مافوق الفطرت حواس


روحانی ڈائجسٹ مئی 2016ء کے شمارے میں ‘‘عقل حیران ہے! سائنس خاموش ہے! ’’ کے صفحات پر دنیا کو اپنی منفرد صلاحیتوں سے حیرت میں ڈالنے والے اور سُپر ہومن، جیسی سپر نیچرل صلاحیتیں رکھنے والے غیرمعمولی افراد کا تذکرہ کیا تھا، جو عصر حاضر یعنی اکیسویں صدی میں بھی دنیا میں موجود ہیں۔
آئیے….! اب ہم آپ کو ملاتے ہیں چند مزید ایسے انسانوں سے جو سپر نیچرل سینس Supernatural Senseیعنی مافوق الفطرت حواس کے حامل ہیں ۔
عام انسان دیکھنے کے لیے آنکھ، سننے کے لیے کان، چھونے کے لیے ہاتھ، چکھنے کے لیے زبان، سونگھنے کے لیے ناک استعمال کرتے ہیں۔
لیکن سپر سینس رکھنے والے ان لوگوں کو دیکھنے کے لیے نہ آنکھ کی ضرورت ہوتی ہے نہ چکھنے کے لیے زبان کی، نہ سننے کے لیے کان کی۔
کسی کے لیے یہ سپر نیچرل سینس مرض کی طرح ہیں، تو کسی کے لیے یہ غیر معمولی صلاحیت ہے ….  


ہم برسوں سے سنتے اور مانتے  آرہے ہیں کہ انسان اور حیوانات دنیا سے تعلق قائم رکھنے اور اطلاعات کو سمجھنے یا قبول کرنے کے لیے حواسِ خمسہ سے کام  لیتے ہیں۔ یعنی ہم دنیا کی جس شے کا بھی شعور رکھتے ہیں یا ادراک کرتے ہیں وہ ہمارے حسی اعضاء سے دماغ تک پہنچنے والی اطلاعات کا نتیجہ ہوتی ہے۔

نفسیات ہو یا سائنس ہمیں یہی بتایا جاتا ہے کہ قدرت نے ہمیں دیکھنے کے لیے آنکھ، سننے کے لیے کان، چھونے کے لیے ہاتھ، چکھنے کے لیے زبان، سونگھنے کے لیے ناک عطا کی ہے۔

لیکن اگر ذائقہ کا تعلق صرف زبان سے ہے تو  غذا کو تصویر یا ٹی وی پر محض دیکھ کر ہی منہ میں پانی کیوں آجاتا ہے….؟ گلاب یا کسی پھول کے متعلق سوچ کر ہی ہمیں اس کی خوشبو کیوں محسوس ہوتی ہے….؟   اس کی ایک مثال آپ خواب سے لے سکتے ہیں۔ گہری نیند میں دورانِ خواب ہم چل پھر رہے ہوتے ہیں۔ چیزوں کو دیکھ اور سن بھی رہے ہوتے ہیں ، بو اور ذائقہ محسوس کررہے ہوتے ہیں مگر اس گہری نیند کے دوران آپ کے حسی اعضاء  آنکھ ، کان، ناک  بیرونی دنیا کی کوئی آواز کوئی روشنی کوئی خوشبو محسوس نہیں کرتے۔ آپ کے کان بھی ہوتے ہیں اور کان کے حواس بھی مگر سوتے وقت کوئی آپ کے قریب کھڑے ہوکر تیز آواز میں بھی بولے تو آپ کو آواز سنائی نہیں دیتی لیکن خواب میں آپ کا ذہن جہاں ہوتا ہے وہاں کی ہرآواز سن رہاہوتا ہے اور خواب سے جاگنے کے بعد بھی وہ آواز آپ کو یاد رہتی ہے۔

تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ حواس کا تعلق جسم سے نہیں ذہن سے  ہے ….؟  تو پھر  کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم آنکھوں سے سنیں، کان سے دیکھیں، ہاتھ سے سونگھیں اور زبان سے محسوس کریں….؟

کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ ہم آواز کو دیکھ کر اور رنگ کو چکھ کر محسوس کریں، خوشبو کو چھوکر اور ذائقہ کو سن کر پہچان لیں۔

مغربی سائنسدانوں کے مطابق دنیا میں آج بھی بعض ایسے افراد موجود ہیں جو  غیر معمولی حواس کے حامل ہیں۔  جو دنیا کو اس طریقے سے نہیں دیکھتے ،  سنتے  یا محسوس کرتے جس طرح ہم  کرتے ہیں۔

آنکھ کے بغیر بصارت

ممکن ہےکہ  آپ بھی ہماری طرح یہ جان کر حیرت زدہ رہ جائیں کہ ترکی میں مقیم اشرف ارمغان Eşref Armağanپیدائشی نابینا ہونے کے باوجود تصویریں بناتے ہیں…. پیدائشی نابینا ہونے کے باوجود اشرف تقریباً حقیقت سے قریب ترتصاویر بنانے پر قادر ہیں۔

اشرف ارمغان 1953ء میں ترکی کے تاریخی شہر استنبول کے غریب طبقے میں پیدا ہوئے۔  ان کے والد جو کچھ روزانہ کماتے اسی سے گھر چلتا۔ جب اشرف کے والدین پر انکشاف ہوا کہ ان کا بیٹا بینائی سے محروم ہے تو وہ بہت چاہنے کے باوجود اس کی آنکھوں کا علاج نہ کراسکے۔ والدین کچھ عرصہ تو اس کی خصوصی دیکھ بھال کرتے رہے لیکن جب اشرف نے شعور سنبھالا تو بے پرواہ ہوگئے۔ نابینا ہونے کے باعث وہ محلے کے بچوں کے ساتھ نہیں کھیل سکتے تھے۔ اب دنیا سے الگ تھلگ اس باسی کے ہاتھ ایک نیا مشغلہ لگ گیا۔ وہ دیر تک بیٹھے مٹی پر لائنیں بنا کر ان اشیاء کو بنانے کی کوشش کر تے جنہیں صرف اس کے ہاتھ مس کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ مشغلہ شوق بن گیا اور یوں اشرف کی مصوری نے جنم لیا۔ مسلسل مشق کے باعث اشرف کے دماغ میں موجود

‘‘تصوّر کی آنکھ’’

اتنی موثر ہوگئی کہ وہ کسی شے کو چھوکر اسے لائنوں کی شکل میں کاغذ پر ڈھالنے لگے۔ وہ چھ سال کے تھے جب پنسل اور کاغذ کی مدد سے انہوں نے اپنی اولین ڈرائنگ بنائیں۔

یہ انسانی حواس  کا کرشمہ ہی ہے کہ ایک انسان جس نے کبھی کسی شے کو نہیں دیکھا اور رنگ کے بارے میں بھی کوئی واضح رائے نہیں رکھتا لیکن پھر بھی وہ پھولوں، تتلیوں، مچھلیوں اور انسانوں کی حقیقت سے قریب تر تصاویر تخلیق کرنے پر قادر ہے۔    تاہم جب اشرف تصویر بنارہے ہوں  تو یہ ضروری ہے کہ  ان کے اردگرد خاموشی ہو۔ دراصل ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ تصویر میں مکمل طور پر جذب ہوجائیں۔ یہ انتہائی درجے کا استغراق اور محویت ہی ہے جس نے بغرض مصوری اشرف کے اندر بے پناہ دماغی صلاحیتیں بیدار کرڈالیں۔

