صفحہ اول / روحانی ڈاک / میں ٹھیک ہوں توعلاج کیسا….!

میں ٹھیک ہوں توعلاج کیسا….!

treatment


سوال :

میری شادی کو سولہ سال ہونے والے ہیں اورمیں اب تک اولاد کی نعمت سے محروم ہیں۔ میں علاج کروا کرکرواکر تھک چکی ہوں۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق میں تو بالکل ٹھیک ہوں۔ میرے شوہر میں کچھ کمی ہے۔ ان کے جرثومے جلد ہی ڈیڈ ہوجاتے ہیں ۔میرے شوہر یہ بات تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ ان کی ماں ، بہنیں سب اُن کی ہاں میں ہاں ملاتی ہیں اور موقع بے موقع مجھے اُلٹی سیدھی سناتی رہتی ہیں۔
ان کا کہنا یہ ہے کہ میں ہی بے شرم ہوں جو اپنے شوہر کو کمزور بتاکر ان کے علاج کے لئے اصرار کرتی ہوں۔ میں نے بڑی مشکلوں سے شوہر کو علاج کے لئے آمادہ کیا، وہ کئی دن تک ڈاکٹر کے پاس گئے۔ لیکن پھر درمیان میں یہ کہہ کر اُنہوں نے علاج بند کردیا کہ میں تو بالکل ٹھیک ہوں تم اپنا علاج کراؤ۔


جواب:  

محترم بہن! جب آپ کو ڈاکٹروں نے صحت مند قرار دے دیا ہے تو پھر آپ کس مرض کا علاج کروارہی ہیں ….؟
آپ کی ساس نندیں اپنی انا کی قیدی بن کر فطری نظام کو جھٹلارہی ہیں۔ ان کے طعنوں اورکڑوی کسیلی باتوں پر صبرکیجئے۔اس بارے میں قرآن پاک سے ہمیں واضح رہنمائی ملتی ہے۔
ترجمہ: ’’رحمن کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر نرمی سے چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے تعرض کرتے ہیں تو وہ (ان سے اُلجھنے کے بجائے) کہتے ہیں کہ تمہیں ہمارا سلام‘‘ (سورہ الفرقان آیت:63)
یعنی رحمن کے بندے حقائق سے ناواقف لوگوں کی باتوں میں اُلجھنے کے بجائے اپنے کام سے کامرکھتےہیں۔
ہوسکے تو اپنی ساس صاحبہ اورنندوں کو اپنی لیڈی ڈاکٹر سے ملوادیں تاکہ وہ ان کو طبی حقائق سے آگاہ کرسکیں ۔ 


براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

تعارف: روحانی ڈائجسٹ

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

خود اعتمادی

سوال : ہمارے گھر روحانی ڈائجسٹ کئی سال سے آرہا ہے۔میں روحانی ڈائجسٹ میں آپ …

  • Padain Padop
    I wrote a solution to this matter some time back i.e. the lady should give Homeo medicine to her husband secretly.
    Now,I am writing this as you have told her to have patience. I donot think this is the proper answer. As a married woman she has every right to have children. As the lady knows the fact,she should give her husband a one year time or as per doctor’s advice to get treatment. If.within this time he is not O.K or if he totally refuses to get treatment then she can go for the Legal religious solution i.e. Dissolution of marriage. This seems very bad but nothing doing. This,I am writing from what I have learnt by reading the same type of problems told by women and answered by U’lema. The lady can consult a qualified A’alim in this regard.