صفحہ اول / علم و معرفت / روحانی سائنس / وقت : سائنس، کوانٹم فزکس اور روحانی علوم کی روشنی میں

وقت : سائنس، کوانٹم فزکس اور روحانی علوم کی روشنی میں

Time201601

سلسلہ عظیمیہ کے  امام حضرت محمد عظیم برخیا   نے  حقیقت کے متلاشی حضرات و خواتین کے لیے آگہی کے نئے در وا کیے ہیں….


وقت درحقیقت کیا ہے۔  یہ سوال زمانہ قدیم ہی سے دانشوروں اور سائنس دانوں کے لئے معمہ رہا ہے۔ فلاسفر، علماء  نے اپنی اپنی حدودِ فکر کے مطابق وقت کے بارے میں مختلف نظریات پیش کئے ۔

دوہزار سال پہلے کے دانشوروں  کا یہ ماننا  تھا کہ کوئی سے دو واقعات کے درمیانی وقفہ  ہی وقت ہے، جس  کی پیمائش ممکن ہے اور وقت سب  کے لئے ایک ساہوتاہے۔

کوئی کہتا کہ  وقت ایک بہتی نہر کی طرح ہے جو منظم طریقے سے اپنے منبع سے مخرج تک بہتا رہتا ہے، اس بات کا  مطلب یہ ہوگا کہ  وقت کی ابتداء بھی ہے اور انتہاء بھی، تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس کی ابتداء ہے تو یہ کہاں سے آیا ہے؟ اور انتہاء ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب وقت نہیںہوگا….

بعض فلسفیوں کا عقیدہ تھا کہ

‘‘وقت وجود نہیں رکھتا بلکہ وقت دراصل دو حرکتوں کے درمیانی فاصلے کا نام ہے ۔ کوئی مرتب شعور مخلوق جیسے انسان اس فاصلے کا احساس کرے تو یہ فاصلہ اس کے لئے زمانہ کی صورت میں سامنےآتا ہے ’’۔

 یعنی  جن واقعات سے ہم گزرتے ہیں وہی ہمیں وقت کے گزرنے کا احساس دلاتے ہیں…. تو کیا جن واقعات سے ہم گزرتے ہیں پہلے سے تیار شدہ  ہیں؟ …. بعض لوگ کہتے ہیں کہ شاید ایسا ہی ہے، یعنی واقعات پہلے سے ہی مرتب اور منظم ہیں جن کے درمیان وقت کے متعین زمانے حائل ہیں، یا جیسا کہ کسی نے کہا ہے کہ واقعات وقوع پذیر نہیں ہوتے، بلکہ ہم ان سے گزرتےہیں!. ….

کچھ دوسرے فلسفیوں کا نظریہ تھا کہ   ‘‘وقت ایسے چھوٹے چھوٹے ذرات پر مشتمل ہے۔ جنہیں ہمارے حواسِ خمسہ محسوس نہیں کرپاتے۔ یہ ذرات مسلسل حرکت کررہے ہیں۔ یعنی ماضی سے مستقبل کی طرف سفر کررہے ہیں’’۔

arstoleیونانی فلسفیوں نے اس کے علاوہ زمانہ کی ایک اور قسم بھی متعارف کرائی جسے ابدیت  کا نام دیا گیا۔ ان فلسفیوں کے بقول غیر متحرک زمانہ مافوق الفطرت ہستیوں یا دیوتاؤں کا زمانہ ہے اور متحرک زمانہ مخلوقات کا زمانہ ہے ۔ تمام موجودات و مخلوقات میں تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں اس لیے ان کا تعلق متحرک زمانے سے ہوتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر کوئی مخلوق  حرکت پذیر زمانے میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کو روکنے پر قادر ہوجائے تو وہ بھی دیوتاؤں کے برابر ہوجائے گی۔

دوسری جانب مشہور یونانی مفکر ارسطو متحرک یا غیر متحرک وقت کے بجائے مطلق وقت یا زمان غیر متغیر Absolute Timeپر یقین رکھتاتھا۔ اس کا اعتقاد تھا کہ دو واقعات کا درمیانی وقت بغیر کسی ابہام کے ناپا جاسکتا ہے اور اسے کوئی بھی ناپے یہ وقت یکساں ہوگا  ۔

newton1686ء میں نیوٹن نے وقت  کے اسی نظریہ کو اساس بناتے ہوئے اپنے نظریاتِ حرکت پیش کیے۔ نیوٹن کے نظریات کے مطابق   وقت ہر آدمی کے لئے ایک ہی ہے، بھلے سے وہ کہیں بھی کیوں نہ ہو اور کسی بھی رفتار سے حرکت کر رہا ہو….

