صفحہ اول / گوشۂ ادب / تاریخ وسیرت / وادیٔ مہران کا سائیں

وادیٔ مہران کا سائیں

sachal-sarmast

سرزمینِ سندھ   اس اعزاز  کی حامل ہے کہ یہ دھرتی ایسے مرد قلندر وں کا مسکن بنی، جنہوں نے اپنی گفتار،کرداراورعمل کے ذریعے تطہیری عمل پروان چڑھایا، اِن ہستیوں کے اعلیٰ کردار سے معاشرہ امن ،سکون ا ورسلامتی کا گہوارہ بن گیا۔

اِن بُزرگوں میں ایک نام صوفی شاعر حضرت سچّل سرمست کا ہے۔   جنہوں نے اپنے کلام کے توسط سے محبت، امن و یکجہتی کا پیغام دیا،   حضرت سچل سرمست کو ہفت زبان شاعر بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری زمان و مکان کی حد بندیوں سے ماورا ہے۔سچل کی شاعری اس رابطے کی نشاندہی کرتی ہے جو انسانوں کے درمیان یکجہتی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔

sachal-sarmast5

دوپہر کے وقت جب گرمی اپنے عروج پر تھی،  ایک بزرگ  پانی میں گُھلی ملتانی مٹی جسم پر مل کر رہٹ  (کنویں) کے پاس بیٹھے تھے کہ مٹی خشک ہوجائے تو ٹھنڈے پانی سے غسل کیا جائے۔

یہ اٹھارویں صدی عیسوی کے دور کی بات ہے۔   برِ صغیر میں مغل اقتدار کا سورج زوال پذیر ہوچکا تھا۔ مذکورہ بزرگ کا تعلق سندھ کے شہر درازا سے تھا، سندھ میں اُس وقت کلہوڑا خاندان لمبے عرصے تک برسر اقتدار رہنے کے بعد اپنا بوریا بستر سمیٹ رہا تھا اور ٹالپر خاندان، کلہوڑوں، راجپوتوں اور سکھوں سے لڑائیاں لڑتے ہوئے سندھ کے اقتدار کی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ افراتفری اور نفسا نفسی کے اس دور میں انگریز خاموشی سے اپنے اثرونفوذ میں اضافہ کررہے تھے۔

ابھی ان بزرگ کو مراقبہ کی کیفیت میں بیٹھے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ     والی ٔ ریاستِ خیر پور میر صاحب کی سواری اُس طرف سے گزری جو شکار سے واپس آرہے تھے۔ ان کے ہمراہ امراء و وزراء کا ایک لشکر تھا۔

  یہ لوگ درازا  شہر کے اِن صوفی بزرگ کے خاندان سے نہایت عقیدت رکھتے تھے۔ اُنہیں دیکھا تو سواری روک لی۔

والیٔ ریاست  میر صاحب صوفی بزرگ  کی قدم بوسی کرنے کے لیے آگے بڑھے مگر انہیں ملتانی مٹی میں لتھڑے دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے اور دُور کھڑے ہو کر خیریت دریافت کرنے لگے۔ بزرگ نے نگاہ اُٹھائی اور حکمرانوں کی سواری دیکھ کر اُسی طرح بیٹھے بیٹھے سلام کا جواب دیا۔

اسی اثنا میں میر صاحب کے چھوٹے بھائی  مراد علی   جو قافلے کے آخری حصے پر تھے، فوراً والہانہ طور بڑھے اور اُن بُزرگ  کے قریب آکر اُن کی قدم بوسی کی ۔   صوفی بزرگ نے کھڑے ہوکر اُنہیں گلے سے لگالیا  اور ان کو بہت زیادہ دعائیں دیں ۔

  گلے لگنے سے بُزرگ   کے جسم پر لگی ملتانی مٹی میر مراد علی کے شاہانہ لباس پر بھی لگ گئی۔ بزرگ یہ دیکھ کر والیٔ ریاست سے مخاطب ہوئے۔

‘‘تم جس کو مٹی سمجھ کر میرے سے دور رہے۔ وہ مٹی نہ تھی بلکہ جاہ و اقبال کی مہندی کا رنگ تھا جو چھوٹے میر صاحب میر علی مراد خان کو لگ گیا ہے۔’’

یہ کہتے ہوئے بزرگ کی نگاہیں دُور خلاء میں کسی چیز پر مرکوز تھیں۔  بات کسی کی سمجھ نہیں آئی۔ لیکن یہ  واقعہ بہت مشہور ہوگیا اور بُزرگ  کے الفاظ بھی…

دراصل یہ  دعا ایک  پیش گوئی تھی جس کی تصدیق اُس وقت ہوئی جب میر مراد علی نے سندھ کا اقتدار سنبھالا ۔ 1843ء میں  جب انگریزوں نے میران سندھ سے حکومت چھین کر برطانوی حکومت کا پرچم لہرایا ، تو برطانوی اقتدار کے دور میں اس وقت سندھ میں صرف خیرپور ہی ایک ایسا علاقہ تھا جہاں میر علی مراد خان کی ریاست برقرار رہی ۔