اشرف کا طریقہ کار یہ ہے کہ جس شے کی تصویر بنانی ہو، وہ پہلے اسے سیدھے ہاتھ سے اچھی طرح چھوتے ہیں۔ پھر وہ دائیں ہاتھ سے ایسے خصوصی قلم سے کاغذ  پر لائنیں بناتے ہیں جو انہیں اُبھار دیں۔  اب اشرف اُلٹے ہاتھ سے ان کی جانچ پرکھ کرتے ہوئے یہ دیکھتے جاتے ہیں کہ کیا لائنیں درست بنی ہیں….کیا وہ شے کے اس تصوراتی نمونے سے ملتی جلتی ہیں جو ان کے ذہن  میں محفوظ ہے….؟

2004ء کی بات ہے، امریکہ کی ایک تنظیم آرٹ ایجوکیشن فار بلائنڈ نے نیویارک میں اشرف کی تصاویر کی نمائش کا اہتمام کیا۔ اس نمائش کو عام لوگوں کے علاوہ سائنس دانوں نے بھی دیکھا۔ دراصل انہیں یہ بات عجیب لگ رہی تھی کہ جس انسان نے اشیاء کو دیکھا ہی نہیں ، وہ کیونکر ان کی تصویریں بنالیتا ہے….؟

 نمائش میں ٹورنٹو یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر جان کینیڈی John Kennedy بھی شریک ہوئے۔ موصوف علم اعصاب کے شعبۂ  قوتِ مدرکہ (Human Perception) کے ماہر ہیں۔  پروفیسر جان کینیڈی طویل عرصے سے نابینامرد، خواتین اور بچوں میں پائی جانے والی قوت مدرکہ پر تحقیق کررہے ہیں۔

پروفیسر جان کینیڈی نے اشرف ارمغان  پر مختلف تجربات کیے۔ وہ بھی اشرف کی صلاحیت سے بہت متاثر ہوئے۔  ان کا کہنا تھا کہ مسٹر ارمغان نے ثابت کردیا ہے کہ بینائی سے محروم انسان بھی اپنے اندر مصورانہ صلاحیتیں ابھار سکتا ہے۔   اگر نابینا بچوں کو مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ بھی تصاویر بناسکتے ہیں۔ مطلب یہ کہ بینا اور نابینا دونوں میں دیکھنے اور چھونے کی حسوں کی جیومیٹری ایک ہی ہے’’۔

2009ء میں ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے دو نیورولوجسٹ، الارو پاسکل  لورین Alvaro Pascual-Leone اور امیر احمدی Amir Amediبھی اشرف کی صلاحیت سے بہت متاثر ہوئے۔ یوں اشرف ارمغان ہارورڈ یونیورسٹی کی لیبارٹری جا پہنچے۔  پاسکل اور امیر احمدی نے اشرف کے دماغ کی fMRIاسکینگ کی،  دونوں ماہرین کے مطابق  اشرف ارمغان میں  بصری حِس کی عدم موجودگی کے باوجود دماغ کا وژول کارٹیکس Visual Cortex کسی نہ کسی طور سرگرم ہے۔   واضح رہے، ہمارے دماغ میں وژول کارٹیکس ہی آنکھوں سے آنے والے سگنلز کو تصویر  کا روپ دیتا ہے۔   پاسکل کے مطابق تجربات کے ذریعے نابینا حضرات اُبھرے الفاظ والی کتب پڑھتے ہوئے چھونے کے دوران دماغ کے اس حصے سے مدد لیتے ہیں۔    امیر احمدی  اور ان کے ساتھی احود  زہری Ehud Zohary کے مطابق  زبانی کلامی یادداشت کے عمل میں بھی یہ حصہ متحرک ہوجاتا ہے۔  ماہرین نے جب اشرف کے وژول کارٹیکس پر تجربات کیے توان پر  حیران کن انکشافات ہوئے۔ اول یہ کہ تصویر بناتے ہوئے تو وہ وژول کارٹیکس سرگرم ہوتا ہے لیکن باتیں یاد کرنے کا معاملہ آئے، تو وہ قطعاً متحرک نہیں ہوتا۔

دوسری حیران کن بات ڈرائنگ کے وقت وژول کارٹیکس کا بے انتہا متحرک ہوجانا ہے۔ یاد رہے جب  آنکھوں والے یعنی بینا افراد دیکھی ہوئی کوئی شے یاد کرنے کی کوشش کریں تو وژول کارٹیکس کے ہی حصے استعمال ہوتے ہیں جو دیکھنے میں کام آتے ہیں، گو کم درجے میں۔ گویا اس شے کی تصوراتی تصویر بنانا بھی خاصی حد تک دیکھنے کے برابر ہے۔ لہٰذا جب اشرف ارمغان چھوئی ہوئی اشیاء کا تصور کرتے ہیں تو اس میں وژول کارٹیکس کے مختلف حصے درمیانی حد تک سرگرم ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب وہ تصویر بنانا شروع کردیں تو وژول کارٹیکس اس طرح متحرک ہوتا ہے جیسے وہ دیکھ رہے ہوں۔

الارو پاسکل  لورین کا کہنا ہے

‘‘اگر کوئی عام فزیشن اشرف کی اسکیننگ رپورٹ دیکھے، تو بالکل نہیں جان سکے گا کہ یہ پیدائشی نابینا ہیں’’۔    ترکی کے اشرف ارمغان  آج  بھی حیات اور  شادی شدہ ہیں ،  ان  کے دو بچے بھی ہیں ، آج کل اشرف  ترکی، اٹلی، چین، چیک ری پبلک اور نیدرلینڈ میں اپنی بنائی ہوئی پینٹنگز سے  نام کمارہے  ہیں۔

روحانی ڈائجسٹ  مئی 2016ء کے ‘‘عقل حیران ہے ’’ میں  ہم نے     کیلیفورنیا  کے بین انڈرووُڈ Ben Underwood کے بارے میں بتایا تھا، جو نابینا ہونے کے باوجود  چمگادڑ  یا ڈالفن کی طرح کسی بھی آواز کی ایکو کو کیچ کر اس کی بنیاد پر چیزوں کے عین مطابق لوکیشن بتا پانے کی سپرنیچرل صلاحیت رکھتا تھا،   وہ بغیر آنکھوں کے معمولی  کے سارے کام کرتا ، سڑکوں پر بھاگتا دوڑتا،   سائیکل،  رولر بلیڈ اور  اسکیٹنگ بورڈ  بآسانی چلاتا،       گھر کا راستہ کھوجنے میں اسے کوئی دقت نہ ہوتی ، راہ چلتے آنے والی رکاوٹ سے وہ بآسانی  بچ جاتا، وہ فٹ بال، باسکٹ بال جیسے گیم کھیل لیتا،  باسکٹ بال میں اس کا نشانہ دیکھ کر لوگ حیران رہ جاتے تھے۔  سائنس دان اس صلاحیت کو ایکو لوکیٹر Echo Locatorکا نام دیتے ہیں۔

کیلیفورنیا   ہی میں ایکو لوکیٹر کی اسی صلاحیت کے حامل33 سالہ برائن بُش وے Brain Bushway  بھی آواز کی لہروں اور دیگر حواس کو استعمال کرتے ہوئے ناصرف  معمول کی زندگی بسر کررہے ہیں بلکہ اپنے بنائی ہوئی     World Access for the Blind  تنظیم کے ذریعے سینکڑوں نابیناؤں کو سکھا بھی رہے ہیں۔

روحانی ڈائجسٹ کے انہی صفحات میں ہم   کشمیر کے  ‘‘خدا بخش’’  K. B. Dukeکا تذکرہ کرچکے ہیں ، جو  ذہنی ارتکاز میں اتنی مہارت رکھتا تھاکہ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس کے سامنے کوئی بھی کتاب رکھی جاتی تھی تو وہ اسے آرام سے پڑھ لیتا تھا۔