بیسویں صدی عیسوی  تک  سائنسدان وقت کو مطلق گردانتے تھے،  ان کے خیال میں وقت ایک ایسی ساکن چیز تھی جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی، اس کے علاوہ ان کی نظر میں وقت  اپنی ذات میں مستقل تھا اور ایک منظم بہاؤ رکھتا تھا۔ اس وقت تک سائنسدان  اس بات تک نہیں پہنچ پائے تھے کہ  وقت سست یا تیز ہوتا ہے یا  رُکبھی سکتا ہے….

einstienبیسویں صدی کے آغاز تک طبیعات کی دنیا میں نیوٹن کے اصولوں کا راج تھا۔ آئن اسٹائن وہ پہلی شخصیت تھی جس نے بتایا کہ مادہ اور توانائی دو الگ الگ چیزیں  نہیں  بلکہ سکے کے دو رخ ہیں  اور مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں  ڈھل سکتے ہیں  اور  یہ بھی کہ زمان و مکان بھی ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔ جب آئن اسٹائن نے یہ بات کہی اس وقت سائنسدانوں کی نظر میں زمان و مکان میں  سفر ایک نا ممکن اور غیر منطقی سی بات تھی۔ لیکن آئن انسٹائن نے یہ نظریہ پیش کیا کہ خلا اور وقت کا تانابانا ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ جسے اس نے  ‘‘زمان و مکان کا پھیلا ؤ  ’’ کا نام دیا۔

آئن سٹائن کے  اس نظریہ اضافیت نے سائنسدانوں  کے لئے تحقیق کی کئی راہیں  ہموار کیں۔     1905ء میں آئن اسٹائن کے پیش کردہ  نظریہ اضافیت کے مطابق  وقت کی رفتار  کی تبدیلی  کا اِنحصار کسی  مادی شئے کی رفتار پر اور کسی میدانِ کششِ ثقل میں اُس کے محل پر ہوتا ہے۔جیسے جیسے مادی شے کی رفتار بڑھتی جائے گی،ویسے ویسے وقت کی رفتار کم ہوتی جائے گی اور اور یہ گھٹنے یا سکڑنے لگے گی ۔  یہ نظریہ سائنسی دنیا میں ایک بڑے مدّوجزر کا باعث بنا….

نظریہ اضافیت کے مطابق اگر کوئی شے روشنی کی رفتار سے سفر کرنے لگے تو اس کے لئے وقت صفر ہوجائے گا۔  آئن اسٹائن  کے مطابق  اگر کوئی شے روشنی کی رفتار سے سفر کرنے لگے تو وہ توانائی یا روشنی کی لہروں میں تبدیل ہوجائے گی۔

اس بات سے ہم یہ نتیجہ بھی اخذ کرسکتے ہیں کہ زمان درحقیقت روشنی ہے او ریہی مادہ یا مکانیت کی تخلیق کرتا ہے ۔

1993ءمیں   آئی بی ایم ٹی جے واٹسن ریسرچ سینٹر نیویارک کے   طبیعات داں  چارلس بینٹ اور ان کے ساتھی محققین نے اس امر کی تصدیق کی کہ روشنی کی رفتار سے سفر ممکن ہے اور اس نظریہ  کو  عملی جامہ پہنانے کے لیے کوانٹم فزکس  سے  مدد لی گئی۔

(کوانٹم فزکس  سائنس کی وہ شاخ ہے جس کے قوانین و نظریات کائنات کی  باریک ترین جوہری ذرات کے ا سرار و رموز کو جاننے اور ان  کے قوانین  ان اسرار رموز کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتی ہے)  کوانٹم فزکس  کے سائنسدانوں  نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ انسانوں  کو کائنات کے ایک گوشے سے کسی بھی دوسرے گوشے میں  روشنی کی رفتار سے منتقل کیا جاسکے۔

stepenhawkingموجودہ دور کے  معروف سائنسدان ا سٹیفن ہاکنگ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ مکان زمان سے مکمل طور پر الگ اور آزاد نہیں ہے بلکہ وہ اُس سے مل کر ایک اور شے بناتا ہے جسے زمان و مکان(time & space) کہتے ہیں۔  چنانچہ زمان و مکان کی حیثیت کے پیش نظر کہیں وقت مسلسل پھیلا ہوا دکھائی دیتا ہے تو کہیں وہ سُکڑ کر محض چند ثانیوں میں سمٹ آتا ہے۔