درازا شہر کے ان بزرگ کا نام حافظ عبدالوہاب  فاروقی  تھا۔ لیکن لوگوں میں آپ سچل سرمست کےنام سے مشہور تھے۔   آپ کی سچائی کی نسبت سے ہی آپ کو ‘‘سچل’’،  سچُو اور سچے دینہ کہا جاتا تھا۔ ‘‘سچل’’ آپ کا تخلص  بھی تھا اور    جذب واستغراق کے غلبے کی وجہ سے ‘‘سرمست’’ زبان زدِ عام تھا۔

***

سچل سرمست یعنی حضرت حافظ عبدالوہاب فاروقی   کا شجرہ نسب مختلف واسطوں سے حضرت عمر فاروق ابن خطابؓ سے جا ملتا ہے۔  حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی وفات کے بعد آپ کے پوتے شیخ شہاب الدین بن عبدالعزیز حجاز سے ہجرت کرکے  عراق آباد ہوگئے۔ عراق کے گورنر حجاج بن یوسف ثقفی نے جب نوجوان محمد بن قاسم کو سندھ کی تسخیر کے لیے روانہ کیا تو یہ جلیل القدر شخصیت یعنی شیخ شہاب الدین فاروقی بھی محمد بن قاسمؒ کے ہمراہ مشیر اعلیٰ کی حیثیت سے ساتھ تھے۔ شہاب الدین فاروقی اپنے عہد کے مدبر اور سیاست دان تھے۔

کہتے ہیں کہ شہاب الدین فاروقی نے ہی حجاج بن یوسف کو یہ مشورہ دیا کہ سندھ کے سرحدی علاقوں میں تبلیغ اسلام کے لیے علماء اور مبلغین روانہ کیے جائیں۔ سندھ کی فتح کے بعد   محمد بن قاسم نے  شیخ شہاب الدین  کو سیوستان کا حاکم مقرر  کیا، آپ نے تبلیغی کاوشوں کے ساتھ ساتھ سندھ کے لوگوں کی خوشحالی کے لیے مفید کام کیے  جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سندھ کے غیر مسلم قبائل جوق در جوق اسلامی برادری میں شامل ہوگئے اور اسلام کی بنیادیں سندھ کے اندر مستحکم ہوگئیں۔

95ھ میں شیخ شہاب الدین  کی وفات کے بعد ان کے فرزند شیخ محمد فاروقی (وفات 144ھ) ان کے جانشین ان کے بعد شیخ محمد باقی، شیخ عبداللطیف، شیخ اسحٰق فاروقی نے حکومت سنبھالی اور ان کے بعد 193ھ میں شیخ محمد فاروقی نے فرمانروائی کا منصب سنبھالا۔ یہ منصب اس خاندان کے پاس سلطان محمود غزنوی کے غلبے تک موجود رہا۔  محمود غزنوی نے  فاروقی خاندان    کو اپنے دربار میں عہدہ دے کر   وظیفہ مقرر کیا ،  اس طرح یہ فاروقی خاندان  کئی سو  سالوں (تقریباً 617ھ   )تک  سندھ کے حکومتی امور میں شامل  رہا۔

221ھ میں شیخ محمد بن اسحٰق فاروقی ؒ کی اولاد میں سے چند لوگ  ہجرت کرکے خداداد اور پھر تھرپارکر آبسے۔ ان کی اولاد میں مخدوم نورالدین  نے علم و فضل میں بہت نام کمایا،  اُن کے چار بیٹے  بھی عالم فاضل ہوئے جن میں مخدوم ابو سعید حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ کے مرید اور خلیفہ ہوئے۔   مخدوم ابو سعید کی  اولاد میں ایک صاحب میاں احمد  خیر پور کے حاکم میر سہراب خان  کے  دربار سے منسلک ہوئے ۔  انہیں خیرپور میں گمبٹ اور رانی پور کے درمیان ایک  جاگیر عطا کی گئی۔ اس طرح یہ خاندان خیر پور میں آباد ہوگیا ۔  مخدوم ابو سعید کا مزار خیر پور کے قصبے رانی پور میں ہے۔ آپ کی اولاد میں،  خواجہ محمد حافظ عرف میاں صاحب ڈنہ (ڈنو) فاروقی ایک جلیل القدر درویش مشہور تھے۔

***

کلہوڑہ خاندان کی سندھ پر حکومت تھی، جہاں  میاں صاحب ڈنہ (1101 تا 1192ھ)ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز ہوئے۔  ایک روز صاحب ڈنہ  کسی کام سے کوٹری کبیرہ ضلع نواب شاہ سے ڈیونوں کے گاؤں جارہے تھے کہ   جنگل میں  ان کو ایک مجذوب عورت بیٹھی ہوئی نظر آئی۔ اس نے آواز دی اور فرمایا

‘‘اے صاحب ڈنہ! خدا تم سے بہت بڑا کام لینا چاہتا ہے،  تم کہاں جارہے ہو، جلدی واپس لوٹ جاؤ۔’’

