 ہفتے  تک روزانہ  90 منٹ یوگا  یا پھر مائنڈ فلنیس بیسڈ مراقبہ تکنیکس  کی جائیں۔

200 millisecond Formula

اعصابی  و نفسیاتی قوت  اور  وِل پاور کو مضبوط بنانے کے لیے نیورولوجسٹ  ایک ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں جسے نیورو فیڈ بیک  NeuroFeedback کہا جاتا ہے۔      نیور فیڈ بیک میں کسی بھی شخص کے سر پر الیکٹروڈ سینسر منسلک کیے جاتے ہیں، یہ الیکٹروڈ ذہنی لہروں Brain Waves کو کمپیوٹر اسکرین پر ظاہر کرتے ہیں  اور  پھر  جیسے ہی  نیورو فیڈ بیک  آلہ  منفی سوچ کے متعلق خبردار کرتا ہے کمپیوٹر   کے ذریعے ذہن کو پر سکون لہریں  بھیجی جاتی ہیں   اس طریقہ کو ‘‘سیلف ریگولیشن ’’کہا جاتا ہے۔  یہ تکنیک  ذہن و خیالات پر براہ راست عمل کرتی  ہے اور اس عمل میں صرف 0.2 سیکنڈ یعنی 200 ملی سیکنڈ کا  وقت  لگتا ہے اور  اس عمل  کو کسی بھی اوقات  میں سینکڑوں بار کیا جاسکتا ہے ،  اس سے دماغ  پر کوئی منفی اثرات نہیں پڑتے  اور دماغ سوچ کو زیادہ مثبت سطح پر قائم رکھنا سیکھ سیکھ جاتا  ہے۔

***

خواب ایک قدرتی ایکسرے مشین

جہاں ایک طرف جین ریسرچرز مائنڈ پاور اور میڈیٹیشن کے ذریعے اس کے جینز پر اثرات اور تبدیلیوں کا مطالعہ کر رہے ہیں ۔تو دوسری جانب ڈریم ریسرچرزDream Researchers تحت الشعور کی طاقت اور ا س میں چھپے اسرار سے پردہ اٹھانے میں ہم تن مصروف ہیں۔
خواب کیا ہیں ؟اور خوابوں کا ہماری اس چلتی پھرتی شعوری زندگی سے کتنا گہرا تعلق ہے ؟
روحانی ڈائجسٹ کے قارئین کے لئے یہ بالکل بھی نئی بات نہیں اوران کے لئے اسے سمجھنا قطعی مشکل نہیں کہ خوابوں کی دنیا ہماری زندگی کا نصف حصہ ہے۔ مگر مغربی دنیا میں محققین اور سائنسدانوں کاخوابوں کی دنیا کے اس حیرت کدہ کے بارے میں کہنا ہے کہ ‘‘خواب کسی ایکسر ے مشین کی طرح ہماری روح اور جسم کو چھان لیتے ہیں۔ نیند کے حواس میں نظر آنے والی کوئی بھی چیز کوئی بھی واقعہ کوئی نہ کوئی معنی ضرور رکھتا ہے۔ یہ نا صرف ہمارے خیالات اور خواہشات کے آئینہ دار ہوتے ہیں بلکہ ہمارے جسم میں رونما ہونے والی تبدیلیاں اورساتھ ساتھ کسی بھی طرح کی چھپی ہوئی بیماری کا بھی عندیہ دے دیتے ہیں ’’۔وہ کہتے ہیں کہ :
‘‘آپ اپنے خوابوں کو سنجیدہ لیجئے ۔یہ آپ کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں کہ بلکہ ایک قدرتی خطرے کا الارم ہے ۔جو وقت سے پہلے ہوشیار کرنے کے لئے بج پڑتا ہے ’’۔
اس کی ٹھوڑی میں کوئلوں سی دہکنے والی آگ لگی ہو ئی تھی ۔وہ انگاروں کی طرح سرخ ہورہی تھی۔ اتنی زیادہ کے برانڈن ٹینر Brandon Tanner کے لئے اس درد کو برداشت کرنا ناممکن ہو رہا تھا ۔درد کی شدت اور جلن ایسی تھی کہ برانڈ ٹینر کی آنکھ جب اس ڈراؤنے خواب کے بعد کھلی تو ا سکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ مگر سب کچھ نارمل تھا۔نہ درد تھا نہ جلن ۔اور پھراسی طرح وقفے وقفے سے اسے یہ ڈراؤ ناخواب آنے لگا۔ جس میں وہ اپنی تھوڑی میں آگ لگی دیکھتا۔ اور جب آنکھ کھلتی تو نہ آگ ہوتی نہ کوئی درد۔ چھتیس سالہ ٹینر کو جب یہ خواب زیادہ پریشان کرنے لگا تو ایک دن اس نے یہ خواب اپنے ڈاکٹر کو بتایا۔