نظریۂ اِضافیت کے مطابق مطلق وقت Absolute Timeکچھ معنی نہیں رکھتا۔ ہر فرد اور شے کے لئے وقت کا ایک الگ پیمانہ ہوتا ہے جس کا اِنحصار اِس حقیقت پر ہوتا ہے کہ وہ کس اسپیس  میں کس طریقے سے محوِ حرکت ہے۔

ہم جس چیز کو ‘‘وقت’’ سمجھتے ہیں، دراصل یہ  ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم  ایک لمحے کا موازنہ دوسرے لمحے سے کرتے ہیں۔

یہ تو تھی وقت کی سائنسی تشریح۔  اب  الہامی رہنمائی کی طرف آتے ہیں۔ قرآن  پاک سے وقت کی مختلف جہتوں اوار زون کے بارے میں رہنمائی ملتی ہے۔  بعض آیات سے پتہ چلتا ہے کہ وقت مختلف حالات میں مختلف رفتار سے بڑھتا ہے۔ کائنات کے مختلف خطوں میں وقت کی کیفیت و کمیت  میں بہت فرقہوتا ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے:

‘‘وہی ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور  کیا  اور اس کے گھٹنے بڑھنے کے لئے منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کیں، تاکہ تم برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو’’۔  [سورہ یونس(10): 5]

اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چاند، سورج اور زمین کی انفرادی حرکت اور ان میں  روشنی، حرارت اور کشش  کے باہمی واقعاتی ربط سے  سے ‘‘وقت’’ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔  جب انسان  موت کے بعد اس دنیاوی زندگی کے زون سے نکل جائے گا تو وہ محسوس کرے گا کہ اس   کو بہت مختصر سی زندگی دی گئی ہے:

‘‘جس دن (بروز قیامت) وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی تعریف کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کروگے کہ تم (دنیا میں) بہت کم (مدت) رہے۔’’[سورہ بنی اسرائیل(17): 52]

قرآن کریم میں بے انتہا  تیز رفتاری کے ساتھ پیش آنے والے وقعات کا ذکر بھی ملتا ہے۔

‘‘اور ہمارا حکم تو فقط یک بارگی واقع ہو جاتا ہے، جیسے آنکھ کا جھپکنا’’۔[سورہ قمر(54):50]

کئی آیات سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ وقت مختلف حالات میں مختلف رفتار سے بڑھتا ہے۔

‘‘ وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے آسمان سے زمین تک پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا اس دن کہ جس کی مقدار تمہارے حساب میں ایک ہزار برس ہے۔’’ [سورہ سجدہ (32) آیت: 5 ]

‘‘ بیشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کے رو سے ہزار برس کے برابر ہے‏۔[سورہ حج (22) آیت:47 ]

ترجمہ: ‘‘جس کی طرف روح (الامین) اور فرشتے چڑھتے ہیں ، اس روز (نازل ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار برس کا ہوگا ‏۔ [سورہ معارج(70): آیت 4]

واقعہ معراج   وقت کے مختلف زونز اور وقت کے مختلف اسرار کی طرف نوعِ انسانی کی رہنمائی کرتا ہے۔   حضرت سلیمانؑ ، حضرت عزیرؑ اور اصحابِ   کہف کے واقعات بھی وقت کے بارے میں انسان کو تحقیق کی دعوت دے رہے ہیں۔

مسلم فلسفیوں فارابی، اِبن رُشد اور ابن سینا کے نظریات پر غزالی اور ابن رُشد کے درمیان مباحث میں زمان کی ماہیت پر دلچسپ بحث ملتی ھے، اسی طرح ابن مسکویہ، رازی، رومی، شاہ ولی اللہ اور دیگر مسلم مفکرین نے اس حوالے سے خیال افروز نکات بیان کئے جو اس مسئلے کی مختلف جہتوں کی جانب اشارے کرتے ہیں۔

 اسلامی تصوف میں ’’زمان ومکان ‘‘ کے موضوع پر خالصتاً علمی نوعیت کی بحث کی گئی ہے اور ان کی تشریحات بھی عام لوگوں کی شعوری استعداد سے بہت بلند ہیں۔ اس لیے جہاں کہیں بھی Time & Space زمان ومکان کا تذکرہ ہوتاہے، وہاں مسلم صوفیاء کے ارشادات کا تذکرہ خال خال ہی کیا جاتاہے۔ ضرورت ہے کہ ان تمام افکار و مباحث کا جائزہ لے کر تجّسس اور تحقیق کو آگے بڑھایا جائے۔