بی بی بصری کی چشم التفات  اور الفاظ نے میاں صاحب ڈنہ  کی زندگی میں ہلچل مچادی، اس کے بعد صاحب ڈنہ نے  میراں کی ملازمت چھوڑ کر درویشی اختیار کرلی، کہتے ہیں کہ کم  و بیش ساڑھے چار سال آپ نے جنگل میں چلہ کشی کی  اور پھر حضرت خواجہ عبداللہ جیلانیؒ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ جو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادیؒ کی اولاد میں سے تھے۔   صاحب ڈنہ نے ضلع خیر پور میں قصبہ رانی پور سے ایک میل کے فاصلے پر ‘‘دراز  شریف’’ نامی ایک گاؤں میں   سکونت اختیار کی اور یہی ایک درگاہ    قائم کی  اور اس میں گوشہ نشین ہوگئے ۔  صاحب ڈنہ کے دو بیٹوں خواجہ عبدالخالق اور خواجہ صلاح الدین      نے  بھی اپنے والد کے نقش قدم پر زندگی گزاری۔

1152ھ بمطابق  1739ء کو  خواجہ صلاح الدین  کے گھر میں ایک  فرزند ارجمند کی پیدائش ہوئی جس کا نام خواجہ عبدالوہاب  فاروقی رکھا گیا۔

***

بچپن سے ہی خواجہ عبدالوہاب  کے چاچا اُنہیں معصومیت اور    کو صاف گوئی کی وجہ سے  ‘‘سچو ڈنہ’’ اور ‘‘سّچل ’’  یعنی سچ بولنے والا ، کے نام سے پُکارتے۔   آپ کے والدِ محترم نے آپ کی تعلیم وتربیت پر اوّل روز ہی سے تو جّہ دینا شروع کردی تھی ۔روزانہ آپ کے کانوں میں اذان دیتے اور آپ کو گود میں لے کر باآوازِبلند قرآن مجید کی تلاوت سُناتے ۔   سچل ابھی عمر کے چھٹے سال میں تھے کہ شفقت پدری سے محروم ہوگئے۔ چنانچہ اس در یتیم کی پرورش  کی ذمہ داری آپ کے دادا خواجہ  محمد حافظ اور چاچا  خواجہ عبدالخالق نے اُٹھائی۔  ایک  روایات یہ بھی ہے کہ والدۂ ماجدہ کے انتقال کے بعد آپ کے چچا نے آپ کے لیے ایک حبشی آیا کا انتظام کیا۔ جس نے بڑی شفقت ومحبت سے آپ کی پرورش کی ، اس حبشی آیا کا نام جوشیدی تھا  مگر آپ اُنہیں امّاں کہہ کر پکا رتے تھے، اس لفظ میں نامعلوم کیا چاشنی و شیرنی تھی کہ وہ آیا یہ لفظ سن کر نہال ہوجایا کرتی تھی۔گھر میں صوفیانہ ماحول تھا۔  اسی میں ان کی پرورش ہوئی اور یہی مزاج ساری زندگی ان کے رگ و پے میں بسا رہا۔

سچل  کے دادا خواجہ محمدحافظ میاں صاحب ڈنہ، مشہور بزرگ اور صوفی شاعر  حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ کے ہم عصر بزرگ تھے اور شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ ؒسے بڑی عقیدت ومحبت کے تعلقات رکھتے۔ ایک دن میاں صاحب ڈنہ  نے شاہ عبد اللطیف بھٹائی ؒ کو اپنے گھر دعوت پر مدعوکیا ،   اُس وقت سچل کی عمر سات آٹھ سال تھی۔    ملاقات کے وقت حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی ؒنے قوتِ کشف سے جان لیا کہ آپ مستقبل میں معرفت کے اعلیٰ مقام پر ہوں گے۔ شاہ صاحب نے سچل سرمست سے وحدانیت سے متعلق چند سوالات کیے ، جن کامدبّرانہ جواب سُن کر سچل  کے دادا  بھی حیران ہوگئے ۔

شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی نگاہِ باطن نے اس بچے کی منزلت ومعرفت کو پہچان لیا اور اس موقع پر شاہ عبد اللطیف بھٹائی ؒنے فرمایا :

‘‘ہم نے معرفت کی لذّت اگر چہ دل میں محسوس کی ہے، تاہم جو دیگ ہم نے پکائی ہے اس کا ڈھکن سچّل ہی اُتاریں گے ۔’’

سندھی زبان میں شاہ صاحب کا یہ  تاریخی جملہ

اسان جيڪو ڪُنو چاڙهيو آهي،

تنهن جو ڍڪڻ هيءُ نينگر لاهيندو!

’’جو ہانڈی ہم نے پکائی ہے

اُس کا ڈھکنا یہ بچہ  ہی اُٹھائے گا‘‘….