Bernhard Siegelڈاکٹر بیرن ہارڈ سیگل Bernhard Siegel نے ا س کا مکمل میڈیکل چیک اپ کو کرنا مناسب سمجھا۔فوری طور سے کئی ٹیسٹ کروائے۔ پتا چلا کہ ٹینر کو تھائرائیڈ کینسر ہے۔مگر یہ بھی اس کی خوش قسمتی تھی کہ کینسر ابھی بالکل ابتدائی اسٹیج پر تھااور جس کا بروقت علاج کامیابی کے ساتھ کروا لیا گیا۔
ایسا کس طرح ہوتا ہے…. ؟
ہمارے خواب ہماری بیماری جو کہ ابھی سامنے بھی نہیں آئی۔ اس کا پتہ کیسے دیتے ہیں….؟
محقیقن ابھی اس کے بارے میں انجان ہیں۔اور تحقیق کا میدان یہ راز جاننے میں سر گرمِ عمل ہے کہ ہماری بیماری کا ظاہر ہونے سے پہلے ہی ہمارے تحت الشعور یا سب کانشیس مائنڈ Subconscious Mindکو کس طرح پتاچل جاتاہے۔ اب تک کی حالیہ تحقیقات کی بنیاد پر یہ کہتے ہی کہ اگر آپ کے خواب اچانک سے ڈراؤنے ہو جائیں یا آپ خوابوں میں لڑائی معرکہ ، خون ریزی دیکھنے لگیں توانہیں سنجیدگی سے لیجئے ۔ آپ کے ڈراؤنے خواب شدید اعصابی دباؤ کے ساتھ ساتھ کسی خطرناک اعصابی بیماری جیسے سکلیروسزSclerosis، تورت tourette یارعشہ یا اعضاء کا تشنج ، پارکنسن اور اعصاب میں پیدا ہوانے والا کوئی نقص بھی ہو سکتا ہے۔
Vasily Kasatkinروسی ماہر نفسیات اور کتاب A Theory of Dreamsکے مصنف ویسلے کیسٹکن Vasily Kasatkinنے خواب اور بیماری کے آپس میں تعلق کو سمجھنے کے لئے تین ہزار کیس سٹڈی کئے۔ ویسلے کیسٹکن کے مطابق اسٹڈی کے نتائج حیران کن تھے ۔ جس سے یہ بات سامنے آئی کہ پچیاسی فی صد لوگوں میں بیماری از خود اپنے آنے کا پتا دیتی ہے۔ اور اس سے متعلقہ واضح علامات اور درد کو لوگوں نے اپنے خوابوں میں دیکھا اور محسوس کیا۔ جیسے کہ ایک آرمی آفیسر نے خواب میں دیکھا کہ لڑائی کے دوران اس کے معدے کے نچلی دائیں جانب شدید زخم آیا ہے اور دوسرے ہی دن اسے اپنڈکس کے شدید درد کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔
ویسلے کیسٹکن کی تحقیق کے مطابق دنیاوی طور پر علامات ظاہر ہونے اور بیماری کے سامنے آنے میں چند گھنٹے سے لے کر سال دو سال بھی لگ سکتے ہیں۔ اس لئے خواب میں حیرت انگیز طور پر نظر آنے والی پہلی علامتوں کو ہی اگر سنجیدگی سے لیا جائے اور ڈاکٹرسے رجوع کیا جائے تو بہت زیادہ تکلیف اور درد سے بچا جا سکتا ہے ۔
مائنڈ پاور یا انسانی ذہن کی طاقت، ایک حیران کن موضوع ہے۔ آپ جتنا اس پر پڑھتے جائیں حیرت کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ مائنڈ پاور کی اہمیت جاننے اور تسلیم کرنے والے اب اسے متبادل طریقہ علاج Alternative Medicine کے طور پر بھی استعمال کر رہے ہیں۔
صرف ذہن کی طاقت کو استعمال کرنے والے برسوں کے بیمار افراد اپنے جسم کے اندر ہی صحت کے سرچشمے کو متحرک کر کے بیماریوں سے نجات حاصل کر رہے ہیں۔
مائنڈ پاور کو استعمال کر کے صرف بیمار افراد ہی اپنی زندگی کو صحت اور خوشی سے نہیں بھر سکتے بلکہ زندگی میں کامیابی اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے بھی مائنڈ پاور، انسانی سوچ کی طاقت مثبت نتائج سامنے لارہی ہے۔

ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ،  ستمبر 2016ء کے شمارے سے انتخاب

تحریر : حنا عظیم

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

درخت ماحول کے محافظ

بے قابو ہوتے موسموں کے جن کو ماحول دوست درختوں کی مدد سے قابو میں …