بند آنکھوں کے باوجود وہ کس طرح دیکھ لیتا تھا؟

اُس وقت کے سائنسدان اس کی کوئی توجیہہ پیش کرنے سے قاصر تھے۔ بنا آنکھ کے بصارت  کی اس صلاحیت کو ‘‘اندھی نظر’’ Blind-Sight  کہا جاتا ہے۔ بعض بینائی سے محروم افراد میں ایک لاشعوری نظر موجود ہوتی ہے جس سے وہ اُسی طرح دیکھتے ہیں جیسے عام افراد لیکن وہ خود اس کے ہونے کے شعور سے واقف نہیں ہوتے ۔

1962ء میں روس کی بائیس سالہ دوشیزہ   روزا کلیشوا rosa kuleshovaنے سائنس دانوں کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔  وہ انگلیوں کے ذریعہ پڑھ لیا کرتی تھی۔ یہ نہ سمجھیں کہ وہ نابینا افراد کی طرح اُبھرے ہوئے بریل  Braille الفاظ پڑھتی تھی بلکہ وہ سادہ کاغذ پر لکھے ہوئے یا چھپے ہوئے عام اخبارات کو بھی اپنی انگلیوں سے چھو کر پڑھ لیتی تھی۔ یہی نہیں بلکہ وہ تصویر پر انگلیاں پھیر کر اس کی تفصیلات بھی بیان کردیتی تھی۔ انگلیوں سے چھو کر ہی مختلف رنگوں کو الگ الگ کردیتی تھی۔  بیگ کے اندر رکھے ہوئے رنگ برنگے دھاگوں اور تاش کے پتوں کو انگلیوں سے پہچان کر نکال لیتی تھی۔

روزا کلیشوا  1940ء میں مغربی روس  میں واقع  کوہ اورال Ural Mountains کے ایک شہر نیژنی تاگلNizhny Tagil میں پیدا ہوئی ،    سائنسدان  نے اس صلاحیت کو  جلد کے  بصری ادراک  Dermo-optical perception   کا  نام   دیا،، جس میں انسان صرف چھو کر دیکھ لیتا ہے۔  روزا کلیشوا  کو آخر دنوں میں برین ٹیومر  لاحق ہوگیا اور اسی مرض میں وہ 1978ء  کو 38 برس کی عمر میں  انتقال کرگئی۔

سن 60کی دہائی میں  نیویارک کے برنارڈ کالج کے ماہرِنفسیات ڈاکٹر رچرڈ پی یوئز Dr. Richard P. Youtzنے بھی مشی گن کی ایک خاتون   پیٹر یشیا  آنزورتھ  Patricia Ainsworth پر تحقیق کی جو آنکھوں پر پٹی باندھ کر چیز یں پہچان لیتی تھی۔ سیاہ رنگ کے ایسے ڈبہ میں جس میں روشنی کا گزر نہ ہو اور مختلف رنگوں کے ٹکڑے بھرے پڑے ہوں۔ وہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر ہر ایک رنگ کے ٹکڑوں کو الگ الگ کردیتی تھی۔

اسی طرح ولیم میکفرسن William McPherson نامی ایک شخص کی مثال بھی قابل  توجہ ہے جو 5فروری 1866ء کو اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوا۔ ولیم کو بچپن سے ہی مطالعہ کا بڑا شوق تھا،  1883ء میں وہ اپنی بیوی کے ہمراہ امریکہ چلا آیا اور یہاں کولوراڈو  میں پہاڑوں  سے پتھر ٹوڑنے کا کام کرنے لگا،  یہ کام عموماً ڈائنامائٹ دھماکے سے کیا جاتا تھا،  ڈائنامائٹ کے ایک ناگہانی حادثہ سے  ولیم کی بینائی جاتی رہی اور اس کے ہاتھ بری طرح زخمی ہوجانے کے باعث کاٹ دیے گئے۔ لیکن آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ قدرت کی دو نعمتوں سے محروم ہوجانے کے بعد بھی اس کے اندر مطالعہ کا شوق ختم نہیں ہوا۔ ولیم نے ہمت کرکے زبان کو آلہ بصارت بھی بنایا اور زبان کی نوک سے چھوکر ایسی کتابیں پڑھنا شروع کیں جو بعض نابینا لوگ چھوکر پڑھ سکتے ہیں۔ وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہوگیا اور وہ زبان کے ذریعہ تمام عبارت پڑھ لیتا اور زبان ہی کی مدد سے کتاب کے اوراق پلٹ لیتا تھا۔

آوازیں چکھنا

آوازیں تو ہم سبھی سنتے ہیں، مگر کبھی آپ نے سنا ہے کہ آواز کو چکھا  بھی جاسکتا ہے؟   بظاہر یہ ناقابل فہم بات معلوم ہوتی ہے لیکن ایک برطانوی شہری ایسا بھی ہے جو آواز کو چکھ سکتا ہے، جیمز وینرٹن James Wannerton کو آواز چکھنے کی یہ حیران کن صلاحیت حاصل ہے، جو دراصل ایک مرض کے سبب   ہے جو  سائی نس تھیزیا Synaesthesia کہلاتا  ہے۔    اس مرض میں مبتلا فرد کی حسیات اس کے دماغ میں ایسے احساسات پیدا کرتی ہیں جن سے عام انسان محروم ہوتے ہیں۔  جیمز جب بھی کوئی آواز بالخصوص کوئی نام سنتا ہے تو اسے ہر بار اپنی زبان پر کوئی نہ کوئی ذائقہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ مرض، جسے آپ غیرمعمولی خوبی بھی سمجھ سکتے ہیں، جیمز کو بچپن ہی سے لاحق ہے۔ ہر بار جب بھی کوئی نام اس کی سماعتوں سے ٹکراتا تو اس کے منہ میں کوئی نہ کوئی ذائقہ گھل جاتا۔ مثال کے طور پر تاریخ کی کلاس میں جب ٹیچر یا کسی ہم جماعت کی زبان سے شاہِ برطانیہ ہنری ہشتم کی دوسری اہلیہ این بولین کا نام نکلتا تو اسے زبان پر کھٹی میٹھی ٹافیوں   pear drops کا ذائقہ محسوس ہوتا۔ اسی طرح ہر نام سننے پر جیمز کی زبان اسے ایک مختلف ذائقے سے آشنا کرتی۔ برطانیہ کی تمام شاہی شخصیات کے ‘‘ذائقے’’ اسے یاد ہوچکے تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیمز نے محسوس کیا کہ آواز کو  چکھنے  کی صلاحیت پڑھائی کے علاوہ زندگی کے دیگر معاملات میں بھی اس کی معاون  ہورہی ہے۔ اس نے دوست بنانے کے لیے اسی خاصیت کو پیمانہ بنالیا تھا۔کسی لڑکے کا نام سُن کر اس کی زبان پر اگر میٹھا ذائقہ نمودار ہوتا تو وہ اس سے دوستی کرلیتا ورنہ کنارہ کش ہوجاتا۔

سائی نس تھیزیا پر ایڈنبرگ یونی ورسٹی میں کی گئی تحقیق کے مطابق اس مرض کی کئی اقسام ہیں۔ سب سے عام قسم وہ ہے جس میں متاثرہ فرد الفاظ اور اعداد کو رنگوں کی شکل میں دیکھتا ہے۔ یعنی کوئی مخصوص الفاظ یا عدد سُن کر اس کے ذہن میں مخصوص رنگ کا تصور اُبھر آتا ہے۔ جیمز کو لاحق سائی نس تھیزیا کو طبی اصطلاح میں lexical gustatory synaesthesia کہا جاتا ہے جو اس مرض کی نادر قسم ہے۔ عام فہم زبان میں اسے ‘‘الفاظ کا ذائقہ’’ کہتے ہیں۔