لوگوں میں مقبول ہوگیا، شاہ  صاحب کی پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی،  اہل سند ھ کا آج بھی اعتقاد ہے کہ  شاہ لطیف  نے اپنی شاعری  سے تصوف کو واضح کیا ،  اسے سچل سرمست  نے  اپنی شاعری  سے بامِ  عروج پر پہنچایا ۔

جب سچّل سرمست 13برس کے تھے ،حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ وصال فرما گئے تاہم سچل سرمست نے آپ کے خلیفہ حضرت میاں سخی قبول محمد سے رابطہ رکھا ۔

***

سچل سرمست کو سب سے پہلے ان کے چچا  خواجہ عبدالحق نے حافظ عبداللہ قریشی صدیقی کے پاس حفظ قرآن کے لیے بھیجا۔ آپ نہایت کم عمری میں حافظ اور قاری بن گئے اس کے بعد آپ کو چچا نے فارسی اور عربی کی تعلیم دینا شروع کی۔ سچل سرمست کی ذہانت  کا یہ عالم تھا کہ چودہ برس کی عمر میں ان  علومِ کی تکمیل کرلی۔

حضرت سچل سرمست کی بچپن سے ہی تحمل مزاج، خاموش طبع، ملنسار اور خوش اخلاق انسان تھے۔  غریبوں، مسکینوں، محنت کشوں اور کسانوں سے ان کو دلی ہمدردی تھی۔ خدا ترسی، انسان دوستی اور خدمت خلق کا جذبہ ان کی شخصیت میں شروع سے موجود تھا۔ دینی تعلیم و تربیت اور صوفیانہ ماحول نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ عبادت و ریاضت اور محتاجوں کی امداد و اعانت کے کاموں میں منہمک رہتے تھے ۔  تن تنہا بیٹھ کر آپ کتب کا مطالعہ فرماتے خاص طور پر شیخ ابن عربی اور خواجہ فرید الدین عطار کا  بہت شوق سے مطالعہ کرتے۔

علم تصوف و معرفت کے اسرار و رموز سے بھی آپ کو خواجہ عبدالحق نے ہی آگاہ کیا۔     خواجہ عبدالحق نے   جب آپ کے اندر شمع عرفان کی مشعل روشن کردی تو    آپ ؒ  کو اپنی بیعت میں لے کر خرقہ خلافت سے سرفراز کیا۔  اس موقع پر جو نصیحت آپ کو فرمائی گئی، وہ متلاشیانِ طریقت کے لیے ہر زمانے میں رہنمائی کرتی رہے گی۔ آپ کے مرشد نے فرمایا:

’’بیٹا !عشقِ الٰہی اپنی شال ،ذکر ِالٰہی اپنی قال اور حکم الٰہی کو اپنا مال بنانا۔ قرآن وسُنّت کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالو،خدمتِ خلق کو اپنا شعار ،عاجزی وانکساری کو اپنا وقار اور عبا دت وریاضت کو اپنا ہتھیا ر بنا ؤ ۔یہ حیات ِناپائید ار محض عرصۂ امتحان و آزمائش ہے ،لہٰذا اس کی زیبا ئش میں نہ کھو جانا، مو ت کو ہمہ وقت یاد رکھو ، اللہ اور رسول ؐ اللہ  کی یاد کو لمحہ لمحہ دل میں آباد رکھو ۔‘‘

بچپن ہی سے  آپ میں ایک خاص عادت تھی کہ  اکیلا رہنا پسند کرتے تھے ،  آپ تن تنہا جنگلوں میں پھرتے رہتے۔ اس دشت نوردی میں آپ خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر غور کرتے۔ خاموشی  اور فکر  آپ کا اذلی اور فطری سرمایہ تھا۔      جوں جوں آپ عمر کی منازل طے کرتے گئے۔ آپ کے اندر موج مستی، عروج عرفان پیدا ہوتا گیا اور آپ بے خود سرمست بنتے  گئے۔ آپ پر زیادہ  وقت کیفیت استغراق طاری رہتیتھی۔

آخر آپ کے چچا  و مرشد خواجہ عبدالحق نے سچل سرمست کا عقد اپنی صاحبزادی کے ساتھ کیا۔ آپ کے ہاں کوئی اولا د نہیں ہُوئی ۔ اپنی سلیقہ مند، دین دار اور پرخلوص شریک حیات سے بہت پیار تھا مگر خدا کی قدرت کہ باہمی رفاقت زیادہ دنوں تک قائم نہ رہ سکی۔ ان کی نیک سیرت اہلیہ ‫صرف دو سال ساتھ نبھا کر عالم جوانی میں  الله کو پیاری ہو گیئں۔ اس‬ ‫کے بعد سچل سرمست  نے شادی نہ کی۔‬ اکثر جنگلوں اور ویرانوں میں اکیلے گھومتے پھرتے رہے۔ روحانی سوز و گداز اور جذب و کیف اتنا بڑھ گیا کہ مسلسل سرمستی و بے خودی کے عالم میں رہنے لگے اسی لئے سرمست کہلائے۔

 ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ کو شادی کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک فرزند بھی عطا کیا تھا جو جلد ہی اللہ کوپیارا ہوگیا ۔

***

sachal-sarmast4

سچل سرمت کا قد درمیانہ تھا۔ رنگ موافق اور صاف ستھری تھی۔ ناک اور پیشانی کی ساخت بھی عمدہ تھی۔ دراز زلفیں رکھتے تھے۔ سر پر سبز عمامہ رکھتے تھے۔ آپ ہمیشہ سفید تہمند پہنا کرتے تھے۔ ہاتھ میں ایک دراز عصا پکڑے رکھا کرتے تھے۔

چارپائی پر سونے سے گریز کرتے۔ سخت لکڑی کے پھٹوں پر سویا کرتے تھے۔ اپنے کندھے پر ہر وقت طبور لٹکائے رکھتے تھے۔ جس کو بجاتے اور اشعار ترنم سے گنگناتے رہتے تھے۔

***

سچل سرمست نے بڑے ہی پُر آشوب سیاسی دور میں پرورش پائی۔ آپ نے بچپن ہی سے جنگ وجدال کے واقعات دیکھے اور سنے تھے۔ آپ کی ولادت 1739 میں ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب نادر شاہ نے سندھ پر حملہ کیا تھا۔ بڑی تباہی مچانے کے ساتھ اس نے سندھ کے علمی ذخیرے بھی تہس نہس کر ڈالے۔ سچل نے 15 سال کی عمر میں احمد شاہ ابدالی کو سندھ پر حملہ آور ہوتے دیکھا ۔ جس میں ہزاروں بے گناہ افراد مارے گئے    اور کئی سیاسی، سماجی و معاشرتی تبدیلیاں ان کے مشاہدے میں آئیں۔  حضرت سچل سرمست نے ان سارے حالات کو اپنی نظروں سے دیکھا،    کلہوڑوں ، تالپوروں، میروں، کے درمیان خانہ جنگیاں ہوئیں، ان دنوں سیاست گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی تھی۔  آپ کا دل  سیاسی بےاعتدلیوں  اور  قبیلوں  کے باہمی تعصب اور دشمنی پر بہت کڑھتا تھا۔ آپ کو ان باتوں سے سخت نفرت تھی۔  یہی وجہ ہے کہ آپ کے کلام سے امن وآشتی کا درس ملتا ہے۔   آپ نے لوگوں کو دینی تعلیم سے روشناس کرایا۔ لڑائی جھگڑوں۔ آئے دن کے سیاسی جوڑ توڑ اور بغض  و ریا سے دور رکھنے کے لیے آپ نے لوگوں کی روحانی اور دینی تربیت کی۔

آپ امن کے داعی تھے ۔  آپ نے اپنے علاقے کے لوگوں کو بھی پرامن زندگی گزارنے کی تلقین کی۔  یہ آپ کی روح پرور زندگی کا ہی اعجاز ہے کہ آپ کے زمانے میں سندھ کی صورتحال باقی زمانوں کی نسبت بہتر  رہی۔ لوگ آپ کی تعلیمات سے نہ صرف فائدہ اٹھایا کرتے تھے بلکہ ان پر عمل پیرا بھی ہوتے تھے۔

***

سندھ کی ادبی مذہبی اور سیاسی زندگی میں حضرت  سچل سرمست اور اُن کے آباؤ اجداد کا بڑا کردار ہے ان اصحاب صالحہ کی بدولت لوگوں کے اندر علم و آگہی اور معرفت کی شمعیں روشن ہوئیں۔

آپ کا زمانہ ادبی لحاظ سے بڑا زرّیں زمانہ تھا۔ کیونکہ کلہوڑا حکام اور سہراب کان اور میر رستم خان سب کے سب علم کے دلدادہ تھے۔  ان کی حکومتوں میں ادب کو بہت فروغ حاصل ہوا۔

سچل سرمست کی ظاہری و باطنی تعلیم و تربیت  میں  میاں صاحب ڈنو اور خواجہ عبدالحق نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، سچل سرمست کے دادا بھی صوفی شاعر تھے،    1192ھ میں سچل سائیں چالیس برس کے  ہوئے تو آپ کے دادا میاں صاحب ڈنو وفات پاگئے۔  1213ھ میں آپ کے مشفق چچا بھی انتقال کرگئے،   آپ کے مرشد وچچا کے انتقال کے بعد سچل سرمست نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے سجادہ نشین سخی قبول محمد کے ہاتھ پر بیعت کر لی ۔ سخی قبول شاہ نے آپ کو  خرقۂ خلافت سے بھی نوازا۔یوں سچّل سرمست بھٹائی سلسلے میں شامل ہوگئے ۔

