صفحہ اول / روحانی ڈاک / والدہ کہتی ہیں خلع لے لو

والدہ کہتی ہیں خلع لے لو

room


سوال :

میں اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہوں۔ میری شادی خوب دھوم دھام سے ہوئی ۔مجھے بہت زیادہ سامان جہیز میں دیا گیا۔
میرے سسرال والوں کا گھر بہت چھوٹا ہے۔ مجھے جو کمرہ دیا گیا وہ میری امی کے گھر کے باتھ روم سے تھوڑا سا بڑا ہوگا۔ اتنا سارا سامان اس کمرے میں کہاں سے آتا لہٰذا دوسرے کمروں میں رکھا گیا۔
شادی کو دو سال ہوگئے ہیں ۔میرے جہیز کا آدھے سے زیادہ سامان میری نندوں، دیوروں اور جٹھانی کے بچوں کے زیر استعمال ہونے کی وجہ سے خراب ہوچکا ہے۔
میری امی نے میری ساس سے کہا کہ میری بچی کا سامان برباد ہورہا ہے تم اس کو اوپر کمرہ بنوا کر دے دو لیکن اُنہوں نے سنی ان سنی کردی۔
ابو نے میرے شوہر کو بلواکر سمجھایا اور کہا کہ اگر تم کہو تو ہم تمہیں فلیٹ دلوا دیتے ہیں تاکہ تم اپنا گھر اچھی طرح سیٹ کرسکو۔
میرے شوہراپنی اماں کے اتنے فرمانبردار بیٹے ہیں کہ انہوں نے بلا سوچے سمجھے یہ ساری بات اپنی اماں کو بتادی۔ میری ساس نے اُسی وقت ایک ہنگامہ کھڑا کردیا۔ اُن کا کہنا تھاکہ میں اُن کے بیٹے کو اُن سے دور کررہی ہوں۔ مجھے سب نے مل کر بہت بُرا بھلا کہا ۔اس برے سلوک سے مجھے بہت صدمہ ہوا اورمیری طبیعت خراب ہوگئی۔
اس دن کے بعد میرا اپنے میکے آنا جانا بھی بند کردیا گیا۔ میرے والدین نے خاندان کے بڑوں کو بیچ میں ڈال کر بات ختم کروائی مجھ پر سے پابندی تو ختم ہوگئی ہے لیکن میرے شوہر میرے والدین کے گھر جانے یا ان سے ملنے کے لیے تیار نہیں۔میرے والدین مجھ سے ملنے یا مجھے لینے آتے ہیں تو میرے شوہردوسرے دروازے سے باہر چلے جاتے ہیں۔
یہ لوگ ہمارے رشتہ دار ہیں۔ ہمارا گھرانہ پڑھا لکھا ہے لیکن ان کے ہاں زیادہ تعلیم کا رواج نہیں۔ سارے لڑکے کاروبار کررہے ہیں۔ میرے شوہر کا بھی کاروبار ہے لیکن اُنہوں نے اپنے شوق سے بی ایس سی تک تعلیم حاصل کی ہے۔
ہماری شادی خاندان کے بڑوں نے کروائی ہے۔میرے گھریلوحالات اورمیری گرتی ہوئی صحت کو دیکھتے ہوئے میری والدہ کا خیال ہے کہ اس رشتہ کو ختم کردینا چاہیےلیکن میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔
میں شش وپنج میں پڑی ہوئی ہوں آپ مجھے مشورہ دیجئے کہ میں کیا فیصلہ کروں۔؟


جواب:  

آپ کی شادی اپنے خاندان میں ہوئی ہے۔ آپ کا سسرال آپ کے والدین کا دیکھا بھالا ہے۔ سسرال کا ماحول کیسا ہے۔ گھر کتنا بڑا یا چھوٹا ہے ۔ یہ سب باتیں شادی سے پہلے بھی آپ کے والدین کے علم میں تھیں ۔جہیز کا سامان دیتے وقت آپ کے والدین کو یہ علم ہوگا کہ آپ کو سسرال میں کون سا کمرہ دیا جائے گا۔
بہر حال جو ہوا سو ہوا۔ آپ کو اپنے سسرال کے ماحول کے مطابق چلنا چاہئے۔
آپ کے سسرال میں تعلیم کا رواج نہیں لیکن یہ واضح ہے کہ کوئی تعلیم حاصل کرنا چاہے تو اس کی مزاحمت بھی نہیں کی جاتی ۔
عملی زندگی میں لوگوں کے ساتھ تعلقات میں کئی نکات اپنی اپنی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے ایک نہایت اہم نکتہ کسی رشتے یاکسی تعلق کی ترجیح طےکرناہے۔
مشرقی عورت کے لیے شادی کے بعد پہلی ترجیح اس کا شوہر اورسسرال ہونا چاہیے۔چھوٹے موٹے اختلافات کے باوجود عورت کو اپنے شوہر کی عزت اورسسرال کی نیک نامی کا پوراخیال رکھنا چاہیے ۔
آپ کا خط پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ آپ کی والدہ خود ایک بہت جذباتی خاتون ہیں ۔آپ کو اپنے گھر کی ناگوار باتیں اپنے والدہ کو نہیں بتانی چاہیں تھیں۔اپنی جذباتی طبیعت کی وجہ سے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پرآپ کو خلع غلط کا مشورہ دے رہی ہیں۔
کئی عورتیں اپنی بیٹی کاگھر بسارہنے کے بجائے اپنی ناک اونچی رکھنے کو اہمیت دیتی ہیں۔ آپ اپنی والدہ سے شوہر یا سسرال کے بارے میں کوئی بات کرنے سے پہلے اپنی والدہ کے مزاج کو پیش نظر رکھاکریں۔
آپ کے شوہر میں چند اچھائیاں بھی تو ہوں گی۔آپ جب اپنے میکے جائیں تو سسرال والوں کی برائیاں کرنے کے بجائے اپنے شوہر کی خوبیاں بیانکیاکیجئے۔
اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ اپنے گھر میں شاد و آباد رہیں۔آمین ۔اپنے طرزعمل میں مناسب تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ بطورروحانی علاج

رات سونے سے پہلے  اکتالیس مرتبہ   اللہ تعالیٰ کے اسماء

یَا وَدُوْدُ یَا رَؤف 

گیارہ گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے شوہر اورساس کا تصور کرکے دم کردیں اور دعا کریں۔
یہ عمل کم از کم چالیس روز تک جاری رکھیں۔ ناغہ کے دن شمار کرکے بعد میں پورے کرلیں۔
چلتے پھرتے وضو بے وضو کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسم یاسلام کا ورد کریں۔


براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

تعارف: روحانی ڈائجسٹ

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

خود اعتمادی

سوال : ہمارے گھر روحانی ڈائجسٹ کئی سال سے آرہا ہے۔میں روحانی ڈائجسٹ میں آپ …