سائی نس تھیزیا کیوں لاحق ہوتا ہے؟

اس بارے میں ماہرین حتمی طور پر کچھ کہنے سے قاصر ہیں۔ تاہم ایڈنبرگ یونی ورسٹی کی ڈاکٹر جولیا سمنر کے مطابق ماہرین یہ جان چکے ہیں کہ سائی نس تھیزیا میں مبتلا افراد کے دماغ کی بیرونی جھلیGrey Matter بعض مقامات پر عام لوگوں کے دماغ کی جھلی سے دبیز ہوتی ہے۔

جیمز کو سائی نس تھیزیا کی تشخیص نوجوانی میں ہوئی تھی۔ جیمز کا کہنا ہے کہ دس برس کی عمر میں والدین اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ اسکول کے امتحانات کے دوران کلاس میں طالب علموں کی پنسلوں کے گرنے کی آوازیں اس کے منہ میں بے حد کڑوا ذائقہ پیدا کررہی تھیں جس کی وجہ سے اس کے لیے پیپر دینا بہت مشکل ہوگیا تھا۔ اس نے والدین کو اپنی مشکل بتائی تو وہ سمجھے کہ زبان میں چھالے ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر نے جیمز کی بات سننے کے بعد کہا کہ یہ کیفیت بڑھتی عمر کا حصہ ہے، اس بچے کی قوت متخیلہ غیرمعمولی ہے جو وقت کے ساتھ نارمل سطح پر آجائے گی۔

جیمز کا کہنا ہے کہ بیس برس کی عمر میںfMRI کروانے کے بعد ڈاکٹر اس کے مرض کی صحیح تشخیص کرنے میں کامیاب ہوئے۔ جس   سے پتا چلا  کہ جیمز کے دماغ کے آواز کو کنٹرول کرنے والے اور ذائقے کا احساس پیدا کرنے والے حصوں کے درمیان ایک اضافی لِنک موجود تھا، جسے ختم کرنا ممکن نہیں۔  ان تمام برسوں کے دوران جیمز کو ہم جماعتوں، دوستوں اور عزیزوں کی طنزیہ باتیں بھی سہنی پڑتی تھیں، جن کا خیال تھا کہ وہ محض توجہ حاصل کرنے کے لیے اوٹ پٹانگ باتیں کرتا رہتا ہے۔

جیمز کا کہنا ہے کانوں میں پڑنے والی آوازیں اس کی زبان پر مختلف ذائقوں کا احساس پیدا کرتی رہتی ہیں۔ کچھ ذائقے چند سیکنڈ اور کچھ کئی گھنٹے تک اس کی زبان پر موجود رہتے ہیں۔ اس کیفیت کی وجہ سے جیمز کے لیے ٹیلی ویژن دیکھنا یا سنیما جانا ممکن نہیں کیوں کہ آوازوں کا شور اسے ‘‘ذائقوں کی اذیت’’ میں مبتلا کردیتا ہے۔

بیماریاں سونگھیں

کسی مرض کی تشخیص اگر بر وقت ہوجائے تو علاج میں آسانی ہوجاتی ہے اور مرض کے جسم میں پھیلنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔  ہو سکتا ہے کہ کسی علامت کے ظاہر ہونے پر مریض معالج کے پاس جائے اور پھر کسی ٹیسٹ کے نتیجے میں مرض کی تشخیص ہو جائے۔مریض کے جسم کے متاثرہ حصے کا خوردبین سے مشاہدہ کرنے، ایکس رے ، الٹرا ساونڈ ، خون ٹیسٹ یا جسم  خارج ہونے والے کسی کیمیکل کے معائنہ مرض کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔  لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ کسی مریض کو سونگھ کر اس میں بیماری  کی تشخیص کی جا سکے۔  بعض جانوروں مثلا کتے ، بلی اور ہاتھی میں سونگھے   کی صلاحیت بہت زیادہ  ہوتی ہے،   انٹر نیٹ پر  سائنس کی خبروں کی ویب سائٹس اور ریڈرز ڈائجسٹ تک میں ایسے مضامین موجود ہیں کہ جن میں کینسر کو سونگھ کر تشخیص کرنے والے کتے، مشن اور بلیوں کا ذکر ملتا ہے۔  کینیڈا کی ایک تنظیم نے کتوں کو ایسی تربیت دینا شروع کی ہے جسکامقصد ایسے افراد کی نشاندہی کرنا ہے۔  جن میں کینسر اور شوگر   کا مرض ہو۔

کئی دہائیوں تک سائنسدان سمجھتے رہے ہیں کہ انسان محض 10 ہزار مختلف خوشبوؤں کو پہچان سکتا ہے جس کی وجہ سے سونگھنے کی حِس کو دیکھنے اور سننے کی حس کے بعد کا درجہ دیا جاتا تھا۔  لیکن  امریکہ کی راک فیلر یونیورسٹی کی

‘‘لیبارٹری آف نیوروجینیٹکس اینڈ بیہیویور’’

کی تحقیق کے مطابق انسانی ناک 10 کھرب سے زائد مختلف خوشبوئیں شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔    اب انسان جو کہ  10 کھرب خوشبوئیں شناخت کرسکتا ہے،  تو کیا انسان میں یہ بھی صلاحیت ہے کہ وہ سونگھ کر بیماری کی شناخت کرسکے۔

مغربی آسٹریلیا  کے دارلحکومت پرتھ Perth میں ایک خاتون ایسی بھی ہیں جو سونگھ کر اعصابی بیماری پارکنسنز کی تشخیص کر لیتی ہیں۔  جوئے میلنے Joy Milne نے بتایا کہ 20 سال قبل انہیں اپنے خاوند لیس Les میں ایک تبدیلی محسوس ہوئی اور یہ تبدیلی کمر کا بڑھنا یا گنجے ہونا نہیں تھا بلکہ انہیں اپنے شوہر میں سےایک مختلف بو آنا شروع ہوگئی۔ جو میلنے، نے بتایا کہ ان کی سونگھنے  کی حس شروع سے ہی بہت تیز ہے اور وہ معمولی سی تبدیلی کو بھی محسوس کرتی ہیں، لیس کی بو میں تبدیلی کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے مگر یہ بو مختلف تھی۔  جوئے  میلنے، نے مزید بتایا کہ جون 2015ء میں خاوند کے  65 سال کی عمر انتقال کے بعد انہوں نے  کچھ طبی تحقیق کے اداروں کو اس بارے میں آگاہ کیا ، 45 سال کی عمر میں پارکنسنز کی تشخیص ہونے سے پہلے  ان کے شوہر ایک کنسلٹنٹ اینستھیٹسٹ (بیہوشی کے ماہر ڈاکٹر) تھے۔ پارکنسنز کے مرض سے لوگ صحیح طرح چل، بول یا سو نہیں سکتے۔ اس مرض کا کوئی علاج یا حتمی تشخیصی طریقہ نہیں ہے  لیکن جوئے نے اپنے شوہر میں اس مرض کی تشخیص سے چھ سال پہلے ہی ان میں تبدیلی محسوس کر لی تھی۔ وہ کہتی ہیں:  ‘‘ان کے بدن کی مہک بدل گئی جسے بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ اچانک نہیں بدلی بلکہ ہلکی ہلکی بدلی تھی۔ لیکن وہ اس مہک کو کبھی کبھار ہی سونگھ پاتی تھیں’’۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جوئے اس مہک کو پارکنسنز سے تب ہی منسلک کر پائیں جب انہوں نے برطانیہ کی ایک خیراتی تنظیم کی رکنیت حاصل کی اور ایسے لوگوں سے ملیں جن سے بھی یہ خاص مہک آتی تھی۔    اتفاق سے جوئے نے ایک سیمینار کے دوران اس بات کا ذکر کچھ سائنسدانوں کے سامنے کیا جنہوں نے ان کی اس بات میں بہت دلچسپی ظاہر کی۔ ایڈنبرا یونیورسٹی نے ان پر تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس دوران  جوئے نے 12 افراد کی شرٹس سونگھ کر ان میں پارکنسنز کے مریضوں کی درست تشخیص  کی۔

