صفحہ اول / روحانی ڈاک / والد دوسری شادی کررہے ہیں

والد دوسری شادی کررہے ہیں

nikahnama


سوال :

میرے بابا پنج وقتہ نمازی ہیں۔ صدقات و خیرات بھی کثرت سےکرتے ہیں۔ رشتہ داروں، دوستوں اور محلہ داروں سے نہایت خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں۔
الحمدللہ ! ہمارے گھر میں روپے پیسے کی کبھی کمی نہیں رہی ،امی نے کھلے ہاتھوں جیسے چاہا خرچ کیا۔
ہمارے باباکا گھر میں بہت رعب ہے۔وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوتے تو گھر کا ہر فرد سہم جاتا جبکہ انہوں نے کبھی ہمیں ڈانٹا تک نہیں ۔والدہم سے کہتے بھی ہیں کہ تم لوگ مجھ سے کیوں ڈرتے ہو،تم سب میرے ساتھ دوستوں کی طرح رہاکرومگراس یقین دہانی کے باوجود ہم باباکے رعب کے حصار سے نہیں نکل پائے ۔
ہماری امی کا حال بھی ہم سے مختلف نہیں رہا۔
ہم چار بہنیں ہیں ۔ہم سے بڑا ایک بھائی ہے ۔ اﷲ کا شکر ہے کہ ہم چاروں بہنیں اپنے گھر کی ہوچکی ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے باباکااپنے ایک دوست کے پاس آنا جانا زیادہ ہوگیا۔وہاں ان کی کسی بیوہ عورت سے بات چیت ہوئی ۔نجانے اس عورت نے اپنی کون سی دکھ بھری کہانی سنائی کہ بابا اس کی طرف مائل ہوگئے۔
ہمیں پتا چلا ہے کہ ہمارے بابااس عورت پر لاکھوں روپے خرچ کرچکے ہیں۔اب ہمار ے والد اس عورت سے شادی کا سوچ رہے ہیں۔
یہ بات ان کے نئے دوست نے ہمیں بتائی۔
ہم نے اپنے چچا کو ساری بات بتائی ۔چچا نے اپنے بڑے بھائی سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا ہاں ایسا ہی ہے۔
چچانے انہیں اس سے باز رہنے کا کہا ، والد صاحب نے جواب دیا کہ میں اپنی گھرداری کی تمام ذمہ داری اچھی طرح نبھارہاہوں۔دوسری شادی کرنا کوئی جرم تو نہیں ہے۔یہ بات سن کر ہمارے چچا اپنا سا منہ لےکررہگئے۔
ہماری امی نے جب سےیہ سنا ہے دکھ کے مارے ان کا برا حال ہے۔پہلے ہی وہ والد صاحب سے بہت مرعوب رہتی تھیں۔اب تو امی نے بات چیت بالکل ہی ختم کردی ہے۔ہم بہنیں بھی پریشان ہیں کہ والد صاحب کی دوسری شادی پر ہمارے سسرال والے ہمارا مذاق اڑائیں گے ۔میرے شوہر بھی کبھی دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ
ہاں بھئی …. تمہارے بابا دوسری شادی کی بات کہاں تک پہنچی ۔اپنے شوہر کی اس بات پر مجھے جتنی شرمندگی ہوتی ہے وہ بس میں ہی جانتی ہوں۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بابا دوسری شادی کے بارے میں اپنا فیصلہ تبدیل کرلیں۔


جواب:  

عزیز بیٹی ….! آپ کے والد اپنی عمر کے اس دور میں دوسری شادی کی باتیں کررہے ہیں تو اس کی وجوہات خود آپ کی والدہ اورآپ بھائی بہنوں کے طرزعمل میں بھی توہوسکتی ہیں۔
آپ کی والدہ نے اپنے شوہر کی کمائی کوکھلے ہاتھوں خرچ کرکے اپنی خواہشات خوب پوری کیں لیکن اپنے شوہر کی خواہشات اوراحساسات کو انہوں نے زیادہ اہمیت نہیں دی۔
شوہر کے لیے اپنی بے اعتنائی کو انہوں نے شوہر سے مرعوبیت کانام دے دیا ۔آپ بہن بھائی اپنے والد کی طرف سے فراہم کردہ سہولتوں اورآسائشوں سے مستفید ہوتے رہے لیکن میرا اندازہ ہے کہ آپ نے بھی اپنے والد کو اولاد کی طرف سے ملنے والی ٹھنڈک و سکون سے محروم رکھا۔ابھی بھی آپ کویہ فکر ہے کہ آپ کے سسرال والے آپ کا مذاق اڑائیں گے۔آپ کے بھائی کو یہ فکر ہے کہ والد کی جائیداد میں نئے وارث پیدا نہ ہوجائیں۔
آپ کی والدہ اورآپ بھائی بہن ان کے ساتھ اپنے طرزعمل کی اصلاح کرلیں ۔والد کے جذبات اور احساسات کا ٹھیک طرح خیال رکھا جائے تو امید کی جاسکتی ےہ کہ وہ اپنے ارادے پرنظر ثانی کرلیں۔


براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

تعارف: روحانی ڈائجسٹ

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

خود اعتمادی

سوال : ہمارے گھر روحانی ڈائجسٹ کئی سال سے آرہا ہے۔میں روحانی ڈائجسٹ میں آپ …