حضرت سچل سرمست نے اپنی زیادہ تر زندگی سندھ کے اندر ہی رہ کر گزاری،  انہوں نے جن  علاقوں کا دورہ کیا ان میں  سکھر، بھی شامل ہے۔  آپ ایک مرتبہ سکھر گئے وہاں آپ نے کئی نیک لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ درویشی اس بات کی متقاضی ہوتی ہے اور درویشوں کا یہ خاصا ہوتا ہے کہ وہ اپنے جیسے دوسرے درویشوں کو دیکھ کر بہت خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اس میدان میں حسد، تعصب اور کینہ و بغض نام کو نہیں۔ چنانچہ درویش لوگ اپنے ہم مسلکوں اور صوفیاء کی محافل میں بیٹھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ روپڑی اور شکار پور سے ہوتے ہوئے حضرت سچل سرمست لاڑکانہ تک گئے۔ آپ نے روپڑی میں فقیر قادر بخش بیدل سے ملاقات کی وہ آپ سے ملاقات کرنے کے بعد آپ کے عقیدت مند اور معتقد ہوگئے۔ شکار پور اور سکھر میں آپ کی ولایت و کرامت اور سخنوری و درویشی کو بڑی شہرت ہوئی۔ یہاں آپ نے کچھ عرصہ قیام کیا۔ دن رات لوگوں کے ٹھٹھ آپ کے گرد جمع رہا کرتے تھے اور ذکر کی محفلیں منعقد ہوا کرتی تھیں۔ یہاں آپ کے ہاتھ پر لاتعداد لوگوں نے بیعت کی۔

عثمان فقیر چاکی کو لاڑکانہ میں روحانی فیوض و برکات سے مستفیض فرمایا اور ان کو خلافت عطا کی۔ میاں محمد صالح قادری بھی آپ کے خادموں میں سے تھے ان کو بھی سلوک و معرفت کی منازل طے کرائیں۔ روحانی تربیت کرکے ان کو ولایت کے اعلیٰ درجوں پر فائز کیا  اور بعد میں ان لوگوں کے فیض اور روحانی تعلیم سے لاتعداد لوگوں نے اسلام کی شمع سے روشنی حاصل کی ۔

آپ نے اپنی باقی ماندہ زندگی اپنے گاؤں میں ہی بسر کی اور یہاں پر رہ کر آپ نے لوگوں کو دینی تعلیم سے روشناس کرایا۔ حضرت سچل سرمست مورخہ 14 رمضان المبارک 1242ھ بمطابق 11 اپریل 1827ء کو 90 برس کی عمر میں آپ واصل با حق ہوئے۔  والیٔ ریاست میر رستم خان نے  آپ کے مزار کی تعمیر کروائی۔ اسی طرح میر مراد علی نے آپ کی تصنیف دیوانِ آشکار طبع کروائی۔

999

سچل سرمست صوفی  ہونے کے ساتھ ساتھ سخن ور بھی تھے۔ شاعری آپ کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ آپ کے کلام میں فصاحت و بلاغت، بلند فکریا  ندرت بیان ہر طرح سے قابل داد ہے۔  آپ نے شاعری کے ذریعے علم تصوف کے جو رموز و اسرار بیان کیے ہیں۔ ان کی بنا پر آپ کو حافظ سندھ کہا جاتا تھا۔اس کے علاوہ آپ نے عشق مجاز میں بہت  سوز و گداز کے ساتھ کا فیاں کہی  ہیں۔

شاعر ہفت زباں حضرت سچل سرمست کا کلام حق و صداقت، خلوص و محبت، ایثار و قربانی، ہمدردی و رواداری، عدل و احسان اور اخوت و مساوات کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے نہ صرف سندھی زبان کو ذریعہ اظہار بنایا بلکہ وہ اردو، فارسی، سرائیکی اور ہندی کے بھی ممتاز شاعر تھے۔ آپ  کو شاعر ہفت زبان بھی کہا جاتا ہے، آپؒ نے سات زبانوں (عربی ، فارسی، ہندی، اردو، پنجابی، سرائیکی  اور سندھی )میں اشعار کے ذریعے روحانی طرز فکر کو عام کیا۔

***

sachal-sarmast2درگاہِ سچل سرمست

سندھ کی سوہنی دھرتی میں جانے کیا دلکشی ہے کہ انگنت صوفی اور شاعر صدیوں پہلے یہاں کھنچے چلے آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ اور کئی صوفی شعراء نئئ اس دھرتی پر جنم لیا۔ سچل سرمست بھی ایسے ہی صوفی بزرگ شاعر ہیں۔

سچل سرمست نے درازا شریف ضلع خیرپور میں ہی 1826 میں وفات پائی اور یہیں مدفون ہوئے۔   سچل سرمست کا مزار   گاؤں درازا شریف ، قصبہ رانی پور  ضلع خیر پور میں رانی پور اسٹیشن سے ایک میل کے فاصلے پر جانبِ شمال مغرب واقع ہے، یہیں آپ کے دادا میاں صاحب ڈبی اور چچا و مرشد خواجہ عبدالحق  کی آخری آرام گاہ ہے۔