ایڈنبرا یونیورسٹی میں حیاتیاتی سائنس سے منسلک  ڈاکٹر ٹیلو کوناتھ  Dr Tilo Kunath کا کہنا ہے کہ پارکنسنز کے ابتدائی مراحل میں لوگوں سے ایک خاص مہک نکلتی ہے۔   اگر سائنسدان  اس مہک کی وجہ ڈھونڈ کر اس کی شناخت ایک مالیکیول سے کر سکیں  تو اس  دریافت سے پارکنسنز بیماری کے ابتدائی مراحل میں مریضوں کی زندگی پر خاصا مثبت اثر پڑے گا۔  یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر ایک خاتون اس بیماری کو سونگھنے سے تشخیص کرسکتی ہیں تو ایسے اور افراد بھی ہوسکتے ہیں جو سونگھ کر کسی اور بیماری کی تشخیص کرلیں۔ چنانچہ کئی سائنسدان اس تحقیق میں لگ گئے ہیں۔

کون سی بُو کس مرض کو ظاہر کرتی ہے:

 سینسرز نامی ایک جرنل میں شائع ہوئی تحقیق کے مطابق ماہرین  کا کہنا ہے کہ

اگر کسی انسان کے منہ سے نیل پالش ریموور جیسی بو آئے تو سمجھ لیں کہ وہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے۔    زرد بخار  میں مبتلا مریض کی جلد سے قصائی کی دکانوں  جیسی  بُو آتی ہے۔   اور کنٹھ مالا(خنازیر ) کے مریضوں سے باسی شراب (الکوحل) کی بو آتی ہے۔   جرمن خسرہ Rubella  کے مریضوں میں پرندوں کے پروں کی سی بو آتی ہے۔  اگر کسی کے گردے ناکارہ ہوجائیں تو ان  میں سے  کبھی کبھی کچی مچھلی کی بو آتی ہے۔  جو مریض مثانوں کے انفیکشن میں منتلا ہوتے ہیں ان کے یورین میں ایمونیا گیس کی بو ہوتی ہے۔  تائی فائیڈ کے مریضوں سے تازی براؤن بریڈ جیسی بو آتی ہے اور  شیزو فرینیا کے مریضوں میں  سرکہ کی بو  محسوس کی گئی ہے۔

فلاڈیلفیا میں Monell Chemical Senses Center  مونیل کیمیکل سینسز سینٹر کے ڈاکٹر جارج پریٹی  Dr George Preti  کا کہنا ہے کہ   کئی لوگوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جب وہ کینسر کے کسی مریض کے قریب ہوتے ہیں تو انہیں ایک انجانی ناخوشگوار مہک آتی ہے۔  جرمنی کی کونسٹینز Konstanz یونیورسٹی کے محققین کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ  ایک عام مکھی بھی کینسر کی تشخیص کرلیتی ہے، دیکھا گیا ہے کہ کینسر  کے مریضوں  کے قریب   مکھی کے اینٹینا     کا پیٹرن عام طور سے کچھ بدل جاتا ہے ۔

نیدرلینڈ کی ماسٹریخت  Maastricht  یونیورسٹی  میڈیکل سینٹر نے  ایسی مشین تیار کی ہے جو سونگھ کر بیمایوں کی تشخیص کرسکے۔

محققین کے مطابق انسانی آنکھ اور اس کے محض تین ریسپٹرز کئی ملین رنگوں میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ انسانی کان 340,000 مختلف آوازیں سننے کے قابل ہوتے ہیں۔  ہماری ناک میں سونگھنے کی صلاحیت رکھنے والے 400 حساسیے یا ریسپٹرز موجود ہوتے ہیں۔     لیکن ہماری جلد جس کا رقبہ ہماری تمام اعضاء سے زیادہ ہوتا ہے اس میں کھربوں  ریسپٹرز موجود ہوتے ہیں۔

درد کا احساس

انسانی جلد کے بارے میں آج تک تو یہی سمجھا جاتا رہا کہ یہ صرف لمس اور درجہ حرارت کو ہی محسوس کرسکتی ہے لیکن اب ایک نئی تحقیق نے بتایا ہے کہ ہماری جلد سونگھ بھی سکتی ہے۔ جرمنی میں بوخم Bochumیونیورسٹی کی ہینز ہٹ لیبارٹری Hanns Hatt’s lab   کے سائنسدانوں کے مطابق سینٹ ریسیپٹرز (سونگھنے کی صلاحیت رکھنے والے خلیات) ہمارے ناک کے علاوہ بھی کئی اعضاء میں پائے جاتے ہیں اور خصوصاً جلد میں ان کی موجودگی ظاہر ہوچکی ہے۔

2014ء میں سائنسی جریدے  نیوسائنٹسٹ میں شائع ہونے والی تحریر کے   مصنف بوب روہر  Bob Roeher کہتے ہیں  کہ سائنسدانوں نے جب صندل کا تیل  Sandalore جلد پر لگایا تو یہ جلد کے سونگھنے والے خلیات میں جذب ہوگیا جس کے نتیجے میں ان خلیات میں تقسیم اور تعمیر نو کا عمل شروع ہوگیا جو کہ جلد کو صحت مند اور جوان رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ سائنسدانوں نے یہ بھی معلوم کیا کہ اس تیل کا جلد کے خلیوں پر براہ راست اثر ہوا۔  اس دریافت کے بعد سائنسدانوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں بہت سے مسائل کے حل کے لیے ادویات براہ راست جلد پر استعمال کی جاسکیں گی۔  یاد رہے کہ Nova Next کے سائنسدان سجاتا گپتا Sujata Gupt جلد کے سننے کی صلاحیت کا بھی انکشاف کرچکی ہیں۔  ہارورڈ یونیورسٹی کے  بائیو فزیشسٹ biophysicist جارج وون بیکیسی  Georg von Békésy اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ  انسانی جلد آواز کی  آہنگ و تال rhythm، صوتی لہر pitch اور  جہر loudnessکو محسوس کرسکتی ہے۔

انسانی جلد کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں درد محسوس کرنے کا نظام پایا جاتا ہے۔   پین ریسیپٹرز ہماری جلد میں ہر جگہ ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ریفلیکس ایکشن ہوتا ہے۔ جس میں اعضا کے نروس سسٹم سے سگنلز اسپائینل کورڈ   (ریڑھ کی ہڈی )تک اور پھر دماغ     تک آتا ہے۔   مثلاً آپ کا ہاتھ  یا جلد کا کوئی بھی حصہ کسی تیز گرم چیز پر غیر ارادی طور پر پڑجائے تو آپ کا ہاتھ خود بخود فوراً کھنچ جاتا ہے۔ اسے بائیولوجی  میں ریفلیکس ایکشن کہتے ہیں۔   لیکن…. کیا آپ کی جلد ….دوسروں  کا درد محسوس کرسکتی ہے۔