اہل روحانیت  ان ٹائم زون کو درج ذیل تین حصوں میں  متعارف کراتے ہیں۔

  1.  زمان حقیقی  Real Time
  2.  زمان غیر متواتر   Non Serial Time
  3.  زمان متواتر  Serial Time

شاہ ولی اللہ ان تین زمانوں کو زمانِ  سرمدی ، زمانِ دہری اور زمانِ لیل و نہار کا نام دیتے ہیں۔

allamaiqbal
مشرق کے ممتاز فلسفی اور شاعر علامہ اقبال نے بھی وقت کے اسرار و رموز  پر غور کیا ۔ اقبال کے کلام جاوید نامہ میں  کئی فارسی اشعار وقت کے بارے میں علامہ اقبال کے غور فکر کی شہادت دے رہے ہیں۔  اقبار نے ‘‘اسرارِ خودی’’ میں یہ بھی کہا کہ  وقت گردشِ خورشید سے  پیدا نہیں ہوتا  کیونکہ خورشید فانی ہے اور وقت جاویدانی ہے۔

وقت کے بارے میں  اپنے ایک تصور کو علامہ اقبال نے ان  اشعار میں پیش کیاہے

فریب ِ نظر ہے سکون و ثبات

تڑپتا ہے ہر ذرۃ کائنات

ٹہرتا نہیں کاروانِ وجود

کہ ہر لحظہ ہے  تازہ شانِ وجود

سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی

فقط ذوق ِ پرواز ہے زندگی

پیمائشی وقتSerial Time اور غیر پیمائشی وقت Non Serial Timeپر   علامہ اقبال  کی سوچ کا اظہار ان اشعار میں ہورہا ہے۔

تیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیا

ایک زمانے کی رو،  جس میں نہ دن ہے نہ رات

اس طرف اقبال کا یہ شعر بھی ایک اشارہ ہے

زمانہ  ایک حیات ایک کائنات بھی ایک

دلیلِ کم نظری قصہ جدید و قدیم

اپنے تحقیقی مقالے میں اقبال نے اس موضوع  پر  ان الفاظ میں اظہارِ خیال کیا ہے۔

“To exist in real time is not to be bound by the fetters of serial time, but to create it from moment to moment and to be absolutely free and original in creation, in fact all Creative activity as Free Activity”

(The Reconstruction of Religious Thought in Islam)

ترجمہ:  ‘‘خالص دقت میں رہنے کے معنی ہیں پیمائشی وقت کی زنجیروں سے آزاد ہونا اور لمحہ بہ لمحہ تخلیق میں مصروف رہنا اور اپنی تخلیق میں آزاد اور تازہ کار ہونا۔ درحقیقت تمام تخلیقی عمل آزاد عمل ہے۔’’

qalandarbabaعصرِ حاضر کے عظیم صوفی بزرگ اور روحانی  مفکر حضرت  محمد عظیم برخیا  المعروف  قلندر بابا اولیاؒ نے اس موضوع پر نہایت آسان پیرائے میں اظہارِ خیال کیا ہے۔ قلندر بابا کے مطابق زمان اور مکان حرکت کے دو رُخ ہیں۔ جس رُخ میں تغیر نہ ہو وہ زمان Timeہے اور جو رُخ متغیر ہو وہ مکان Spaceہے۔

آپ ؒ  تحریر کرتے ہیں:

‘‘وہ تما م صفات جو کسی ہستی ، کردار یا زندگی کی اصلیں ہیں ان کا قیام زمان کے اندر ہے۔ اُن اصلوں میں کوئی تغیّر واقع نہیں ہوتا کیوں کہ اس کا مُستقر یا مرکز زمان ہے جو غیر متغیّر ہے۔ حرکت کا وہ رُخ جو زمان کے برعکس ہے مکان کہلاتاہے۔ ہر قسم کا تغیّر اس ہی رخ میں ہوتاہے۔ (لوح وقلم:صفحہ180)

 قلندر بابا اولیاءؒ نے اپنی کتاب ’’لوح و قلم ‘‘ میں وقت کی حقیقت پر روشنی ڈالی ہے انہوں نے زمان کی تین اقسام بیان کی ہیں۔

1۔ زمان حقیقی (غیب الغیب TIME LESS NESS نورِ غیر متغیر)جس کا تعلق کائناتی شعورسےہے۔