آپ sachal-sarmast3کا مزار والیٔ خیر پور میر رستم خان تالپور نے  تعمیر کروایا،  اس کے بعد آپ کے خاص الخاص مرید سردار بہادر محمد بخش اور دیگر مریدین  نے دوبارہ  گاشی گری کے ساتھ اس کی تعمیر کی،  مزار پر چار قبے تعمیر کیے گئے، جن کا رنگ سنہرا اور نیلا ہے۔  سچل سائیں  کی درگاہ پر ہر وقت زائرین کا ہجوم رہتا ہے، عرس کے دنوں میں یہ تعداد لاکھوں تک جاپہنچتی ہے۔ صرف سندھ ہی نہیں بلکہ پاکستان کے دیگر صوبوں کے علاوہ ہندوستان سے بھی عقیدت مند   ہزاروں کی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔

اس سال 15 رمضان کو سچل سرمست کے 195 یومِ وصال کی تقریبات منعقد ہوں گی ۔

حضرت سچل سرمست کا کلام ہر زبان میں جذبہ مستی سوز و گداز، رقت و جدائی، خناد بقا! جلوہ عبودیت، استغراق، تجلیات معرفت اور ذوق فنانی الوجود سے لبریز اور معمور ہے۔  آپ اپنی جداگانہ مضمون آفرینی کے باعث سب سے زیادہ ممتاز نظر آتے ہیں۔ آپ کا توحید وجودی کا مضمون صوفیانہ شاعری میں سب سے اہم ممتاز موضوع شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں کائنات کے تمام پردے اٹھ جاتے ہیں اور سالک کو   ہر طرف وحدت ہی وحدت کا جلوہ نظر آتا ہے۔  حضرت سچل سرمست نے  اپنے دور کی تمام اضاف سخن میں طبع آزمائی کی۔ وحدت نامہ آپ کی بہت بلند پایۂ تصانیف ہیں۔  آپ کی دیگر فارسی تصانیف میں دیوان آشکار، مثنوی راز نامہ، مثنوی  گداز نامہ، مثنوی  تار نامہ، مثنوی رہبر نامہ ، مثنوی درد نامہ، مثنوی عشق نامہ ،  مثنوی مرغ نامہ، مثنوی  وصلت نامہ، مثنوی چاقی نامہ، دیوانِ خدائی، نکتہ تصوف،  بحرِطویل، قابل ذکر کتب ہیں۔ حضرت سچلؔ سرمستؒ مثنویٰ ’’عشق نامہ‘‘  میں فرماتے ہیں۔

 آن خدا از عشق آدم آفرید
تاز مخلوقات اور ابرِ گزید
آن خدا اور امانت عِشق داد
در نہادش سِرّ اسرارِ نہاد

(خدا تعالیٰ عشق میں سے آدم کو پیدا کیا۔جس وجہ سے اُسے اشرف المخلوقات بنایا، خدا تعالیٰ نے اُسے عشق کی امانت عطا فرمائی۔ اور اُس میں اپنے سارے مخفی راز چھپا دیئے)

سچائی سے محبت کی وجہ سے آپ نے  سچل کا تخلص اختیارکیا۔ سچائی، تصوف کی بنیادی خوبی ہے۔ عمل، قول و فعل کی سچائی انسان کو عظمت کی بلندیوں پر لے جاتی ہے۔ یہ ایک انتہائی کٹھن راستہ ہے، جو طالب کو مطلوب تک لے کر جاتا ہے۔ حضرت سچل سرمست نے سرائیکی زبان میں بامعنی اور خوبصورت شعر کہے ہیں۔ فرماتے ہیں:

عشق دو کار بداند ، اول از خود برھاند
سربشمشیر براند، جز خدا ہیچ نماند
پس بہ محبوب رساند غیر خیالات براند

(عشق دو کام کر دکھاتا ہے۔ ابتدا میں یہ اپنی ذات سے آزادی دلاتا ہے۔ پھر تلوار سے سر کاٹ دیتا ہے۔ اور پھر خدا کی ذات کے علاوہ کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ پھر محبوب ملتا ہے۔ باقی تمام خیال دل سے نکال دیتا ہے)

جسم ہست ایں یک خانہ ، جائی پاکیزہ شہانہ
درصدف چوں دردانہ ، این نباشد بتخانہ
بیشکن سو مردانہ ، تا شوی یار یگانہ

(یہ جسم ایک گھر کی طرح ہے جو دیکھنے میں بہت اچھا اور شاندار نظر آتا ہے ، اور اس میں روح اس طرح ہے سیپ میں کوئی موتی ہو جیسے، اس  گھر کو بت خانہ  مت بناؤ ،  ہمت سے کام لے کر  دنیاوی خواہشات کے اس بُت کو توڑدو، تاکہ تم منفرد بن جاؤ)

خاص بَاشی جان و تن را کن گداز
عَام را راہ خدا روزہ نماز
جُز گدازی تن بنا شد حاصیلی
گر گذری اندرین راہ واصیلی
ای برادر اندراین رہ شو گداز
بگذری تو از نشیب و از فراز