 امریکی ریاست میساچوٹس میں کام کرنے والا ایک ڈاکٹر قدرتی طور پر اپنے مریضوں کا درد محسوس کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔

ڈاکٹر جول سیلیناس Joel Salinas ہارورڈ میڈیکل اسکول کے  نیورولوجی ریزیڈنسی پروگرام    اور میساچوسٹیس جنرل ہاسپٹل  میں ایک نیورولوجسٹ ہیں ،  وہ  خود ایک بیماری جسے   mirror touch synaesthesia مرر ٹچ سائی نس تھیزیا  کہا جاتا ہےمیں مبتلا ہیں۔ اس بیماری میں مبتلا فرد کسی بھی دوسرے فرد کو چھونے پر اسی کیفیت کو محسوس کرسکتا ہے جس سے دوسرا شخص گزر رہا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر جول کہتے ہیں کہ جب وہ کسی شخص کو دیکھتے ہیں تو اس کے بعد وہ شخص کسی بھی چیز کو چھوئے بغیر اس احساس کو بھی اپنے جسم پر محسوس کرتے ہیں۔

ڈاکٹر جول نے یہ کیفیت بچپن میں ہی محسوس کی تھی جب وہ دوسروں کو کسی سے بغل گیر ہوتا ہوا دیکھتے تو وہ خود بھی اس کیفیت کو محسوس کرتے تھے۔ انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان سے ہی بغل گیر ہوا گیا ہے۔ ڈاکٹر جول کی اس کیفیت کو یہاں تک جاننا تو خاصا باعث حیرت معلوم ہوتا ہے تاہم اس کیفیت کی وجہ سے ڈاکٹر جول کو کبھی کبھار نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص پر تشدد کیا گیا  ہو، تو ڈاکٹر اس درد کیفیت کو بھی محسوس کرلیتے ہیں۔

اس بیماری کا ڈاکٹر جول کو میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران خاصا فائدہ ہوا ہے کیونکہ وہ جب کسی قسم کی بیماری یا پھر معذوری کے بارے میں پڑھتے تھے تو وہ اس کیفیت کو آسانی سے سمجھ لیتےتھے۔

ڈاکٹر جول کی یہ بیماری اعصابی نوعیت کی ہے اور جن نیورانز میں خرابی کا باعث ہے، انہیں مرر نیوران ہی کہا جاتا ہے۔ یہ نیورانز اس وقت متحرک ہوتے ہیں جب جسم  کوئی خاص قسم کا رویہ اپنا تا ہے یا پھر جب انسان کسی دوسرے انسان یا جانور کو کوئی کام کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔  دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر بے ساختہ اُچھل جانے والی کیفیت دراصل اسی نیورانزسے وابستہ ایک کیفیت ہے۔  یہ بیماری بےحد نایاب ہے اور اندازہ ہے کہ دنیا کی کل آبادی کا محض ایک فیصد اس بیماری کا شکار ہے۔

تصویر کی آواز اور آواز کے رنگ

ہم جس تصویر کو دیکھتے ہیں اسے سن بھی سکتے ہیں….؟ امریکہ کے نیو سائنٹسٹ میگزین کے مطابق کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں سائنسدانوں نے تین ایسے افراد کا پتہ لگایا ہے جن میں یہ علامت موجود تھی کہ وہ جو چیز دیکھتے ہیں اسے سن بھی سکتے ہیں۔

یہ بات اس وقت سامنے آئی جب ایک طالب علم نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ کمپیوٹر کے اسکرین سیور میں سے کچھ آوازیں سن سکتے ہیں۔

انسانوں میں ایک عام علامت یہ پائی جاتی ہے کہ وہ کچھ الفاظ اور نمبروں کو رنگ کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ کئی فنکاروں میں بھی یہ علامت پائی گئی تھی ان میں سے ڈیوڈ ہوکنی David Hockney، جو موسیقی سنتے وقت اس میں رنگ دیکھ سکتے تھے۔   امریکی سنگر اور پیانوسٹ ٹوری اموس Tori Amos ، لیونارڈ برنسٹین Leonard Bernstein ، ڈیوک ایلنگٹن Duke Ellington،    ہیلن گریماؤڈ Hélène Grimaud ، ہنگری کے پیانو نواز  فرانز لزٹ Franz Liszt، پولش کے وائلن ساز اضحاک پرلمن Itzhak Perlman  فِن لینڈ کے  جین سائبیلس   Jean Sibelius  اور ایڈی وین ہیلن Eddie Van Halen کو بھی  موسیقی کی دھنیں رنگوں کی طرح نظر آتی  تھیں۔

امریکی ماہر طبعیات  رچرڈ فیئن مین   Richard Feynman جنہیں کوانٹم فزکس   پر کیے گئے کاموں کے وجہ سے 1965ء میں نوبل پرائز دیا گیا تھا،    کہتے تھے کہ جب وہ فزکس کی کوئی ایکویشن لکھتے تھے تو انہیں اس میں رنگ نظر آتے تھے۔  روسی نژاد امریکی ناول نگار  ولادمیر نابوکوف Vladimir Nabokov  اور آسٹریلوی اداکار جیفری رش Geoffrey Rush بھی اسی کیفیت میں مبتلا تھے۔

کیلیفورنیا کی ڈاکٹر ملیسا سنیز Dr Melissa Saenz نے بعض طلباء میں اس علامت کا پتہ اس وقت لگایا جب وہ طلبا کے ایک گروپ کو لیب کا وزٹ کرارہی تھیں۔  اس دوران ایک طالب علم نے یہ پوچھا کہ کمپیوٹر اسکرین پر چھوٹے چھوٹے ڈوٹس کی چلتی پھرتی تصویر کو کوئی سن سکتا ہے یا نہیں….؟

ڈاکٹر ملیسا سنیز نے اس طالب علم سے سوال جواب کیے تو انہیں معلوم ہوا کہ اس طالب علم کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ وہ جس تصویر کو دیکھتا تھا اسے سن بھی سکتا تھا چاہے وہ تصویر کسی بھی قسم کی ہو۔  اس کے بعد ڈاکٹر سینز نے ڈوٹس کی وہی تصویر کوئی ایک سو طلباء کو بھیجی اور انہوں نے تین اور ایسے افراد کو پایا جو اس تصویر سے آواز سن سکتے تھے۔

اس بات کی یقین دہانی کرنے کے لیے کہ یہ طلباء واقعی اس تصویر سے بعض آوازیں سن سکتے تھے ڈاکٹر صاحبہ نے انہیں کئی طرح کی تصویریں دکھائیں اور ان طلباء نے پھر یہی کہا کہ وہ اس سے بیپ جیسی آواز یا کچھ فلیشیز سن سکتے ہیں۔  جن افراد کو سنستھیزیا تھا وہ 85 فیصد تک صحیح تھے اور ان سب کو تقریباً ایک جیسی آوازیں سنائی دی تھیں۔

ایڈنبرا یونیورسٹی میں سائی نس تھیزیا پر  تحقیق کرنے والی  ڈاکٹر جولیا سمنر Dr Julia Simnerکہتی ہیں  کہ  دنیا میں کچھ لوگ سےایسے بھی  ہیں جو  احساسات کے  دوسرے ذرائع سے  معلومات حاصل کرتے  ہیں  یعنی جب انہیں موسیقی سنائیں تو   وہ اس موسیقی کی لہروں کو سماعت کے ساتھ ساتھ بصارت سے بھی محسوس کرتے ہیں’’۔