2۔ زمان غیر متواتر (غیب  NON-SERIAL TIME نورِ متغیر) ہم اس کا مشاہدہ عالم خواب میں کرتے ہیں۔

3۔ زمان متواتر (عالمِ شہادت  SERIAL TIME نسمہ) یہ عالم ناسوت یعنی مادی دنیا میں جاری و ساری رہتا ہے۔

قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں:

’’زمانِ حقیقی اﷲ تعالیٰ کا علم (علمِ حضوری) ہے ۔ یہ وہ شعور ہے جو کائنات کے ہر ذرہ میں کار فرما ہے۔جب یہ شعور کائنات میں کام کرتا ہے تو کائنات اس کو اپنا ذاتی شعور جانتی ہے اور جب یہ شعور ذرہ میں کام کرتا ہے تو ذرہ اس کو اپنا انفرادی شعور سمجھتا ہے۔  جب تک یہ شعور کائنات سے ماوراء ہے ، زمانِ حقیقی ہے۔  جب کائنات میں سما جاتا ہے تو زمانِ غیر متواتر کہلاتا ہے اور جب ذرہ کے اندر حرکت کرتا ہے تو زمانِ متواتر بن جاتا ہے ’’۔

دراصل زمانِ حقیقی اور زمانِ غیر متواتر دونوں ہمارے لاشعور میں موجود ہوتے ہیں۔  قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں:

‘‘زمان اور مکان کی بہت واضح مثال راستہ اور مسافر سے دی جاسکتی ہے ۔راستہ زمان اور مسافر مکان ۔ اگرچہ مسافر کا انہماک خود میں یعنی اپنے آثار و احوال میں ہوتا ہے تاہم مسافر بغیر راستہ کے اپنی ہستی قائم نہیں رکھ سکتا ۔ وہ راستہ سے کتنا ہی غافل رہے لیکن یہ ناممکن ہے کہ وہ راستہ سے لاتعلق ہوجائے۔   مسافر کی تمام حرکات و سکنات ، سارا کردار زندگی کی طرزیں اور فکریں راستہ کی حدود سے باہر نہیں جاسکتیں۔ انسانی زندگی میں راستہ لاشعور ہے اور مسافر شعور ہے ’’۔

لاشعور سے ملنے والی اطلاعات ایک دم مکمل طور پر شعور میں منتقل نہیں ہوتیں۔ بلکہ ٹکڑوں میں لمحہ لمحہ کرکے منتقل ہوتی ہیں۔

ظاہری حواس میں انسان ایک لمحہ میں ایک شے یا فعل کی جانب متوجہ ہوسکتا ہے ۔ حواس کی یہ پابندی زمانِ متواتر یا SERIALTIME کی تخلیق کرتی ہے۔  زمانِ متواتر میں تمام واقعات ایک تسلسل یعنی سیکنڈ، منٹ ، گھنٹہ، دن وغیرہ کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ پیر کے بعد جمعرات کا دن اس وقت تک نہیں آسکتا جب تک منگل اور بدھ نہ گزر جائیں۔

ظاہری حواس میں زمانِ متواتر کا لمحہ ہمارے شعور میں ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی زمانِ غیرمتواتر میں انسان ترتیب کا پابند نہیں ہوتا مثلاً اگر ہم دس سال پرانا کوئی واقعہ یاد کرنا چاہیں تو اس کے لئے ہمیں پورے دس سال کے ترتیب وار واقعات یادکرنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ فوراً ہی اس واقعہ کا لمحہ ہمارے ذہن میں آجاتا ہے۔ زمانِ غیرمتواتر کی ایک مثال خواب دیکھنا بھی ہے۔

اگر انسان خواب یا نیند کے حواس کو بیداری میں منتقل کرنا سیکھ لے تو وہ زمانِ متواتر کی قید سے آزاد ہوجائے گا اور اپنی خواہش کے مطابق زمان و مکان میں سفر کرسکے گا ۔

 نور کی لہریں جو ہمیں اطلاعات فراہم کرتی ہیں، ظاہر میں مادی اشیاء کی تخلیق کرتی ہیں۔ مخلوقات کا آپس میں ربط اور تعلق کرتی ہیں۔

براہِ مہربانی اس مضمون کے متعلق اپنے تاثرات ضرورتحریر کریں

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

مافوق الفطرت حواس

روحانی ڈائجسٹ مئی 2016ء کے شمارے میں ‘‘عقل حیران ہے! سائنس خاموش ہے! ’’ کے …