(اگر تم خاص بننا چاہتے ہو تو جان اور تن کو فنا  کرو،  عام لوگوں کے واسطے خدا کی راہ میں روزہ اور نماز ہے۔ تن کو فنا کرنے کے سواء کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اگر تم خود کو فنا  کردوگے تو تمہیں وصال نصیب ہوگا۔ اے  برادر، اس رستے میں اپنے آپ کو فنا  کرو۔ تو پھر تم اونچایوں گہرائیوں سے گذر جاؤگے۔)

حضرت سچل سرمست نے اپنے کئی اشعار میں لوگوں کو  جنگ و جدل اور انتشار سے روکا اور آپس میں امن و سکون قائم کرنے پر زور  دیا ہے:

جنگ با مرادان چہ واری جنگ کن با نفس خویش
نفس را بشناسی در رحمت رحمان در آ

(آدمیوں سے لڑائی کے بجائے اپنے سرکش نفس سے جنگ کرو۔ اپنے نفس کو  پہچان اور اللہ کی رحمت میں داخل ہو۔ )

سچل کی شاعری اس رابطے کی نشاندہی کرتی ہے جو انسانوں کے درمیان یکجہتی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ انسان کے مختلف روپ، رنگ اور پہچان کے ذریعے عارضی ہیں۔ آپ کی شاعری میں بابا بلھے شاہ کا بھی رنگ جھلکتا ہے، آپ فرماتے ہیں:

نہ میں گویا نہ میں جویا نہ میں سوال جواب
نہ میں خاکی نہ میں بادی نہ آگ نہ آب
نہ میں جینی نہ میں انسی نہ مائی نہ باب
نہ میں سنی نہ میں شیعہ نہ میں ڈوہ ثواب
نہ میں شرعی نہ میں ورعی نہ میں رنگ رباب
نہ میں مُلاّ نہ میں قاضی نہ میں شور شراب
ذات سچل دی کیہی پچھدا ایں نالے تاں نایاب

سچل سرمست کے اردو اشعار ملاحظہ ہوں :

دلبر کے در پر میں تو دیوانہ ہو رہا ہوں
یارو میں دو جہاں سے بیگانہ ہو رہا ہوں
یہ عقل فہم اس کے دیدار نے اڑایا
زلفوں کے پیچ و خم میں مستانہ ہو رہا ہوں
آئے گا جوں وہ دلبر تیروں کی ہوگی بارش
سینہ سپر ہے سچل نشانہ ہو رہا ہوں

سچل سرمت خیر پور شہر کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں واقع اپنی خانقاہ سے بہت ہی کم باہر نکلے۔ تو پھر انہوں نے اردو کہاں سے سیکھی؟…. لگتا ہے کہ اردو سیکھنے کیلئے سچل سرمست کو کہیں بھی جانا نہیں پڑا بلکہ اس دور میں برصغیر کے مختلف علاقوں میں مقبولیت حاصل کرنے والی یہ زبان خود چل کر ان کے پاس آئی….
حضرت سچل سرمست کی زبان حق کے تراجم بیان کرکے سندھی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہوا ہے۔ سندھی کافی میں حضرت سچل سرمست نے ساخت ، مضمون اور معنی کے لحاظ سے جو ایجادیں کی ہیں۔ ان میں آج تک کوئی بھی اضافہ نہیں کرسکا۔ آپ کی لاتعداد غزلیں اور خیال عالم عروض کے قوائد کے مطابق ہیں۔ زبان کی صفائی۔ خیال کی گہرائی اور مضمون آفرینی میں آپ یکہ تاز تھے۔ آپ نے فارسی میں بھی غزل۔ مستزاد۔ قطعہ اور مثنوی پر طبع آزمائی کی۔ ان تمام اضاف میں تمثیل کے ذریعے آپ نے وحدت الوجود کی وضاحت فرمائی۔
سچل سرمست کے کلام کا مطالعہ اس حقیقت کو واشگاف کرتا ہے کہ یہ اشعار اُس کیفیت میں کہے گئے ہیں جب بندہ اپنے معبودِ حقیقی سے قریب تر ہوجاتا ہے۔ آپؒ کا مخاطب انسان ہے اور آپؒ کا پیغام تمام بنی نوع انسان کے لئے ایک ہی ہے۔
آپؒ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ تخلیق انسان کامقصد معرفت الٰہی کا حصول ہے اور اس کے بعد ہی انسان اشرف المخلوقات کے مرتبے پر پہنچ سکتا ہے۔ آپؒ ایک شعر میں کہتے ہیں کہ جس طرح پانی اور لہریں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے اُسی طرح بندہ بھی اﷲ سے جد انہیں ہوسکتا…. اُس کی ہر سانس اﷲ تعالیٰ کے رحم وکرم کی محتاج ہے اور جو خود کو پہچان لیتا ہے وہ خدا کو پہچان لیتا ہے۔

(روحانی ڈائجسٹ جون 2016ء سے انتخاب)

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

مائنڈ پاور

مائنڈ پاور MIND POWER سوچ کی ناقابل یقین قوت The Incredible Power of Thoughts مائنڈ …