دانت ایک ریڈیو ریسیور

آپ میں سے اکثر لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہوگا کہ جب آپ  کے سامنے  لوہے کا  کوئی فرنیچر گھسیٹا جائے یا کوئی پُرانا   کپڑا   چیرا جائے تو آپ  کے دانتوں میں سنسناہٹ ہونے لگے۔     یعنی اس رگڑ سے نکلنے والی لہریں آپ  کے دانتوں پر اثر کرتی ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے  دانتوں  پر ریڈیو کی لہریں بھی  اثر کرتی ہیں….؟

شکاگو کے رہائشی جارج 1961ء میں 12 سال کے تھے  کہ ان کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے۔ انہیں ڈینٹسٹ کے پاس  لے جایا گیا جہاں جارج کے دانتوں میں ایک پیتل کی  پتلی سی تار  Brass Wire لگادی گئیں ،  اس کے بعد سے جارج نے محسوس کیا کہ اسے کچھ ہلکی ہلکی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔   جب وہ گھر سے باہر ہوتا  تو آوازیں واضح ہوجاتیں، یہ ریڈیو کی نشریات تھیں جس میں آنے والے  اشتہارات،  گانے ،  وغیرہ  بآسانی جارج سن سکتا تھا۔

شکاگو ہی کی 18 سالہ  لوئس   جب   کلیو لینڈ میں اپنے گھر سے   رہوڈ آئی لینڈ میں ایک ٹرین پر سوار ہوکر کالج جاتی تو اسے ریڈیو   اسٹیشن کی آوازیں آتیں۔  ایسا تب ہوا جب اس نے اپنے دانتوں میں سلور فلنگ کرائی تھی۔    اس طرح کے سینکڑوں واقعات سامنے آئے ہیں کہ لوگوں نے  دانتوں کی فلنگ، بریس وائر، لوہے کے برج، اور چولہے تک سے ریڈیو کی آوازیں سنی ہیں۔

اس کیفیت  کو سائنسی زبان میں الیکٹروفونک  ہیرنگ  Electrophonic Hearing کہا جاتا ہے، اس کیفیت میں  انسان سماعت کے دماغی مرکز Auditory Nerves  کو    کان کے استعمال کے علاوہ  کسی دوسرے اعصابی نرو سے براہ راست فریکوئنسی کے ذریعے آواز کو سنتا ہے۔   1962ء میں ایلن فرے Allan H Frey  نے تجربات سے ژابت کیا تھا کہ مائیکرو ویوز کی لہریں بھی آواز پیدا کرتی ہیں جو بہرے لوگ سن سکتے ہیں۔

 ایسا  تجربہ عموما ً اُن لوگوں  کے ساتھ پیش آیا ہے  جنہوں نے یا تو دانتوں  فلنگ کرائی ہوئی تھی ، یا پھر دانتوں پر پیتل کے بریس   لگوائےتھے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ  دانتوں کی  فلنگ کا ریڈیو لہروں کی لہروں سے تعلق  عجیب تو  ہوسکتا ہے مگر ناممکن نہیں  ہے ، خیال ہے کہ یہ تعلق  ریڈیو  کی (Amplitude Modulation)AM لہروں   سے ہوتا ہے ،  اس کے علاوہ CB، طیاروں اور پولیس کے ریڈیو سے بھی کیونکہ کہ وہ سادہ انداز کے ہوتے ہیں۔  جبکہ ایف ایم  FM (Frequency Modulation)ریڈیو میں زیادہ پیچیدہ سرکٹس  ہوتے ہیں۔

  دانتوں کی فللنگ میں  عموما تانبہ اور چاندی کے مرکب تار استعمال ہوتے ہیں اور دانت، جو کہ غیر دھاتی موصلیت کے حامل  ہوتے ہیں   مل کر  ایک  طرح سے AMریڈیو سرکٹ کی طرح  کا کام کرنے لگتے ہیں۔

  اس بات کی تصدیق کے لیے امریکہ کی مشی گن یونیورسٹی کے دندان ساز اسکول میں ایک مصنوعی دانت بھی بنایا  گیا، جو ریڈیو  نشریات کا کام کرتا تھا،   اس میں چھ ننھے منے ٹرانسسٹر   کے علاوہ 28 برقی آلات لگے ہوئے تھے۔

سائنس ، حواس کے آپس میں اختلاط ہونے کی صلاحیت کو سائی نس تھیزیا (مشارکی حواس)Synaesthesia کا نام دیتی ہے۔ سائی نس تھیزیا تما م حواس کے اجتماع سے حسوں کا ایک ملغوبہ بن جانے کا نام ہے۔ اس کیفیت میں آوازیں دیکھی جاتی ہیں۔ منظر کانوں سے سُنے جاتے ہیں، ذائقہ چھوکر محسوس کیا جاتا ہے۔
سائی نس تھیزیا کے حامل افراد میں مشہور و معروف ہستیاں بھی شامل ہیں ان میں مشہور موسیقار اولیور میشیان Olivier Messiaenالیگزینڈر سکریابن Aleksandr Scriabinاور نکولائی رمسکی کورسا کوف Nikolai Rimsky Korsakovشامل ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق ‘‘ پیدائش کے وقت ہماری تمام حسیں (حواس )الگ الگ نہیں ہوتیں بلکہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوتی ہیں۔ جوں جوں ہم بڑے ہوتے جاتے ہیں ہماری دیکھنے، سننے ، سونگھنے ، چکھنے اور چھونے کی حسیں اپنی الگ الگ پہچان بناتی ہیں۔ ہم اپنے ماحول میں یہ سنتے یا اسکول میں یہ پڑھتے ہیں کہ ہماری ہر حس ایک مخصوص عضو سے منسلک ہے۔ ہم کانوں سے سنتے ہیں اور آنکھوں سے دیکھتے ہیں ۔ درحقیقت ہمیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ہماری تمام حسیں انفرادی طور پر جدا اور خود مختار ہیں یعنی ایک کا دوسری پر کوئی اثر نہیں۔ لہٰذا ایک بینائی سے محروم شخص کا اس کی قوتِ سماعت پر کوئی اثر نہیں ہوتا بلکہ وہ زیادہ بہتر سننے کے قابل بھی ہوسکتاہے۔ ہمیں یہ بھی پڑھایا جاتا ہے کہ کوئی انسان آواز کو دیکھ نہیں سکتا یا کانوں سے دیکھا نہیں جاسکتا یا چھوکر چکھا نہیں جاسکتا ۔
اگر کوئی ہمیں کہے کہ ایسا ہوسکتا ہے تو ہمیں یہ خیال بہت عجیب و غریب ہی لگے گا۔’’
البتہ یہ بات باوثوق شہادتوں سے ثابت ہے کہ ہم سب ہی اپنی زندگی کی ابتدا بطور سائی نس تھیز یسٹ ہی کرتے ہیں۔ یعنی بچپن میں ہماری تمام حسیں ایک دوسرے میں پیوست ہوتی ہیں۔ انہیں ایک مخصوص اور جداگانہ حیثیت عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ملتی ہیں۔ جوں جوں ہمارا ذہن ترقی کرتا ہے ہماری حسوں اور متعلقہ عضو کے تعلقات میں بھی باقاعدگی آتی جاتی ہے۔
امریکی ریاست اوٹاوہ کی کارلیٹون Carleton یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے ڈاکٹر رابرٹ ہافمین Dr. Robert Hoffmann نے ایک سے 3ماہ تک کی عمر کے بچوں میں حسی محرکات کے دماغ تک پہنچنے کی رفتار کی پیمائش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک تجربے کے دوران اُنہوں نے پہلے تو بچے کے سر کے ساتھ الیکٹروڈ باندھے، پھر اُنہیں ایک تیز روشنی کے ہالے میں تھوڑی دیر تک رکھا اور پھر الیکٹرواین سیفلو گرام EEG (دماغ کا برقی معائنہ ) پر ظاہر ہونے والی لہروں کی رفتار نوٹ کی۔ یہ پیمائش ایک تو دماغ کی اُس جگہ سے تھی جہاں دیکھی جانے والی اشیاء کے عکس کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور دیگر تین اس سے دور کی جگہوں کی۔ اُس تجربے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ‘‘ روشنی پر رد عمل کی لہریں ، ای ای جی EEGکی چاروں تاروں سے ظاہر ہوئی تھیں یعنی کہ تیز روشنی کا ردعمل کسی ایک مخصوص جگہ سے نہیں بلکہ پورے دماغ سے ظاہر ہوا۔ آنکھوں کی توانائی سے یہ لہریں صرف پیدا ہوئیں لیکن ان کو بڑھاوا پورے دماغ کے بیرونی حصے سے ملا۔ جس کے لیے سگنلز دماغ کے دوسرے حصوں نے بھی (یعنی آنکھ کے علاوہ ) فراہم کئے۔
حواس کا یہ ملاپ اپنا ایک اثر رکھتا ہے جو سوچ کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔ یہاں سوچ سے مراد وہ تمام واضح اور غیر واضح خیالات کے سگنلز ہیں جو دماغ کے اندر اُبھرتے ہیں۔ اس سے ایک بات تو بہر حال طے ہوجاتی ہے کہ بچے ہر بصری محرک کا براہِ راست ادراک کرپاتے ہیں لیکن یہ ادراک اُن توانائیوں کے فرق پر منحصر ہوتاہے جو دماغ کے دیکھنے والے حصے سے خارج ہوتی ہیں اور جو باقی دوسرے حصوں سے خارج ہوتی ہیں۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آنکھ والے حصے کی توانائی سننے والے حصے کی توانائی سے مل جائے اور دیکھنے کے ادراک کی جگہ سننے کا مبہم ادراک لے لے۔ یا یہ توانائی عضلات کی توانائی سے مل کر ان کے پھڑکنے کی صورت میں اظہار کرپائے۔ توانائیوں کے ملاپ کی مقدار کا انحصار اعصابی نظام میں توانائی کی داخل ہونے والی مقدار سے ہوتا ہے۔ اس توانائی کی کل مقدار، بچے کے حسی ادراک کو متعین کرنے والے تمام عوامل میں اہم ترین ہے’’۔
نیویارک میں البرٹ آئن اسٹائن کالج آف میڈیسن کے ڈاکٹر ڈیوڈ لیوکووِکز Dr.David Lewkowicz اور جیرالڈ ٹرکیوٹز Gerald Turkewitz نے تحقیق سے پتا چلایا کہ 3سے 4ہفتوں کی عمر کے بچے تیز روشنی کو تیز آواز اور تیز آواز کو تیز روشنی جیسے تجربات سے بیان کرتے ہیں۔
اس تحقیق کے لیے جو تجربہ کیا گیا اُس میں ان دونوں محققین نے پہلے کچھ بالغ افراد سے کہا کہ وہ ایک لاؤڈ اسپیکر کی آواز کو اُس سطح تک اونچا کریں جو اُن کے خیال میں اُن کو دکھائی گئی ایک تیز روشنی کے متناسب ہو۔ ان بالغوں نے اپنے خیال کے مطابق لاؤڈ سپیکر کی آواز کو دکھائی گئی تیز روشنی کے حساب سے بالکل درست ترتیب دے دیا یعنی تیز آواز تیز روشنی اور کم آواز کم روشنی۔ اُنہوں نے 20نومولود بچوں کو اسی تیز روشنی کے زیرِ اثر بار بار لاکر اس دوران اُن کی نبض کی رفتار نوٹ کی۔
پھر انہیں تیز روشنی کی جگہ اُس تیز آواز کے زیرِ اثر لایا گیا جو تجربے کے پہلے حصے میں ، بالغ افراد بتاچکے تھے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ آیا یہ اُس روشنی سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس سے بالغوں کی نبض کی رفتار میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ لیکن بچوں کی رفتار ہر بار روشنی کی جگہ آواز بدلے جانے پر بڑھ جاتی تھی اور نبض کی یہ بڑھی ہوئی رفتار کا فرق روشنی اور آواز کی شدت کے فرق کے عین مطابق تھا۔
ان دو تجربات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ شیر خواروں میں حسیات آپس میں گڈ مڈ ہوتی ہیں، اور شیر خواروں میں سائی نس تھیزیا کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
یونیورسٹی آف لندن کے شعبہ نفسیات کے ڈاکٹر سائمن بیرن کوہن Dr.Simon Baron Cohenکے بقول سائی نس تھیزیا کی عام ترین علامت ، رنگوں سے سننا ہے، سائی نس تھیزیا کے حامل افراد کے لیے رنگ ہی حروف علت اور رنگ ہی اصلی حروف ہوتے ہیں۔ وہ جب بھی حروف علت یا الفاظ سنتے ہیں تو بتاتے ہیں کہ اُنہوں نے فلاں فلاں رنگ دیکھے ہیں۔
اگرچہ بالغوں میں سائی نس تھیزیا کے حامل افراد کی تعداد قلیل ہے، یعنی 20,000افراد میں سے کوئی ایک …. اس حساب سے دنیا کی تقریباًسات ارب آبادی میں تقریباً تین لاکھ لوگ ایسے ہوں گے جن میں سائی نس تھیزیا کی علامت پائی جاتی ہے ۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ہم دوسری حسوں کو بروئے کار لاتے ہوئے آنکھوں کے بغیر دیکھ سکیں اور کانوں کے بغیر سن سکیں….؟
اگر ایسا ہوسکے تو پھر اپنا کوئی ایک حسی عضو (آنکھ، کان، ناک وغیرہ ) سے محروم ہونے کے باوجود لوگ دوسری حسوں کی مدد سے اپنی یہ کمی پوری کرسکتے ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی کے ایک نیورولوجسٹ ڈاکٹر رچرڈ سائٹووک Dr.Richard Cytowic کا کہنا ہے کہ یہ بالکل ممکن ہے۔ ڈاکٹر سائٹووک نے بالغوں کے سائینس تھیزیا پر دو کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔ اُنہوں نے سائی نس تھیزیا کے حامل تقریباً 40بالغ افراد کا مشاہدہ کیا ہے اور اب وہ اس موضوع کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ مذکورہ مریضوں کا جہانِ رنگ و بو کچھ اس طرح سے گھلا ملا ہوتا ہے جیسے یہ کہا جائے کہ وہ نمکین نظارے، بنفشیٔ بو، چوکور ذائقے اور سبز دھنوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر سائٹووک کے ایک مریض کے بارے میں تو یہاں تک بھی کہا جاتا ہے وہ جب خوشی کی اونچائیوں کو چھوتا ہے تو خود کو رنگوں کی قوسِ قزح کے جھولے میں محسوس کرتا ہے۔ ڈاکٹر سائٹووک کا کہنا ہے کہ سائی نس تھیزیا کے بارے میں مکمل آگہی انسانی ذہن و حواس کو پوری طرح سمجھنے کی کنجی ہے۔

 

[روحانی ڈائجسٹ اکتوبر 2016ء کے شمارے سے انتخاب]

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

درخت ماحول کے محافظ

بے قابو ہوتے موسموں کے جن کو ماحول دوست درختوں کی مدد سے قابو میں …